|
رضوان نے خودکشی کی: سی بی آئی

05-01-08, 08:09 AM
رضوان نے خودکشی کی: سی بی آئی
سبیر بھومک
بی بی سی کولکاتہ
رضوان اور پرینکا نے اگست 2007 میں عدالت میں شادی کی تھی
کولکتہ کےگرافک ڈیزائنر رضوان الرحمان کے قتل کے معاملے میں مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے اپنی حتمی رپورٹ تیار کر لی ہے۔
گزشتہ برس 21 اگست کو رضوان الرحمن کی لاش کولکتہ کے دم دم ریلوے ٹریکس پر پائی گئی تھی۔
رضوان نے مغربی بنگال کے ارب پتی تاجر اشوک ٹوڈی کی بیٹی پریانکا ٹوڈی سے کچھ ہفتے قبل ہی شادی کی تھی۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی بی آئی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا’تفتیشی کاروائی کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ رضوان الرحمن نے زبردست دباؤ اور اکسانے کے بعد خودکشی کی تھی اور یہی ہماری رپورٹ میں نظر آئے گا‘۔
اہلکار کا مزید کہنا تھا’میں یہ ہی کہہ سکتا ہوں کہ جب اسے (رضوان) یہ یقین ہو گیا کہ وہ اپنی بیوی سے نہیں مل سکتا تو وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو گیا‘۔
ذرائع کے مطابق سی بی آئی نے اپنی تفتیش میں اشوک ٹوڈی، ان کے بھائی پردیپ ٹوڈی اور کولکتہ پولیس کے چار اہلکاروں سمیت رضوان کے لواحقین کے ایک دوست کو خودکشی کرنے کے لیے اکسانے کے لیے قصوروار پایا ہے اور سی بی آئی کے اہلاکار کے مطابق ادارے کی جانب سے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
تفتیشی رپورٹ
تفتیشی کاروائی کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ رضوان الرحمن نے زبردست دباؤ اور اکسانے کے بعد خودکشی کی تھی اور یہی ہماری رپورٹ میں نظر آئے گا
سی بی آئی اہلکار
تاہم کولکتہ کے پولیس کمیشنر پرسون مکھرجی، جنہیں ٹوڈی خاندان کے ساتھ ملے ہونے اور رضوان پر دباؤ ڈالنے کے سبب اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، ان کے خلاف سی بی آئی کی رپورٹ ميں ذکر ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہيں۔
سی بی آئی کے اہلکار نے بتایا’ ہمیں پرسون مکھرجی کے خلاف کوئی ثبوت نہيں ملے ہیں لیکن دیگر چار پولیس والوں کی جانب سے رضوان اور پریانکا کی شادی توڑنے کے حوالے سے ٹوڈی خاندان کو مدد فراہم کیے جانے کے بارے میں پتہ چلا ہے‘۔
خودکشی کے لیے اکسانے کی دفعہ کے تحت اشوک ٹوڈی اور ان کے بھائی پردیپ ٹوڈی کے علاوہ جن چار پولیس والوں کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے ان میں کولکتہ پولیس کے دو ڈپٹی پولیس کمشنرگیانونت سنگھ اور اجے کمار جبکہ دو جونیئر اہلکار سوکانتی چکرورتی اور کرش نندو شامل ہیں۔ ہندوستان کے قانون کے مطابق اس دفعہ کے تحت دس برس تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب رضوان کے بھائی نے کہا ہے کہ وہ جب تک رپورٹ دیکھ نہیں لیتے تب تک اپنا رد عمل ظاہر نہيں کریں گے کیوں یہ قانونی معاملہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق اشوک ٹوڈی نے مبینہ طور پر پولیس کی مدد سے رضوان کو راستے سے ہٹانے کا کام کیا۔ ایک مسلم لڑکے سے شادی کو ٹوڈی خاندان نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اشوک ٹوڈی کی بیٹی پرینکا ٹوڈی سے شادی کے کچھ دن بعد تیس سالہ رضوان کی لاش ریلوے ٹریک پر پڑی ملی تھی۔
اشوک ٹوڈی کی بیٹی پرینکا ٹوڈی سے شادی کے کچھ دن بعد تیس سالہ رضوان کی لاش ریلوے ٹریک پر پڑی ملی تھی
پرینکا کے والد کے اشوک ٹوڈی نے رضوان اور پرینکا کی شادی کی سخت مخالفت کی تھی۔ انہوں نے اس بارے میں پولیس سے بھی رابطہ کیا تھا اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پولیس اور اشوک ٹوڈی کے درمیان ملی بھگت کے سبب رضوان کو ایک حادثاتی یا خودکش موت کا شکار بنایا گيا۔
رضوان کےگھر والوں کا کہنا ہے کہ اشوک ٹوڈی نے پہلے تو اس شادی کو توڑنے کی بھر پور کوشش کی پھر اپنی دولت اور اثر رسوخ کا سہارا لے کر رضوان کو قتل کروا دیا۔ کولکتہ ہائی کورٹ کے حکم پر اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی کر رہی ہے ۔
رضوان اور پرینکا کی ملاقات 2006 میں ہوئی اور دونوں میں پیار پروان چڑھا اور اگست 2007 کو دونوں نے عدالت میں شادی کر لی تھی۔ شادی کے بعد پرینکا رضوان کے گھر رہنے لگی۔
اپنی موت سے دو دن پہلے رضوان نے انسانی حقوق کی تنظیم آرگنائزیشن ایسوسی ایشن فار دی پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس یعنی اے پی ڈی آر کو لکھے ایک خط میں کہا تھا کہ پرینکا سے شادی کے فورا بعد ہی انہیں فون پر دھمکیاں موصول ہونا شروع ہوگئی تھیں کہ اگر پرینکا فوراً اپنے والدین کے گھر واپس نہ لوٹی تو انہیں قتل کردیا جائےگا۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|