واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


دس سال بعد بھی ناکام ہیں: کرزئی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-10-11, 12:36 AM   #1
دس سال بعد بھی ناکام ہیں: کرزئی
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 08-10-11, 12:36 AM

فغان صدر حامد کرزئی نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت اور نیٹو افواج ملک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے دس برس بعد بھی افغانوں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کرسکے ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر کرزئی نے پاکستان پر شورش کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پاکستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی کے جان سِمپسن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سن دوہزار چودہ میں اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں گے اور یہ کہ وہ اپنی جانشینی کے معاملے پر بھی کام کررہے ہیں۔

افغانستان میں امریکہ کی فوجی کارروائی کے دس برس پورے ہونے پر حال ہی ریٹائر ہونے والے جنرل سٹینلے مک کرسٹل نے بی بی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ اتحادی افواج اپنے عسکری عزائم میں غالباً نصف سے کچھ ہی زیادہ کامیاب ہوسکی ہیں۔ جنرل مک کرسٹل کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں جنگ جس نقطۂ نظر سے چھیڑی تھی وہ ‘خوفزدہ کردینے کی حد تک سادہ’ تھا۔

صدر حامد کرزئی نے بھی اپنے انٹرویو ملک کی موجودہ صورتحال کے کچھ ابتدائی عوامل شروع کے برسوں کی جنگی عملی میں ڈھونڈے ہیں جب بقول ان کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں قائم طالبان کی پناہ گاہوں کو چھیڑا ہی نہیں گیا۔

صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ ‘نیٹو، امریکہ اور پاکستان میں ہمارے پڑوسیوں کو بہت پہلے، دوہزار دو اور تین میں ہی، طالبان کی پناہ گاہوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تھی۔’

گو صدر کرزئی تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کامیابیاں گنوانے کو بے تاب تھے لیکن انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ عدم تحفظ ان کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم افغانوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں اور یہ ہماری حکومت اور ہمارے بین الاقوامی ساتھیوں کی سب سے بڑی کوتاہی رہی ہے۔’

افغانستان میں حالیہ دنوں اور مہینوں میں دارالحکومت کابل سمیت بڑے شہروں میں بے باک حملوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور بہت سے اہم رہنما بھی نشانے وار قتل کے واقعات میں مارے گئے ہیں مثلاً سابق صدر اور امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی اور صدر کے سوتیلے بھائی احمد ولی کرزئی وغیرہ۔

صدر کرزئی کا کہنا تھا طالبان کی ایسے حملے کرنے کی اہلیت افغان حکام اور نیٹو کی بڑی کوتاہی ہے لیکن بقول ان کے ان واقعات کے ذمہ دار بیرون ملک سے آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر طالبان اور افغانستان کے لیے پاکستان کی مجموعی پالیسی کو دیکھا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ طالبان پاکستانی مدد کے بغیر انگلی بھی ہلاسکیں۔’

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی صدر اور وزیراعظم افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن ایسا پاکستانی حکومت کے افغان انتظامیہ کے ساتھ طالبان کے محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں شورش کی پشت پناہی کررہا ہے۔

حامد کرزئی نے یہ اعتراف بھی کیا کہ سابق صدر ربانی کے قتل سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو شدید دھچکہ لگا ہے۔

صدر کرزئی نے اپنی حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات کے حوالے سے کہا کہ اس کی بڑی وجہ بیرونی ادارے اور حکومتیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سن دو ہزارچودہ کے بعد جب غیرملکی افواج کی خاصی تعداد واپس جاچکی ہوگی، یہ صورتحال بہتر ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ‘حقیقت حال یہ ہے کہ کرپشن کا بہت، بہت بڑا حصہ افغانستان کے باہر سے عالمی برادری سے آتا ہے۔’

امدادی اداروں کے رابطہ گروپ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں افغانستان میں ستاون ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں اور کہیں کہیں ان کے اثرات ملتے ہیں، ان امدادی اداروں کے مطابق بہت سے افغانوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

افغان جنگ میں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق صرف پچھلے پانچ برسوں میں دس ہزار عام شہری مارے جاچکے ہیں جبکہ امریکی اور اتحادی افواج کے بھی ڈھائی ہزار سپاہی ہلاک ہوچکے ہیں جن کی اکثریت امریکیوں کی ہے۔ یہ جنگ طوالت کے اعتبار سے امریکہ کے لیے پہلے ہی ویت نام سے بھی لمبی جنگ بن چکی ہے۔

بي بي سي
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,130
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 183
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (08-10-11), حیدر (08-10-11), حسن قادری (08-10-11)
پرانا 08-10-11, 12:39 AM   #2
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,687
شکریہ: 9,130
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دس سال بعد: اب افغانستان کے لیے کیا؟

دس سال بعد: اب افغانستان کے لیے کیا؟
اقتباس:
جان سِمپسن
بی بی سی ورلڈ افئیرس ایڈیٹر
اب سے دس برس قبل جب افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہوا تو کابل کے عوام کو ایسا لگا کہ طالبان کی حکمرانی کاخوفناک اور ڈراؤنہ خواب اب ختم ہوگیا ہے۔

اس روز میں نے کابل کے ایک بچے کو پتنگ بنا کر اڑاتے ہوئے دیکھا۔ یہ پتنگ بازی بھی افغان لوگوں کی ایک طرح کی احساس آزادی کا اظہار تھی۔

طالبان کے دور میں پتنگ آڑانے, گانے گانے، سیٹی بجانا، انسانوں کی تصاویر بنانے یا سجانے کو جرم قرار دے دیا گیا تھگ اور اس پر سخت سزا دی جاتی تھی۔

سنہ1996 سے 2001 ایک تک افغانستان میں طالبان کی جو حکومت تھی اس سے سخت حکمرانی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ طالبان کی حکومت میں جو شخص اکثر چوروں کے ہاتھ اور پیر کاٹتا تھا وہ وزیر صحت بھی تھا۔

مغربی ممالک کی مدد سے جب طالبان کو افغانستان سے نکالا گیا تھا تو مجھے لگا تھا کہ یہ اب کبھی واپس نہیں آئیں گيں۔

مجھے کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ شروع کرنے کے ایک برس بعد ہی امریکہ اور برطانیہ عراق پر حملے کے بارے میں سوچیں گے اور جو رقم افغانستان کی تعمیر نو پر خرچ ہونی تھی وہ صدام حسین کی حکمرانی کے خاتمے پر خرچ کی جائے گی۔

سنہ 2001 اور 2005 کے طالبان دوبارہ سرگرم ہونا شروع ہوئے اور مغربی ممالک میں کسی کو اس کا ابہام نہیں ہوا۔

افغانستان میں مقیم برطانوی اور امریکی سفارتکاروں کو جب یہ معلوم ہونے لگا کہ صورتحال بدل رہی ہے اور طالبان واپس آرہے ہیں تو وہ اپنا سر پکڑتے تھے، انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔

اس کے بعد صورتحال خراب ہی ہوتی گئی۔ اپریل 2006 میں خبر رساں ایجنسی رائٹرز میں اس وقت کے برطانوی وزیر دفاع جان رِیڈ کے حوالے سے ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانوی فوج افغانستان میں ملک کے تعمیر نو کے کام میں عوام کی مدد کے لیے وہاں ہے اور تین سال بعد ایک بھی گولی چلائے بغیر ان کی فوج وہاں سے خوشی خوشی چلی جائے گی۔

اس کے بعد ان کے اس بیان کو ان کے خلاف استمعال بھی کیا گیا تھا حالانکہ انہوں نے جو کہا تھا وہ 2006 میں ممکن لگتا تھا۔

افغانستان میں دن بدن صورتحال بگڑتی گئی اور اس کے امریکی کی عراق سے متعلق پالیسی ہی ذمہ دار تھی۔امریکہ برطانوی فوج کی اس بات پر تنقید کررہا تھا کہ وہ عراق کا جنوبی شہر بسرہ پر کنٹرول کے دوران زیادہ سختی نہیں کررہا ہے۔

امریکہ چاہتا تھا کہ برطانوی فوج عراق میں زیادہ سخت رویہ اختیار کرے۔ آخر میں نتیجہ یہ ہوا کہ برطانوی فوج نے عراق سے نکلی اور اپنی ساری توجہ واپس افغانستان پر مرکوز کرلی۔

برطانیہ نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی اور تعمیر نو کے کام پر توجہ چھوڑ کر وہ وہاں جنگ میں شامل ہوگیا۔ برطانیہ امریکہ کو یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ اب بھی جنگ جیت سکتا ہے۔ اس وقت تک یہ کوئی مشکل کام نہیں لگتا تھا کیونکہ طالبان ابھی کمزور تھے۔

لیکن دھیرے دھیرے طالبان زیادہ طاقتور ہوگئے اور انہوں نے بم بنانے میں مہارت حاصل کرلی۔

اب امریکہ اور برطانیہ نے یہ اعلان کر رکھا ہے وہ 2014 تک افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا لیں گے ۔ طالبان کو اس منصوبے سے حوصلہ ملا ہے اور اسی لیے انہوں نے اپنی حکمت عملی بدل دی ہے۔ ان کا منصوبہ کے وہ کابل میں پھر سے واپس آئیں۔

طالبان نے حال ہی میں نیٹو کے دفتر اور امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا ہے اور شاید انہوں نے ہی سابق صدر برہان الدین ربانی کا قتل بھی کیا ہے۔ اس قتل پر انتی تنقید ہوئی ہے کہ شاید اسی لیے طالبان نے عوامی طور پر اس ہلاکت کی ذمہ دار قبول نہیں کی ہے۔

کابل کے باہر طالبان کئی بڑے علاقوں پر قابض ہیں۔

کچھ برس قبل میں نے لوگر صوبے میں لڑکیوں کے سکول پر ایک ویڈیو سٹوری کی تھی جس کو بعد میں طالبان نے ایک بم حملے میں اڑا دیا ے۔ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کابل کے بہت قریب آگئے ہیں۔

امریکی اور برطانوی فوج کا 2014 میں افغانستان سے جانا ایک صحیح فیصلہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے بعد طالبان کم از کم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ بیرونی فوج سے لڑ رہے ہیں۔


میں اس بات کو قبول کرتا ہوں کہ میرا بھی یہ خیال کہ طالبان کبھی واپس نہیں آسکیں گے اور میں غلط ثابت ہوا ہوں۔

افغانستان میں جنگ پر امریکہ نے ایک سو بیس بلین ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ برطانیہ نے اٹھارہ بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر یہ ساری رقم صحیح طریقے سے خرچ کی جاتی اور اگر2001سنہ میں وہ اپنی توجہ عراق پر مرکوز نہیں کرتے تو آج سب کچھ بدلا ہوا ہوتا۔

بي بي سي


اللہ كي تدبير ہميشہ كافروں كي تدبير پر غالب آتي ہے۔۔۔۔ يہ حقيقت آج مسلمانوں كو سمجھانا مشكل ہو گيا ہے۔۔۔ كافروں كو كيا كوئي سمجھائے۔۔۔۔۔۔ مگر افغان طالبان نے بفضل خدا سمجھا ديا ہے۔

Last edited by شمشاد احمد; 08-10-11 at 12:52 AM.
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (08-10-11), حیدر (08-10-11), رضی (08-10-11)
پرانا 08-10-11, 08:52 AM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,494
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اِن الباطل کا ن زوھوقا
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (08-10-11)
پرانا 08-10-11, 10:33 AM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,226
شکریہ: 25,210
16,394 مراسلہ میں 41,641 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تو دس سال کی بات ہے
اگر 100 سال بھی لڑتے رہیں تو بھی یہی ہو گا۔۔ کرزئی صاحب کے پوتے کہیں گے کہ ہم ناکام ہو گئے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (08-10-11), قاسمی (08-10-11), حیدر (08-10-11), حسن قادری (08-10-11), سیفی خان (08-10-11), شمشاد احمد (08-10-11)
پرانا 08-10-11, 01:18 PM   #5
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,494
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
یہ تو دس سال کی بات ہے
اگر 100 سال بھی لڑتے رہیں تو بھی یہی ہو گا۔۔ کرزئی صاحب کے پوتے کہیں گے کہ ہم ناکام ہو گئے
اصلی پیر پیروں کے راجہ ۔ ۔ ۔ دُرویش دوراں ، آواز حق ، جناب پیر راجہ اکرام الحق قادری نقشبدی سہروردی چشتی دامت فیوضہم کی پشینگوئی ۔ ۔ ۔ ۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (08-10-11), حسن قادری (08-10-11)
پرانا 08-10-11, 06:24 PM   #6
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,131
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہاں سواے دیواروں کو ٹکر مارنے کے کیا ملا ھے انھیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (08-10-11), سیفی خان (08-10-11)
جواب

Tags
interview, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیراعظم, نظر, موجودہ, ممکن, world, اقوام متحدہ, الزام, انتظامیہ, امریکہ, بھائی, تعلیم, حال, زندگی, سال, طالبان, عسکری, غیرملکی, صورتحال, صحت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی وقاص0097 Ask Experts ماہرین کی رائے 7 25-07-11 01:26 PM
پی پی پی اب زرداری پارٹی ہے اسے بھٹو کا نام استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں فیصل ناصر خبریں 2 01-12-10 08:35 AM
جعلی ڈگری ریس میں ن لیگ اول۔ پی پی پی دوسرے۔ق لیگ تیسرے نمبر پر جاویداسد خبریں 1 18-07-10 04:59 PM
کوئی بھی ڈرائیو کسی بھی Window میں Hide کریں عبدالقدوس کمپیوٹر کی باتیں 1 01-07-08 09:16 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger