|
خیبر پختونخوا میں چوری کی گاڑیاں پولیس افسران کے زیراستعمال

17-09-11, 05:57 AM
اسلام آباد (رپورٹ۔ شکیل انجم) چیف جسٹس آف پاکستان کے نام خط میں جیل میں قید کار ڈان محمد حسن نے 33 صفحات پر مشتمل خط میں تفصیلات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کتنی چوری کی قیمتی گاڑیاں خیبر پختونخوا میں ہیں جنہیں پولیس سمیت حکام غلط طور پر استعمال کررہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ تھانہ شہباز گڑھی، تھانہ سٹی، ضلع مردان میں ایس ڈی پی او کے تحت تھانہ بی ڈویژن میں لینڈ کروزر سمیت چوری کی 20 گاڑیاں ناجائز اور غیرقانونی طور پر پولیس حکام کے زیراستعمال ہیں جن کے چیسز اور انجن نمبر کاٹ کر ویلڈنگ کے ذریعے تبدیل کئے گئے ہیں جب کہ مزید ایسی 20 گاڑیاں ان تین تھانوں میں پڑی ہیں اگر حقیقی معنی میں چھاپے مارے جائیں تو ایسی 42 گاڑیاں با آسانی بازیاب کرائی جاسکتی ہیں اسی طرح نوشہرہ اور اکوڑہ خٹک کے تھانوں میں چوری کی 13 قیمتی گاڑیاں موجود ہیں صرف پشاور کے گلبہار تھانے میں پنجاب سے چوری کی گئی 9 گاڑیاں موجود ہیں جن میں سے ایک قیمتی گاڑی اے ایس پی پشاور کے زیراستعمال ہے۔ پشاور کے تھانہ ایسٹ میں پنجاب سے چوری کی گئیں 5 گاڑیاں موجود ہیں جب کہ پولیس لائنز پشاور میں پنجاب سے چوری کی گئی 35 گاڑیاں کھڑی ہیں جنہیں پولیس افسران مال مفت دل بے رحم کے مصداق بیدردی سے استعمال کررہے ہیں جنہیں خراب ہونے پر پولیس لائنز میں کھڑی کرکے نئی گاڑی نکال لی جاتی ہے جب کہ دیگر تھانوں میں بھی چوری کی 8 سے 10 تک گاڑیاں موجود ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|