|
دالبندین زلزلہ ایٹمی دھماکوں کا شاخسانہ تو نہیں، افواہیں گردش کرتی رہیں

20-01-11, 06:24 AM
اسلام آباد (طاہر خلیل) اسلام آباد میں یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ دالبندین کا زلزلہ 1998ءمیں چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کا شاخسانہ ہوسکتا ہے، اس حوالے سے جب اس نمائندے نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد سے مذکورہ سوال کیا تو انہوں نے واضح انداز میں اس تاثر کی نفی کی اور کہا کہ زلزلے کا ایٹمی دھماکے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایٹمی دھماکے والے پہاڑی مقام پر ہمارے ماہرین موجود ہیں اور ان پہاڑوں میں کوئی مدوجزر نہیں ہے، جنرل ندیم کا کہنا تھا کہ زلزلے کی شدت بہت زیادہ تھی مگر کوئی نقصان نہیں ہوا۔ 100 کے لگ بھگ کچے گھر گر گئے ہیں لیکن کوئی جاںبحق اور زخمی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے زلزلے کے بعد چھوٹے درجے کے زلزلے آتے رہیں گے اور رات کو بھی 4.6 ریکٹر سکیل کی شدت سے آفٹر شاک آیا تھا اور مزید مکانات گرسکتے ہیں اور نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ 1998ءمیں چاغی کے مشہور ”راسکوہ“ میں ایٹمی دھماکہ کے ایک سنیئر سائنس دان نے ’جنگ“ کے استفسار پر کیا کہ دالبندین کے اس شدید زلزلے کا پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 1998ءمیں ایٹمی دھماکے کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ ایٹمی دھماکے ”راسکوہ“ پہاڑ کے اندر زمین کی سطح پر کئے گئے تھے۔ یہ زیر زمین نہیں تھے جبکہ زلزلہ زیر زمین 14کلومیٹر سے آیا تھا۔ سینئر سائنس دان کا کہنا تھا کہ 1998ءمیں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تھے تو پوری دنیا میں بڑا جھٹکا محسوس ہواتھا اور دنیا اس زلزلے سے ہل گئی تھی اسلئے دالبندین زلزلے کو ایٹمی زلزلے سے مشابہت نہیں دی جاسکتی۔ دریں اثناءنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دالبندین کے بڑے زلزلے کے بعد چھوٹے زلزلے بھی آسکتے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ آفٹر شاکس سے نقصانات سے بچنے کے لئے حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ اس ضمن میں این ڈی ایم اے نے 18 نکاتی حفاظتی تدابیر کا ایجنڈا جاری کیا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|