|
خورشید شاہ کے آموں نے گلا خراب کیا، واقعی کوئی سننے والا نہیں

20-06-10, 04:02 AM
خورشید شاہ کے آموں نے گلاخراب کیا، واقعی کوئی سننے والا نہیں
اسلام آباد (فاروق اقدس +پرویزشوکت) قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کی صبح تقریباً دس منٹ تاخیر سے جب شروع ہوا تو اس وقت ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں تھا۔ ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی مجموعی تعداد 30 سے بھی کم تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر مخدوم سید فیصل صالح حیات نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا تو ان کا گلا خراب تھا۔ انہوں نے تقریر کے آغاز میں ہی اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ پر بولنے کے لئے میری تیاری مکمل ہے لیکن سید خورشید شاہ نے جو آم بھجوائے تھے ان کی مٹھاس کا نتیجہ ہے کہ میرا گلا خراب ہوگیا جس پر ایوان میں ایک رکن نے آوازہ کسا فیصل صاحب آپ کے خلاف سازش ہوئی ہے۔فیصل صالح حیات نے ایک گھنٹے سے زائد تقریر کی۔ خواتین کے میک اپ پر بجٹ میں ڈیوٹی عائد کرنے کے حوالے سے سید خورشید شاہ کے ریمارکس پر اس وقت ایوان زعفران زار ہوگیا جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ بجٹ میں خواتین کے میک اپ اور دیگر کاسمیٹکس پر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی ڈیوٹی لگائی گئی جس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر خواتین کے میک اپ پر ٹیکس یا ڈیوٹی عائد کر دی جاتی تو یہ سامان ان کی قوت سے باہر ہوجاتا اور بغیر میک اپ کے شاید ان کے بچے بھی انہیں نہ پہچان سکتے اور امی کو آنٹی کہہ کر پکارتے۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث سمیٹے جانے سے قبل تینوں بڑی جماعتوں کے چیف وہیپ سید خورشید شاہ (پی پی پی پی)‘ شیخ آفتاب احمد (مسلم لیگ ن) اور ریاض پیرزادہ (پاکستان مسلم لیگ ق) کے درمیان طویل مشاورت ہوئی۔ اسی دوران وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور حنا ربانی کھر نے بھی ان کے ہمراہ مشاورت کے عمل میں حصہ لیا۔ ارکان کا دوستانہ نوک جھونک کا سلسلہ جاری رہا۔ وزیراعظم سیدیوسف رضا گیلانی نے فیصل صالح حیات کو اپنی کتاب پر اعتراض کا جواب دیا۔ مخدوم شہاب الدین، سردارسلیم حیدر، رانافاروق، شگفتہ جمانی، میرہزارخان بجارانی سمیت پیپلزپارٹی کے 12ارکان مسلم لیگ ن کے 12، اے این پی کی ایک مسلم لیگ ق کے چار جمعیت العلمائے اسلام کا کوئی ممبر نہیں، فنگشنل لیگ صفر، پیپلزپارٹی شیرپاؤ کا کوئی رکن موجود نہیں تھا۔ فوزیہ وہاب، بیگم عشرت اشرف سے کافی دیر بات چیت کرتی رہیں۔ ایک موقع پر رضاہراج سے ڈپٹی سپیکر فیصل کنڈی نے بھی اتفاق کیا کہ واقعی کوئی سننے والا ہے ہی نہیں آپ کسے سنا رہے ہیں؟
یہ خبر روزنامہ جنگ میں شائع ہوئی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|