سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان بل پر مشاورت ملتوی کردی
اسلام آباد (خالد مصطفی) حکومت نے ملک میں آر جی ایس ٹی کے نفاذ میں ناکامی کے بعد مسلم لیگ ن اور دوسری سیاسی پارٹیوں کے حمایت سے فیصلہ کیا ہے کہ سٹیٹ بینک کو خودمختاری نہیں دی جائے گی۔ قومی اسمبلی کی کمیٹی سے سٹیٹ بینک آف پاکستان (کے ترمیمی) کے بل 2010ء کی منظوری کے بعد اب یہ بل معیشت پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے پاس ہے۔ حکومت نے اس موقف کی حمایت کی ہے کہ بینک کی خودمختاری سے ریاست کے اندر ریاست وجود میں آجائے گی اور سٹیٹ بینک ریاست میں پانچویں ستون کے طور پر ابھرے گی اور کسی بھی وقت حکومت کا دم گھوٹنے کے قابل ہوجائے گی۔ ن لیگ نے بھی قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ کی طرف سے منظور ہونے والے اس ترمیمی بل کے مسودے کی منظوری نہ کرنے کے حکومتی فیصلہ کی حمایت کی ہے اور اسے قومی مفادات کے ساتھ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے گزشتہ روز سٹیٹ بینک آف پاکستان بل 2010ء پر مشاورت ملتوی کردی ہے وزیر خزانہ نے کمیٹی سے مزید یہ درخواست کی ہے کہ سٹیٹ بینک کے گورنر کی ای سی او کے اجلاس سے واپسی تک بل پر مشاورت کو ملتوی کردیا جائے کیونکہ گورنر بینک ہی اس تجویز کردہ بل کا جواز پیش کریں گے۔ سابق وزیر خزانہ نے بھی اس بل کو قومی مفادات سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک حکومت کو مجبور کردے گی کہ وہ کمرشل بینکوں سے ادھار لے اور اگر کمرشل بینک ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں تو حکومت کے لئے بہت مشکل حالات پیدا ہوجائیں گے اس کا مطلبہ یہ ہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ایک سرکاری افسر نے کہا کہ اس معاملہ میں سب سے طنزیہ پہلو یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی اس کمیٹی میں وزارت خزانہ اور ن لیگ کے منتخب نمائندگان شامل ہیں جس نے اس بل کو پاس کیا ہے اور بل کے منظور ہونے کے بعد سامنے آنے والے نتائج پر غور نہیں کیا۔ اب سینٹ کمیٹی اور حکومت انتظامیہ نے محسوس کیا ہے کہ سٹیٹ بینک کی خودمختاری جیسا کہ بل میں تجویز کی گئی ہے حکومتی معاملات اور معاشی تعاون کو تباہ کرکے رکھ دے گی۔ یہ بات یقیناً آئی ایم ایف کو پریشان کردے گی حالانکہ حکومتی اعلیٰ اہلکار دوبئی میں اس سے مذاکرات کرنے جارہے ہیں۔ حکومت نہ ہی اپنے ریونیو کے حصول میں بہتری لاسکی ہے اور نہ ہی سٹیٹ بینک پاکستان بل 2010ء کو منظور کرسکی ہے یہ دونوں شرائط پورا کرنا آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہنے کے لئے ضروری تھا سیکرٹری خزانہ نے سینٹ کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کا کام تھا کہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش کردے اب یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہے کہ وہ بل کو اس حالت میں پیش کرتی ہے یا نہیں تاہم پاکستان دبئی میں آئی ایم ایف ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ اور اس بل کو پاس کرنے کی جانے والی حکومتی کوششوں کے بارے میں یقین دلانے کی کوشش کرے گا اس سے قبل سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مرکزی بینک کی طرف سے گزشتہ چار سالوں میں پیش کی جانے والی مانیٹری اور کریڈٹ پالیسیوں کو غیرقانونی اور سٹیٹ بینک ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس کی وجہ مالی اور زری پالیسیوں کے تعاون بورڈ کا 2007ء سے اجلاس نہ ہونا بتایا ہے اس کے علاہ سنیٹر پروفیسر خورشید احمد، سنیٹر ہارون خان اور سنیٹر الیاس بلور نے بھی ان پالیسیوں کا اس بورڈ کی طرف سے منظور نہ کرائے جانے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار چوہان اس میٹنگ میں موجود تھے اور وزارت خزانہ کی طرف سے کسی نے بھی نہیں بتایا کہ مالی اور زری پالیسیوں کے تعاون بورڈ کا اجلاس نہ بلایا گیا۔ 2007ء سے اب تک شوکت عزیز، سنیٹر اسحاق ڈار، سید نوید قمر، شوکت ترین اور موجود ڈاکٹر حفیظ شیخ سمیت سارے کے سارے 6 وفاقی وزیر خزانہ اس بورڈ کا اجلاس بلانے میں ناکام رہے جو مانیٹری اور کریڈٹ پالیسیوں کے بورڈ کی منظوری کے بغیر ہی منظوری کا سبب بنا سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مالی اور سود سے متعلق تمام پالیسیاں مذکورہ بورڈ کی رہنمائی کے بغیر ہی منظور کی گئیں جو یقینی طور پر سٹیٹ بینک ایکٹ کی خلاف ورزی ہے تاہم جب وزارت خزانہ نے کوئی جواب نہ دیا تو سٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی کے ڈائریکٹر حمزہ علی ملک نے بھی مالی اور زری پالیسوں کے تعاون بورڈ کی 2007ء سے اجلاس نہ بلانے کا ذمہ دار وزارت خزانہ کو ہی قرار دیا ہے انھوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ بورڈ کا سربراہ وزیرخزانہ ہوتا ہے جبکہ اس کے سیکرٹریٹ کے معاملات کو خزانہ ڈویژن چلاتا ہے۔ سٹیٹ بینک کے چیف اکنامسٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ مالی اور زری پالیسیوں کے تعاون بورڈ کا اجلاس نہ بلانے کے باوجود سٹیٹ بینک نے زرعی اور سود سے متعلق تمام پالیسیاں حکومت کے سالانہ منصوبہ میں مقرر کردہ افراط زر اور ترقیاتی اہداف کے مطابق ہی جاری کی ہیں۔ ہارون خان، پروفیسر خورشید احمد اور الیاس بلور نے سٹیٹ بینک آف پاکستان بل 2010ء کی شق2-A پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ان کا خیال تھا کہ ہنگامی حالات میں یہ شق بینک کے گورنر کو پہلے فیصلہ کرنے کا اور بعد بورڈ آف ڈائریکٹرز کو اطلاع دینے کا اختیار دیتا ہے۔ اجلاس کے دوران سنیٹر ہارون خان، پروفیسر خورشید اور الیاس بلور نے مانیٹری پالیسی پر تنقید کی اور انھوں نے افراط زر کو قابو میں کرنے کیلئے شرح سود میں اضافہ کی سٹیٹ بینک کی پالیسی کو بھی مسترد کردیا۔ ان کے مطابق موجودہ 18 فیصد شرح سود کے باعث مقامی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری دوسرے ملکوں میں لے جارہے ہیں اور وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں انھوں نے سابق وزیرخزانہ شوکت کے دور کی مثال دی اور کہا کہ اس دور میں ملک افراط زر کے باوجود شرح سود کم ترین سطح 4 فیصد پر رکھا گیا ہے۔ ملک میں بیرونی اور مقامی سرمایہ کاروں کی طرف سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ملک میں معاشی حالات بہتر ہوئے اور پانچ سال تک مسلسل معاشی ترقی کی شرح نمو 6 سے 7 فیصد کے درمیان رہی ان کا خیال تھا کہ مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں اضافہ اور سخت مانیٹری پالیسی افراط زر کو ایک ہندسہ بھی نیچے لانے میں ناکام رہی ہے اور ملک میں سرمایہ کاری کی فضا کو سخت نقصان پہنچا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی