واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


دنیا کا سب سے مشہور لیکن سبز قدم ہیرا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-09-08, 03:09 AM   #1
دنیا کا سب سے مشہور لیکن سبز قدم ہیرا
ابن جلال ابن جلال آف لائن ہے 22-09-08, 03:09 AM

وائس آف امریکہ رپورٹ

واشنگٹن ڈی سی میں وائس آف امریکہ کے دفتر کے پیچھے شاہراہِ آزادی کو عبور کر کے نیشنل مال کہلانے والے گھاس کے وسیع قطعے کو عبور کر کے مغرب کی طرف چلیں تو دس منٹ کے بعدآپ ایک مٹیالے سبز گنبد والی عمارت کے روبہ رو کھڑے ہوں گے۔

یہ سمتھ سونین انسٹی ٹیوٹ کا میوزیم آف نیچرل ہسٹری ہے۔ اس عجائب گھر کی دوسری منزل پر قیمتی پتھروں کی نمائش گاہ ہے۔ اس حصے میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب ایک خصوصی حجلہ موجود ہے، جس کے بیچوں بیچ دبیز شیشے کا ایک کاؤنٹر رکھا ہے جو رک رک کر گھومتا ہے۔

اس کاؤنٹر کے اردگرد جاپانی سیاحوں کا ایک حلقہ موبائل فون کے نحیف کیمروں سے اندر کے منظر کی تصاویر لیتا نظر آتا ہے۔ اگر کسی نہ کسی طریقے سے آپ اس حلقے کو توڑ کر اندر کا منظر دیکھ پائیں تو شیشے کی تہہ کے پیچھے ایک نیلے رنگ کا لشکارے مارتا ہوا پتھر پڑا ملے گا، جسے چھوٹے چھوٹے سفید ہیرے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔

میں نے بھی اپنے کیمرے سے اس کی تصویر لینے کی سرتوڑ کوشش کی، لیکن موٹے شیشے کی دیوار، ہیرے کے آس پاس جگ مگاتی ہوئی روشنیاں، اور خود ہیرے کی خیرہ کن چمک کسی بھی صورت قابلِ قبول تصویر کی راہ میں آڑے آئی اور بعد میں جب میں نے اپنی تصاویر کا معائنہ کیا تو وہاں ہیرے کی جگہ صرف روشنی کا سفید جھماکا نظر آیا۔

اس ہیرے کا نام ’امید‘ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے مشہور ہیرا ہے۔ ویسے تو برِ صغیر کے باشندوں کے لیے شاید سب سے مشہور ہیرا ’کوہِ نور‘ہو، لیکن ’امید‘اور کوہِ نور میں کئی چیزیں مشترک ہیں: دونوں کو ہندوستان سے ’برآمد‘کیا گیا، دونوں شاہی خاندانوں کے زیرِ استعمال رہے اور دونوں کے ساتھ سیاہ بختی اور سبز قدمی کی داستانیں جڑی ہوئی ہیں۔

امید کی کہانی
اس ہیرے کا سب سے قدیم سراغ بھارت میں ملتا ہے۔ روایت ہے کہ اسے دکن کی ریاست گولکنڈا کی مشہورِ ہیرے کی کان سے نکالا گیا تھا اور یہ ایک مندر میں سیتا کے بت کے آنکھ میں نصب تھا۔

کہاجاتا ہے کہ ایک فرانسیسی تاجر ژاں تیورنیئر اسے بت کی آنکھ سے چرا کر فرانس لے گیا۔

جب مندر کے پروہتوں کو علم ہوا تو اس نے اس ہیرے کے مالکوں کو منحوسی کی بددعا دے دی۔ مشہور ہے کہ اس بددعا کی وجہ سے یہ ہیرا جس نے بھی پہنا، اس پر ضرور کوئی نہ کوئی آفت نازل ہوئی۔

تیورنیئر نے1668ء میں اس ہیرے کو فرانس کے بادشاہ لوئی چہاردہم کو فروخت کر دیا۔ اس کے بعد سے ہیرے سے وابستہ کئی افراد کے قتل اور بربادی کی داستانیں مشہور ہوئیں، جن میں شاہزادے، شاہزادیاں اورترکی کا ایک سلطان بھی شامل ہیں۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ ’امید‘روس کی ملکہ کیتھرین کے تاج کی زینت بھی رہ چکا ہے، تاہم اس دعوے کی تاریخی توثیق نہیں ہو سکی۔

بالآخر کئی ہاتھوں سے گزرتے ہوئے یہ ہیرا نیویارک کے تاجر ہیری ونسٹن کے پاس پہنچ گیا، جس نے اسے 1951ء میں دس لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔ معلوم نہیں کہ آیا ونسٹن اس ہیرے سے منسلک سبزقدمی کی داستانوں سے خوف زدہ ہو گیا یا کچھ اور وجہ ہوئی، لیکن ایک دن واشنگٹن ڈی سی کے سمتھ سونین ادارے کے عملے کو ڈاک میں ایک عام سا بھورا لفافہ موصول ہوا۔ جب لفافہ کھولا گیا تو عملے کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس میں دنیا کا سب سے بڑا نیلا ہیرا جگ مگا رہا تھا۔

اس وقت سے آج تک یہ ہیرا میوزیم آف نیچرل ہسٹری کی زینت ہے اور اس کا شمار میوزیم کے مشہور ترین عجائبات میں ہوتا ہے۔ ہیرے کا وزن اس وقت 45 قیراط ہے، تاہم تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تیورنیئر نے اسے فرانسیسی شاہ کی خدمت میں پیش کیا تو اس وقت اس کا وزن موجودہ وزن سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ، یعنی 112 قیراط تھا۔ شاہی جوہریوں نے اسے تراش کر چھوٹا کر دیا۔



ہماری گنتی کے مطابق اس ہیرے پر کم از کم پانچ کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ 1953ء میں اس پر’دی ڈائمنڈ کوین‘ کے نام سے ایک فلم بنائی گئی۔ اس کے علاوہ مشہور فلم ’ٹائی ٹینک‘کی کہانی بھی اس سے ملتے جلتے ہیرے کے گرد گھومتی ہے جسے فلم کے آخر میں ہیروئن سمندر برد کر دیتی ہے۔

 
ابن جلال's Avatar
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 198
Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, ہسٹری, قدم, موبائل, موجودہ, معلوم, آج, امریکہ, تصویر, تصاویر, خصوصی, صرف, صغیر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:39 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger