|
خفیہ اداروں کےلئے پارلیمانی نگرانی‘ 20 سے زائد ممالک کی مشترکہ رپورٹ

16-12-10, 04:32 AM
اسلام آباد (عمر چیمہ) دُنیا کے 20 سے زائد ممالک میں خفیہ اداروں کے بارے میں قانون سازی اور پارلیمانی نگرانی کے حوالے سے ایک مفصل جائزہ لیا گیا ہے جس کو دُنیا میں نگرانی کے بہترین طریقہ کار کے بارے میں رپورٹ کی صورت میں شائع کیا گیا ہے جو کہ پاکستانی قانون سازوں کیلئے انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ”خفیہ اداروں کا جوابدہ بنایا جانا، خفیہ اداروں کی نگرانی کیلئے قانونی معیارات اور بہترین ضوابط“ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کا مقصد دراصل دُنیا بھر کے ارکان پارلیمنٹ، سرکاری عہدیداروں، خود خفیہ اداروں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو حوالہ کا ایک مفید ذریعہ فراہم کرنا ہے۔ مسلح افواج پر جمہوری کنٹرول کے جنیوا سنٹر ڈرہم یونیورسٹی کا انسانی حقوق سنٹر اور نارویجن پارلیمانی نگرانی کمیٹی برائے انٹیلی جنس کی طرف سے مشترکہ طور پر تیار کردہ رپورٹ کو انٹیلی جنس اصلاحات کے تازہ عمل میں مختلف ملکوں کی طرف سے ایک قیمتی خزانہ قرار دیا گیا ہے۔ جن ممالک کا تجزیہ کیا گیا ہے ان میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، بلجیئم، بوسنیا، ہرزوگوینا، کینیڈا، اسٹو نیا، جرمنی، ہنگری، مکسمبرگ، نیدر لینڈز، ناروے، پولینڈ، جنوبی افریقہ، ترکی، امریکا اور برطانیہ وغیرہ شامل ہیں۔ تمام منتخب شدہ ممالک نئی یا پرانی جمہوریتیں ہیں اور پارلیمانی اور صدارتی نظام کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ اس قدر طویل ہے کہ کسی ایک خبر میں اس کو شائع نہیں کیا جا سکتا، اس لئے اس کے اہم نکات کی سمری دی جا رہی ہے۔ اس میں ایک خفیہ ایجنسی کے کردار، انتظامیہ اور پارلیمانی ارکان کے اختیارات وفرائض کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ذیل میں ان تینوں نکات پر بالترتیب بحث کی جائے گی۔ خفیہ ایجنسیوں والے حصے میں مینڈیٹ کی وضاحت کی گئی ہے، ایجنسی کے سربراہ کی تعیناتی، خصوصی اختیارات کے استعمال کی اجازت، معلومات اور فائل تیار کرنے کا طریقہ اور انٹرنل پالیسی اور ایجنسی کے کنٹرول / انتظام کی صراحت کی گئی ہے۔ ایگزیکٹو سے متعلق باب میں ایگزیکٹو کے ایجنسیوں پر کنٹرول، خفیہ ایکشنز کی اجازت، عالمی تعاون اور ایگزیکٹو کی طرف سے خفیہ ایجنسی کے غلط استعمال سے تحفظ / روک تھام کے بارے میں صراحت کی گئی ہے۔ جہاں تک پارلیمنٹ کے کردار کا تعلق ہے اس سے متعلقہ باب میں پارلیمانی نگران کمیٹی کے مینڈیٹ، اس کی ہیئت ترکیبی، اس سے توثیق وکلیئرنس، معلومات کے حصول کا پارلیمانی اختیار اور بجٹ کنٹرول کے حوالے سے صراحت کی گئی ہے۔ شہریوں کی شکایات دور کرنے کیلئے بیرونی ریویو کمیٹی کے کردار کی صراحت کی گئی ہے اور آزاد اتھارٹیز کی نگرانی اور آزاد آڈٹ آفس کے قیام کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ خفیہ ایجنسی کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ایک ایجنسی کے کردار کا واضح تعین ہونا چاہئے اور ان معاملات تک محدود ہونا چاہئے جن کی وضاحت کی جائے اور ان میں وہ معاملات شامل ہونے چاہئیں جو قومی اور سول معاشرے کے خدوخال کے حوالے سے سنگین خطرہ ہوں۔ ایجنسی کے مینڈیٹ کے مطابق اس کے فرائض اور اختیارات کو پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے واضح کیا جانا چاہئے۔ خطرات کے تصور کو قانونی طور پر مختص کیا جانا چاہئے اور ایجنسی کی علاقائی حدود کی بھی وضاحت ہونی چاہئے اور متعینہ / صراحت کردہ علاقے سے باہر کارروائی کے سیف گارڈز کے ساتھ ہونے چاہئیں۔ بوسنیا، ہرزوگونیا کے قانون میں قومی سلامتی کی تعریف کی گئی ہے۔ یورپی انسانی حقوق عدالت نے بھی ”قومی سلامتی“ کی تعریف کی ہے۔ جہاں تک ایجنسی کے سربراہ کی تعیناتی کا تعلق ہے تو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون سازی کے ذریعے ایجنسی کے سربراہ کی تعیناتی کا عمل قائم کرنا چاہئے اور اس کیلئے کم از کم اہلیت‘ معیار اور نااہلی کا باعث بننے والے عوامل کا ذکر ہونا چاہئے۔ یہ تعیناتی سکروٹنی ترجیحاً پارلیمنٹ کے ذریعے ہونی چاہئے۔ تعیناتی کے مختلف طریقہ کار ہیں۔ مثلاً آسٹریلیا میں وزیراعظم کو ایجنسی کے سربراہ کی تعیناتی سے قبل اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرنا ہوتی ہے۔ امریکا میں کانگریسی توثیق لازمی ہے۔ بلجیئم میں ایجنسی کا سربراہ پارلیمانی نگران کمیٹی کے سامنے حلف اٹھاتا ہے۔ قانون سازی میں ایجنسی کے سربراہ جس کو عہدے کی مدت کی ضمانت حاصل ہوتی ہے ہر غیر مناسب دباﺅ سے متعلق تحفظات بھی دیئے گئے ہیں۔ ایگزیکٹوز کے صوابدیدی اختیارات کو روکنے کیلئے قانون میں ایجنسی سربراہ کو ہٹائے جانے کا طریقہ کار بھی دیا گیا ہے۔ خصوصی اختیارات کے استعمال کی اجازت، انٹیلی جنس ایجنسی کو دیئے گئے کسی بھی خصوصی اختیار کا قانون میں ذکر ہونا چاہئے اور یہ واضح، صریح اور جامع ہونا چاہئے تاکہ بے لگام کارروائیوں کے رحجان کو ختم کیا جا سکے، دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے کئے گئے تمام اقدامات میں انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے اصول کا احترام کرنا چاہئے۔ خصوصی اختیارات کے بے جا استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے ایجنسی کے اختیارات کی مناسب نگرانی اور ریویو ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر کسی بھی حالت میں سرکاری اہلکاروں کو قتل یا تشدد کا طریقہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کونسل آف یورپ نے 11/9 کے بعد کم سے کم معیارات کی فہرست تیار کرنے کی ضرورت محسوس کی تاکہ عالمی دہشت گردی کیخلاف کوششوں میں خصوصی اختیارات کے استعمال کی نگرانی کی جا سکے۔ معلومات اور فائل کی تیاری، ایجنسی کے قانونی مقاصد کیلئے شہریوں کی فائلز تیار کرنے اور معلومات جمع کرنے کے حوالے سے ایجنسیوں کے قانونی مینڈیٹ کو ان مقاصد اور حالات کو محدود کرنا چاہئے۔ قانون میں معلومات کو محفوظ رکھنے کے عرصے، اس کے استعمال اور اس تک کسی کو رسائی کا حق ہوگا کی صراحت ہونی چاہئے اور اس کے ٹھکانے لگانے کے حوالے سے بین الاقوامی ڈیٹا پروٹیکشن اصول پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔ آڈٹ ہونا چاہئے جس میں بیرونی آزاد افراد شامل ہو تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گائیڈ لائنز پر عمل کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے سرکاری اتھارٹی کی طرف سے کسی شخص کی نجی زندگی کے بارے میں معلومات جمع کرنے، اس کے استعمال اور اس کو اس کی تردید یا انکار کا موقع فراہم نہ کرنے کو نجی زندگی کے احترام کے حق میں مداخلت کے مترادف قرار دیا ہے۔ انٹرنل ڈائریکشن، ایجنسی کا کنٹرول اور مخبروں سے تحفظ، خفیہ اداروں کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے ایجنسی کا عملہ جس کو شک ہو یا غیر قانونی اقدامات یا احکامات سے آگاہ ہو کی یہ ڈیوٹی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے شکوک کا اظہار کرے۔ ایک تدوین شدہ ضابطہ ہونا چاہئے جو مخبروں کو حمایت اور سکیورٹی کی ضمانت دے۔ امریکی محکمہ دفاع نے قابل اعتراض یا نامناسب خفیہ سرگرمیوں کے بارے میں اسسٹنٹ سیکرٹری آف ڈیفنس (خفیہ نگرانی) اور جنرل قونصل (جو کہ سیکرٹری دفاع تک یہ معلومات فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں) کو آگاہ کرنے کیلئے ایک انٹرنل چینل بنایا ہے۔ اسی طرح بوسنیا، ہرزوگوینا کے قانون اپنے باسز کے غیر قانونی احکامات نہ ماننے والے خفیہ ملازمین کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح خفیہ ملازمین کو کوڈ آف کنڈکٹ کی تربیت دی جانی چاہئے جس میں ان کے کام کی اخلاقی حدود کا خیال رکھنا شامل ہے۔ مثال کے طور پر امریکا میں اسسٹنٹ سیکرٹری آف ڈیفنس (انٹیلی جنس نگرانی) کو دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ یہ بھی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ امریکی شہریوں کے قانونی وآئینی حقوق کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے تمام خفیہ اہلکاروں کی تربیت‘ آگاہی اور واقفیت حاصل کرنے کے عمل کو ادارہ جاتی شکل دیں۔ جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک نے خفیہ اہلکاروں کیلئے تدوین شدہ کوڈ آف کنڈکٹ اختیار کیا ہے۔ جہاں تک ایگزیکٹوز کا کردار ہے اس میں درج ذیل نکات کی وضاحت کی گئی ہے۔ وزارتی آگہی اور انٹیلی جنس کنٹرول، انٹیلی جنس سے متعلق قانون میں 2 امتیازی حقوق برائے رسائی ہونے چاہئیں، ان میں ایک ایجنسی کے پاس موجود متعلقہ معلومات تک ایگزیکٹو کی رسائی کا حق اور ایجنسی کے سربراہ کی متعلقہ وزیر تک رسائی کا حق شامل ہے۔ وزیر کو قانونی طور پر انٹیلی جنس معاملات پر پالیسی سازی کا ذمہ دار ہونا چاہئے۔
خفیہ ایکشن پر کنٹرول: تمام خفیہ کارروائیوں کی منظوری پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانونی فریم ورک کے مطابق قائم ذمہ دار ایگزیکٹو ارکان کی طرف سے ہوں گے۔ مثال کے طور پر برطانیہ کی ایم آئی 6 کو سیکرٹری خارجہ سے اجازت طلب کرنا ہوتی ہے۔ کوئی بھی عہدیدار خفیہ ایکشن پروگرام کے تحت کوئی ایسی کارروائی کرے گا نہ اس کی منظوری دے گا جو بین الاقوامی انسانی حقوق ہو گا۔
وزارتی اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف تحفظ: خفیہ اداروں سے متعلق قانون میں وزارتی اختیارات کے غلط استعمال اور ایجنسی کے سیاسی استعمال کے خلاف تحفظات ہونے چاہئیں۔ اس حوالے سے ممکنہ تحفظات یہ ہیں کہ تمام وزارتی ہدایات تحریری ہونی چاہئیں اور بیرونی ریویو کمیٹی کو دکھائی جائے اور اپوزیشن لیڈر کو بریفنگ میں وزارتی ضرورت ہونی چاہئے۔ خفیہ اداروں کو کسی سیاسی پارٹی کے مفادات کے لئے کارروائی نہیں کرنی چاہئے۔ خفیہ اداروں کو ان احتجاجوں، وکالت/حمایت یا مخالفت جو جمہوری عمل کا حصہ ہو اور قانون کے مطابق ہو کی تحقیقات کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
جہاں تک پارلیمنٹ کے کردار کا تعلق ہے تو اس میں درج ذیل نکات پر بحث کی گئی۔
پارلیمانی نگران کمیٹی کا مینڈیٹ: تمام انٹیلی جنس کمیونٹی پر نگران کمیٹی کی دائرہ کار میں ہونے چاہئیں۔ کمیٹی کے مینڈیٹ میں ذیل میں دیئے گئے چند یا تمام چیزیں آنی چاہئیں۔ ان میں 1 قانون، 2 کارکردگی، 3 صلاحیت، 4 بجٹ، اور اکا¶نٹنگ 5 انسانی حقوق کنونشن کی پیروی اور 6 ایجنسی سے متعلق پالیسی یا انتظامی سچ شامل ہیں۔ مذکورہ بالا تمام چھ امور یا تو پارلیمانی کمیٹی کے دائرے میں آنے چاہئیں یا کسی اور آزاد ادارے یعنی نیشنل آڈٹ آفس، انسپکٹر جنرل، محتسب یا عدالت کے دائرہ میں آنا چاہئے۔ پارلیمانی کمیٹی کا مینڈیٹ واضح ہونا چاہئے۔ نگران کمیٹی کے زیر استعمال وسائل اور قانونی اختیارات کو مینڈیٹ کے مطابق ہونا چاہئے۔ نگران کمیٹی کی سفارشات اور رپورٹس کو ایگزیکٹو اتھارٹیز کی طرف سے ان پر عمل درآمد کے حوالے سے شائع کیا جانا چاہئے۔ ان پر بحث ہونی چاہئے اور ان کی مانیٹرنگ ہونی چاہئے۔
نگران کمیٹی کی توثیق اور کلیئرنس: ارکان پارلیمنٹ کی توثیق صرف اس صورت میں ہونی چاہئے اگر کمیٹی کا مینڈیٹ آپریشنل حساس مواد سے متعلق ہو۔ جہاں ارکان پارلیمنٹ کی کلیئرنس سکیورٹی اور خفیہ اداروں کی طرف سے نہ دی جائے تو پھر ان تنازعات سے باضابطہ طور پر نمٹنے کے لئے طریقہ کار طے ہونا چاہئے جس کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہو۔
معلومات اور دستاویزات کے حصول کا پارلیمانی اختیار: نگران کمیٹی کو تحقیقات کا آغاز کرنے کے لئے قانونی اختیار ہونا چاہئے۔ کمیٹی کے ارکان کو اپنے نگرانی کے کام کی تعمیل کے لئے ضروری تمام معلومات تک رسائی ہونی چاہئے۔ جہاں نگران کمیٹی تفویض کرے وہاں ایگزیکٹو پر نگران کمیٹی کو آگاہ رکھنے کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ کمیٹی کے پاس بلا اجازت معلومات کے افشا روکنے کا اختیار ہونا چاہئے۔ معلومات تک رسائی پر ایجنسی اور نگران کمیٹی کے درمیان تنازع کی صورت میں معاملہ پارلیمنٹ کو بھجوایا جانا چاہئے۔
بیرونی ریونیو کمیٹی سے متعلق درج ذیل نکات پر بحث کی گئی۔ شہریوں کی شکایات دور کرنا: عہدیدار یا ٹریبونل جو یہ شکایت سنے اس میں ایسے افراد ہونے چاہئیں جو عہدے کے آئینی اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوں اور ان کی مدت عہدے کو قانونی تحفظ حاصل ہونی چاہئے۔
جہاں تک ہو سکے ہر عمل اوپن ہونا چاہئے۔ جہاں یہ عمل عوام کی رسائی سے دور ہو وہاں کم از کم ہر شکایت کنندہ اور اس کے قانونی نمائندے کے لئے اوپن ہونا چاہئے۔
ٹریبونل اور عہدیدار کو شکایت کنندہ کی شکایت مو¿ثر طور پر دور کرنے کے لئے قانونی طور پر مو¿ثر احکامات جاری کرنے کا اختیار ہونا چاہئے۔ جن شکایات کو عہدیدار یا ٹریبونل بے جا قرار دے ان کو بغیر تحقیقات مسترد کرنے/فارغ کرنے کا اختیار ہونا چاہئے۔
آزاد حکام کی طرف سے انتظامیہ کے اندر ایجنسیوں کی نگرانی: سکیورٹی اور خفیہ اداروں کے افعال کی نگرانی محتسب یا انسپکٹر جنرل جیسے آزاد اور غیر جانبدار عہدیداروں کی طرف سے ہونی چاہئے۔ اس مقصد کے لئے متعین کردہ عہدیدار کو اس عہدے کے قانون یا آئینی تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔ ریونیو کے سکوپ کی قانون میں صراحت ہونی چاہئے اور ان عہدیداروں کے پاس اس قدر قانونی اختیارات ہوئے چاہئیں کہ وہ ان خفیہ اداروں کے اختیارات کے استعمال سے متعلق حقائق اور شواہد کا جائزہ لیں سکیں۔
آزادانہ آڈٹ آفس: آڈٹ آفس کی آزادی کی ضمانت کے لئے اس کا کام قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ اسے پارلیمنٹ کے سامنے رپورٹ پیش کرنی چاہئے اور ڈائریکٹر آف آڈٹ کی تعیناتی اور توثیق پارلیمنٹ کی طرف سے ہونی چاہئے۔ آڈیٹر جنرل کو خفیہ معلومات تک رسائی ہونی چاہئے۔ سوائے ان تک جہاں مخبروں اور حساس آپریشنر سے متعلق شناخت کا تحفظ ضروری ہو۔ قانونی آڈٹ آفسز کو نہ صرف مالیاتی آڈٹ بلکہ خاص پراجیکٹس کی پرفارمنس آڈٹ کا بھی اختیار ہونا چاہئے۔ آڈٹ آفسز کی خفیہ معلومات تک رسائی کی صورت میں سیف گارڈز مقرر ہونے چاہئیں تاکہ معلومات کی بلا اجازت اشاعت نہ ہو سکے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|