واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


حکومت ڈی جی ایف آئی اے کو خود ہٹا دے، ہمیں کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور نہ کیا جائے، سپریم کورٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-03-11, 06:16 AM   #1
حکومت ڈی جی ایف آئی اے کو خود ہٹا دے، ہمیں کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور نہ کیا جائے، سپریم کورٹ
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 12-03-11, 06:16 AM

وسیم احمد کو نہیں ہٹا سکتے، وفاقی حکومت، وہ اتنے اہم ہیں تو کسی اور جگہ لگا لیں، چیف جسٹس، عدالت عظمیٰ نے کنٹریکٹ ملازمین کو ہٹانے کے حوالے سے مزید مہلت دیدی
حج کیس پر کارروائی تیز کی جائے اتنا قومی خزانہ لوٹا گیا یہ چھوٹا جرم نہیں ، جسٹس افتخارچوہدری، سرکاری حج کی مذہب میں کوئی حیثیت نہیں ، جسٹس جاوید اقبال
اسلام آباد(سپیشل رپورٹر، آئی این پی) وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے روبرو بتایا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات کے پیش نظر ڈی جی ایف آئی اے کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ عدالت کے روبرو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ 22وفاقی وزارتوں میں کنٹریکٹ پر 47افسران کام کر رہے ہیں جبکہ 24وزارتوں کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں جو کہ عدالت میں پیش کر دی جائینگی۔ عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ باقی وزارتوں اور اداروں میں کنٹریکٹ ملازمین کا ڈیٹا جمع کر کے عدالت میں جمع کرا دیں۔ ڈی جی ایف آئی اے کو نہ ہٹانے کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ نے رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جس میںڈی جی وسیم احمد کو نہ ہٹانے کی وجوہات بیان کی گئی تھیں۔ فاضل عدالت نے کہا کہ آئندہ دستخط کے ساتھ اس رپورٹ کو پیش کریں تاہم فاضل عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ کو ”سال کا مذاق“ قرار دیا اور حکم دیا کہ حکومت 16 مارچ تک ڈی جی ایف آئی اے کو خود ہٹا دے ہمیں کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ لوگ پڑھیں گے تو مذاق بنے گا۔ جسٹس راجہ فیاض احمد نے کہا کہ یہ سال کابہترین مذاق ہے جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ کلاسیفائیڈ مذاق ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس جاوید اقبال ¾جسٹس راجہ فیاض احمد ¾ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت 16مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ فاضل عدالت میں ایف آئی اے نے حج کرپشن سکینڈل میں بھی رپورٹ پیش کی جس پر عدالت نے حکم دیا ہے کہ حج کے معاملے میں کارروائی کو تیز کیا جائے۔ فاضل عدالت کے روبرو چاروں صوبوں نے بھی کنٹریکٹ افسران کی فہرستیں پیش کیں۔ عدالت نے کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کے حوالے سے صوبوں کے کردار کو سراہا۔ حج کرپشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایف آئی اے سے کہا کہ بات وہیں پر ہے جہاں چھوڑی تھی۔ راﺅ شکیل سے ابھی تک تفتیش نہیں کی گئی عوام کا پیسہ لوٹا گیا ہے یہ تو حکومت کی مہربانی ہے کہ اس نے حاجیوں کو واپس کر دیا۔ ایف آئی اے کی جانب سے تفتیشی جاوید بخاری اور ڈائریکٹر لیگل اعظم خان سمیت دیگر پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کے پرسنل سیکرٹری نے ان کی ایک تحریر کی تصدیق کر دی ہے یہ احمد فیض کی درخواست تھی جو کہ وزیر کے پاس تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ راﺅ شکیل کو کس طرح ڈی جی حج تعینات کر دیا گیا الٹا قومی خزانہ لوٹا گیایہ چھوٹا جرم نہیں ہے۔ اس میں پانچ پارلیمینٹرین کی کمیٹی نے بھی رپورٹ مرتب کی ہے ہم کو یہ پتہ ہے کہ ایف آئی اے پر دباﺅ ہے۔ ایڈیشنل ڈی جی جاوید بخاری نے کہا کہ ہم نے تو وزیر پر بھی چھاپہ مارا تھا اب کام شروع کیا ہے تو اس کو نتیجہ خیز بنائیں گے۔ عدالتی استفسار پر انہوں نے بتایا کہ سال 2009میں 200اور سال 2010ءمیں 248لوگوں نے سرکاری سپانسر حج کیاہم نے انکو نوٹس بھیجے ہیں اس بارے حتمی رپورٹ دینگے کہ سپانسر حج سے قومی خزانے کو کتنا نقصان ہوا۔ جسٹس غلام ربانی نے کہا کہ جن لوگوں نے قومی خزانے کا غیر قانونی استعمال کیا آپ ان لوگوں کی فہرست بنا کر دیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ سرکاری حج کی روایت آج کی نہیں بلکہ 1947ءسے چل رہی ہے۔ سرکاری حج کی مذہب اور اخلاقیات میں کوئی حیثیت نہیں ہے یہ عوام کا پیسہ ہے اس کو غریب عوام کی فلاح کیلئے خرچ ہونا ہے۔ معاشرتی اصلاح کا کام عدالت کے ذمے زبردستی لگا دیا گیا ہے۔ آپ ایسے اقدامات اٹھائیں کہ سرکاری حج کا تدارک ہو سکے یہ بات درست نہیں ہے کہ اگر ایک مرتبہ ایک کام غلط ہو گیا ہے تو اس کو ہمیشہ جاری رکھنا ہے۔ فاضل حج نے مزید کہا کہ جب تک ایف آئی اے احمد فیض کو گرفتار نہیں کرتی اس وقت تک تفتیش آگے نہیں چل سکتی جبکہ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر سعودی عرب میں بنک اکاﺅنٹ ہو تو اس کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔ اگر آپ کو احمد فیض کی گرفتاری میں مشکلات آ رہی ہیں تو عدالت کو بتائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی جی حج راﺅ شکیل کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کیلئے وزیر نے کس طرح ہدایات دیں۔ ڈائریکٹر لیگل نیب نے کہا کہ یہ بتایا گیا کہ ان کو مجاز اتھارٹی نے ڈی جی حج تعینات کر دیا ہے اس لئے ان کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ نیب سے نہیں پوچھا گیا حالانکہ نیب نے ان کا نام ای سی ایل پر ڈلوایا تھا۔ جب ڈی جی ایف آئی اے کنٹریکٹ پر ہے تو باقی کس طرح آزادانہ کام کر سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ حج سکینڈل ہوا ہے جن لوگوں کے خلاف فیصلے ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شاید عدالت مخالفانہ فیصلے کر رہی ہے۔ میرے انڈیا کے دورے کے دوران انڈین چیف جسٹس نے مجھ کو بتایا کہ انہوں نے ایک سکینڈل کے کیس میں تفتیشی افسر خود لگایا تھا یہاں پر کسی کے مرضی کے فیصلے نہیں ہونگے بلکہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے ہونگے۔ اگر قانون کے مطابق چلیںگے تو ٹھیک ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب کوئی مسئلہ سامنے آیا وزیراعظم گیلانی نے آگے بڑھ کر اسے حل کرنے میں تعاون کیا۔ عدالت کے روبرو کنٹریکٹ ملازمین کے معاملے میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے رپورٹ دی اور بتایا کہ سیکورٹی کے معاملات کی وجہ سے ڈی جی ایف آئی کو عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وہ اتنے ہی اہم ہیں تو کسی اور جگہ لگا لیں اگر ان کو رکھنے پر اصرار کیا گیا تو ہم دیکھیں گے کہ کیا مناسب حکم جاری کرنا ہے جبکہ سیکرٹری اسٹیلشمنٹ چوہدری عبدالرﺅف نے اس سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے بتایا کہ 14افسران کو کنٹریکٹ پر رکھا گیا تھا ان تمام کو ہٹا دیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ کسی کو دوبارہ کنٹریکٹ پر ملازمت نہیں دی گئی۔ مجبوری میں کچھ ڈاکٹروں کو رکھا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ 9آسامیاں خالی تھیں جن پر سے یا تو افسران نے استعفیٰ دے دیا ہے یا انکو ہٹا دیا ہے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ کل 83افسران کنٹریکٹ پر تھے جن میں سے 43کو فارغ کر دیا گیا ہے اور باقی 40باقی رہ گئے ہیں جس میں سے 12کو برقرار رکھا ہے باقی کیلئے کمیٹی بنائی ہے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ وزیراعظم سے بات ہوئی ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہم تمام مقدمات میں نظرثانی کر رہے ہیں۔ تاہم ڈی جی ایف آئی اے کو ہٹانے میں کچھ مشکلات ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی یہ مشکل آسان کر دیں جبکہ وفاق کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ یہ کام سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی اتھارٹی سے باہر ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ماحول کو مخالفانہ نہ بنائیں ہم آئین و قانون کے علاوہ کچھ فالو نہیں کرینگے۔ حکومت اس رویئے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ گواہ ہیں ہم نے بڑا ضبط سے کام لیا ہے۔ عدالت کو دیوار کے ساتھ مت لگائیں ہمیں بدنام کیا جا رہا ہے اور الزامات لگائے جا رہے ہیں صرف اس لئے کہ ہم آئین کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جسٹس راجہ فیاض احمد نے کہا کہ ہم عہدوں پر نااہل اور کرپٹ لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر لگایا جارہا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ حکومت نے پولیس فورس کے کچھ افسران کو ہٹانے کے سوا کوئی پراگریس نہیں دکھائی۔ ڈی ایف آئی اے بھی اسی کٹیگری میں آتے ہیں جو کہ آرٹیکل 45کی خلاف ورزی ہے۔ فاضل عدالت نے کنٹریکٹ ملازمین کو ہٹانے کے حوالے سے حکومت کو مزید مہلت دے دی ہے اور سماعت 16مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔ دریں اثناءفاضل عدالت نے ایڈووکیٹ ذوالفقار احمد بھٹہ کی درخواست مسترد کردی ہے جس میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ حج کرپشن سکینڈل کی تحقیقات ایف آئی اے کی بجائے ڈی جی ایم ای سے کرائی جائے۔آئی این پی کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 5رکنی بینچ نے حج کرپشن سکینڈل کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا ہے کہ حکومت 16مارچ تک ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمد کو خود ہٹا دے ہمیں خود کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور نہ کیا جائے‘ عدالتی حکم سے انحراف کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کئے جارہے ہیں‘ آئی جی سندھ کو نکال دیا گیا ڈی جی ایف آئی اے کو روک لیا گیا‘ دونوں کا معاملہ ایک جیسا تھا پھر امتیازی سلوک کیوں کیا گیا‘ ڈی جی ایف آئی اے کنٹریکٹ پر ہیں وہ کیسے کوئی شفاف تفتیش ممکن بنا سکتے ہےں‘ جسٹس جاوید اقبال نے سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ ایف آئی اے بتائے کہ احمد فیض کی گرفتاری میں کیا مشکلات ہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو قومی سلامتی کے نام پر نہیں ہٹایا جارہا جبکہ جسٹس (ر) دیدار حسین سے ہمارے کوئی ذاتی اختلافات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان صدر سے ہمارا کوئی معاملہ نہیں ڈی جی ایف آئی اے کے متعلق فوری فیصلہ کرکے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ منظم فورس کے سربراہ کو کنٹریکٹ پر نہیں ہونا چاہئے ۔
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 34
Reply With Quote
جواب

Tags
color, کورٹ, کنٹریکٹ, پولیس, وزیر, وزیراعظم, لوگ, نظر, ممکن, آج, اسلام, تحریر, جرم, حکم, حل, خلاف, خان, درخواست, ذوالفقار, سپریم, عدالت, غریب, صوبوں, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد زرداری کے پاس محدود آپشنز گلاب خان خبریں 0 11-03-11 06:57 AM
چیئرمین نیب کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ، آج سندھ میں ہڑتال کی جائے، حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی اپیل گلاب خان خبریں 0 11-03-11 06:30 AM
سپریم کورٹ: چےئرمین سی ڈی اے 12 دسمبر کو عدالت میں طلب عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:35 AM
آخری ون ڈے میں راولپنڈی ایکسپریس کی شرکت پاکستان کیلئے رسک ہے،گریم اسمتھ عبدالقدوس کرکٹ 0 29-10-07 10:29 AM
اہم فیصلے مجلس عمل کی سپریم کونسل میں کریں گے،اے پی ڈی ایم سے بلیک میل نہیں ہوں گے،فضل الرحمن عبدالقدوس خبریں 0 27-10-07 09:47 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger