واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ذوالفقارمرزاکے الزامات،سپریم کورٹ تہہ تک پہنچ کررہے گی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-08-11, 03:29 AM   #1
ذوالفقارمرزاکے الزامات،سپریم کورٹ تہہ تک پہنچ کررہے گی
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 29-08-11, 03:29 AM

حکومت نے شواہد کے باوجود اصل ملزمان پر پردہ کیوں ڈالا؟ جیو پر کامران خان کا تجزیہ
کراچی (ٹی وی رپورٹ) سندھ کے سینئر وزیر ذوالفقار مرزا کے استعفے کے حوالے سے اسپیشل پروگرام میں کامران خان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار مرزا نے آج ایم کیو ایم پر الزامات کی بوچھاڑ کردی، انھوں نے دستاویزات در دستاویزات دکھائےں،حکومت سندھ میں ان کی پوزیشن کوسامنے رکھتے ہوئے یہ دستاویزات اہمیت کی حامل ہیں، کامران خان نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس شاید پاکستان میں دیکھی جانے والی اب تک کی سب سے دلچسپ پریس کانفرنس تھی، کامران خان نے کہا کہ اگر ذوالفقار مرزا کے الزامات کی کوئی اہمیت ہے تو حکومت نے ان دستاویزات کو تسلیم کیوں نہیں کیا؟ ان الزامات کے باوجود ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت کیوں برقرار رہی؟ ذوالفقار مرزا نے ایم کیو ایم پر سب سے سنگین الزام یہ لگایا کہ ان سے اور پیر مظہر الحق سے مشترکہ ملاقات میں الطاف حسین نے پاکستان توڑنے کی سازش میں امریکہ کا ساتھ دینے کا اعتراف کیا۔ کامران خان نے کہا کہ پی پی حکومت کی طرف سے ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس کا پہلا ردعمل کچھ دیر قبل وزیراطلاعات کی میڈیا کی صورت میں سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کے الزامات ان کی ذاتی رائے ہے۔ اگر حالات کی خرابی میں واقعی ایم کیو ایم کے لوگ ملوث ہیں تو ساری ذمہ داری حکومت پر آتی ہے کہ اس نے انہیں روکاکیوں نہیں، ذوالفقار مرزا نے الزامات کا پٹارا اس وقت کھولا ہے جب سپریم کورٹ نے کراچی کے حالات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے مقدمے کی بلاتعطل سماعت شروع کررکھی ہے، سپریم کورٹ لگتا ہے کہ اب اس معاملے کی تہہ تک پہنچ کررہے گی۔ کامران خان نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایم کیو ایم کے خلاف بہت سے ثبوت ہیں، انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف بھی سنگین بیانات دیے،کامران خان نے کہا کہ ذوالفقار مرزا نے اپنی توپوں سے ایم کیوایم کو ہی نہیں اپنی حکومت کو بھی دہلا کررکھ دیا، وہ پیپلزپارٹی کے اپنے ساتھیوں، وزیر اعلیٰ سندھ اور صدر زرداری پر بھی بالواسطہ تنقید کررہے ہیں۔ کامران خان نے مزید کہا کہ ذوالفقار مرزا کاکہنا ہے کہ پاکستان میں جب سے میڈیا آزاد ہوا ہے، کبھی ایم کیو ایم پر ایسے سنگین الزامات نہیں لگائے گئے ہوں گے، اب مرزا سپریم کورٹ میں حاضر ہونے کا کہہ رہے ہیں، انھیں عدالت کو یہ بتانا ہوگا کہ ان کی حکومت ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن میں کیوں ناکام ہوئی، دیکھنا ہے کے پی پی میں ذوالفقار مرزا کا ساتھ کون دیتا ہے۔ پی پی نے ذوالفقار مرزا کے الزامات سے اظہار لاتعلقی کیا ہے تاہم حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ ذوالفقار مرزا کے پاس جھوٹی یا کچی دستاویزات ہیں یا حکومت کو اس سلسلے میں تحقیقات کرنا ہوں گی۔کامران خان نے کہا کہ ہم جیونیٹ ورک کے لیے یہ بات بہت اہم تھی کہ پہلی بار اعلانیہ طور پر یہ کہا گیا کہ جیو نیوز کے رپورٹر ولی بابر کو ایم کیو ایم نے مروایا، کامران خان نے اپنے تبصرے میں مزید کہا کہ رحمن ملک کا وزن اس وقت ذوالفقار مرزا سے بہت زیادہ ہے۔ کامران خان نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس انمٹ نقوش چھوڑ گئی ہے۔ ذوالفقار مرزا نے کراچی میں قتل کی وارداتوں اور قاتلوں کا تعلق براہ راست ایم کیو ایم سے جوڑا ہے اور یہ الزامات لگاتے ہوئے وہ ایک لمحے کو بھی نہیں جھجک رہے تھے۔ انہوں نے تبصرے میں مزید کہا کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے الزام لگایا کہ سی پی ایل سی پر بھی ایم کیو ایم کا قبضہ ہوگیا ہے۔ احمد چنائے دراصل ایم کیو ایم کی سماجی ونگ کے رکن بھی ہیں، انہیں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی مخالفت کے باوجود سی پی ایل سی کا چیئرمین بنادیا گیا، آج ذوالفقار مرزا نے الطاف حسین، ڈاکٹر عشرت العباد، بابر غوری اور انیس قائم خانی پر بھی الزامات لگائے،کامران خان نے کہا کہ اگر ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس کے بعد پیپلز پارٹی کا بیان نہیں آتا کہ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں تو شاید اس پریس کانفرنس کے بارے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ یہ واقعی ان کے ذاتی خیالات ہیں یا وہ پارٹی کے خیالات کی ترجمانی کررہے ہیں یا کسی نے پیچھے سے انہیں تھپکی دی ہے کہ وہ یہ بیانات دیدیں کیونکہ ابھی تک لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ اتنا دھماکا خیز بیان اور اتنے دھماکا خیز الزامات ذوالفقار مرزا تنہا ہی لگارہے تھے۔ کامران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں لوگوں کو وسوسے اٹھ رہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بین الاقوامی سازش تو نہیں ہورہی ہے، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان خلیج کو پاٹنے میں برطانوی سفارتکاروں نے بہت کلیدی کردار ادا کیا ہے اور مسلسل چار ہفتوں سے برطانوی سفارتکار انتہائی باریک بینی سے کوشش کررہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولا پھر طے ہوجائے۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے مقتدر غیرسیاسی حلقے بھی وہی کام کررہے ہیں جو برطانوی سفارتکار کررہے ہیں، ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی شراکتِ اقتدار کی راہ میں بہت بڑے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں۔ کامران خان نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کا ملبہ پیپلز پارٹی کی حکومت پر گرا ہے کیونکہ یہ جتنے الزامات لگائے گئے ہیں اورجتنے ثبوت پیش کئے گئے ہیں یہ حکومت کی ملکیت ہیں۔ حکومت کے پاس جب یہ ثبوت موجود ہیں تو اس نے کیوں اصل ملزمان پر پردہ ڈالا ، کیوں ان کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ اگر یہ تمام الزامات درست ہیں اور اس پر حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا ہے تو یاد رکھئے سپریم کورٹ آف پاکستان اس کیس کی سماعت کررہی ہے اور حکومت کیلئے اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ سچ سامنے آیا ہے، اب پتا چلا کہ حکومت مجرموں کو تحفظ دے رہی تھی، عمران خان نے کہا کہ یہ الزامات سابق وزیرداخلہ نے لگائے ہیں، ان کے الزامات کی تحقیق اعلیٰ عدالتی کمیشن کے ذریعے کی جانی چاہیے اور رحمان ملک کو فوری عہدے سے ہٹا دینا چاہیے، اگر مرزا سچ کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھیانک سازش ہورہی ہے۔ نواز لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار مرزا کے الزامات کے جواب تو ایم کیو ایم ہی دے گی، اب دیکھنا ہے کہ ایم کیو ایم پھر حکومت کے گلے لگے گی یا دور ہوجائے گی یا پھر مرزا معافی مانگ لیں گے، دراصل یہ مفادات کی جنگ ہے، کراچی کی مہنگی زمین کےلیے یہ سارے گروہ آپس میں لڑ رہے ہیں، یہ سیاست دان نہیں گینگسٹرز ہیں جنھوں نے بڑے بڑے معززین کا روپ دھار لیا ہے، کامران خان نے کہا کہ آج کا ذوالفقار مرزا کا سب سے سنگین الزام یہ تھا کہ امریکہ پاکستا ن کے ٹکڑے ٹکڑے کردینا چاہتا ہے اور الطاف حسین امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہید خان نے کامران خا ن کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ رحمان ملک اور ذوالفقار مرزا دونوں صدر کے قریبی ہیں، صدر صاحب کس کے کہنے پر چل رہے ہیں یہ نہیں پتا، ناہید خان نے کہا کہ صدر زرداری کسی کے ساتھ پارٹی پالیسی کو شیئر کرنے کیلئے تیار نہیں وہ ہر جگہ اپنی من مانی کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے زیادہ کوئی پارٹی میں سمجھدار نہیں ہیں، موجودہ خرابیاں صدر زرداری کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز علی بھٹو نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرداری کی سب سے اولین خواہش یہ ہے کہ اقتدار کی کرسی سے چمٹے رہو، انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی والے تو بینظیر بھٹو کو بھی بھول گئے ہیں اور مال بنانے میںلگے ہوئے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رحمن ملک کے پیچھے آصف زرداری ہیں۔ صدر آصف زرداری مختلف آدمیوں سے مختلف کام لیتے ہیں۔ صدر زرداری کی کوشش ہے کہ ایم کیو ایم ہر قیمت پر آن بورڈ ہو، وہ نہیں چاہتے کہ مارچ تک کوئی سیاسی مسئلہ پیدا ہو۔ شیخ رشید نے کہا کہ ایم کیو ایم پورے ملک میں جانا چاہتی تھی لیکن اب وہ کراچی اور حیدرآباد تک محدود ہوگئی ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ میں کراچی میں امن نہیں دیکھ رہا، اگر ان لوگوں نے عقل کے ناخن نہیں لیے تو میں چھوٹی عید اور بڑی عید کے درمیان ایک بڑے خون خرابے کو دیکھ رہا ہوں اور یہ بڑا خون خرابہ جمہوری بساط کو بھی لپیٹ دے گا۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 48
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (29-08-11)

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger