|
حکومت نجی چینلز کی نشریات اور صحافت پر پابندی ختم کرے،سیفما

08-11-07, 03:28 PM
لاہور (نمائندہ جنگ)سارک ممالک پر مشتمل صحافیوں کی تنظیم ساؤتھ ایشیاء فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) نے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے پیمرا آرڈیننس اور پی سی او میں نجی ٹی وی چینلوں کی نشریات اور صحافت پر عائد قدغن اور پابندی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی ٹی وی چینلز اور صحافت پر پابندیاں ختم کی جائیں۔تنظیم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سارک ممالک کی صحافتی تنظیمیں سفارتخانوں کو مذمتی مراسلے لکھیں اور 20نومبر کو مظاہرہ کریں۔سیفما نے پاکستان میں اخباری مالکان کی تنظیموں، اے پی این ایس اور سی پی این ای سے اپیل ہے کہ وہ پاکستان میں عائد صحافتی پابندیوں کیخلاف کارکن صحافی تنظیموں کے ساتھ ملکر مزاحمت کریں۔ عالمی صحافتی تنظیمیں بھی پاکستان میں صحافیوں کے خلاف ہونیوالے واقعات کو مانیٹر کریں۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز یہاں سیفما کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے سیفما آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کی صورتحال اچھا شگون نہیں، اس سے ملک کا تصور خراب ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پیر کو گرفتار کر لیا گیا اور 36گھنٹے تک مختلف تھانوں میں رکھا گیا۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ میڈیا کو آزادی انہی کے دور میں ملی ہے۔ اب انہوں نے صحافیوں کو گرفتار کر کے، نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات بند کر کے اور پیمرا آرڈیننس اور پی سی او کے تحت صحافت پر قدغنیں لگا کر خود ہی اپنے دعوؤں کی نفی کر دی ہے۔ ہم پاکستانی صحافتی تنظیموں کو یقین دلاتے ہیں کہ سیفما ان کے حقوق کیلئے انکے ساتھ ہوگی۔ اس حوالے سے سیفما کے سارے چیپٹرز سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ملک، انڈیا، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، مالدیپ، افغانستان اور سری لنکا میں 15نومبر کو اپنے ہاں موجود غیر ملکی سفارتخانوں کو احتجاجی مذمتی مراسلے لکھیں اور 20 نومبر کو مظاہرے کریں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پارٹی پالیٹکس پر یقین نہیں رکھتا،نہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کی سپورٹ اور ستائش کرتا ہے۔ میری پاکستانی صحافیوں اور صحافتی تنظیموں سے بھی توقع ہے کہ وہ اپنے بنائے گئے صحافتی ضابطہ اخلاق پر چلیں گے۔ گرفتار کئے گئے صحافیوں کو رہا اور نجی ٹی وی چینلوں کی نشریات بحال کی جائیں۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خبری نشریات نہ دکھانے والے کیبل آپریٹروں کو ادائیگی نہ کریں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|