واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


حکمراں اتحاد صدر پرویز کیساتھ فاروق لغاری جیسا سلوک کرنے کیلئے تیار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-04-08, 07:49 AM   #1
حکمراں اتحاد صدر پرویز کیساتھ فاروق لغاری جیسا سلوک کرنے کیلئے تیار
عبدالقدوس عبدالقدوس آف لائن ہے 18-04-08, 07:49 AM

حکمراں اتحاد صدر پرویز کیساتھ فاروق لغاری جیسا سلوک کرنے کیلئے تیار
اسلام آباد(طارق بٹ) حکمراں اتحاد صدر پرویز کے ساتھ وہی سلوک کرنے کیلئے تیار ہے جو 1997ء میں نواز شریف حکومت نے فاروق لغاری کے ساتھ کیا تھا‘ اس طرح ان (صدر) کے پاس مواخذہ سے بچنے کیلئے مستعفی ہونے کے سواکوئی آپشن نہیں بچے گا۔ ایک باوثوق سیاسی ذریعے نے دی نیوز کو بتایا کہ ” معزول ججوں کی بحالی کی قرارداد کے ساتھ ساتھ 18 ویں ترمیم کی صورت میں پیش کیا جانے والا آئینی پیکج صدر کو تمام صوابدیدی اختیارات سے محروم کردے گا‘ اس طرح ان کی اتھارٹی ہر لحاظ سے کمزور ہوجائے گی“۔ انہوں نے بتایا کہ آئینی پیکج میں صدر کے قومی اسمبلی توڑنے‘ سروسز چیفس‘ چیف الیکشن کمشنر اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تعیناتی کے اختیارات کا خاتمہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ”صوابدیدی اور دوسرے اختیارات کے خاتمے کے بعد مشرف جو طویل عرصے سے بلا شرکت غیرے اختیارات استعمال کرتے رہے ہیں ایک غیر اہم کردار میں مزید کام کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے‘ یہی وہ چیز ہے جس کی مسلم لیگ ن اور خاص طور پر پیپلزپارٹی توقع رکھتی ہے۔ جسٹس افتخار سمیت معزول ججوں کی بحالی کے بعد صدر پرویز مشرف کیلئے ایوان صدر میں اختیارات (جن سے انہیں دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے) کے ساتھ رہنے کی گنجائش کم ہی بچتی ہے۔ اس کے باوجود اعلیٰ عہدے پر موجود رہنے کا فیصلہ یقینا ناقابل یقین اور ناپسندیدہ ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ مشرف کے مواخذے کی کسی بھی ٹھوس پارلیمانی کوشش کے نتیجے میں حکومت کو بہت سے نئے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے‘ مواخذے کا خطرہ ان کے سر پر اس لئے لٹکایا جارہا ہے تاکہ ان کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ جانے کا محفوظ راستہ اختیار کرلیں۔ حکمراں اتحاد کے سرکردہ رہنماؤں کا خیال ہے کہ صدر کے مواخذے کا مرحلہ نہیں آئے گا کیونکہ اس صورتحال سے قبل ہی صدر پرویز چلے جائیں گے خاص طور پر اس صورت میں جب تمام اختیارات سے محروم ہونے کے بعد وہ فضل الٰہی اور رفیق تارڑ کی طرح محض رسمی صدر رہ جائیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ آئینی ترمیم اور ججوں کی بحالی کی قرار داد اسمبلی میں پیش کی جائے گی اور پاس کی جائے گی تاہم پیپلزپارٹی ان دونوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا چاہتی تھی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی مدت جسے بنیادی طور پر معزول اعلیٰ جج افتخار محمد چوہدری سے منسوب کیا جارہا ہے مقرر کرنے کی باتیں اتنی بے بنیاد نہیں‘ پیپلزپارٹی ایسا اس لئے کرنا چاہتی ہے کہ وہ جسٹس چوہدری کو پسند نہیں کرتی‘ تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ اہم سیاسی اتحاد ی مسلم لیگ ن ‘ وکلا اور سول سوسائٹی کا دباؤ بہت زیادہ ہے ‘ ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے جس کے باعث عوامی سطح پر ایسی کوشش کا خیر مقدم نہیں کیا جائے گا اور مزید بے سکونی اور بدامنی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ جب وزیراعظم اور آصف زرداری یہ بات کرتے ہیں کہ مشرف کی قسمت اور دوسرے تمام طرح کے فیصلے کرنے کیلئے پارلیمنٹ ہی مجاز ادارہ ہے تو درحقیقت وہ اس بات کا اشارہ دے رہے ہوتے ہیں کہ صدر کو پارلیمنٹ کے ذریعے تمام اختیارات سے محروم کردیا جائے گا اور یہ سب کو قابل قبول ہونا چاہیے۔ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی حقیقت کے باعث پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کے درمیان مفاہمت اگر واقع کوئی ہے تو وہ ہوا میں تحلیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ وہ وقت آچکا ہے جب معاملات پیپلزپارٹی کے کنٹرول میں نہیں رہے اور ان کو اپنی مرضی کے ساتھ آگے نہیں بڑھا سکتی۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور زرداری کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہیں لیکن جب وہ پیپلزپارٹی کو مشرف کے بارے میں سخت رویہ نہ اپناتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اپنے خیالات کے اظہار کیلئے بے چین ہو جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی صدرپرویز کیلئے بظاہر نرم خوئی اس کی مصلحت پسندانہ پالیسی کا نتیجہ ہے تاکہ کہیں بھی کوئی غیر ضروری ہلچل پیدا نہ ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں اتحادیوں کا مقصد ایک ہی ہے لیکن ایک دھماکہ کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسرا آہستہ اور محتاط طریقے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ فاروق لغاری نے اس وقت عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو اس کے ساتھی ججوں نے بر طرف کردیا تھا کیونکہ فاروق لغاری ان کے ذریعے ہی وزیراعظم پر حملہ آور ہورہے تھے‘ اس موقع پرفاروق لغاری نے سوچا کہ عہدے پر مزید برقرار رہنے سے ان کی مزید بے عزتی ہوگی‘ قبل ازیں صدر لغاری سے تمام آئینی اختیارات 14 ویں ترمیم کے ذریعے واپس لے لئے گئے تھے ‘ یہ ترمیم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے محض 10 منٹ میں منظور کرلی تھی‘ اس کے بعد نواز شریف تمام اختیارات کے ساتھ ایک طاقتور وزیراعظم بن گئے اور صدارت محض ایک رسمی عہدہ رہ گیا۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.

 
عبدالقدوس's Avatar
عبدالقدوس
Administrator

تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 231
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, پاکستان, وزیراعظم, نیوز, چین, نواز شریف, نظر, موقع, مواخذہ, آصف زرداری, اعلیٰ, ترمیم, دھماکہ, راستہ, زرداری, سپریم, طاقتور, صوابدیدی, صورتحال, صدارت, صدر, صدرپرویز


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نوشی گیلانی اپنے شوہر کیساتھ زارا ویڈیوز 2 03-03-11 04:56 PM
وکی لیکس کوراز دینے کے الزام میں گرفتار اہلکار کیساتھ ناروا سلوک گلاب خان خبریں 0 27-12-10 04:59 AM
صدر پر ویز کیساتھ کام کر نا چاہتے ہیں،پاکستانی عوام ہی ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر ینگے ،امر یکا عبدالقدوس خبریں 0 22-02-08 02:31 AM
نواز شریف کیساتھ شیر ہے جو بے نظیر کے اشاروں پر ناچتا ہے،پرویز الٰہی خرم شہزاد خرم خبریں 0 19-12-07 07:33 AM
عبداللہ گل کی بینظیر ،نواز ،شجاعت ،قاضی ،فضل اور عمران سے ملاقاتیں،صدر پر ویز کیساتھ مشتر کہ پر یس کانفرنس عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:09 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger