واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


روڈ ہوسٹس کا گن پوائنٹ پر اغوا، اجتماعی زیادتی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-02-10, 01:46 AM   #1
روڈ ہوسٹس کا گن پوائنٹ پر اغوا، اجتماعی زیادتی
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 08-02-10, 01:46 AM

رپورٹ: رؤف کلاسرا
اسلام آباد۔ میٹرک پاس 20 سالہ لڑکی جو ڈائیوو بس سروس میں روڈ ہوسٹس ہے کو ہفتے کی رات بھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ اندوہناک واقعہ سیالکوٹ میں اس وقت پیش آیا جب اسے نشے میں دھت دو لڑکوں نے گن پوائنٹ پر اس وقت اغوا کرلیا جب وہ ڈیوٹی کے بعد گھر جارہی تھی۔ 20 اور 22 سالہ دو نشے میں دھت لڑکوں نے اسے رات بھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اتوار کی صبح سڑک پر پھینک دیا۔ سیالکوٹ پولیس نے اس درد ناک واقعہ پر 12 گھنٹے کے اندر ایک ملزم سرفراز حسین ولد بابو خان کو گرفتار کرلیا۔ ملزم کا تعلق ضلع گجرات سے ہے۔ زیادتی کا نشانہ بنانے والا لڑکا جو خود بھی ایک بیٹی کا باپ بتایا جاتا ہے کو متاثرہ لڑکی کی نشاندہی پر 5 گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد پکڑا گیا۔ لڑکی نے ہمت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے بری جسمانی حالت اور شدید دکھ درد کے باوجود ہسپتال میں فوری طبی امداد لینے کے بجائے پولیس کو جائے وقوع پر لے جانا زیادہ بہتر سمجھا۔ طویل عرصے سے پنجاب کے مختلف علاقوں سے اس طرح کی اندوہناک اجتماعی زیادتی کے واقعات کی رپورٹس منظر عام پر آرہی ہیں جس میں کثیر القومی بس سروس ڈائیوو کا ایک ایسا ملازم بھی ملوث ہے جسے اپنی بہترین خدمات اور اپنے زنانہ سٹاف کو سکیورٹی کی فراہمی پر اب تک بڑا فخر ہے۔ یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ ڈائیوو کے زنانہ سٹاف کی کسی کارکن نے اس طرح کی زیادتی کی رپورٹ منظر عام پر آنے دی۔ کیونکہ مذکورہ بس سروس 90ء کے عشرے کے وسط میں شروع ہوئی۔ یہ واقعہ روڈ ہوسٹس کا کام کرنیوالی اس کی زنانہ سٹاف کی سیکڑوں لڑکیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔ ڈائیوو وین ڈرائیور اور سکیورٹی گارڈ جو بد قسمت لڑکی کو رات گئے اس کے گھر چھوڑنے کیلئے گئے تھے نے بڑی بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں افراد نے اس کے اغوا اور بعدازاں زیادتی کیلئے سہولت کار کے طور پر کام کیا کیونکہ جب بے یارو مددگار لڑکی کو ان کی آنکھوں کے سامنے وین سے نیچے گھسیٹا جارہا تھا تو ان دونوں نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ دی نیوز کی تحقیقات کے مطابق 20 سالہ میٹرک پاس لڑکی (جس کا نام اس کے خاندان کو سماج کے خوف کے باعث صیغہ راز میں رکھا جارہا ہے) نے رات 12 بجے (اتوار) اپنی ڈیوٹی مکمل کی۔ حسب معمول ایک گن مین اور ایک ڈرائیور اسے گھر چھوڑنے کیلئے بھیجے گئے۔ وین جیسے ہی بس ٹرمینل سے نکلی ایک کار نے اس کا پیچھا شروع کردیا۔ چند میل دور ایک 20 سالہ لڑکا کار سے برآمد ہوا اور ڈرائیور کو وین روکنے پر مجبور کردیا۔ لڑکے کے ہاتھ میں ایک گن تھی اور اس نے گن مین اور ڈرائیور کو یہ ساری واردات پر محض تماشائی بننے پر مجبور کردیا۔ اس نے لڑکی کو گن پوائنٹ پر اٹھایا اور کار میں ڈال لیا جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر پہلے ہی اس کا ایک دوست براجمان تھا۔ بعدازاں دونوں بزدل افراد ڈرائیور اور گن مین نے فوری طور پر لڑکی کے اغوا کا واقعہ مقامی پولیس پارٹی کو بتایا ایک پولیس پارٹی کو ان ملزموں کو پکڑنے کیلئے روانہ کیا گیا جو انتہائی رفتار پر گاڑی بھگا رہے تھے۔ یہ تعاقب چند لمحے جاری رہا۔ تاہم پولیس کار ایک حادثے کا شکار ہوگئی جس میں بعض اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ اس طرح دونوں لڑکے لڑکی کو اپنی جگہ پر لے جانے اور شب بھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ صبح سویرے انہوں نے لڑکی کو سڑک پر پھینکا جس کے بعد وہ پولیس تک پہنچ پائی۔ غصے میں بپھری لڑکی نے اوسان خطا نہ ہونے دئیے اور اس نے پولیس کو کہا کہ وہ انہیں وہ مقام دکھا سکتی ہے جہاں اسے پابند رکھا اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ اغوا کنندگان نے مین روڈ پر اپنے گھر جانے کیلئے جب موڑ مڑا تو وہاں ایک چھوٹا سا پل تھا۔ اگر اسے مذکورہ پل تک لے جایا جائے تو وہ اس جگہ کا تعین کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ پانچ گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد لڑکی نے بالآخر درست مقام کا تعین کردیا اور جلدہی وہ اس گھر میں کھڑے تھے جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جائے وقوع سے بہت سی اہم نشانیاں ملیں جن کی روشنی میں ایک ملزم سرفراز حسین ولد بابو خان کو گرفتار کرلیا گیا۔ سرفراز حسین کے بارے میں معلوم ہوا ہے وہ لاہور میں موبائل شاپ کا مالک ہے اور اس کا تعلق ضلع گجرات سے ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ شادی شدہ اور ایک بیٹی کا باپ ہے۔ دوسرا ملزم ارشاد بھٹی ابھی تک مفرور ہے اور پولیس اسے گرفتار کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ تفتیش کے دوران سرفراز حسین نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے دوست ارشاد حسین بھٹی کی صحبت میں شراب پی اور کار پر جارہے تھے کہ ان کی نظر ڈائیوو وین میں بیٹھی لڑکی پر پڑی۔ نشے میں دھت دونوں لڑکوں میں گن پوائنٹ پر لڑکی کو اغوا کرنے کی شرط لگ گئی۔ وہ فوری طور پر تیار ہوگیا اور اس نے کار کو اسلحہ کے زور پر روک لیا۔ وہ ہاتھ میں پستول لئے اندر گھسا اور لڑکی کو کار میں لے آیا اور دوست سے شرط جیت لی کیونکہ دونوں سکیورٹی گارڈ اور ڈائیور چوہوں کی طرح اپنی سیٹوں پر دبکے رہے۔ پھر دونوں دوست لڑکی کو سیالکوٹ شہر کے قریب ایک گھر میں لائے اور اسے ساری رات زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے سیالکوٹ ڈائیوو بس ٹرمینل کے ہیڈ اورنگزیب نے اپنی ملازم لڑکی سے زیادتی کے اندوہناک واقعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ کمپنی کی طرف سے ملزموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی گئی ہے تاہم انہوں نے کسی قسم کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوموار کو اس کیس کے بارے میں کچھ بتا پائیں گے کیونکہ فی الحال معاملات گڈ مڈ ہیں لیکن ان کی ہچکچاہٹ سے یہ بات واضح تھی کہ اورنگزیب خوفزدہ تھے اور انہیں کمپنی کے باسز کی طرف سے میڈیا یا کسی اور کو اس ریپ کیس کی تفصیلات نہ بتانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان نے البتہ دردناک واقعہ کی تفصیل کی تصدیق کی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ 22/20 سالہ نشے میں دھت دو دوستوں نے گن پوائنٹ پر لڑکی کو اٹھایا۔ ڈی پی او نے بتایا کہ افسوسناک واقعہ کا علم ہونے کے بعد انہوں نے بذات خود ملزموں کی تلاش میں پورا دن گزارا اور خدا شکر ہے کہ متاثرہ مگر بہادر لڑکی کی مدد سے ان کی پولیس پارٹی نے اجتماعی زیادتی کا ارتکاب کرنیوالے کو گرفتار کرلیا اور ان کے خلاف کیسز پہلے ہی درج کئے جاچکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ملزم گرفتار کیا گیا۔ دوسرا مفرور ہے تاہم اسے بھی جلد گرفتار کرلیں گے۔ ڈی پی او وقار کے مطابق اغوا اور زیادتی کے اس واقعہ کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ جدید ترین اسلحہ سے لیس گن مین نے اپنے فرض کی ادائیگی نہیں کی اور لڑکی کو بچانے کیلئے بہادری نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ گن مین نے لڑکے کو صرف ایک پستول کے زور پر لڑکی کو لے جانے دیا۔ وقار چوہان اس سادہ بات پر مصر تھے کہ اگر گن مین نے تھوڑی سی جرأت دکھائی ہوتی تو لڑکی کی عزت بچائی جاسکتی تھی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے کیونکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور ملزموں کو عدالت میں زیادہ سے زیادہ سزا کیلئے پیش کیا جائے گا۔

یہ خبر آج روزنامہ جنگ میں‌ شائع ہوئی ہے۔
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 584
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (08-02-10), محمدمبشرعلی (03-01-11), شاہ جی 90 (16-02-10), طارق راحیل (08-03-10), عبدالقدوس (02-01-11)
پرانا 08-02-10, 02:09 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,226
شکریہ: 25,210
16,394 مراسلہ میں 41,641 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انا للہ و انا الیہ راجعون
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (03-01-11), شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 08-02-10, 04:40 PM   #3
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,195
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انا للہ و انا الیہ راجعون
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 08-02-10, 10:28 PM   #4
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,075
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ

اس سارے قصہ میں قصور کس کا ہے، کیا صرف وہ لڑکے قصور وار ہیں جنہوں اس لڑکی کی بے حرمتی کی؟؟ کیا اس کے والدین بری الذمہ ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کی ایسی تربیت کی کہ ان لڑکوں نے ایک گھر جاتی لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا؟؟؟ یا یہ معاشرہ جس کی حالت اتنی ابتر ہوچکی ہے کہ ایک بیٹی، بہن کی عزت محفوظ نہیں۔ یا سرکار جس کی رٹ نامعلوم کہاں چیلنج ہوتی ہے جس کا وہ ڈھنڈورا پیٹتی رہتی ہے۔ گزرے وقتوں کی بات ہے کہ کسی اسلامی حکومت میں ایک عورت زیورات سے لدی پھندی سیکڑوں میل اکیلے سفر کرتی تھی اور کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا اور ایک آج کہ عورت تو کجا ایک چھوٹی بچی کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے والدین کو ڈر لگا رہتا ہے کہ کسی درندہ صفت پاکستانی کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اس میں کسی طرح پاکستان کا قصور نہیں، قصور تو صرف ہمارا ہے جو اس پیارے وطن کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اللہ ایسے ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچائے۔ امین، ثم امین۔
گلاب خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (03-01-11), شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 09-02-10, 10:36 AM   #5
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 66,080
شکریہ: 6,147
2,304 مراسلہ میں 5,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گلاب خان مراسلہ دیکھیں
ایک چھوٹی بچی کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے والدین کو ڈر لگا رہتا ہے کہ کسی درندہ صفت پاکستانی کے ہاتھ نہ لگ جائے۔

بھائی درندہ صفت صرف پاکستانی ہی نہیں ہوتے۔ اس سے بدتر حالت خود امریکہ کی ہے جہاں کچھ ڈالر کے لیے بندہ ہی ماردیتے ہیں۔ اور جہاں کسی بھی عورت کی عزت محفوظ نہیں ہے۔

درندہ صفتیت کا کسی خاص قوم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، ایسے خبیث طبیعت کہیں بھی ہوسکتے ہیں۔

آپ والدین کی بات کرتے ہیں تو کونسے والدین ایسا چاہتے ہونگے کہ ان کی اولاد ایسی نکلے اور کونسے والدین اپنی بچوں کی بہترین تربیت نہیں کرتے۔ یہ باہر کا ماحول ہے اور یہ ہمارا میڈیا ہے جو اس قسم کے نوجوان تیار کرنے میں معاون ثابت ہورہا ہے۔

فی الحال تو اس واقعے کے مجرموں میں سے وہ گارڈ بھی ہے جس نے اتنی غفلت برتی۔ کیا اس کو ڈائیوو والوں نے پانی کی گن دے رکھی تھی کہ وہ ظالموں پر ایک پچکاری بھی نہ مار سکا۔
ابو عمار آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا
J.S (09-02-10), منتظمین (15-02-10), سحر (09-02-10), شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 09-02-10, 12:15 PM   #6
Senior Member
 
Wahid Mahmood's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,989
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انا للہ و انا الیہ راجعون
Wahid Mahmood آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-10, 01:01 PM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,565
شکریہ: 8,802
5,786 مراسلہ میں 21,395 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس معاملے میں سب کا قصور ہے ۔
ان لڑکوں کا ، والدین کا ، میڈیا کا ، معاشرے کا ، قانوں نافذ کرنے والے اداروں کا جن کا خوف اب لوگوں کے دلوں میں نہیں رہا ۔ حکومتی ممبران کا جو خود ان کاموں مین ملوث ہوتے ہیں ۔ ہمارے یہاں امیر گھروں میں شراب پینے اور اس طرح کے کاموں کو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا ۔
اور سب سے آخر میں ہمارا قصور بھی ہے ۔
کہ ہم نے لوگوں کی تربیت کے لیے کوششیں نہیں کی ۔
اور ایک بات اور یہاں ضڑور کہوں گی ۔ کہ آخر میں قصور ہماری سوچ کا بھی ہے ۔ کہ جس لڑکی پر ظلم ہوا وہ لڑکی ہماری سوچ کی وجہ سے کسی کو اپنا نام نہیں بتاسکتی ہے ۔ کیوں ۔
ہم مظلوم کو اعتماد دینے کے بجائے اس کو دنیا میں جینے کا حق ہی چھین لیتے ہیں ۔
کیوں ایسی لڑکیوں جن پر ظلم ہوتا ہے ۔ اپنی زندگی اعتماد سے نہیں گزار سکتی ہے ۔ کیوں ان لڑکیوں کے بارے میں بھی ایسے ہی باتیں کی جاتی ہیں جیسے ان کی مرضی شامل ہو ۔
کیوں عام شریف لڑکیوں کے زمرے سے ان مظلوم لڑکیوں کو نکال دیا جاتا ہے ۔
کیوں ان لڑکیوں کو شادی کے قابل نہیں سمجھا جاتا ہے ۔
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (15-02-10), محمدمبشرعلی (03-01-11), راجہ اکرام (09-02-10), شاہ جی 90 (16-02-10), عبداللہ حیدر (16-02-10)
پرانا 09-02-10, 01:15 PM   #8
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,381
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت ہی بری، افسوس ناک خبر ہے، شرم کا مقام ہے پاکستانی قوم کےلیے، میرے خیال سے ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد کو سخت سے سخت سزا، سزائے موت دینی چاہیے۔
لیکن ہمارے ملک کی یہ ایک بری بات ہے کہ یہاں پر جرم کرنے والے آزادی سے گھومتے رہتے ہیں اور عام آدمی پولیس والوں ، غنڈوں اور سیاست دانوں سے ڈر کر رہتا ہے۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (09-02-10), شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 09-02-10, 02:21 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,226
شکریہ: 25,210
16,394 مراسلہ میں 41,641 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
سحر بہنا آپ نے معاشرے کے ایک منفی رویے کی طرف نشاندہی کی ہے۔
اس طرح کی مظلوم لڑکیوں کو اسی طرح معتوب سمجھا جاتا ہے جس طرح اپنی مرضی سے برائی کرنے والوں کو سمجھا جاتا ہے۔

اللہ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (15-02-10), محمدمبشرعلی (03-01-11), شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 09-02-10, 02:29 PM   #10
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,978
کمائي: 48,954
شکریہ: 7,292
5,961 مراسلہ میں 15,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سر عام پھانسی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
J.S (09-02-10), شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 09-02-10, 03:58 PM   #11
J.S
Senior Member
 
J.S's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 11,134
کمائي: 193,024
شکریہ: 9,963
7,883 مراسلہ میں 16,022 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دونوں لڑکوں کو سر عام سزا دی جائے پورا پاکستان دیکھے
گارڈ کو بھی سزا دی جائے (اس نے بھی اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کی)
J.S آن لائن ہے   Reply With Quote
J.S کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 15-02-10, 02:58 AM   #12
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,075
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ

بہت ساری کمیاں ہیں ہمارے معاشرے میں۔ ہم سب کو احساس ذمہ داری کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جب تک ہم احساس ذمہ داری سے نظریں چراتے رہیں گے اس وقت تک بہت ساری برائیاں ہمارے معاشرے میں موجود رہیں گی۔ جب تک والدین احساس ذمہ داری نہیں کریں گے اس وقت تک بچوں کی تربیت صحیح نہیں ہوسکے گی۔ جن لوگوں نے یہ مذموم حرکت کی ہے وہ خود شادی شدہ اور بچوں والے ہیں، ان کے والدین ہیں اور رشتہ دار اور دوست احباب بھی۔ وہ لوگ شراب کے نشہ میں دھت تھے اور اس معصوم لڑکی کے عزت سے کھیلنے کے لئے انھوں نے شرط لگا دی۔ میرے خیال میں اگر اس شخص کی شروع سے یعنی اس کے والدین اگر اچھی تربیت کرتے تو وہ شاید ایسی حرکت نہ کرتا۔ ہاں اس کی صحبت بھی شاید اچھے لوگوں کی نہ ہوگی اگر اس کا دوست اسے اس حرکت سے منع کرتا اور شرط نہ لگاتا تو بھی شاید ایسی نوبت نہ آتی۔ اگر لڑکی کے ساتھ موجود گن مین تھوڑی ہمت دکھاتا تو شاید ایسا نہ ہوتا۔ یہ سب باتیں گمان ہے۔ لیکن جو ہوا اچھا نہیں بہت برا ہوا۔
گلاب خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (03-01-11), شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 16-02-10, 10:24 AM   #13
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بڑی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف نہیں ہے۔ انگریزی فرسودہ عدالتی نظام کے تحت پوری قوم سسک رہی ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ کسی نے جوانمردی(ہیرو؁زم) کا مظاہرہ نہیں‌ کیا تو اسکا جواب اسطرح ہے کہ کافی مقامات پر سننے اور دیکھنے میں‌ آتا رہا ہے کہ اچھّے بھلے لوگ بھی ایسے واقعہ ہوتے ہوئے یا قریب کوئی جُرم ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی کنی کترا کر نکل جاتے ہیں کیونکہ انکو معلوم ہے کہ وہ اگر اس مجرم کے خلاف صرف گواہ بنیں‌ یا زیادہ جراءت کر کے مار بھی ڈالیں‌ تو مرتے دم تک عدالت کے چکّر لگاتے رہیں‌گے۔ میرا ایک جاننے والاانگریزی قانون کا قاضی/ جج ہے جس نے سبکدوش ہونے پر بتایا ہے کہ پوری نوکری کے عرصے میں اس نے کوئی ایک فیصلہ بھی نہیں‌ سُنایا ہے۔ جب کسی کو سزا کا خوف نہیں‌ ہے تو پھر جنگل کا قانون نافظ ہے اور ایسے واقعات ضرور ہوں گے ۔
اگر محافظ کے پاس بندوق تھی اور اس نے کچھ نہ کیا تو وہ گولی مارنے یا گردن مارے جانے کا حقدار ہے۔

Last edited by محمد الیاس; 16-02-10 at 10:30 AM.
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (16-02-10)
پرانا 16-02-10, 10:32 AM   #14
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گلاب خان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ

بہت ساری کمیاں ہیں ہمارے معاشرے میں۔
وعلیکم سلام ، شائد یہ پنجابی زبان کا لفظ ہے۔
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-02-10, 11:19 AM   #15
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,036
شکریہ: 24,031
4,991 مراسلہ میں 14,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

انا للہ و انا الیہ راجعون
جب برائی کی ور طرف ترغیب بھی دی جا رہی ہو،اور اسباب بھی مہیا کیے جا رہے ہوں تو معاشرہ ایسی پستی کی طرف ہی جاتا ہے۔اسلامی سزاوں کے ہوتے ہوئے کیا کسی کی اتنی جرات ہو سکتی تھی؟؟
اور ہاں خواتین کو بھی اسلامی پابندیوں کا لحاظ کرنا چاھیے۔بھر حال جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (16-02-10), Wahid Mahmood (17-02-10), عبداللہ حیدر (16-02-10)
جواب

Tags
فرض, پولیس, واقعات, لڑکی, نیوز, مکمل, موبائل, معلوم, آج, اسلام, اغوا, بہترین, تلاش, جیت, خلاف, خان, خبر, خدا, دوست, رات, سٹاف, شہر, عدالت, عزت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا 48 گھنٹے بے ہوش رہنے کے بعد نرس کا بیان ۔ ڈاکٹر جبار میمن گرفتار جاویداسد خبریں 20 20-07-10 07:32 PM
ایران میں اغوا اور زیادتی کرنے کی سزا مسافر عمومی بحث 38 31-08-09 11:51 AM
سبی ، اجتماعی زیادتی کرنے والے 4 ملزمان ڈرامائی انداز میں گرفتار ابن جلال خبریں 2 15-04-08 04:33 AM
مزارِ قائد پردلہن سے اجتماعی زیادتی چاچا کمال خبریں 14 24-03-08 07:45 AM
ضلعی حکومتوں کو معطل کرنے کی تجویز زیر غور ہے، گورنر سندھ عبدالقدوس خبریں 0 16-12-07 08:48 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:19 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger