واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


خصوصی چیکنگ پر ملا جلا ردعمل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-01-10, 05:49 AM   #1
خصوصی چیکنگ پر ملا جلا ردعمل
کنعان کنعان آن لائن ہے 10-01-10, 05:49 AM

خصوصی چیکنگ پر ملا جلا ردعمل


نائن الیون کے بعد حالات میں فرق تو پڑا ہے لیکن یہ فرق سب کے لیے ہے: مصدق بٹ

امریکہ کا سفر کرنے والے پاکستانی مسافروں نے خصوصی چیکنگ کے نئے قانون پر متضاد ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پی آئی اے کی فلائٹ پر نیویارک سے لاہور پہنچنے والے ایک مسافر کا کہنا ہے کہ انہیں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ اسی فلائٹ کے ایک دوسرے مسافر نے پاکستانیوں کی تلاشی کو معمول کی اور بلا امیتاز کارروائی قرار دیا ہے۔


منور حسین

لاہورکے علامہ اقبال ائرپورٹ پر رات ساڑھے بارہ بجے شلوار قمیض اور لمبے کالے کوٹ میں ملبوس پینسٹھ سالہ زمیندار منورحسین امریکہ سے آنے والے جہاز سے اترے تو کچھ ناخوش سے لگے۔

سفید داڑھی اور بارعب شخصیت کے حامل منورحسین پاکستانی پنجاب کے شہر گجرات کے رہائشی ہیں اور امریکہ کے پہلے ہی سفر کے دوران میں دوبار کی جامہ تلاشی پر تھوڑے خفا تھے۔

’میرا خیال ہے کہ وہ مسلمانوں سے ذاتی دشمنی نکال رہے ہیں یہ جو تیرہ چودہ مسلمان ملک ہیں صرف انہی کے مسافروں کی تلاشی لیتے ہیں اور انہیں ہی سکیورٹی چیک میں ڈال دیا ہے کسی دوسرے کی تلاشی ہوتے کم از کم میں نے نہیں دیکھی۔”

منور حسن

’جاتے اور آتے ہوئے مجھے سکیورٹی چیک میں ڈالا ہے کوئی چیز نہیں چھوڑی انہوں نے میرے کپڑے بھی اتارے ہیں،جوتے بھی اتارے ہیں اور یہ سب کچھ بلا وجہ کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ مسلمانوں سے ذاتی دشمنی نکال رہے ہیں یہ جو تیرہ چودہ مسلمان ملک ہیں صرف انہی کے مسافروں کی تلاشی لیتے ہیں اور انہیں ہی سکیورٹی چیک میں ڈال دیا ہے کسی دوسرے کی تلاشی ہوتے کم از کم میں نے نہیں دیکھی۔‘

ایک سوال کے جواب میں منور حسین نے کہا کہ جب تلاشی ہو رہی تھی تو ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ امریکہ میں میرے بچے ہیں، بہو ہے، میں بوڑھا آدمی ہوں کہیں وہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا کر یہ نہ کہہ دیں کہ میں طالبان ہوں۔

انہوں نے کہا کہ داڑھی رکھنے کی وجہ سے اور پاکستانی لباس کی وجہ سےانہیں یہ محسوس ہوتا تھا کہ سب انہیں دیکھ رہے ہیں۔

داڑھی اور پاکستانی لباس کی وجہ سےیہ محسوس ہوتا تھا کہ سب آپ کو دیکھ رہے ہیں۔

منور حسن

انہوں نے کہا کہ’حکومت پاکستان کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ خود چاہے مٹی کھا کر گذارا کریں لیکن عزم اور غیرت کے جذبے کےساتھ ان سے بات کرنی چاہیے اور جیسا سلوک وہ ہمارے ساتھ کرتے ہیں ہمیں بھی ان کے ساتھ ویسا سلوک کرنا چاہیے۔‘

البتہ منورحسین نے کہا کہ امریکی اگر ایسا صرف سکیورٹی کی خاطر کررہے ہیں تو پھر ٹھیک ہے اور انہیں اس کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں (امریکیوں میں) بہت سی اچھائیاں ہیں اگر ان کا صدر مملکت بھی بعد میں آیا ہے تو وہ قطار میں پیچھے ہی کھڑا ہوگا۔’وہ (امریکی )اگر صرف کلمہ پڑھ لیں تو ان سے بڑا مسلمان بھی کوئی نہیں ہوگا۔


مصدق بٹ

نیلی جینز اور شرٹ میں ملبوس گوالمنڈی کے مصدق بٹ نیویارک میں کاروبار کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لاہور ائر پورٹ پر شراب کی تلاش میں ان کے سامان کو کھولا توگیا لیکن ان کے بیگ سے صرف پرفیوم کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔

مصدق بٹ سے پوچھا گیا کہ کیا سفر کےدوران انہیں پاکستانی ہونے کی وجہ سے کوئی مشکل پیش آئی۔

انہوں نے جواب دیا کہ بائیس برس سے امریکہ رہ رہے ہیں اور اکثر پاکستان کا سفرکرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ درست ہے کہ نائن الیون کے بعد حالات میں فرق تو پڑا ہے لیکن یہ فرق سب کے لیے ہےاور سچ یہ ہے کہ انہیں دوران سفر کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ انہیں محض پاکستانی ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

’مشکل سب کے لیے ہے ہمارے لیے بھی ہے اور ان کے لیے بھی ہے اب سکیورٹی اقدامات تو پورے کرنے ہیں انہوں نے ہر حال میں اس لیے پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔‘

مصدق بٹ

انہوں نے کہا اب بھی وہ سفر کرکے آئے ہیں لیکن ان کی کوئی خصوصی تلاشی نہیں ہوئی۔

’جس کی باری آجائے اس کی چیکنگ ہوجاتی ہے چاہے وہ کوئی بھی کالا ہو، گورا ہو، پاکستانی ہو یا امریکی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس کا نمبر آجائے گا اسے تلاشی کے مرحلے سے گذرنا ہی ہوتا ہے۔`

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خود ہی بہت زیادہ دستی سامان لیکر جائے گا اور ان کی ہدایات کو نظر انداز کرے گا تو اسے مشکل کا سامنا تو کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ تلاشی اور سکیورٹی کی وجہ سے تاخیر کی پریشانی سب کو ہوتی ہے۔چاہے وہ امریکی ہویا پاکستانی ہو یہ پریشانی مشترکہ ہے۔

’میرا کاروبار ایسا ہے جہاں عام لوگوں سے رابطہ رہتا ہے اکثر میرے پاس امریکی آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ سکیورٹی چیکنگ کی وجہ سے انہیں کس طرح لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا اور تلاشی سے گذرنا پڑا۔یہ سب چیزیں ان کے ساتھ بھی چل رہی ہیں۔

انہوں کہا کہ اگر امریکہ نے پاکستان سمیت چودہ ممالک کے مسافروں کو سکیورٹی کے کسی مخصوص طریقہ کار سے گذارنے کا قانون بنایا ہے تو یہ یقینی طور پر امتیازی تو ہے لیکن اس کا تجربہ انہیں اس وقت ہی ہوگا جب وہ امریکہ واپسی کا سفرکریں گے۔


خصوصی چیکنگ پر ملا جلا ردعمل
__________________



 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,508
شکریہ: 13,526
4,912 مراسلہ میں 16,705 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 169
Reply With Quote
پرانا 10-01-10, 06:52 AM   #2
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کنعان جی!
کیا آپ لوگ ایسے احکام کا مطلب جانتے ہیں ؟
جس ملک میں ہر قسم کی ٹیکنالوجی موجود ہو جس کے ذریعے سے وہ ہواؤں،دریاؤں،سمندروں اور زمین کی تہوں میں دیکھ سکتے ہوں۔ سکیننگ ،سکریننگ،ایکسرے،سی سی ٹی وی،الٹرا ساؤنڈ،تھرمل امیجنگ،انفرا ریڈ و الٹرا وائیلٹ، و لاشعاعوں کے نظاموں کی موجودگی میں اس قسم کی جامہ تلاشیوں کا کیا مقصد ہوتا ہے؟
مقصد صرف یہ باور کرانا اور ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تم جو اپنے آپ کو غیرت مند پاکستانی اور مسلمان سمجھتے ہو ہماری نظر میں تم ایک حقیر کتے کی طرح ہو۔
ایسے احکام کے ذریعے قومی و ملی غیرت سے محروم لوگوں کا مزید ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ خدانخواستہ کہیں ان کے اندر غیرت کی کوئی چنگاری باقی نہ رہ جائے جو کسی وقت بھڑک کر شعلہ بن جائے ۔
اور ہمارے ہم وطن یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ اے ہمارے آقا ہمارے اندر ایسی کوئی چنگاری باقی نہیں ہے جس سے آپ خوف زدہ ہوں۔
کیا ہر پاکستانی کی آواز یہی نہیں ہے کہ:
اے ہمارے آقا و مالک،ہماری قسمتوں اور روزیوں کے خالق امریکہ!!!!
ہم آپ کےکہنے پر اپنے اصل خالق و مالک کو بھول چکے ہیں۔
آپ کہیں، کھڑے ہو جاؤ، ہم کھڑے ہو جاتے ہیں۔
آپ کہیں، بیٹھ جاؤ، ہم بیٹھ جاتے ہیں۔
آپ کہیں، وہ گیند اٹھا لاؤ، ہم بھاگ کر اٹھا لاتے ہیں۔
آپ کہیں،اپنے لوگوں کو ماردو، ہم مار دیتے ہیں۔
ہم اپنی عدالتوں کے ہوتے ہوئے ،کسی پر کوئی الزام لگائے بغیر،کوئی تحقیق کیے بغیر،دوست دشمن کی پرواہ کیے آپ کے حکم پر بلا تفریق سب کو بھون سکتے ہیں۔
ہم آپ کے حکم پر کسی کو بھی کہیں سے اٹھا کرمار سکتے ہیں۔
ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو آپ کے حکم پر جہنم بنا سکتے ہیں۔
ہم آپ کے حکم پر اپنے ہی ملک میں قتل و غارت کر سکتے ہیں۔
ہم مہنگائی ،ظلم،رشوت،لوڈشیڈنگ،بھوک ،افلاس،برداشت کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اے ہمارے آقا و مالک امریکہ!!!
ہم آپ کو ناراض نہیں کرسکتے۔۔۔۔
مگر آپ ہیں کہ ہماری وفاداریوں پر شک کرتے ہیں۔
اور ہر بار Do More کے تقاضے کرتے ہیں۔
__________________
عابد
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-01-10), shafresha (12-01-10), فیصل ناصر (10-01-10), یاسر عمران مرزا (10-01-10), سحر (10-01-10)
پرانا 10-01-10, 09:01 AM   #3
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,508
کمائي: 118,685
شکریہ: 13,526
4,912 مراسلہ میں 16,705 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گوندل مراسلہ دیکھیں
کنعان جی!
کیا آپ لوگ ایسے احکام کا مطلب جانتے ہیں ؟
جس ملک میں ہر قسم کی ٹیکنالوجی موجود ہو جس کے ذریعے سے وہ ہواؤں،دریاؤں،سمندروں اور زمین کی تہوں میں دیکھ سکتے ہوں۔ سکیننگ ،سکریننگ،ایکسرے،سی سی ٹی وی،الٹرا ساؤنڈ،تھرمل امیجنگ،انفرا ریڈ و الٹرا وائیلٹ، و لاشعاعوں کے نظاموں کی موجودگی میں اس قسم کی جامہ تلاشیوں کا کیا مقصد ہوتا ہے؟

مقصد صرف یہ باور کرانا اور ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تم جو اپنے آپ کو غیرت مند پاکستانی اور مسلمان سمجھتے ہو ہماری نظر میں تم ایک حقیر کتے کی طرح ہو۔

ایسے احکام کے ذریعے قومی و ملی غیرت سے محروم لوگوں کا مزید ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ خدانخواستہ کہیں ان کے اندر غیرت کی کوئی چنگاری باقی نہ رہ جائے جو کسی وقت بھڑک کر شعلہ بن جائے ۔

اور ہمارے ہم وطن یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ اے ہمارے آقا ہمارے اندر ایسی کوئی چنگاری باقی نہیں ہے جس سے آپ خوف زدہ ہوں۔

کیا ہر پاکستانی کی آواز یہی نہیں ہے کہ:
اے ہمارے آقا و مالک،ہماری قسمتوں اور روزیوں کے خالق امریکہ!!!!

السلام علیکم جناب

پوری دنیا میں ترقی یافتہ ملکوں میں پہلے سی ہی ایکسرے سکینر لگے ہوئے ہیں اور پاکستان میں بھی ضرور ہونگے لیکن بتاتے نہیں، پاکستان میں جب ایمگریشن والے جامع تلاشی لیتے ہیں تو وہ ایک سکین بکس کے اندر سے بندے کو گزارتے ہیں اور وہ لکڑی کا ڈبہ نہیں ہوتا بلکہ سکینر ہوتا ھے۔ اس کے بعد وہ ہاتھوں سے جو بندے کو چیک کرتے ہیں تو وہ بھی کسی سکینر سے کم نہیں ھے۔

رہی بات جو آپ نے کتے کی مثال دی ھے تو اس پر پھر آپ کو ہی پتہ ہو گا جو خود ہی آئیڈیے لگا لیتے ہیں اپنا شمار کتوں میں کرنے کے لئے، یہ مسلمانوں کے شیر سمجھتے ہیں اور اسی لئے یہ ان سے خوف زدہ ہیں یہ جانتے ہیں کہ مسلمان شیر اپنے مذھب کے لئے اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

پوری دنیا کا خدا اللہ سبحان تعالی ہی ھے، کوئی امریکہ کی نماز نہیں پڑھتا جو امریکہ کو خدا بنانا ھے، پوری دنیا کا نظام بھی دنیا کے بنائے ہوئے سسٹم سے چل رہا ھے۔ امریکہ سے دشمنی کر کے کوئی بھی ملک اپنا معاشی نظام نہیں چلا سکتا۔

پاکستان کی اسمبلی میں جو بیٹھے ہوئے ہیں ان میں اکثریت ان پڑھ جاگیر داروں اور جرائم پیشہ لوگوں کی ھے، ملک کو چلانے کے لئے پڑھے لکھے بندوں کی ضرورت ہوتی ھے اور جن کا کریکٹر بھی صاف ہو۔

دوسرں‌ کو الزام دینے سے کچھ نہیں ہوتا اپنے اندر دیکھنا چاہئے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-01-10, 10:53 AM   #4
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,381
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم جناب

رہی بات جو آپ نے کتے کی مثال دی ھے تو اس پر پھر آپ کو ہی پتہ ہو گا جو خود ہی آئیڈیے لگا لیتے ہیں اپنا شمار کتوں میں کرنے کے لئے، یہ مسلمانوں کے شیر سمجھتے ہیں اور اسی لئے یہ ان سے خوف زدہ ہیں یہ جانتے ہیں کہ مسلمان شیر اپنے مذھب کے لئے اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

پوری دنیا کا خدا اللہ سبحان تعالی ہی ھے، کوئی امریکہ کی نماز نہیں پڑھتا جو امریکہ کو خدا بنانا ھے، پوری دنیا کا نظام بھی دنیا کے بنائے ہوئے سسٹم سے چل رہا ھے۔ امریکہ سے دشمنی کر کے کوئی بھی ملک اپنا معاشی نظام نہیں چلا سکتا۔

پاکستان کی اسمبلی میں جو بیٹھے ہوئے ہیں ان میں اکثریت ان پڑھ جاگیر داروں اور جرائم پیشہ لوگوں کی ھے، ملک کو چلانے کے لئے پڑھے لکھے بندوں کی ضرورت ہوتی ھے اور جن کا کریکٹر بھی صاف ہو۔
والسلام
صرف ایک بات سے اختلاف کروں گا، امریکہ کی دشمنی لے کر بھی ہم زندہ رہ سکتے ہیں اور امریکہ کی معاشی مدد کے بغیر بھی ہم چل سکتے ہیں
جیسے ایران
شمالی کوریا
ملائشیا
اصل میں‌ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت پیدا ہو چکی ہے، اٍفغانستان کے لوگ ہمیشہ جہاد کے دلدادہ رہے ہیں، انہوں نے پہلے روس کو مار بھگایا، اب ان شاءاللہ امریکہ اور دیگر گیارہ مغربی طاقتوں ، نیٹو افواج کو مار بھگائیں گے۔ افغانستان کی 34 میں سے 33 ریاستوں میں امریکہ شکست کھا چکا ہے اور اس کی مالی حالت تباہی کے دھانے پر ہے، اپنی شکست اور ناکامی کو چھپانے کے لیے کبھی وہ القاعدہ کے پاکستان میں ہونے کے دعوے کرتا ہے، کبھی یمن ، کبھی سوڈان میں،
اصل میں امریکہ کچھ بھی نہیں ہے،
ہماری سیاسی قیادت بے غیرت ہے، ہمارے ایم این اے، ایم پی اے، دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین جو بھی امریکہ سے ڈرتے ہیں وہ سب بھی اور ان کے بعد جو پاکستانی عوام امریکہ کے نیچے لگ جانے کو درست سمجھتے ہیں وہ بھی۔۔۔۔
کیا ہو گا اگر امریکہ ہماری مدد چھوڑ دے گا، ہم ہفتے میں دو دن بھوکے سو جایا کریں گے، امریکہ ہم پر بموں کی بارش کر دے گا ؟ لیکن ہم مریں گے تو عزت سے نا
نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم اس بات کے پیش گوئی کر چکے ہیں کہ ہمارے دلوں میں موت کا خوف بیٹھ جائے گا اور دنیا کی محبت جاگ جائے گی، اور یہی ہو رہا ہے۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (10-01-10)
پرانا 10-01-10, 06:58 PM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,508
کمائي: 118,685
شکریہ: 13,526
4,912 مراسلہ میں 16,705 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر عمران مرزا مراسلہ دیکھیں
صرف ایک بات سے اختلاف کروں گا، امریکہ کی دشمنی لے کر بھی ہم زندہ رہ سکتے ہیں اور امریکہ کی معاشی مدد کے بغیر بھی ہم چل سکتے ہیں
جیسے ایران
شمالی کوریا
ملائشیا

السلام علیکم

آپ کو سسٹم کا نہیں پتہ اس لئے آپ اختلاف کر سکتے ہیں اگر تھوڑا سا بھی پتہ ہوتا تو میں آپ کو ضرور مزید معلومات فراہم کرتا خیر، اور جو نام آپ نے لکھے ہیں ان ممالک میں ابھی تک ایسے بحرانوں کی نوبت نہیں آئی جو بحران پاکستان میں آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان پر ابھی کوئی پابندی نہیں لگی پھر بھی وہاں پر آٹا، چینی، بجلی، گیس، پانی کے بحران اور پھر اوپر خودکش کے نام پر انسانی قتل عام ہو رہا ھے اور اگر کوئی پابندی لگ جائے تو اس کا نتیجہ اسی سے اخذ کر سکتے ہیں، لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

وہ ممالک اتنی ترقی پر ہیں کہ اپنے اندر ہر چیز پیدا کر رہے ہیں۔ پھر بھی وہ ان حالات کا ابھی تک مقابلہ کر رہے ہیں۔

اب پتہ نہیں آپ کو یاد ہو یا نہیں جب نواز شریف گورنمنٹ میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کئے تھے تب پاکستان کی عوام نے بھی بہت زور دیا تھا کہ تم بھی دھماکے کرو، تو نواز شریف نے کہا تھا کہ دھماکے کئے تو ملک میں ملکی برآمدات ، درآمدات بند ہو جائیں گی، پابندیاں لگ جائیں‌ گی فاقہ کشی سے عوام بھوکی مر جائے گی، تب عوام نے یہ کہا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر شکوہ نہیں کریں گے دھماکے کئے جائیں، جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو وہی ہوا فاقہ کشی ہوئی اور عوام نے نواز شریف کے گالیاں‌ نکالنی شروع کر دیں۔

پاکستان نے جو پیٹرول نکلتا ھے پاکستان کو اسے نکالنے کی اجازت نہیں پاکستان کی سطح اوپر ھے اور ایران کی سطح نیچے ھے، وہ سارا ایران کی طرف جاتا ھے اس کے ساتھ پرانا معاہدہ ھے، پاکستان کو پیٹرول باہر سے خریدنا پڑتا ھے۔

آپ کی سوچ کے زاویے سے میں نے یہ کچھ نمونے پیش کئے ہیں اگر آپ کا اختلاف دور نہ ہو تو مزید گفتگو جاری رکھ سکتے ہیں مگر کسی پوانٹ کے مطابق اپنا اختلاف واضع کر کے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-01-10, 01:58 AM   #6
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,566
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم،

دوسرے ممالک اور پاکستان میں ایک بہت واضح فرق ہے کہ ہمارے حکمران کرپٹ ہیں، نہ صرف کرپٹ بلکہ اپنے ملک سے بھی وفادار نہیں۔ یہ صورتحال دوسرے ممالک کی نہیں ہے۔ حکمران کیوں‌کرپٹ ہیں کیونکہ ہماری عوام میں ابھی اس بات کا شعور ہی نہیں ہے کہ یہ کر کیا رہے ہیں اور انہیں کیسے روکا جائے۔ گاؤں دیہات کے ووٹرز کی بات چھوڑیں کراچی، لاہور، پنڈی، فیصل آباد اور پشاور جیسے بڑے اور پڑھے لکھوں کی آبادی والے شہروں‌کے ووٹرز کو دیکھیں۔ سب جانتے بوجھتے صرف علاقائیت، لسانیت، فرقہ واریت، گروہی، خاندانی اور نہ جانے کن کن چکروں‌میں ووٹ ڈال کر صرف کرپٹ لوگوں کو اوپر لے کر آتے ہیں۔ حشر یہی ہونا ہے اور ہوتا رہے گا۔ ہمارا ملک ہے، نیک لوگوں کی دعائیں‌ہیں اور اللہ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہوا ہے جبھی 62 سالوں سے چل رہا ہے، ورنہ ہمارا حشر بھی افریقی ممالک جیسا ہو چکا ہوتا۔

والسلام

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-01-10), کنعان (12-01-10), منتظمین (12-01-10)
جواب

Tags
color, pakistan, کلمہ, کرنی, پاکستانی, وقت, نظر, مسلمان, آدمی, الزام, انداز, جواب, حسن, خصوصی, دل, داڑھی, رات, سفر, شہر, طالبان, علامہ, عزم, غیرت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
خصوصی بحث محمدخلیل عمومی بحث 10 16-06-10 03:45 PM
انجم بھائ کے لئے خصوصی دعا نیلم خان آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 110 25-10-09 05:09 AM
عبادت و بندگی - رمضان المبارک کے موقع پر خصوصی تحریر گوہر عبادات 0 25-08-09 04:01 AM
عبادت و بندگی - رمضان المبارک کے موقع پر خصوصی تحریر گوہر عبادات 0 25-08-09 04:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger