کرپشن عام ہے قرضہ لے کر ملک چلانا ممکن نہیں، چیئرمین ریلوے بدعنوان عناصر کو گرفتارکرکے عدالت میں پیش کریں، جسٹس افتخار چوہدری
انجنوں کا کُل سودا 55 ارب روپے تھا جس میں40 ارب کی کرپشن نہیں ہوسکتی، ریلوے حکام، میڈیا بغیرتحقیق کے خبرشائع نہیں کرتا، چیف جسٹس
اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریلوے لوکو موٹو انجنوں کی خریداری میں 40 ارب روپے کے مبینہ نقصان کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قرضہ لے کر ملک چلانا ممکن نہیں‘ ملک میں کرپشن عام ہو رہی ہے جس کا جی چاہتا ہے دونوں ہاتھوں سے لوٹتا ہے‘ پوری قوم کا فرض ہے کہ کرپشن کے خلاف کردار ادا کرے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ریلوے حکام نے عدالت کو بتایا کہ 5 سو میں سے 3 سو انجن خراب ہیں‘ اگر فنڈز ملے تو ان کو ٹھیک کرائیں گے۔ ریلوے نے 10 فی صد مسافر ٹرینیں بند کر دی ہیں جبکہ باقی کی حالت بھی تسلی بخش نہیں ہے جبکہ کیس میں کرپشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ریلوے انجن کا کل سودا 55 ارب روپے کا تھا جس میں 40 ارب کی کرپشن نہیں ہو سکتی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا بغیر تحقیق کے خبر شائع نہیں کرتا۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ اگر روپے ملے تو ناکارہ انجنوں کو بھی کارآمد بنایا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے رنگ و روغن تو بہت کیا ہوا ہے لیکن اکثر ٹرینیں کھڑی رہتی ہیں۔ شفافیت تو یہ تھی کہ آپ ریلوے انجنوں کی خریداری کےلئے اوپن ٹینڈر طلب کرتے۔ جی ایم ریلوے نے بتایا کہ ہمارے پاس ریلوے انجنوں کی خریداری کےلئے صرف دو کمپنیاں ہی پری کوالیفائیڈ ہیں۔ فاضل عدالت نے ازخود نوٹس کیس میں ایڈووکیٹ سلیمان اکرم راجہ کو عدالتی معاون مقرر کر دیا ہے اور چیئرمین ریلوے سے تفصیلی جواب طلب کر لیا اور مقدمے کے فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ سفر اور نقل و حمل کےلئے ریلوے اہم ترین ذریعہ ہے‘ اس ادارے کی حالت توجہ طلب ہے‘ لگتا ہے کہ غفلت اور بدعنوانی کی وجہ سے ریلوے اس حالت کو پہنچا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 40 ارب روپے کا گھپلا ہے‘ خدارا ملک پر رحم کریں‘ 40 ارب روپے کا گھپلا معمولی بات نہیں ہے‘ ریٹائر ملازمین کو پنشن تک نہیں مل رہی۔ فاضل عدالت نے مزید سماعت دو ہفتوں کےلئے ملتوی کر دی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دئیے کہ کرپٹ عناصر کسی بھی ادارے میں ہوں‘ منظر عام پر لانا پوری قوم کی ذمہ داری ہے‘ قرضہ لے کر ملک کو چلانا ناممکن ہے‘ اس موقع پر چیئرمین ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ادارے کو غفلت اور کرپشن کا سامنا ہے‘ خراب انجنوں کی مرمت کےلئے پیسے میسر نہیں‘ اس وقت پاکستان ریلوے کے پاس کل 500 انجن خراب پڑے ہیں جبکہ مال گاڑیاں مکمل طور پر کام کے قابل نہیں۔ چیف جسٹس نے چیئرمین ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اتنے بڑے ادارے کے چیئرمین ہیں‘ بدعنوان عناصر کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں‘ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی