|
خالی نشستیں 60 روز میں پر کر نا لازمی ہے،ضمنی انتخابات کا التواء آئین کی خ

18-04-08, 07:54 AM
خالی نشستیں 60 روز میں پر کر نا لازمی ہے،ضمنی انتخابات کا التواء آئین کی خلاف ورزی ہے،سیاسی رہنما
اسلام آباد (عثمان منظور) الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کے شیڈول میں غیرمتوقع تبدیلی سیاسی جماعتوں کے لئے حیرت اور تعجب کا باعث بنی ہے کیونکہ پولنگ کی تاریخ آگے بڑھانے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ سیاسی جماعتوں کیتیاری مکمل نہیں تھی۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تیاریاں مکمل تھیں اور اس بناء پر الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن کی تاریخ آگے بڑھانا حیرت انگیز اور مایوس کن ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت الله بابر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل نمبر(4)224 کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خالی ہونے والی نشستوں پر 60دن کے اندر اندر ضمنی انتخاب کرانا ضروری ہے۔ پولنگ کی تاریخ بڑھاکر اس قانونی تقاضے کو پورا کرنے سے پہلوتہی کی گئی ہے جو حیرت اور مایوسی کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کی تاریخ آگے بڑھانے کے سلسلے میں پیپلز پارٹی سے مشاورت کی گئی نہ ہم نے الیکشن کمیشن سے ایسا کوئی مطالبہ کیا تھا۔ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لئے اضافی20دن دینا نافہم ہے۔ جبکہ الیکشن کمیشن کا یہ دعویٰ بھی محل نظر ہے کہ سیاسی جماعتوں کی اس سلسلے میں تیاری نامکمل تھی ہم نے 18اپریل تک امیدواروں سے درخواستیں طلب کر رکھی تھیں اور ہم 3جون کے سابق شیڈول کے مطابق اپنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لئے مطلوبہ کارروائی پوری کرچکے تھے‘ ادھر پی ایم ایل ن کے جوائنٹ سیکرٹری صدیق الفاروق نے کہا کہ ان کی جماعت ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے پوری طرح تیار تھی تاہم انہوں نے التواء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم چلانے کے لئے اضافی وقت مل جائے گا۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کا شیڈول آگے بڑھانے کے لئے الیکشن کمیشن کو ٹھوس وجوہات بیان کرنی ہوتی ہیں اور سیاسی جماعتوں کی عدم تیاری کا دعویٰ کوئی ٹھوس وجہ نہیں بنتا۔ اس لئے یہ فیصلہ شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ پی ایم ایل ق کے سنیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا نے اس نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مخصوص حالات میں ناگزیر وجوہات کی بناء پر الیکشن شیڈول میں ردوبدل کرسکتا ہے جیسے بے نظیر قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال تھی جس میں سندھ جل رہا تھا اور الیکشن کمیشن کے لئے الیکشن کرانا ممکن نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسی کوئی ناگزیر صورتحال نہیں ہے۔ جس کے پیش نظر ضمنی انتخابات کی تاریخ آگے بڑھائی جاتی۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں کی عدم تیاری کا تعلق ہے تو یہ امر سرے سے الیکشن کمیشن کا دردسر ہی نہیں ہے جس کی بناء پر وہ الیکشن کے لئے پولنگ کی تاریخ آگے بڑھارہا ہے۔ انہوں نے بھی آئین کے آرٹیکل224 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے اس التواء کی ٹھوس وجوہ پیش نہ کیں تو یہ اعلان مشکوک ٹھہرے گا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کنور دلشاد نے رابطہ کرنے پر کہا کہ کنڈکٹ آف جنرل الیکشن آرڈر مجریہ2002 کے سیکشن گیارہ اے کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو اختیار ہے کہ وہ الیکشن شیڈول میں ردوبدل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ التواء اخبارات میں شائع ہونے والی کچھ درخواستوں کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ابھی جاری ہے اور صوبائی کابینائیں بھی پوری طرح وجود میں نہیں آئی ہیں اس لئے بعض سیاسی جماعتیں ابھی تک امیدواروں کو ٹکٹ جاری نہیں کرپائی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیکشن گیارہ اے کی ذیلی دفعہ(1) کے تحت الیکشن کمیشن اعلان شدہ شیڈول میں کوئی بھی ایسی تبدیلی کرسکتا ہے جو اس کے خیال میں مناسب اور ضروری ہو۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کی جانب سے تیاری مکمل نہ ہونے کا جواز ایک ٹھوس وجہ بنتا ہے۔ کنور دلشاد نے کہا کہ کنڈکٹ آف جنرل الیکشن آرڈی کی دفعہ گیارہ اے اور 108کے تحت چیف الیکشن کمشنر الیکشن شیڈول تبدیل کرسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ آگے بڑھانے کی کوئی اہمیت نہیں اصل بات یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر الیکشن شیڈول میں ردوبدل کا اختیار رکھتا ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|