|
رضا کارانہ سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے کے ای ایس سی کے 4ہزار ملازمین فارغ

20-01-11, 06:16 AM
کراچی(نمائندہ جنگ)کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم (وی ایس ایس) سے فائدہ نہ اٹھانےوالے 4ہزار ملازمین کونوکریوں سے فارغ کردیا۔ بدھ کی رات گئے کئے جانےوالے فیصلے کی اطلاع ملنے پر ملازمین میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے 4000 ملازمین کو فارغ کرنے کی اطلاع ملتے ہی سیکڑوں کارکن ایلینڈر روڈ پاور ہاﺅس پر پہنچ گئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین کے ای ایس سی انتظامیہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور سخت مشتعل تھے۔ واضح رہے کہ کے ای ایس سی نے 31دسمبر 2010ءکووی ایس ایس اسکیم متعارف کراتے ہوئے 4500 ملازمین کوعلیحدہ کرنے کی پیشکش کی تھی اورکہاتھا کہ جو ملازم اسے اختیار نہیں کرےگا اسے زبردستی نہیں نکالا جائےگا تاہم کے ای ایس سی ترجمان نے کہا ہے کہ رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے تحت صرف 5سو ملازمین نے اپلائی کیا ملازمین کو اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے سے روکا جارہا تھا لوگوں کے کم تعداد میں درخواستیں آنے کی وجہ سے ادارے کے پاس کوئی چارہ نہیں تھاکہ وہ بقیہ 4 ہزار ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کردے۔ بدھ کی رات کے ا ی ایس سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ادارے کے غیربنیادی اورغیر پیداواری شعبے ختم کردیئے گئے، ان شعبوں میں فرائض پر تعینات عملے کو رضا کارانہ طورپر علیحدگی کی اسکیم VSS کی پیشکش کی گئی تھی جس کی مدت 15 جنوری 2011ءکوختم ہوگئی۔ تقریباًچار ہزار ایسے ملازمین جنہوں نے VSSسے فائدہ نہیںاٹھایا اب ملازمت سے علیحدہ کئے جارہے ہیں ان ملازمین کو اپنے کنٹریکٹ اورقانون کے مطابق بقایا جات ایک ماہ کی تنخواہ کے ہمراہ ملیں گے۔ یہ فیصلہ کے ای ایس سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ادارے کے اہم امورپر مکمل اور بھرپور توجہ مرکوز کرنے کےلئے کیا۔ ادارے نے یہ طے کیا کہ تمام غیرپیداواری شعبوں کو سرے سے ختم کردیا جائےگا اور غیربنیادی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ضروری امور میں دوسرے اداروں کے ذریعہ خدمات حاصل کی جائےگی۔ یہ خدمات صرف ان اداروں کے ذریعے حاصل کی جائینگی جو ان امورمیں مہارت رکھتے ہوں۔ کے ای ایس سی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ یہ اہم اقدام ادارے کی آپریشنل کارکردگی کوبہتر بنائے گا جیسے کہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اوراس کی تقسیم کاری، اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ کے ای ایس سی کے اس اقدام سے نہ صرف اس کی پیداواری کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ صارفین کو بھی مزید بہتر سہولتیں خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور یہ فیصلہ کے ای ایس سی کو ایک کامیاب ادارہ بنانے میں اہم کردار اداکرےگا۔کے ای ایس سی میں اس وقت کل ملازمین کی تعداد 17ہزار تھی ساڑھے چارہزار ملازمین کو فارغ کئے جانے کے بعد اب یہ ساڑھے بارہ ہزار رہ گئی ہے۔ کے ای ایس سی کے مطابق جن ملازمین کونوکریوں سے نکالا گیاہے ان میں سینٹری ورکرز، سیکورٹی گارڈز، بل ڈسٹری بیوٹرز، جونیئر آفس اسسٹنٹس، آفس اٹنڈنٹس اورڈرائیور شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کے ای ایس سی انتظامیہ کی جانب سے 4000 ملا زمین کو فارغ کرنے کی اطلاع ملتے ہی سیکڑوں کارکن ایلینڈر روڈ پاور ہاﺅس پر پہنچ گئے۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کے ای ایس سی لیبر یونین کے چیئرمین محمد اخلاق خان ، جنرل سیکرٹری حاجی شہزاد نے کہا کہ وی ایس ایس کارکنوں کا معاشی قتل ہے جس کےخلاف ہم نے این آئی آر سی میں کیس داخل کیا ہے اور 20جنوری کو سماعت ہونا تھی کہ شب خون مارتے ہوئے ہزاروں خاندانوں کو بیک جنبش قلم بےروز گار کر دیا گیا جس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں حاجی شہزاد نے کہا کہ 9ارب ماہانہ کمانے والی کے ای ایس سی انتظامیہ سوئی گیس واپڈا اور دیگر اداروں کی نادہندہ ہے جبکہ بھاری رقم ابراج کیپٹل میں جمع کرائی جارہی ہے ۔ یونین کے رہنماﺅں نے کہا کہ ہماری قانونی جنگ جاری ہے ، آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان جمعرات کو کیا جائےگا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|