|
دیدار شاہ نے حکمرانوں کی کرپشن کے بڑے کیسز دبائے

11-03-11, 06:47 AM
اسلام آباد (عثمان منظور) جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ نے بطور چیئرمین نیب موجودہ حکومتی عہدیداروں کے بڑے بڑے کرپشن کیسز سے نظریں چراتے ہوئے کئی اہم کیسوں کو دبایا اور نیب کی پراسیکیوشن مشینری این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کو فائدہ پہنچاتی رہی۔ این آر او پر عدالتی فیصلے کے نتیجہ میں وزیردفاع احمد مختار کے خلاف دوبارہ شروع ہونے والی انکوائری کو دبا دیا گیا۔ پراسیکیوٹر جنرل تعینات نہ کیا گیا جو کہ پراسیکیوشن کے شعبہ کی کارکردگی میں رکاوٹ بنا۔ نیب ذرائع کے مطابق دیدار شاہ کے دور میں کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ دلوائی جا سکی۔ ذرائع نے ”دی نیوز“ کو بتایا کہ اس عرصہ کے دوران سپریم کورٹ میں جن کرپشن کیسوں کی سماعت ہوئی دیدار شاہ نے کوئی کارروائی نہیں کی بینک آف پنجاب کے کیس میں سپریم کورٹ نے ان کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کردی۔ ذرائع نے بتایا کہ تمام بڑے کیس چیئرمین دیدار شاہ اور ڈپٹی چیئرمین جاوید ضیاء قاضی کے پاس تھے جو ایک ہی طرح کے لوگ تھے جنہوں نے صدر آصف زرداری کے خلاف گزشتہ سال جون میں اے آر وائی گولڈ، پولو گراﺅنڈ ریفرنس ور کوٹیکنا کیس واپس لئے۔ ان کے تمام اقدامات سے سپریم کورٹ کے حکم پر پلٹے گئے۔ دیدار شاہ کے کھانہ میں صرف ایک انکوائری آتی ہے جو کہ انہوں نے جی یو آئی (ف) کے سابق وفاقی وزیر رحمت اللہ کاکڑ کے خلاف شروع کی جس کے فوری بعد جے یو آئی نے کابینہ کو خیرآباد کہہ دیا۔ انکوائری رحمت اللہ کاکڑ پر فیڈرل گورنمنٹ ہاﺅسنگ سکیم کے لئے بہارکوہ کے نزدیک زیادہ قیمت پر 3 ہزار کنال اراضی کی خرید کی منظوری الزام تھا جو کہ دو سال پرانا تھا نیب کی یہ کارروائی جے یو آئی کو حکومت سے الگ کرنے کیلئے اس کی کلائی موڑنے کے مترادف تھی۔ سابقہ وزیر میر باز محمد کھیتران اور سابقہ ڈی سی او ظفر اقبال مگسی کے خلاف قومی خزانے کے غلط استعمال کے کیس کے علاوہ دیدار شاہ دور میں نیب حکام کی تمام کارروائیاں فریب نظر آتی ہیں، سابقہ ڈی آئی جی کراچی فلک خورشید اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام کے خلاف نیوایئرپورٹ راولپنڈی کے لئے اربوں روپے کی اراضی حاصل کرنے کے عمل کی اہم انکوائری بھی دیدار شاہ نے بند کی۔ ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ نے جسٹس (ر) دیدار شاہ کے تقرر کو پہلے دن سے ختم کیا ہے لہٰذا ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید قاضی کیس کی طرح ان کے تمام اقدامات بھی ابتداء سے ہی غیرآئینی ہوں گے۔ 5 جنوری 2011ء کو ایک اجلاس میں نیب بورڈ نے کچھ کیسز گہرے تجزیئے اور قانونی کارروائی کے معیار پر پورا اترنے کیلئے مزید شواہد کیلئے واپس بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا جن کو اب تک منظرعام پر نہیں لایا گیا۔ اسی طرح 22 دسمبر 2010ء کو دیدار شاہ کی زیر صدارت ایک اور اجلاس میں شواہد کی کمی کو بنیاد بنا کر کچھ انکوائریاں بند کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ 3 نومبر 2010ء کو نیب کمیٹی نے ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ سحراب خان کلواڑ کے خلاف شواہد کم ہونے پر الزامات ختم کرنے کا فیصلہ کیا اسی طرح ڈی نیب کوثر اقبال ملک جنہوں نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا تھا کہ انہوں نے سوئس کیسز کی بحالی کیلئے کام مکمل کر لیا ہے ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر فارغ ہونے والے چیئرمین کے دور میں کوئی اہم کیس شروع نہیں ہوا اور ان مقدمات کا آغاز ہوا ان کی رقم 20 کروڑ سے زائد نہیں، ان میں نیشنل بینک کے ملازمین حرم جاوید اور محمد یونس مروت کے خلاف دوبارہ تحقیقات، پی ڈبلیو ڈی کے نور جمال اور ایف بی آر کے گلریز احمد رضا اوردیگر کے خلاف 3 کروڑ روپے کے سیلز ٹیکس کے بوگس ری فنڈ کے ریفرنس ملیر کے سابقہ پتے دار منشی شیرالدین لاشاری، الائیڈ بینک کوئٹہ کے 2 کروڑ 60 لاکھ کے کیس میں محمد ندیم خان، پی ٹی سی ایل اورنگزیب کے خلاف ناجائز اثاثوں کا ریفرنس شامل ہیں۔
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|