|
حکومت انتخابات میں ایک سال تاخیر کا فیصلہ کر چکی،صدر پر ویز ٹی وی پر آکر میرا دعویٰ غلط ثابت کر یں،بینظیر بھٹو

07-11-07, 09:15 AM
اسلام آباد (جنگ نیوز) سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت نے عام انتخابات میں کم از کم ایک سال کی تاخیر کا فیصلہ کر لیاہے۔جیو نیوز کے مطابق بینظیر بھٹو منگل کو یہاں اہم ٹیلیفون کال موصول ہونے پر پریس کانفرنس چھوڑ کر چلی گئیں۔ دریں اثناء غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ حکومت نے انتخابات ایک سے دو سال کیلئے ملتوی کر دیئے ہیں مگر ابھی اس کا اعلان نہیں کیا انہوں نے کہا کہ انہیں یہ خبر اندر سے ملی ہے، تاہم انہوں نے اپنی خبر کا ذریعہ نہیں بتایا۔ بینظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف کو چیلنج کیا کہ میرا یہ دعویٰ غلط ثابت کرنے کے لئے وہ ٹی وی پر آ کر اعلان کریں کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔بینظیر بھٹو نے مزید کہا کہ اسفند یار ولی سے جمہوریت کی بحالی کیلئے صلاح مشورے ہوئے ہیں ہم نوازشریف کے جواب کے بھی منتظر ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وجود خطرے میں ہے، کسی ڈکٹیٹر سے مذاکرات نہیں ہو سکتے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کے بدھ کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات کا اعلان 15 نومبر سے پہلے کیا جائے اور میڈیا سے پابندی اٹھائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور یہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور ہم عوام کو طاقت دلانے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے بتایاکہ ہم نے الیکشن کمیشن سے ووٹرز لسٹ مانگی مگر وہ دینے کو تیار نہیں انہوں نے کہا کہ ہماری مفاہمت صدر پرویز مشرف کے ساتھ نہیں بلکہ انتظامیہ کے ساتھ تھی اور مذاکرات کا ہمارا مقصد جمہوریت کی بحالی تھا۔انہوں نے کہا کہ نظریات الگ ہو سکتے ہیں اور اختلاف رائے بھی ہو سکتا ہے مگر اخلاق کو ملحوظ خاطر رکھا جاناچاہئے، سابق صدر ضیاء الحق کی باقیات بحران کا فائدہ اٹھا کر آئین کو معطل کرا چکی ہیں۔منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے مطالبہ کیا کہ جنرل مشرف وعدہ پورا کریں اور صاف و شفاف انتخابات کرائیں ۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 50 سے زائد وکلاء گرفتار ہوئے ہیں اس پر بدھ کو احتجاج کیاجا ئے گا انہوں نے کہا کہ 18 اکتوبر کو مجھ پر نہیں جمہوریت پر حملہ ہوا ، اس سے قبل سنی تحریک کی قیادت اور مولانا فضل الرحمن پر بھی حملہ ہو چکا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے مرتضیٰ بھٹو کیس کی تحقیقات کیلئے مغربی تحقیقاتی ادارہ کو بلایا تھا۔ ایک اور سوال پر بینظیر بھٹو نے کہاکہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مولانا فضل الرحمن اپنی بہن کو ملنے کیلئے کیوں نہیں آئے، وہ آتے تو ان سے مل لیتی۔ بینظیر بھٹو نے بتایاکہ اسفند یار ولی سے ان کی بات چیت ہوئی ہے جس میں ان سے جمہوریت کی بحالی کیلئے صلاح مشورے ہوئے ہیں جبکہ نوازشریف کے جواب کے بھی منتظرہیں۔ اس دوران محترمہ بینظیربھٹو اہم ٹیلیفون کال موصول ہونے پر پریس کانفرنس چھوڑ کر چلی گئیں۔پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف کیساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے اپنی شرائط کا اعلان کیا ہے جس میں آئین کی بحالی، بطور آرمی چیف ان کی ریٹائرمنٹ اور 15 نومبر تک الیکشن کے شیڈول کا اعلان شامل ہے‘ منگل کو اسلام آباد جاتے ہوئے انہوں نے ایک انٹرویو میں ٹائم میگزین کو بتایا کہ اگر مشرف یہ کرنے کیلئے تیار نہیں تو ایسے کسی شخص کیساتھ کام کرنا انتہائی مشکل ہے جو وعدہ تو کرتا ہے لیکن اسے پورا نہیں کرتا ، ایمرجنسی سے متعلق سوال پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ دراصل ہم اسے مارشل لا کہتے ہیں‘ آئین معطل کر دیا گیا ہے اگرچہ مشرف دنیا کی تسلی کیلئے اسے ایمرجنسی کا نام دے رہے ہیں۔ درحقیقت انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے آئین کو معطل کیاہے اور نیا عبوری حکم نافذ کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انہوں نے جمہوریت کا سفر روک دیا ہے ، انہوں نے حکمران جماعت مسلم لیگ کو بڑھایا ہے،میں اس کا ذکر کرنا چاہوں گی کہ مسلم لیگ ق میں بعض روشن خیال عناصر موجود ہیں لیکن اس کی اندرو نی قوت وہ لوگ ہیں جن کا تعلق 80 کی دہائی کے فوجی آمر ضیاء الحق سے ہے جس نے مجاہدین کو منظم کیا تھا ملک میں ہونے والے یکے بعد دیگرے واقعات یا پھر عسکریت پسندی کے اضافے سے ان کی گورننس دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے قبائلی علاقوں میں جنگ بندی کرنے اور امن معاہدے کرنے کی سرپرستی کی۔ ان کا قبائلی علاقوں میں کنٹرول ختم ہو چکا ہے‘ دہشت گرد سوات کے دروازہ پر دستک دے رہے ہیں اور ان کی نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر ہے‘ یہ لوگ پلاسٹک دھماکوں کے اعلیٰ ذرائع تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ وہ بم بنا رہے ہیں اور بم بنانیوالے آلات کو بہتر کر رہے ہیں جو میری ریلی میں استعمال ہوئے‘ 20 اکتوبر کو راولپنڈی میں آئی ایس آئی کی بس میں انہیں استعمال کیا گیا اور ایئر فورس افسروں کیخلاف بھی یہ بم استعمال ہوئے۔ وہ اسے خود کش حملہ کہتے ہیں لیکن یہ خود کش حملے نہیں ہیں لیکن ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ آئی ای ڈی (دھماکے کے جدید آلات) ہیں جو استعمال کئے جا رہے ہیں اور انہیں خود کش حملوں کا نام دیا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے 19 اکتوبر کو اپنے جلوس میں ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات کیلئے عالمی مدد کی درخواست کی تھی کیونکہ یہ اسی طرح کے بم تھے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی پولیس اور انٹرنیشنل پولیس کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کیلئے اشتراک ہونا چاہئے۔ ہم دھماکوں کے پس پشت ملزموں کی جڑوں تک پہنچنا چاہتے ہیں‘ اس سوال پر کہ اس کے ملک کے مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے بینظیر بھٹو نے کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمرجنسی اٹھائے جانے تک آمریت قائم رہے گی یہ اس سمجھوتے میں واضح شگاف ہے جو مشرف نے میری جماعت کیساتھ کیا ہے‘ ہم ان کے ساتھ جمہوریت کی طرف پر امن منتقلی کیلئے مختلف اوقات میں بات چیت کرتے رہے ہیں؟ انہوں نے آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کا وعدہ کیا تھا انہوں نے آزادانہ انتخابات اور انتخابی اصلاحات کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا ان وعدوں کے برعکس انہوں نے میری مشاورت کے بغیر ایمرجنسی نافذ کر دی‘ ہم نے انہیں اس کے خلاف مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے مسلم لیگ (ق) کے شدت پسند عناصر کا مشورہ مانا‘ اب میں محسوس کرتی ہوں جب تک جمہوریت بحال نہیں ہوتی، ہم شدت پسند قوتوں کو ہوا دیتے رہیں گے۔ اس سوال کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کیساتھ بات چیت ختم کر دی گئی ہے اور آپ مذاکرات کا دروازہ بند کر رہی ہیں کے جواب میں بینظیر نے کہا کہ ہم مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہے ،یہ پرویزمشرف ہیں جنہوں نے ان کے ملک پہنچتے ہی بات چیت کے دروازے بند کر دیئے‘ انہوں نے مجھے تعزیت کافون کیا اور اس کے فوراً بعد میں نے سنا کہ ان کے معاونین مجھ سے دوسرے دورانیہ کے مذاکرات کیلئے آنیوالے ہیں جس میں آزادانہ الیکشن کے سلسلے میں تجاویز اور ایوان صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان اختیارات کے توازن کیلئے بات چیت ہونی ہے لیکن وہ کبھی نہیں آئے‘ وہ کہتے رہے کہ وہ آئیں گے لیکن انہوں نے ایسا کیا نہیں‘ وہ کبھی نظر نہیں آئے‘ اس طرح درحقیقت انہوں نے وقت حاصل کیا اور جب میں دبئی میں تھی تو انہوں نے اچانک مارشل لا کا اعلان کر دیا‘ میں نے اپنے لوگوں تک پہنچنے کیلئے پہلی پرواز پکڑی جو بہت پریشان تھے۔ میرے لوگ جنہوں نے کراچی کے دھماکوں میں 158 جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہوں نے مذاکرات کا سلسلہ توڑا ہے لیکن ہم نے نہیں، ہم اپنے الفاظ اور عزم پر قائم ہیں ہم اپنے مقصد کیلئے آگے جائیں گے جو ہم سمجھتے ہیں کہ قومی مفاد میں ہے۔ جس کا مقصد ایٹمی طاقت سے مسلح قوم اور ملک کو جمہوریت کی طرف لیجانا ہے تاکہ یہاں استحکام ہو‘ تاکہ ہم اعتدال پسند قوتوں کو متحد کر سکیں تاکہ ہم شدت پسند قوتوں کا مقابلہ کر سکیں لیکن انہوں نے ایمرجنسی نافذ کر کے یکطرفہ طور پر مذاکرات کا دروازہ بند کر دیا چنانچہ ہم آئین کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مشرف آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہوں اور وقت پر الیکشن کرانے کا ہم سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔لندن میں مذاکرات کے دوران اگست میں ہی ہم نے انہیں بتا دیا تھا کہ ان کی اہلیت کے معاملے پر تحفظات ہیں اور انہیں آئینی اصلاحات مثلاً صدر اور پارلیمنٹ میں طاقت کے توازن کی ضرورت ہے جس سے ملک کو یہ مرحلہ استقامت سے طے کرنے میں مدد مل سکتی تھی لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں اہل ہوں۔ یہ مارشل لا اس لئے لگایا گیا ہے کہ وہ اپنی اہلیت سے متعلق عدالتی فیصلہ خلاف آنے کی توقع کر رہے تھے جبکہ اہلیت کا معاملہ پارلیمنٹ کے ذریعے بھی طے کیا جا سکتا تھا۔ اگر وہ اس کی وہ سیاسی قیمت ادا کرنے پر تیار ہو جاتے جس کا ہم نے مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے سیاسی حل تلاش کرنے کی بجائے مارشل لاء لگانے کو ترجیح دی اور یہ اس کا خطرناک حصہ ہے جس سے میں پریشان ہوں۔ اس سوال پر کہ اگر صدر ان کے مطالبات مان لیتے ہیں تو کیا وہ ان کے ساتھ پر اعتماد ماحول میں کام کر سکیں گی ۔ بے نظیر نے کہا کہ میرا اعتماد یقیناً مجروح ہوا ہے لیکن میں پوچھتی ہوں کہ اس کا ٹائم ٹیبل کیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ وعدے کئے گئے ہیں پھر انہیں توڑ دیا گیا۔ اعتماد بحال کرنے کیلئے پیشگی اقدامات کی ضرورت ہے ہم پیشگی طو رپر آئین کی بحالی ‘آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائرمنٹ اور شیڈول کے مطابق انتخابات (15 نومبر تک اعلان اور 15 جنوری تک انعقاد) کے مطالبات کر رہے ہیں۔ اگر وہ مزید کچھ سمیت یہ اقدامات کرنے پر تیار ہیں تو جو کچھ ہو چکا ہے اسے ختم کر دیں گے لیکن اگروہ ایسا نہیں کرتے تو پھر ایسے شخص کے ساتھ کام کرنا مشکل ہو جائے گا جو وعدہ تو کرتا ہے پھر وفا نہیں کرتا۔ سپریم کورٹ کی بحالی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کا احترام کیا جانا چاہئے۔ اس سوال پر کہ کیا وہ چیف جسٹس افتخار چوہدری اور دیگر تمام معطل ججوں کی بحالی چاہتی ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ججوں کے خلاف کوئی شکایت ہے تو حکومت کو اس کے لئے معمول کا طریقہ اپنانا چاہئے تھا، ججوں کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے معمول کا طریقہٴ کار موجود ہے کسی کو ماورائے آئین اقدام اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ اس سوال پر کہ کیا آپ ان ججوں کو غلط سمجھتی ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ میں تفصیلات سے آگاہ نہیں لیکن یہ جانتی ہوں کہ جنرل مشرف نے ججوں پر کچھ الزامات لگائے ہیں اور یہ وہ الزامات ہیں جن کا انہیں جواب دینا چاہئے۔ یہ سنگین الزامات ہیں، ان الزامات کی حقیقت میں جائے بغیر میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ مس کنڈکٹ کے ان الزامات پر کارروائی کے لئے طریقہٴ کار موجود ہے اور اسے مارشل لا کے نفاذ کا جواز نہیں بنانا چاہئے۔ مشرف کا بیان کہ ایمرجنسی کا نفاذ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے مفاد میں ہے پر تبصرہ کر تے ہوئے بے نظیر نے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ 2002ء کے انتخابات میں جب پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے سے روک دیا گیا کے بعد سے اس میں اضافہ ہوا ہے لیکن مارشل لا دہشت گردی کو روکنے کے لئے نافذ نہیں کیا گیا۔ یہ مشرف کی بطور صدر اہلیت سے متعلق سپریم کورٹ کا اپنے خلاف آنے والا فیصلہ روکنے اور مسلم لیگ (ق) کو اقتدار میں رکھنے کے لئے نافذ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لا سے دہشت گردی کے لئے حالات مزید خراب ہوں گے۔ اس سے فوج اور پولیس کی توجہ دہشت گردی کیخلاف لڑائی سے ہٹ جائیگی۔ انہوں نے کہا شدّت پسند اور دہشت گرد عوام اور حکومت کے درمیان تازہ تصادم کے سوا کچھ نہیں چاہیں گے۔عدم استحکام سے بچاؤ کیلئے میری پارٹی اور میں نے دہشت گردوں کو کمزور کرنے کیلئے جنرل مشرف سے مذاکرات کا فیصلہ کیا لیکن میں خوفزدہ ہوں کہ ان کے اقدامات سے دہشت گردوں کو فائدہ ہو گا اور انہیں اس کا تدارک کرنا چاہئے ہم سب دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتے ہیں، جو کچھ ہو چکا ہے،ہمیں اس کے ازالے کیلئے مل جل کر کام کرنا ہو گا۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|