|
دہشتگر دی کے خلاف جنگ :امر یکا پاکستان کو7 ارب ڈالر دیگا،قیام جمہوریت پر ا

18-04-08, 07:46 AM
دہشتگر دی کے خلاف جنگ :امر یکا پاکستان کو7 ارب ڈالر دیگا،قیام جمہوریت پر ایک ارب ڈالر انعا م بھی دیا جائے گا
لندن ( جنگ نیوز) امریکا نے انسداد دہشت گردی کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت اسلام آباد کی سویلین حکومت کے ساتھ مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف جاسوس طیاروں سے حملے نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اس حوالے سے امریکا نے پاکستان کے ساتھ وعدہ بھی کیا ہے کہ ایسی کارروائیاں نہیں کی جائیں گی۔ برطانوی اخبار ”گارڈین“ کی رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت امریکا غیر فوجی امداد کی مد میں پاکستان کو 7 ارب ڈالر بھی دے گا، اس حوالے سے ایک بل آئندہ چند ماہ میں امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق اس نئے پیکیج سے پاکستان کی غیر فوجی امداد میں تین گنا اضافہ ہوجائے گا اور اس کا مقصد دو طرفہ تعلقات کی از سر نو تشریح کرنا ہے۔ اس کے علاوہ پرامن انتخابات کے انعقاد اور اتحادی حکومت تشکیل دینے پر امریکا پاکستان کو انعام کے طور پر ایک ارب ڈالر کا ”جمہوریت کا منافع“ بھی دے گا جس میں سے 200 ملین ڈالر (20 کروڑ ڈالر) کی منظوری آئندہ چند روز میں دے دی جائے گی۔ برطانوی رپورٹ کے مطابق یہ امدادی پیکیج ڈیموکریٹ سینیٹر جوزف بڈن نے تیار کیا ہے اور اس سے پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی میں فیصلہ کن تبدیلی آئے گی جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پہلے صرف اور صرف صدر پرویز مشرف اور پاکستانی فوج پر مرکوز تھی۔ واشنگٹن میں حکام کا کہنا ہے کہ تبدیلی واقع ہوچکی ہے۔ سینیٹر جوزف بڈن کے ایک سینئر مشیر نے بتایا کہ جوزف بڈن چاہتے ہیں کہ پاک امریکا تعلقات صرف فوج کی بجائے وسیع البنیاد ہونے چاہئیں۔ امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہر روز صدر پرویز مشرف کا اثرو رسوخ کم ہوتا جا رہا ہے اور اب سویلینز کنٹرول سنبھال رہے ہیں، لوگوں نے مشرف کے ساتھ ملنا بھی چھوڑ دیا ہے اور ہم نئی سویلین حکومت سے خوش ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امداد کا زیادہ حصہ آئی ایس آئی جیسے اداروں کی بجائے قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں، جیسا کا وزارت داخلہ، انٹیلی جنس بیورو اور فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، پر خرچ کیا جائے گا۔ نئی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتحادی حکومت میں شامل پشتون جماعت اے این پی کی قیادت میں پشتون قبائل کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے حوالے سے اس نے امریکی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ امریکا کی جانب سے جاسوس طیاروں کے ذریعے کئے جانے والے فضائی حملوں پر نئی مفاہمت کو اسلام آباد میں دونوں ملکوں کیلئے نئے تعلقات میں ایک نئے معیار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے حملوں سے قبل پرویز مشرف کی بجائے نئی سویلین حکومت کے ساتھ قریبی مشاورت کی جائے گی اور اس حوالے سے امریکا نے پاکستان کو یقین دہانی کرادی ہے۔ اس سے قبل ماہِ جنوری میں سینئر امریکی انٹیلی جنس حکام نے اسلام آباد میں پرویز مشرف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کو مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کیلئے زیادہ آسانی پیدا کردی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 8 فضائی حملے کئے جاسکتے تھے، ان حملوں کی وجہ سے پاکستان میں شدید اشتعال پایا جاتا تھا۔ تاہم ان جاسوس طیاروں کے استعمال کو انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے اور امریکی انٹیلی جنس اہداف سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اسلام آباد میں اس ڈیل کے برقرار رہنے سے متعلق شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|