|
دھاندلی سے متعلق خبریں نہ دینے کی یقین دہانی حاصل کی جارہی ہے،مظہرعباس

06-12-07, 09:12 AM
دھاندلی سے متعلق خبریں نہ دینے کی یقین دہانی حاصل کی جارہی ہے،مظہرعباس
اسلام آباد( خصوصی نامہ نگار) پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ اور ٹی وی چینلز کی بندش کے خلاف صحافتی تنظیموں کے زیر اہتمام بدھ کو پریس کلب اسلام آباد کے باہر دھرنا دیا گیا جس میں وکلاء، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کی نمائندگی موجود تھی، اس موقع پر میڈیا پر پابندیوں کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی اور آزادی صحافت کیلئے ہر قربانی دینے کا عزم کیا گیا ۔ پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس نے کہا کہ عوام سے جاننے کا حق 3 نومبر کے ایک زبانی حکم سے چھین لیا گیا ہے، پی سی او کے تحت بننے والی ججوں نے وہی کیا جو وہ کر سکتے تھے حکمرانوں نے میڈیا پر پابندی کیلئے کسی نوٹس یا قانون کا سہارا لینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ ذرائع ابلاغ کو صرف اور صرف عوام کو حقائق سے باخبر رکھنے کی سزا دی گئی حکمرانوں کی خواہش ہے کہ صرف ان کے حق میں بات کی جائے اور تنقید بھی صرف وہی ہونی چاہئے جو ہم بتائیں، مظہر عباس نے کہا کہ دھاندلی کے بارے میں خبریں اور تصویریں نہ دکھانے کی یقین دہانی حاصل کی جارہی ہے، دو ٹی وی چینلز اور دو ایف ایم ریڈیو 29 روز گزرنے کے باوجود بند ہیں، جیو ٹی وی کو تو اعلیٰ حکمرانوں کی بات نہ سننے کی پاداش میں بند کیا گیا ہے مگر رائل ٹی وی کو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کے حکم پر بند رکھا گیا ہے ۔ ایف ایم 99 اور 103 تو کٹے ہوئے سر اور ہاتھ نہیں دکھا رہے تھے اور نہ ہی لاشیں دکھا رہے تھے انہیں کس جرم کی سزا دی گئی ہے ۔مظہر عباس نے کہا کہ سپریم کورٹ سے جو تھوڑا بہت انصاف ملنا شروع ہوا تھا اس کا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے ، بنیادی حقوق دینے کی بجائے چھین لئے گئے ہیں میڈیا کو غیر ذمہ داری نہیں بلکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی سزا دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی کی تحریک جاری رہے گی ۔ انہوں نے سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات کو مباحثہ کی دعوت دی اور ان کے اس موقف کی تردید کی کہ چینلز غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر بند کئے گئے ہیں۔ پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل نے اس موقع پر مالکان سے اپیل کی کہ وہ اپنے اخبار میں صرف اپنے مطلب کے مطالبات نہ شائع کریں، اجتماعی کاز کو آگے بڑھائیں ۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی اور وکلاء آئین کی حفاظت اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، سیاسی جماعتوں نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہ کیا تو پوری قوم کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔پی ایف یو جے کے سابق صدر پرویز شوکت نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مالکان میڈیا یا کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار نہیں، آزادی صحافت اور کارکنوں کے روز گار کے تحفظ کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس موقع پر کارکنوں نے زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں ، کوڑے بھی کھا کر زندہ ہیں، ایوب نے دیکھا، یحیٰ نے دیکھا زندہ ہیں، چیف کی بحالی تک اور بھگوان کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی ۔ ناصر زیدی نے کہاکہ پابندیوں کے خاتمہ کی جدوجہد انشاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ سفر طویل ہے کٹھن مرحلے بھی آئیں گے، کالے قوانین کے خلاف میڈیا نے ہمیشہ جدوجہد کی ہے قلم کی آزادی کی مقدس جدوجہد میں ہم یقیناً کامیاب ہونگے، آر آئی یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ 3 نومبر سے شروع ہونے والی جدوجہد گلی کوچوں تک پھیل رہی ہے ، تحریک کی قیادت کسی سیاسی شخصیت کے نہیں بلکہ وکلاء اور سول سوسائٹی کے ہاتھ میں ہے، جب مقنّنہ کچہریوں سے وکلاء اور تعلیمی اداروں سے طلبہ سڑکوں پر نکلیں گے تو حکومت کیلئے انہیں روکنا مشکل ہوگا ۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|