جسٹس (ر) دیدار شاہ دیانتدار اور تجربے کے حامل ہیں نوازشریف نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا چیئرمین نیب تقرری کی تجویز پر غور کریں چوہدری نثار کے نام خط
با معنی مشاورت کیلئے صدر نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو خطوط بھیجے ہیں تاکہ نیب آرڈیننس کے قانونی تقاضے پورے ہو سکیں، فرحت اللہ بابر
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کی چیئرمین نیب دوبارہ تقرری کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے مشاورت کا آغاز ہو گیا ہے اور صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کو خطوط بھیج دیئے ۔ صدر کی جانب سے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کو الگ الگ خطوط صدر کے سیکرٹری ملک آصف حیات نے بھیجے ہیں۔ جس میں کہا گیا کہ جسٹس (ر)دیدار حسین شاہ ایک دیانتدار بااصول اور پیشہ وارانہ تجربے کے حامل ہیں۔ خط میں قانونی پیشے سے ان کا تفصیلی پس منظر بیان کیا گیا ہے صدر نے قائد حزب اختلاف کی جانب سے دیدار حسین شاہ کی سیاسی وابستگی کے الزامات کے جواب میں کہا کہ دیدار حسین شاہ 1994ءمیں سندھ ہائیکورٹ کا جج مقرر ہونے سے بہت پہلے سندھ اسمبلی کے ایم پی اے رہ چکے ہیں۔صدر نے کہا کہ قانونی پیشے سے لگن اور اہلیت و قابلیت کے پیش نظر دیدار حسین شاہ سندھ ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔صدرنے اپنے خط میں یاد دلایا ہے کہ الجہاد ٹرسٹ کیس میں یہ معاملہ طے پا چکا ہے کہ کوئی شخص ماضی میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر جج بننے کا نااہل قرار نہیں پاتا۔ خط میں الجہاد ٹرسٹ کیس فیصلے کے بعض اہم نکات بھی بیان کئے گئے ہیں۔ خط میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 2000ءمیں جسٹس دیدار حسین شاہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کریمنل پٹیشن نمبر2000/172میں جوسپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 185(3)اور آرٹیکل 187(-A)کے تحت سندھ ہائیکورٹ کے آرڈر27-06-2000کے خلاف دائر کی گئی تھی نوازشریف نے اس وقت کے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دیدار حسین شاہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ صدر نے اپنے خط میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان سے کہا ہے کہ وہ چیئرمین نیب کی حیثیت سے جسٹس (ر) دیدار سین شاہ کی تقرری کی تجویز پر غور کریں۔ صدر نے اسی طرح کا دوسرا خط وزیراعظم گیلانی کو بھیجا ہے۔ صدر نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق چیئرمین نیب کے عہدے کیلئے جسٹس دیدار حسین شاہ بہترین انتخاب ہیں۔فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ معنی خیز مشاورت کے لئے صدر نے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کو الگ الگ خطوط بھیجے ہیں تاکہ نیب آرڈیننس کے قانونی تقاضے پورے ہو سکیں۔ فرحت اللہ بابر نے یاد دلایا کہ آرڈیننس کے تحت چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے جو شرائط بیان کی گئی ہیں جسٹس دیدار حسین شاہ ان پر پورا اترتے ہیں۔