|
حکومت کی کرپشن عالمی امدادی اداروں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

15-09-11, 04:45 AM
اسلام آباد (انصار عباسی) موجودہ حکومت کے ماتھے پر بدترین کرپشن کے ٹیکے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ عالمی امدادی ادارے اور اہم دارالحکومت پاکستان کو سندھ کے سیلاب اور بارش متاثرین کےلئے درکار نقد رقوم اور دیگر طرح کی امداد نہیں دے سکیں گے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی سندھ کے سیلاب متاثرین کی مدد کےلئے کی جانے والی اپیل کا ملکی و غیر ملکی سطح پر کسی نے جواب نہیں دیا۔ اس لحاظ سے جوش و جذبے کے فقدان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اپیل کے چار روز بعد بھی حکومتی فنڈ میں بمشکل ہی کچھ جمع ہوسکا ہے۔ سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ فی الحال فنڈ میں جمع ہونے والی رقم کی تعداد کے بارے میں کچھ پوچھنا قبل از وقت ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ ملکی و عالمی سطح پر ہمیں سیلاب متاثرین کی مدد کےلئے بھرپور امداد ملے گی۔ جب یہ سوال کیا گیا کہ کہیں بڑھتی کرپشن اور خراب طرز حکمرانی تو مقامی یا عالمی سطح پر امداد ملنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں!!! تو اس کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہمیں مثبت باتوں کو نمایاں کرنا ہوگا تاکہ ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس کےلئے مناسب چیزیں مل سکیں۔ سرکاری ریلیف فنڈ میں رقم جمع کرنے والے ایک بینک کے ذریعے نے بتایا کہ بینک نے امدادی رقم جمع کرنے کےلئے منگل کو اکاﺅنٹ کھولا تھا لہٰذا ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنی رقم جمع ہوئی ہے۔ لیکن سرکاری ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امداد دینے والوں کے ذہن میں جو چیز چبھ رہی ہے وہ حکومت کی خراب ساکھ ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ 2011ءکے مقابلے میں 2010ءمیں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں زیادہ تباہی ہوئی تھی کیونکہ گزشتہ سیلاب سے تمام صوبوں میں تباہی ہوئی تھی، 2 ہزار لوگ مارے گئے تھے، 2 کروڑ افراد بے گھر ہوئے جبکہ لاکھوں گھر تباہ ہونے کے علاوہ انفرا اسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا تھا۔ 2010ءکے سیلاب سے ملک کو 12 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا تھا لیکن اس کے باوجود عالمی برادری نے آٹے میں نمک کے برابر امداد دی۔ اس زبردست نقصان کے باوجود سرکاری ریلیف فنڈ میں عالمی برادری کی جانب سے صرف 21 ملین ڈالرز جمع ہوئے۔ بین الاقوامی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا تھا کہ امدادی رقوم عالمی ایجنسیوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے خرچ ہوسکے تاکہ امدادی رقوم کا صحیح استعمال ہوسکے اور یہ کرپٹ حکومت کے ہاتھوں میں نہ جائے۔ حکومت کی خراب ساکھ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2010ءکے سیلاب متاثرین کےلئے بین الاقوامی برادری نے حکومت پاکستان کے توسط سے 697 ملین ڈالرز خرچ کرنے کا وعدہ کیا لیکن سرکاری ریلیف فنڈ میں صرف 21 ملین ڈالرز جمع کرائے گئے۔ اس سلسلے میں رواں سال اپریل مئی تک وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر سرکاری اعداد و شمار درج تھے جن کے مطابق مجموعی طور پر 3.042 ارب ڈالرز کی غیر ملکی امداد کا وعدہ کیا گیا جس میں سے 2.34 ارب ڈالرز اقوام متحدہ کے ذریعے جبکہ باقی 696 ملین ڈالرز حکومت پاکستان کے ذریعے سیلاب متاثرین پر خرچ کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ مجموعی رقم میں 243 ملین ڈالرز کا آسان شرائط پر قرضہ بھی شامل تھا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|