|
حکومت سازی:پیپلزپارٹی، ن لیگ اور اے این پی کے سربراہان آج ملیں گے

21-02-08, 02:47 AM
حکومت سازی:پیپلزپارٹی، ن لیگ اور اے این پی کے سربراہان آج ملیں گے
اسلام آباد (رپورٹ/طاہر خلیل، اظہر سید، ایوب ناصر) اسلام آباد میں حکومت سازی کے سلسلے میں انتخابات میں کامیاب ہونے والی تین بڑی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کی قیادتوں کے درمیان صلاح و مشورے آگے بڑھ رہے ہیں اور تینوں جماعتوں کیرہنماؤں کی آج اسلام آباد میں ملاقات ہوگی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بدھ کو دوسرے روز بھی اسلام آباد میں جاری رہا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا آج اسلام آباد میں ہوگا جبکہ (ق) لیگ نے ایم کیو ایم کی قیادت سے رابطے کئے ہیں۔ میاں نواز شریف اور اسفند یار ولی بھی آج اسلام آباد پہنچیں گے۔ اسلام آباد میں آصف علی زرداری، میاں نواز شریف اور اسفند یار ولی اپنی ملاقات میں مستقبل میں حکومت سازی کے سلسلے میں صلاح و مشورے کریں گے جس میں معزول ججوں کی بحالی، قومی اداروں کی مضبوطی، صدر کے سیاسی مستقبل سمیت دیگر اہم امور پر مشترکہ موقف اپنانے کیلئے بعض بنیادی نکات پر اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی۔ اسلام آباد میں ذرائع نے بتایا ہے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (قائداعظم) دونوں نے ایم کیوایم کی قیادت سے رابطے کئے ہیں مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں مسلم لیگ (ق) ہفتے کو اپنے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کرے گی۔ الیکشن کمیشن کے نتائج اور حاصل شدہ نشستوں کے مطابق مرکز اور صوبوں میں مخلوط حکومتوں کے قیام کے امکانات وسیع ہوگئے ہیں اور سیاسی جماعتیں اسی تناظر میں بات چیت کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ گزشتہ روز آصف علی زرداری نے سندھ میں اکثریت ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کے ساتھ شرکت اقتدار پر آمادگی ظاہر کی ہے مرکز میں کسی سیاسی جماعت کو حکومت سازی کیلئے مطلوبہ اراکین کی تعداد حاصل نہیں جبکہ پنجاب میں بھی میاں نواز شریف کی جماعت اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں انہیں لازماً آزاد امیدواروں کے ساتھ مسلم لیگ ق سے منحرف ہونیو الے اراکین پر انحصار کرنا ہوگا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور ا ے این پی میں مفاہمت سے سرحد اور بلوچستان میں باآسانی حکومتیں بن جائیں گی جبکہ بلوچستان میں تینوں جماعتوں کو آزاد امیدواروں کے ساتھ ساتھ ایم ایم اے اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے ساتھ بھی بات کرنا پڑے گی سفارتی حلقے بھی پاکستان کی آئندہ کی حکومت میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ دو روز کے دوران تین امریکی سینیٹر اور امریکی سفیر آصف علی زرداری کے ساتھ مستقبل کی حکومت کے حوا لہ سے ملاقات کرچکے ہیں جبکہ برطانیہ، چین، بھارت اور عرب ممالک بھی پاکستان کی مستقبل کی حکومت کے حوالے سے گہری دلچسپی لے رہے ہیں دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی مستقبل کی حلیف جماعتوں کیلئے عدلیہ کی بحالی سمیت دیگر معاملات پر کوئی قابل قبول فارمولا تشکیل دینے کی خواہاں ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اپنی ایک ترجیح واضح کرچکی ہے کہ ماضی کی دو حکومتوں کی طرح اس مرتبہ بھرپور اختیارات لئے جائیں گے محض عہدہ نہیں اور پارلیمنٹ کو بالادست اور بااختیار بنایا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے معتبر ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ میاں نواز شریف اور پارٹی کے دوسرے رہنما اصولی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ ملک جن گھمبیر مسائل میں گھرا ہوا ہے ان سے نمٹنے کیلئے وسیع تر قومی مفاہمت ضروری ہے مسلم لیگ (ن) کے ایک سرکردہ رہنما نے جنگ سے اپنی ایک گفتگو میں یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وسیع تر قومی مفاہمت کے سلسلے میں ضرورت پڑنے پر چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی سے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے سخت گیر حلقے نواز شریف سے تقاضا کررہے ہیں کہ عدلیہ پر وعدے کی مکمل پاسداری کریں اور اگر اس مقصد کے حصول میں کامیابی کے بدلے پنجاب میں حکومت سازی کے حق سے دستبرداری بھی کرنا پڑے تو اسے قبول کرلیا جائے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|