واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


خواہشیں آزار خودکشی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-06-08, 04:54 PM   #1
خواہشیں آزار خودکشی
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 02-06-08, 04:54 PM

خواہشیں آزار خودکشی

کسی بھی معاشرے کی طبقاتی تقسیم میںدرمیانی یا سفید پوش طبقہ بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو معاشرے کی اقدار اور روایات کی پاسداری کرتا ہے اوران کی حفاظت کرتاہے ۔ اگر معاشرہ ایک جسم ہے تواس تمام تر حسیات جسم کے اسی حصے میں پائی جاتی ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو کسی قوم کے مزاج کا آئینہ ہوتا ہے۔ دُنیا کے اکژ انقلابات بھی اسی طبقے کی جدوجہد کا ثمر ہیں۔ یہ طبقہ معاشرے کے بقیہ دونوں طبقوںکے درمیان ایک پُل بھی ہے اور معاشرے کا توازن برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ بھی۔اس طبقے کا سکون تباہ ہو جائے تو پورا معاشرہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔

سفید پوش طبقہ بہت صابر اور شاکر ہوتا ہے اوپرسے پُر سکون لیکن اندر سے کشمکش کا شکار ۔ اس طبقے کے افراد کے اندر طبقاتی کشمکش کا لاوا پکتا رہتا ہے جو کسی سوئے ہوئے آتش فشاں کی طرح اچانک ہی پھٹ پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے کا سفید پوش طبقہ بھی اپنے اندر لاوا اُبال رہا ہے ۔ دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی کی تیز آنچ پرنا آسودہ خواہشات تپ رہی ہیں۔سفید پوش طبقے کے لئے یہ ناآسودہ خواہشات جان لیوا آزار بنتی جا رہی ہیں۔اس طبقے کے افراد دن رات کی کڑی محنت سے ترقی کی سیڑھی پر اوپر کی جانب دیکھتے ہیں مگر حالات ایسے ہیں کہ اوپر دیکھتے ہوئے اکثر سر کے بل مایوسی اور غربت کی کھائی میں گرتے جا رہے ہیں۔
وہ بھی ایک سفید پوش تھا

چھٹی ہوتے ہی وہ دفتر سے نکلا اور بس سٹاپ پر لگی بھیڑ میں شامل ہو گیا۔ دس پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد بس آئی تو لپک کر اس میں سوا ر ہو گیا۔ بس میں بمشکل کھڑے رہنے کی جگہ ملی اس پر بھی شکر ادا کیا ورنہ اگلی بس بیس منٹ بعد ملتی۔ بس آہستہ آہستہ چلتی رکتی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی اور وہ اپنے خیالوں کی رو میں ہچکولے کھا رہا تھا۔ آجکل اس کا گھر جانے کو دل نہیں چاہتا تھا۔ گھر پہنچتے ہی سوال کرتی آنکھیں اور مانگتے ہاتھ اُس کا استقبال کرتے تھے۔ بچوں کو روزانہ کوئی کاپی ، کتاب ، قلم یا ور کسی چیز کی ضرورت ہوتی اور اس کی بے وقوف بیوی کو نت نئی فرمائشیں کرنے کی عادت سی پڑ گئی تھی۔اُسے معلوم تھا گھر پہنچتے ہی سب اس کی جانب لپکیں گے اپنی اپنی فرمائشوں کے ساتھ مگر آج وہ خالی ہاتھ تھا اس کے تمام دوستوں نے اُدھار دینے سے انکار کر دیا تھا۔ کچھ نے اپنی تنگ دستی کا ذکر کیا تھا ، کچھ نے پچھلے اُدھار کا اور کچھ نے ٹال دیا تھا۔اس کے گھر والوں کو معلوم نہ تھا کہ وہ ان کی معصوم خواہشات کے لئے کتنی جگہ ہاتھ پھیلا کر آیا ہے۔

کچھ ہی مہینے پہلے اس کی زندگی قدرے پرسکون تھی کہ بیوی کے بار بار ضد کرنے پر اس نے گھر میں کیبل لگوا لی۔اب کیا تھا بیوی شام ہوتے ہی بدیسی چینل لگا کر بیٹھ جاتی اورصبح دفتر جانے سے پہلے اپنی نئی فرمائش اسکے کانوں میں ڈال دیتی۔ یہ فرمائش کبھی چوڑیوں کی ہوتی کبھی جھمکوں کی اور کبھی نیا جوڑا سلانے کی۔ سانپ کی آنت سے لمبے بدیسی ڈراموں میں عورتیں خوب بنی سنوری نظر آتیں۔ دو گھنٹے میں بیوی چار ڈرامے دیکھتی اور ان چار ڈراموں میں چالیس ساڑھیاں ،اتنے ہی زیور کے سیٹ ،رنگ برنگی چوڑیاں اور کتنے ہی نئے ہیئر سٹائل دیکھ لیتی ہے۔ رات بھر اپنے خوابوں میں وہ یہ چالیس ساڑھیاں خود کو پہنے دیکھتی ۔جب کوئی گھر نہ ہوتا تو وہ آئینے کے سامنے اپنے بالوں کے نت نئے انداز بناتی ہے اور میک اپ کر کے دیکھتی ہے۔ پچھلے دو تین روز سے وہ آنکھوں میں لگانے والے رنگین لینس کی فرمائش کئے جا رہی تھی۔ اب بات تو کچھ بڑی نہیں تھی مگر آج کسی نے دو سو روپے بھی اُدھار نہیں دئیے تھے۔ اب گھر جاتے ہی بیوی کی آنکھوں میں سوال ہوگا جس کا جواب اس کے پاس نہیں۔

اس کے خالی ہاتھ دیکھ کر بیوی منہ بسور لے گی اور طعنوں کی بوچھاڑ کرنے لگے گی ۔ شاید روٹھ بھی جائے اور کچھ بعید نہیں صبح ہوتے ہی میکے چلی جائے۔ پھر اس کو منانے کے لئے اس کا بیٹا اسی سال کالج میں داخل ہوا تھا۔ اس کا موڈ روزانہ خراب رہتا ہے۔ کیونکہ اسکوصرف تیس چالیس روپے روزانہ ملتے ہیں۔جو کالج آنے جانے میں ہی خرچ ہو جاتے ہیں ۔ وہ کئی ہفتوں سے موبائل فون کی فرمائش کر رہا ہے۔ اور دبی زبان میں جیب خرچ کم ہونے کا گلہ بھی کرتا ہے۔ اس کے سب دوستوں کے پاس موبائل فون ہیں۔اس کی ماں نے کالج آنے جانے کے لئے اسے دو نئے جوڑے بنا کر دئیے ہیں جو اسے بالکل پسند نہیں۔ اسکا بھی دل چاہتا ہے کہ وہ لڑکوں کے ساتھ کبھی پیزا ہٹ جائے اور کبھی میکڈونلڈ مگرجیب میں پڑے دس دس کے نوٹ تو نان چھولے والی ریڑھی تک ہی لے جا سکتے ہیں۔ اسے لگتا ہے کہ اس کے ماں باپ اپنے فرائض میں کوتاہی کر رہے ہیں وہ جن آسائشوں کا مستحق ہے اسے مہیا نہیں کر رہے۔ اس کی محرومیاں اس کے دل میں تلخی بھر رہی ہیں ۔ وہ گھر میں خاموش رہنے لگا ہے یا تو وہ کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور دیتا ہے تو تلخ لہجے میں۔ ماں باپ اس کے رویے کونئے زمانے کے سر تھوپ کر اپنے آپ کو تسلی دے لیتے ہیں۔

اب بس اس کی منزل تک لے آئی تھی ۔ بس کی بریک کے ساتھ اس کی سوچوں کو بھی بریک لگ گئی۔ وہ بس سے اتر کر گھر جانے کی بجائے ایک قریبی پارک میں جا کر بیٹھ گیا۔ اسے اپنے پاوں من من بھر کے معلوم ہو رہے تھے ۔ کبھی جی چاہتا کہ یہاں سے کہیں دور نکل جائے کبھی اپنی جان دینے کا خیال دل میں آتا۔ مگر پھر بیوی بچوں کے بے سہارا ہونے کا خیال آتا۔ اسی کشمکش میں سر پکڑ کر بیٹھا رہا گھڑی پر نظر پڑی تو رات کے گیارہ بج چکے تھے ناچار گھر کی جانب چل پڑا سوچنے لگا بیوی بچے میری سلامتی کے لئے فکر مند ہونگے مگر گھر پہنچتے ہی بیوی کی طنزیہ نگاہوں اور جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے اپنے کمرے میں چلا گیااور کچھ کھائے بغیر سونے کا دکھاوا کرنے لگا۔ اس کا خیال تھاکہ بیوی پیچھے پیچھے آئے گی طبیعت پوچھے گی ،کھانا پوچھے گی ۔۔۔مگر ایسا کچھ نہ ہوا وہ منہ پھلا کر بیٹھی رہی اور بچوں کے ساتھ ہی سو گئی

صبح جب کمرے میں آئی تو وہ بستر پر نہ تھا چھت پر پنکھے کے ساتھ جھول رہا تھا

اس نے چھوٹی بڑی خواہشات کے پھندوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے موت کے پھندے کو گلے لگا لیا تھا۔اس نے خود تو ہر آزار سے نجات پا لی تھی مگر اپنے لواحقین سفید پوش طبقے سے غریب طبقے میں دھکیل آیا تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ چند ہی سالوں میں ہمارے معاشرے میں دو ہی طبقے رہ جائیں گےامیر اور غریب
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 192
Reply With Quote
پرانا 03-06-08, 04:24 PM   #2
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,787
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: خواہشیں آزار خودکشی

اچھا لکھاھے اپ نے۔
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-06-08, 07:24 PM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,178
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: خواہشیں آزار خودکشی

The Great
برادر تھریڈ پسند کرنے اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کالج, پسند, چینل, نظر, مہنگائی, موبائل, موت, ماں, معلوم, معاشرہ, آئینہ, بچوں, جواب, خودکشی, دل, رات, زندگی, سال, صابر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:23 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger