واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


حکومت مناسب سیکورٹی فر اہم کر تی تو آج بینظیر زندہ ہو تیں،قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کر ائی جائے،بلاول بھٹو زرداری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-08, 11:40 AM   #1
حکومت مناسب سیکورٹی فر اہم کر تی تو آج بینظیر زندہ ہو تیں،قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کر ائی جائے،بلاول بھٹو زرداری
ابن ضیاء ابن ضیاء آف لائن ہے 09-01-08, 11:40 AM

لندن ۔۔۔۔۔۔۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی والدہ کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ کی ٹیم سے کرائی جائے۔ انہوں نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم تحقیقات میں مدد کے لئے بھیجنے کا خیرمقدم کیا تاہم کہا کہ یہ تحقیقات کرنے والی ٹیم نہیں بلکہ وہ حکومت کی انکوائری میں مدد دے رہی ہے۔ پارٹی کو حکومت کی تحقیقات پر یقین نہیں اور نہ وہ شفاف ہو گی۔ حکومت نے پہلے ہی بہت سے فورینزک شواہد ضائع کر دیئے ہیں اس لئے پارٹی کا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ تحقیقات اپنے سر لے۔ منگل کو یہاں سینٹرل لندن میں چیئرمین بننے کے بعد اپنی پہلی اور پرہجوم پریس کانفرنس میں انٹرنیشنل میڈیا کا پر اعتماد اندازمیں سامنا کیا اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ والدہ کے قتل نے پاکستان میں جمہوریت دیکھنے کے میرے ارادے کو مصمم کر دیا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ خود کو درپیش خطرات سے آگاہ ہوں،انہوں نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں لہذا اس سلسلے میں میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا،انہوں نے خبردار کیا کہ غیر جانبدار اور منصفانہ انتخابات نہ ہونے کی صورت میں ملک ٹوٹ جائے گا،انہوں نے مزید کہا کہ ان کی والدہ جرأت مند اور عوام سے پیار کرنے والی شخصیت تھیں۔ وہ خطرات سے آگاہ تھیں جس روز ان کو قتل کیا گیا پورے ملک سے ہزاروں افراد انہیں دیکھنا چاہتے تھے اور وہ انہیں مایوس نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ یہ ان کی وہی جرأت تھی جس کا انہوں نے مظاہرہ 18 اکتوبر کو وطن واپسی پر بس میں کیا تھا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اگر حکومت نے انہیں مناسب سیکورٹی فراہم کی ہوتی تو وہ آج زندہ ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ تحقیقات جاری ہے وہ تبصرہ نہیں کریں گے کہ پارٹی کے نزدیک قتل کا کون ذمہ دار ہے۔ اپنے چیئرمین بننے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بحران کا وقت تھا پارٹی کو ایسے لیڈر کی تلاش تھی جو بینظیر کے خون سے تعلق رکھتا ہو جبکہ پاکستان کی نئی نسل کو بھی امید کا پیغام دینا تھا جو صرف مجوزہ الیکشن پر ہی نہیں بلکہ مستقبل پر نگاہیں لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست ان کے خون میں ہے اگرچہ مجھے زیادہ تجربہ نہیں تاہم سیکھنا چاہتے ہیں۔ فوری ترجیح آکسفورڈ میں تعلیم مکمل کرنا ہے۔ تعلیم کے بغیر سیاسی میدان میں آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ فی الحال بطور چیئرمین ان کا کردار محدود ہے۔ ان کے والد ان کی جگہ پارٹی کے وائس چیئرمین مخدوم امین فہیم اور دوسرے پارلیمنٹیرین کی مدد کریں گے۔ ان کے والد الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے۔ بلاول زرداری نے کہا جو صحافی یہ سوال کرتے ہیں کہ انہیں 19 سال کی عمر میں یہ سیاسی کردار کیوں دیا گیا؟ تو میرا جواب یہ ہے کہ پارٹی کی مجموعی رضامندی سے یہ پوزیشن دی گئی اور پارٹی چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کی قیادت پر مشتمل سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے 50 سے 60 ارکان نے اتفاق رائے سے اس کی توثیق کی۔ اس سے پہلے بھی ایسی مثالیں موجود ہیں، بھٹو مرحوم کے بعد بیگم نصرت بھٹو اور پھر ان کی والدہ چیئرمین بنیں۔ اس وقت اہم بات یہ ہے کہ پارٹی کو متحد ہو کر مجوزہ الیکشن کا سامنا ہے چونکہ پارٹی ممبروں نے متفقہ طور پر انہیں چیئرمین تسلیم کیا ہے وہ تعلیم مکمل کر کے اپنی والدہ کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ دوران تعلیم ان کی اور دبئی میں ان کی بہنوں کی نجی زندگی کا احترام کریں۔ انہوں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ صحافی آکسفورڈ میں ان کے نام کی جعلی فیس بک سے مواد لیکر شائع کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں برطانیہ اور امریکہ کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا کے انتہائی سینئر صحافی موجود تھے جنہوں نے سخت سوالوں کی بوچھاڑ کر دی لیکن بلاول نے پورے اعتماد کے ساتھ ہر سوال کا مختصر جواب دیا۔ پاکستان میں الیکشن کے حوالے سے سوال پر انہوں نے خبردار کیا کہ اگر الیکشن صاف، شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ نہ ہوئے تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے کہا ان کی والدہ کو کس نے قتل کیا ہے؟ وہ اس لئے جواب نہیں دیں گے کیونکہ پارٹی پہلے ہی کافی معلومات دے چکی ہے۔ ان سے بار بار پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بارے میں سوال پوچھا گیا۔ تو انہوں نے کہا یہ فیصلہ پارٹی نے اتفاق رائے سے کیا ہے جو انہیں قبول کرنا پڑا۔ پاکستان سے باہر رہنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ”میرا یا میری والدہ کا جلاوطنی میں رہنا ہماری چوائس نہیں تھی تاہم پاکستان میں نہ رہنے کے باوجود میں وہاں کے حالات کے بارے میں باخبر رہا“۔ خود کو درپیش خطرات کے بارے میں انہوں نے کہا ”مجھے خطرات کا علم ہے لیکن مجھے یہ کام کرنا ہے۔ مجھے بلایا گیا اور میں نے والدہ کی جگہ لے لی“۔ اس سوال پر کہ والدہ کے قتل کے بعد وہ کیسا محسوس کرتے ہیں؟۔ انہوں نے کہا ”قتل نے میرے ارادے کو اور بھی مصمم کر دیا ہے اور میں پاکستان میں جمہوریت دیکھنا چاہتا ہوں“۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خاندان کو متحد کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا انہیں اپنے دونوں کزنوں سے پیار ہے ان کے محترمہ بینظیر بھٹو سے اختلافات تھے لیکن ان کی والدہ نے میری قیادت کی مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کے وصیت نامے میں میرا نام نہیں تھا لیکن یہ فیصلہ پارٹی نے متفقہ طور پر کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی پرامن بقائے باہمی کی ہونی چاہئے۔ پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ ان کی خالہ صنم بھٹو، سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اور وکٹوریہ سکوفیلڈ کے علاوہ سراج شمس الدین اور بینظیر بھٹو کے معاون ترجمان سعادت شاہ موجود تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد اپنی جان کو لاحق خطرے کے بارے میں پوچھے گئے سوال میں انہوں نے پارٹی کا نعرہ دہرایا کہ ”تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا“،جیو کے مطابق انہوں نے غیر ملکی میڈیا کے سوالات کے بڑے تحمل سے جوابات دیئے۔ لندن میں ان کی پریس کانفرنس کے وقت انٹرنیشنل میڈیا کے وہ تمام نمائندے موجود تھے جو کسی بھی بڑے لیڈر کی پریس کانفرنس کے وقت دیکھا جا سکتا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں نے ایک گھنٹہ تک بلاول بھٹو زرداری کی آمد کا انتظار بھی کیا۔

 
ابن ضیاء's Avatar
ابن ضیاء
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: Karachi - Pakistan
مراسلات: 328
شکریہ: 50
83 مراسلہ میں 185 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 306
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, وصیت, لندن, مکمل, آج, ایمان, اقوام متحدہ, امریکہ, تلاش, تعلیم, خون, دبئی, زندگی, زرداری, سیاست, سال, صوبوں, صنم, صحافیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ذوالفقار علی بھٹو کی سیکورٹی کونسل میں تقریر۔ 15 دسمبر 1971 منتظمین 1971 اور مشرقی پاکستان 46 23-05-12 04:53 PM
بر طانیہ:کروڑوں شناختی کارڈ میں سیکورٹی کی سنگین خامیوں کا انکشاف مسٹر گرزلی خبریں 0 22-06-08 03:15 PM
حکومت نے سیکورٹی کم کر دی،مجھے اور میرے خاندان کو کچھ ہو اتو ذمہ دار شر یف عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 10:12 AM
پارٹی نے کہا تو استعفیٰ دیدوں گا، شجاعت حسین عبدالقدوس خبریں 0 20-02-08 03:35 AM
سوات میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ قابل مذمت ہے،بینظیر بھٹو عبدالقدوس خبریں 0 28-10-07 09:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger