واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


دہشتگردی کے نام پر ملکی سالمیت پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی، صدر آصف زرداری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-09-08, 08:11 PM   #1
دہشتگردی کے نام پر ملکی سالمیت پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی، صدر آصف زرداری
ابن جلال ابن جلال آف لائن ہے 20-09-08, 08:11 PM

دہشتگردی کے نام پر ملکی سالمیت پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی، صدر آصف زرداری
ملکی سالمیت پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے، انتقامی سیاست کو فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائےگا، سترہویں ترمیم اور 58 ٹو بی پر نظرثانی کیلئے تمام جماعتوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے ، عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور حوالے سے تمام امور آئین اور قانون کے مطابق حل کئے جائیں گے
صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھا جائے، حکومت صوبائی خود مختاری اور نئے فارمولے کے تحت وسائل کی تقسیم کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کا عمل شروع کرے، ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے ساتھ ساتھ تجارتی اور اقتصادی مفادات کو فروغ دینا بھی ہوگا، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت کے ساتھ جامع مذاکراتی عمل کو تیز کیا جائے گا، صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلا خطاب
اسلام آباد (زیڈ ایف نیوز) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر کسی ملک کو اپنی سالمیت پر حملے کی اجازت نہیں دیں گے، ملکی سالمیت پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے، سترہویں ترمیم اور 58 ٹو بی پر نظرثانی کیلئے تمام جماعتوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے ، عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور حوالے سے تمام امور آئین اور قانون کے مطابق حل کئے جائیں گے، صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھا جائے، حکومت صوبائی خود مختاری اور نئے فارمولے کے تحت وسائل کی تقسیم کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کا عمل شروع کرے، ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے ساتھ ساتھ تجارتی اور اقتصادی مفادات کو فروغ دینا بھی ہوگا، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت کے ساتھ جامع مذاکراتی عمل کو تیز کیا جائے گا، انتقامی سیاست کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، پاکستان امن و سلامتی کیلئے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دے گا اور تنازعات پرامن انداز میں حل کرے گا، دہشت گردی اور انتہاپسند عناصر کی طرف سے درپیش چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ایک جامع سہ نکاتی حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت قبائلی علاقوں میں طاقت کا استعمال حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف آخری آپشن کے طور پر کیا جائے گا، پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانی اور جرا¿ت کا نتیجہ ہے، کراچی، لیاقت باغ اور اسلام آباد میں جمہوریت کیلئے جانوں کا نذرانہ دینے والے تمام شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، میں یقین دلاتا ہوں کہ انتقامی سیاست کو اپنے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونے دیا جائے گا، اب بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کے درپے ہیں، ہمیں ایسے عناصر سے چوکس رہنا ہوگا، عوام کو مایوس نہیں ہونے دوں گا۔ وہ ہفتہ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنا پہلا صدارتی خطاب کر رہے تھے۔ صدر نے کہا کہ میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ شکر بجا لاتا ہوں اور میں اپنے اوپر اعتماد کا اظہار کرنے اور اس اعلیٰ منصب پر منتخب کرنے کیلئے پارلیمنٹ اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ اعزاز و استحقاق شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر ملا ہے اور میں آج پاکستان میں جمہوری طاقت کی اس علامت کے سامنے انکساری کے ساتھ کھڑا ہوں اور یہ اہم دن ہمیں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد دلاتا ہے جو دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں اور جن کی قربانی اور جرات سے یہاں جمہوریت ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے تاریخی فیصلوں کا نتیجہ ہے کہ آج یہ پارلیمنٹ اور ہم سب یہاں موجود ہیں۔ صدر نے کہا کہ حقیقت میں آج کا دن شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا دن ہے۔ کاش آج میری جگہ وہ اس پارلیمنٹ سے خطاب کر رہی ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں ان شہداءکو بھی یاد کرنا ہے جنہوں نے سانحہ کارساز، سانحہ لیاقت باغ، 17 جولائی کو اسلام آباد اور 12 مئی کو کراچی میں جمہوریت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے اس موقع پر میں ہماری سرحدوں اور پہاڑوں پر جام شہادت نوش کرنے والے بہادر فوجیوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے آج اپنی جانیں دیں۔ انہوں نے ایوان سے کہا کہ وہ ہمارے شہداءبشمول شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور خاص طور پر میر مرتضیٰ بھٹو جن کی آج برسی منائی جا رہی ہے، کیلئے فاتحہ خوانی کریں۔ صدر نے ہاتھ اٹھا کر شہداءکیلئے فاتحہ خوانی کی اور کہا کہ وہی ہمارے حقیقی ہیرو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے بارے میں، میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں خون اور آنسو¶ں کے دریا پار کرکے اس مقام تک پہنچا ہوں۔ میں ضمیر کا قیدی رہ چکا ہوں لیکن اس سب کے باوجود میں خود کو تاریخ کا قیدی نہیں بننے دوں گا۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ میں تاریخ سے سبق حاصل کروں گا اور انتقام کی سیاست اور تلخ یادوں کو اپنے فیصلوں پر اثرانداز نہ ہونے دوں۔ صدر نے کہا کہ یہ ہمارے لئے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بہترین موقع عطا کیا ہے اور ہمیں اس موقع کو کسی قیمت پر ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ میں وزیراعظم، پارلیمنٹ کے تمام ارکان اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتا ہوں لیکن آپ کو یاد رکھنا ہو گا کہ آپ کو جو مینڈیٹ ملا ہے وہ ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ صدر منتخب ہونے کے بعد صرف دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں، میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہا ہوں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم پارلیمنٹ کو انتہائی قابل احترام سمجھتے ہیں اور آئین اور قانون کے تحت پارلیمنٹ کی طرف سے عائد ذمہ داریوں کی ادائیگی ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ آمریت کے دور میں پارلیمنٹ کو اس کے اختیارات سے محروم کر دیا گیا اور اسے اس کا جائز مقام اور عزت نہیں دی گئی۔ ہر صدارتی انتخاب اور نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب آئینی تقاضا ہے۔ اس کے باوجود گذشتہ 8 سال کے دوران سربراہ مملکت نہ صرف ایک بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قومی اہمیت کے امور پر پارلیمنٹ کو نظرانداز کرنے اور آئین سے انحراف کے دن اب ماضی بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور سربراہ مملکت میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ صدر اور حکومت اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے ہمیشہ پارلیمنٹ سے رہنمائی حاصل کرے گی۔ ہم آئین کے تقدس، پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 18 فروری کو عوام کی طرف سے دیئے گئے مینڈیٹ کا احترام ہماری حکمرانی کا حقیقی اصول ہوگا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کیلئے میرا ایک خواب ہے اور یہ خواب اپنے اس عظیم ملک کو غربت، بھوک، دہشت گردی اور باہمی اختلافات کے شکنجے سے آزاد کرنا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ بطور رکن پارلیمنٹ اپنے وطن کیلئے آپ کا بھی یہی خواب ہے لیکن ہر امید کیلئے ایک منصوبے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر منصوبہ ایک ایجنڈے کا متقاضی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ آپ کی حکومت کو ایک بھاری ایجنڈے کا چیلنج درپیش ہے اور یہ ایجنڈا ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے اور وفاق پر اعتماد کی بحالی کیلئے تیزی سے اقدامات کرنا ہے اور بلوچستان کے عوام سے معافی مانگنا بھی ایک ایسا اقدام ہے جو بہت پہلے کیا جانا چاہئے تھا۔ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ کی جیل سے رہائی بھی ایک مثبت اقدام ہے جبکہ حال ہی میں بلوچستان کے دیرینہ تنازعہ کا حل اور اربوں روپے کی ادائیگی بھی درست سمت میں کئے گئے اقدامات ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ صدر نے کہا کہ ماضی میں کئے جانے والے پے در پے غیرآئینی اقدامات نے وفاق کو کمزور کر دیا ہے جسے اب مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مصالحت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ 1973ءکا آئین ہی وہ واحد متفقہ دستاویز ہے جو اس سماجی معاہدے کو خدوخال دے سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ صوبائی خود مختاری اور ایک نئے فارمولے کے ذریعے وسائل کی تقسیم کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کا عمل شروع کرے جو متحدہ وفاق کی ضرورت کو پورا کر سکے۔ صدر نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی اور انتہاپسندی چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو اور کسی بھی جگہ سر اٹھائے، جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا اور اب ہمیں قبائلی علاقوں میں اصلاحات اور انہیں قومی دھارے میں لانے میں اب مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ ان علاقوں کے مکینوں کے ساتھ بھی پاکستان کے دیگر شہریوں جیسا سلوک ہونا چاہئے۔ صدر نے کہا کہ شمالی علاقہ جات کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق، آزاد عدلیہ اور نمائندگی کا حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور عدلیہ سے متعلق تمام امور قانون اور آئین کے مطابق حل کئے جائیں گے لیکن آپ کے کندھوں پر ایک اور عظیم ذمہ داری بھی ہے کہ ماضی میں یکے بعد دیگرے آنے والے آمروں کی طرف سے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے آئین میں کی گئی ترامیم کا خاتمہ کیا جائے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کے منتخب صدر کے طور پر میں درخواست کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ 17 ویں آئینی ترمیم اور 58 ٹو بی پر نظرثانی کیلئے تمام پارٹیوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی صدر نے خود پارلیمنٹ کے سامنے آ کر اپنے اختیارات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہو۔ صدر نے کہا کہ پاکستان آج اپنی سلامتی کے حوالے سے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ قبائلی علاقوں میں دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر کی طرف سے درپیش چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ایک جامع سہ نکاتی حکمت عملی تیار کی ہے کہ ایسے امن پسند لوگوں کے ساتھ امن قائم کرنا جو تشدد کو ترک کر دیں اور مقامی لوگوں کی ترقی اور سماجی بہتری کیلئے سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور طاقت کا استعمال صرف آخری حل کے طور پر ان عناصر کے خلاف کرنا جو ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیں، قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر حکومت کی رٹ کو چیلنج کریں اور سیکورٹی فورسز پر حملے کریں۔ صدر نے کہا کہ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس پالیسی کے بارے میں تمام فریقوں کو ذمہ داری دینے کیلئے وہ بند کمرے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو قومی سلامتی کے بارے میں بریفنگ دے تاکہ ہر رکن وطن عزیز کو درپیش خطرات کے بارے میں معلومات پر مبنی رائے قائم کر سکے اور ان خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومت ارکان پارلیمنٹ کی آراءکی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے واضح وژن کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر حکومت سے کہوں گا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو اور میں اس کے ساتھ ساتھ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کسی بھی طاقت کی جانب سے اپنی حاکمیت اعلیٰ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اس وقت دنیا ان تمام ممالک کیلئے ایک خطرناک جگہ بن چکی ہے جن کی سرحدوں پر تنازعات موجود ہیں، اس لئے ہمیں نہ صرف پاکستان بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک میں بھی امن کی ضرورت ہے لیکن اپنا قومی مفاد ہمیں ہر صورت ذہن میں رکھنا ہوگا۔ صدر نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں دوسروں سے محاذ آرائی کیلئے اپنی حدود کو سمجھنا ہوگا، اسی حکمت عملی کے تحت افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو میری تقریب حلف برداری میں شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی۔ اس سے پاکستان کی پائیدار امن کیلئے مخلصانہ کوششوں کی عکاسی مقصود تھی جو پاکستان برادر ملک افغانستان کے ساتھ قریبی تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کیلئے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف حکومت اس بار پر یقین رکھتی ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں نئے سرے سے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا تھا یہ نئے نظریات کا دور اور جرات مندانہ عزم کا وقت ہے۔ یہ وقت اپنے عوام اور دوسرے ملکوں کے ساتھ ایمانداری کا مظاہرہ کرنے کا ہے۔ ہم نے کافی دکھ برداشت کر لئے، اب مفاہمت کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہی نظریات کے باعث اور خطہ میں پرامن تعلقات کی خواہش پر ہم پر تنقید کرنے والے ہمیں سیکورٹی رسک قرار دیتے رہے لیکن نظریات کو جبر سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت حکومت کو پاکستان کے عوام کیلئے امن اور انصاف پر مبنی اور بھارت کے ساتھ امن و دوستی کا فریم ورک تیار کرنا ہے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان نے باہمی تجارت میں اضافہ کرکے بھارت کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے اور جامع مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بنیادی حقوق کی بحالی کیلئے انصاف پر مبنی جدوجہد میں کشمیری عوام کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہم کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانے اور امن کی راہ میں اس بڑی رکاوٹ کو دور کیا جا سکے۔ صدر نے کہا کہ ہم نئی کوششوں کے تحت کشمیر میں اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات کے طور پر لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کا آغاز کریں گے۔ ہم عوامی سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے اور دوستانہ وفود کے تبادلوں کیلئے ویزا کا زیادہ آزادانہ نظام اور ہندو اور سکھ یاتریوں کیلئے نئی سہولتوں کا قیام تجویز کرتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی ایک اور کوشش کے طور پر پارلیمنٹ تنازعہ کشمیر اور انڈس واٹر ہیڈورکس جیسے تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل گروپ تشکیل دے تاکہ قوم اس مسئلہ پر متحد اور یک آواز ہو کر اپنی طاقت کا اظہار کرے۔ انہوں نے کہا کہاقتصادی چیلنج اس حکومت کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے، کوئی منتخب حکومت اپنے عوام کی غربت نہیں دیکھ سکتی، حکومت کے سامنے فوری اور انتہائی اہم کام عام لوگوں کو غذائی تحفظ فراہم کرنا ہے جنہیں اشیاءخوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسئلے کا سامنا ہے لیکن تاہم ہمیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ آج پوری دنیا کو درپیش تیل اور خوراک کے بحرانوں اور گزشتہ 9 سالوں میں زرعی شعبہ کو نظرانداز کئے جانے سے ہمارے عوام کو بڑھتی ہوئی غربت کا سامنا ہے جسے ختم کرنے کیلئے حکومت نے کسی سیاسی مقصد کے بغیر غریب ترین لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کیلئے ملک بھر میں بینظیر انکم سپورٹ سکیم جیسے فلاحی منصوبے متعارف کرائے۔ اس منصوبے کیلئے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں 34 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ یونینوں پر پابندی ختم کر دی گئی ہے اور غیرہنرمند کارکن کی کم از کم اجرت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ صدر نے کہا کہ مجھے یہ احساس ہے کہ یہ سب اقدامات کافی نہیں۔ بلاشبہ آپ کی حکومت کو ورثے میں ایک ایسی معیشت ملی جسے ماضی میں بے جا اخراجات سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا گیا تھا اور جس کو پٹرولیم مصنوعات، بجلی کے ٹیرف اور پرتعیش درآمدات کی مد میں غیر ادا شدہ سبسڈی کے بھاری واجبات کی لگام ڈال دی گئی تھی۔ تیل اور گیس پر سبسڈی کے خاتمے جیسی تبدیلی کوئی حکومت نہیں چاہتی لیکن ہم نے یہ کڑوی گولی نگلی کیونکہ ہماری ادائیگیوں کا توازن ماضی کی حکومت جیسے اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ صدر نے کہا کہ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، غیرملکی سرمایہ کاری کے دوبارہ آغاز، زرمبادلہ میں بتدریج اضافے، شرح مبادلہ کے استحکام اور سب سے بڑھ کر پائیدار ترقی کی بحالی کے پروگرام کے ساتھ معیشت کے ایک نئے دور کا آغاز دیکھ رہا ہوں۔ صدر نے کہا کہ میں اس تلخ حقیقت سے آگاہ ہوں کہ پاکستان بجلی کی قلت کے باعث توانائی کے شدید بحران سے گزر رہا ہے، سابق حکومت کے برعکس جس نے 7 سالوں میں ایک میگا واٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی، ہماری حکومت نے اس مسئلے کے حل کیلئے فوری قلیل اور طویل المدت اقدامات کئے، ہم ایک ماہ میں پاکستان کو اندھیرے سے نہیں نکال سکتے تاہم یقینی طور پر ہم آئندہ برس کے اختتام تک ایسا کر سکتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ حکومت کو بنیادی ترجیحات کا تعین کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وسیع اور تیزی سے بدلتا زرعی شعبہ ہمارے دیہات میں رہنے والے لاکھوں غریب کاشتکار بھائیوں کو غربت کے جال سے نکلنے کے زبردست مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ زرعی ترقی سے کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ ہوگا، خوراک کی قیمتیں کم ہوں گی اور پیداوار میں اضافہ ہوگا جس کی ہمیں فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے طویل المدت بنیادوں پر غذائی تحفظ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی علاقوں میں رہنے والی کثیر آبادی کی آمدن میں اضافے کو یقینی بنانے کیلئے زراعت کو اپنے ایجنڈا میں سرفہرست رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت فصلوں کی انشورنس سکیم کا جائزہ لے رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ خواتین کو انصاف کی فراہمی بغیر منصفانہ ترقی ممکن نہیں۔ میں دکھ کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں کہ خواتین کے تحفظ کیلئے قانون سازی کے باوجود اس عظیم قوم کی خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ نہ صرف خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی پوری کوشش کر ے بلکہ انہیں مملکت کے مکمل شہریوں کی حیثیت حاصل ہونے کے طویل سفر کے ہر قدم پر بااختیار بنایا جائے۔ صدر نے کہا کہ ہم کئی عشروں کی سماجی پسماندگی کو بیک جنبش قلم ختم نہیں کر سکتے لیکن اسے آہستہ آہستہ اور یقینی طور پر تبدیل کریں گے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ انکم سپورٹ پروگرام اور اراضی کی تمام سرکاری الاٹمنٹ خواتین کے نام پر کی جائے گی، جیسا کہ میری شہید اہلیہ محترمہ بینظیر بھٹو چاہتی تھیں۔ یہ خواتین کو مساوی حقوق دینے کے طویل سفر کا پہلا قدم ہوگا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی خواتین اس جدوجہد میں میرے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ صدر نے کہا کہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ پاکستان کی اقلیتوں نے ملکی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے تاہم انہیں اس کا سماجی اور سیاسی صلہ نہیں ملا، ہم انہیں قومی دھارے میں لانے کے مزید اقدامات کریں گے اور ان کی صلاحیتوں سے مکمل استفادہ کریں گے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے نجی ٹی وی چینلز کو نشریات کی اجازت کے پہلے دن سے اب تک ذرائع ابلاغ نے ایک طویل سفر طے کر لیا ہے۔ ہماری حکومت نے پیمرا اور پرنٹ میڈیا آرڈیننسوں کو ختم کرنے میں ذرہ بھر تاخیر نہیں کی جسے سابق حکومت تشدد کے ذرائع کے طور پر چھوڑ گئی تھی اور جو ذرائع ابلاغ کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹک رہے تھے۔ صدر نے کہا کہ ہم حکومت کی کسی مداخلت کے بغیر سیلف ریگولیشن کی ایک کھلی فضا کے ساتھ تمام متعلقین کے ساتھ کام کریں گے اور آزادی اطلاعات کے بل جیسے دیگر بنیادی قوانین لائیں گے۔ میں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ہر صوبہ میں تمام صحافیوں کیلئے کم لاگت کی ہاﺅسنگ کالونیوں اور ویج سپورٹ کا جائزہ لیا جائے۔ صدر نے کہا کہ نئے نظام میں پارلیمنٹ ایک خودمختار ادارہ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ گذشتہ 44 سال میں پہلی بار قومی اسمبلی میں دفاعی بجٹ پر بحث کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم نے اپوزیشن سے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے جس کا وعدہ چارٹر آف ڈیمو کریسی میں کیا گیا ہےاور ہم سب جانتے ہیں کہ بلاامتیاز اور شفاف احتساب اچھے نظم و نسق کا اہم ستون ہے۔ صدر نے کہا کہ بدقسمتی سے احتساب کا بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کےلئے ایک ہتھیار کے طور پر غلط استعمال کیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کا نیب آرڈیننس کو ختم کرکے ایک ایسے نظام کے ساتھ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ شفاف اور عدالتی نظام کی مسلمہ اقدار کے عین مطابق ہے۔ صدر نے کہا کہ ایف سی آر کی ظالمانہ شقوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے قائم کردہ پاٹا اور ایف سی آر کی کمیٹیاں اپنی تجاویز کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ میں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ شمال مغربی سرحدی صوبہ کے عوام کے دیرینہ مطالبے پر اس کا نام تبدیل کرکے پختونخواہ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے ہماری کوشش ہوگی کہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کی اقتصادی و سماجی ترقی کو بھی فروغ دیا جائے۔ صدر نے کہا کہ دنیا مارکیٹ ڈیموکریسی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ خارجہ پالیسی کو اس طرح آگے بڑھایا جائے گا کہ اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے ساتھ ساتھ تجارتی اور اقتصادی مفادات کو بھی فروغ دیا جائے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان جنوبی اور وسطی ایشیا کیلئے تجارت اور توانائی کے مرکز کے طور ابھر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم ایران کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو مستحکم بنائیں گے اور چین کے ساتھ ہر آزمائش پر پورا اترنے والی دوستی اور سٹریٹجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے۔ صدر نے کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ہم ایک ایسی دیرینہ شراکت داری قائم کرنے کی کوشش کریں گے جو جامع اور دونوں فریقوں کیلئے مفید ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ صدر نے کہا کہ ہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور لیبیا کے ساتھ اپنے تعلقات کی بھی انتہائی قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے عرب لیگ، اسلامی کانفرنس کی تنظیم اور آسیان کے ساتھ اپنے تعلقات کو حیات نو دیں گے۔ اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں، ہم ایشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ممالک کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید فروغ دیں گے۔ صدر نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور مشترکہ انسانی اقدار کے اصولوں سے اپنی وابستگی کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ بالآخر پاکستان میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے تاہم یہ ابھی ایک نازک پودا ہے جسے ایک عظیم سایہ دار درخت بننے سے قبل پروان چڑھانے کی ضرورت ہے، اب بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو جمہوریت کو پھر پٹڑی سے اتارنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے تصورات کے مطابق جمہوریت پر ایمان اور قومی مفاہمت کے ساتھ ہمیں ایسے عناصر کے خلاف چوکس رہنا چاہئے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو اس پارلیمنٹ سے بڑی امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں، ان کے خوابوں کو تعبیر دینے کرنے کیلئے ہمیں ایک دوسرے کو مسترد کرنے کی بجائے ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر اکٹھے کام کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں تباہی اور محاذ آرائی کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ایک بہتر مستقبل چاہئے، وہ ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس کا تصور قائداعظم محمد علی جناح اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا اور درحقیقت اسی پاکستان کیلئے محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی اور ہم اسی پاکستان کیلئے زندہ رہیں گے اور اسی پاکستان کیلئے میں صدر کی حیثیت سے آپ کو بھرپور مدد فراہم کروں گا۔ صدر نے کہا کہ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جو کال کوٹھڑی سے نکل کر ایوان صدر پہنچا، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کوئی چیز ناممکن نہیں۔ میں اس حکومت کی مدد سے ملک کو اندھیروں سے نکال سکتا ہوں۔ صدر نے کہا کہ مجھے اعتماد ہے کہ آپ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے اور انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ آئیے ہم ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال پاکستان کی مل جل کر تعمیر کرنے کا عہد کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عظیم مقصد کے حصول میں ہماری مدد فرمائے۔ آخر پر صدر مملکت نے پاکستان کھپے کھپے، پاکستان پابندہ باد کا نعرہ لگایا۔

 
ابن جلال's Avatar
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 156
Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, پاکستان, وزیراعظم, قائداعظم, قدم, نیوز, موجودہ, منصوبہ, مسائل, معلوم, آبادی, آج, آصف زرداری, ایران, اقوام متحدہ, امریکہ, بے نظیر, بجٹ پر بحث, جیل, خواتین, دعا, زرداری, سیاست, علی, صدارتی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لندن سمیت یورپ میں شدید برف باری، پروازیں متاثر گلاب خان خبریں 1 19-12-10 06:42 AM
بھارتی دہشت گرد سربجیت کے اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت مل گئی عبدالقدوس خبریں 0 24-04-08 01:32 PM
بھارت: اسکول بس دریا میں گرگئی، بچوں سمیت 15 افراد ہلاک عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 07:29 AM
جسٹس طارق کی طبیعت ناساز ہے، ملنے کی اجازت نہیں دیجارہی، اہلیہ عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 10:05 AM
کھلاڑیوں کو انڈین پریمیئر لیگ میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کرکٹ آسٹریلیا عبدالقدوس کرکٹ 0 03-12-07 03:03 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger