| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 183
|
||||
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,687
شکریہ: 9,130
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دس سال بعد: اب افغانستان کے لیے کیا؟
اقتباس:
اس روز میں نے کابل کے ایک بچے کو پتنگ بنا کر اڑاتے ہوئے دیکھا۔ یہ پتنگ بازی بھی افغان لوگوں کی ایک طرح کی احساس آزادی کا اظہار تھی۔ طالبان کے دور میں پتنگ آڑانے, گانے گانے، سیٹی بجانا، انسانوں کی تصاویر بنانے یا سجانے کو جرم قرار دے دیا گیا تھگ اور اس پر سخت سزا دی جاتی تھی۔ سنہ1996 سے 2001 ایک تک افغانستان میں طالبان کی جو حکومت تھی اس سے سخت حکمرانی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ طالبان کی حکومت میں جو شخص اکثر چوروں کے ہاتھ اور پیر کاٹتا تھا وہ وزیر صحت بھی تھا۔ مغربی ممالک کی مدد سے جب طالبان کو افغانستان سے نکالا گیا تھا تو مجھے لگا تھا کہ یہ اب کبھی واپس نہیں آئیں گيں۔ مجھے کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ شروع کرنے کے ایک برس بعد ہی امریکہ اور برطانیہ عراق پر حملے کے بارے میں سوچیں گے اور جو رقم افغانستان کی تعمیر نو پر خرچ ہونی تھی وہ صدام حسین کی حکمرانی کے خاتمے پر خرچ کی جائے گی۔ سنہ 2001 اور 2005 کے طالبان دوبارہ سرگرم ہونا شروع ہوئے اور مغربی ممالک میں کسی کو اس کا ابہام نہیں ہوا۔ افغانستان میں مقیم برطانوی اور امریکی سفارتکاروں کو جب یہ معلوم ہونے لگا کہ صورتحال بدل رہی ہے اور طالبان واپس آرہے ہیں تو وہ اپنا سر پکڑتے تھے، انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ اس کے بعد صورتحال خراب ہی ہوتی گئی۔ اپریل 2006 میں خبر رساں ایجنسی رائٹرز میں اس وقت کے برطانوی وزیر دفاع جان رِیڈ کے حوالے سے ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانوی فوج افغانستان میں ملک کے تعمیر نو کے کام میں عوام کی مدد کے لیے وہاں ہے اور تین سال بعد ایک بھی گولی چلائے بغیر ان کی فوج وہاں سے خوشی خوشی چلی جائے گی۔ اس کے بعد ان کے اس بیان کو ان کے خلاف استمعال بھی کیا گیا تھا حالانکہ انہوں نے جو کہا تھا وہ 2006 میں ممکن لگتا تھا۔ افغانستان میں دن بدن صورتحال بگڑتی گئی اور اس کے امریکی کی عراق سے متعلق پالیسی ہی ذمہ دار تھی۔امریکہ برطانوی فوج کی اس بات پر تنقید کررہا تھا کہ وہ عراق کا جنوبی شہر بسرہ پر کنٹرول کے دوران زیادہ سختی نہیں کررہا ہے۔ امریکہ چاہتا تھا کہ برطانوی فوج عراق میں زیادہ سخت رویہ اختیار کرے۔ آخر میں نتیجہ یہ ہوا کہ برطانوی فوج نے عراق سے نکلی اور اپنی ساری توجہ واپس افغانستان پر مرکوز کرلی۔ برطانیہ نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی اور تعمیر نو کے کام پر توجہ چھوڑ کر وہ وہاں جنگ میں شامل ہوگیا۔ برطانیہ امریکہ کو یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ اب بھی جنگ جیت سکتا ہے۔ اس وقت تک یہ کوئی مشکل کام نہیں لگتا تھا کیونکہ طالبان ابھی کمزور تھے۔ لیکن دھیرے دھیرے طالبان زیادہ طاقتور ہوگئے اور انہوں نے بم بنانے میں مہارت حاصل کرلی۔ اب امریکہ اور برطانیہ نے یہ اعلان کر رکھا ہے وہ 2014 تک افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا لیں گے ۔ طالبان کو اس منصوبے سے حوصلہ ملا ہے اور اسی لیے انہوں نے اپنی حکمت عملی بدل دی ہے۔ ان کا منصوبہ کے وہ کابل میں پھر سے واپس آئیں۔ طالبان نے حال ہی میں نیٹو کے دفتر اور امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا ہے اور شاید انہوں نے ہی سابق صدر برہان الدین ربانی کا قتل بھی کیا ہے۔ اس قتل پر انتی تنقید ہوئی ہے کہ شاید اسی لیے طالبان نے عوامی طور پر اس ہلاکت کی ذمہ دار قبول نہیں کی ہے۔ کابل کے باہر طالبان کئی بڑے علاقوں پر قابض ہیں۔ کچھ برس قبل میں نے لوگر صوبے میں لڑکیوں کے سکول پر ایک ویڈیو سٹوری کی تھی جس کو بعد میں طالبان نے ایک بم حملے میں اڑا دیا ے۔ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کابل کے بہت قریب آگئے ہیں۔ امریکی اور برطانوی فوج کا 2014 میں افغانستان سے جانا ایک صحیح فیصلہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے بعد طالبان کم از کم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ بیرونی فوج سے لڑ رہے ہیں۔ میں اس بات کو قبول کرتا ہوں کہ میرا بھی یہ خیال کہ طالبان کبھی واپس نہیں آسکیں گے اور میں غلط ثابت ہوا ہوں۔ افغانستان میں جنگ پر امریکہ نے ایک سو بیس بلین ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ برطانیہ نے اٹھارہ بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر یہ ساری رقم صحیح طریقے سے خرچ کی جاتی اور اگر2001سنہ میں وہ اپنی توجہ عراق پر مرکوز نہیں کرتے تو آج سب کچھ بدلا ہوا ہوتا۔ بي بي سي اللہ كي تدبير ہميشہ كافروں كي تدبير پر غالب آتي ہے۔۔۔۔ يہ حقيقت آج مسلمانوں كو سمجھانا مشكل ہو گيا ہے۔۔۔ كافروں كو كيا كوئي سمجھائے۔۔۔۔۔۔ مگر افغان طالبان نے بفضل خدا سمجھا ديا ہے۔ Last edited by شمشاد احمد; 08-10-11 at 12:52 AM. |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,226
شکریہ: 25,210
16,394 مراسلہ میں 41,641 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ تو دس سال کی بات ہے
اگر 100 سال بھی لڑتے رہیں تو بھی یہی ہو گا۔۔ کرزئی صاحب کے پوتے کہیں گے کہ ہم ناکام ہو گئے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (08-10-11), قاسمی (08-10-11), حیدر (08-10-11), حسن قادری (08-10-11), سیفی خان (08-10-11), شمشاد احمد (08-10-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اصلی پیر پیروں کے راجہ ۔ ۔ ۔ دُرویش دوراں ، آواز حق ، جناب پیر راجہ اکرام الحق قادری نقشبدی سہروردی چشتی دامت فیوضہم کی پشینگوئی ۔ ۔ ۔ ۔
__________________
![]() میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (08-10-11), حسن قادری (08-10-11) |
![]() |
| Tags |
| interview, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیراعظم, نظر, موجودہ, ممکن, world, اقوام متحدہ, الزام, انتظامیہ, امریکہ, بھائی, تعلیم, حال, زندگی, سال, طالبان, عسکری, غیرملکی, صورتحال, صحت, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی | وقاص0097 | Ask Experts ماہرین کی رائے | 7 | 25-07-11 01:26 PM |
| پی پی پی اب زرداری پارٹی ہے اسے بھٹو کا نام استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں | فیصل ناصر | خبریں | 2 | 01-12-10 08:35 AM |
| جعلی ڈگری ریس میں ن لیگ اول۔ پی پی پی دوسرے۔ق لیگ تیسرے نمبر پر | جاویداسد | خبریں | 1 | 18-07-10 04:59 PM |
| کوئی بھی ڈرائیو کسی بھی Window میں Hide کریں | عبدالقدوس | کمپیوٹر کی باتیں | 1 | 01-07-08 09:16 PM |