آئی ایس آئی کے سابق چیف سمیت 2 جرنیل شامل، اراضی لاہور میں ایک گالف کلب کو دی
اسلام آباد (رؤف کلاسرا) مشرف کے چہیتے 3 سابق فوجی جرنیلوں جاوید اشرف قاضی، سعید الظفر اور حامد حسن بٹ جو 2001ء میں پاکستان ریلوے کے کار پرداز تھے کیخلاف 9 سال پرانا مشرف دور کا 25 ارب کا سکینڈل پھر سامنے آگیا ہے کیونکہ 22 اپریل 2008ء کو سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی طرف سے بنائی گئی بااختیار 20 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے رائل پام گالف اور کنٹری کلب لاہور (نجی پارٹی) کو ریلوے کی سیکڑوں ایکڑ اراضی لیز پر دینے کے واقعہ کی 2 سال سے زائد عرصے تک تحقیقات کرنے کے بعد اب پارلیمنٹ کو سفارش کی ہے کہ ان سابق جرنیلوں کیخلاف فوجداری مقدمات درج کئے جائیں ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں اور موجودہ بوگس معاہدے/ڈیل کو منسوخ کرنے سے قبل دماغ کو چکرا دینے والے نقصانات کے ازالے کیلئے ان جائیدادوں کو نیلام کیا جائے۔
اس دھماکا خیز رپورٹ میں کہا گیا کہ ان فوجی جرنیلوں کو موقف پیش کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی میں طلب کیا گیا لیکن یہ لوگ کمیٹی ارکان کو اپنے بے گناہی پر قائل نہ کرسکے کیونکہ یہ سب اربوں روپے کے سکینڈل کے حصہ تھے اور اب انہیں حالات کا سامنا کرنا چاہئے۔ 2008ء میں ملک میں جمہوریت کی واپسی کے بعدپہلی پارلیمانی کمیٹی ہے جو 9 سال پرانے سکینڈل میں تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ماضی کے 3 جرنیل نقصان کے ذمہ دار ہیں اور ان کی جائیدادوں کی نیلامی کی سفارش کی ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ 2001ء میں موجودہ انتظامیہ سے طے پانے والے کنٹریکٹ کو فوری طور پر ختم کردیا جائے اور 90 دن کے عبوری دور کیلئے نئی ایڈہاک کمیٹی مقرر کی جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ رائل پام گالف کورس کو کھلی بولی میں لیز پر دیا جائے تاکہ پاکستان ریلوے کے لئے زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل ہوسکے جو ریلوے کے اندازے کے مطابق اب 40 ارب روپے تک آمدنی کا باعث بن سکتا ہے۔
اس نامہ نگار نے پہلی مرتبہ اس سکینڈل کی نشاندہی 2001ء میں کی تھی جب یہ پہلی مرتبہ پی اے سی میں زیر بحث آیا تھا کیونکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت کے فوجی جرنیل اپنے پسندیدہ پارٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی خفیہ دستاویزات حوالے کرنے کو تیار نہیں۔ اس معاملے میں پرویز مشرف کے بیٹے کے سسر نے بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دیں۔ اس وقت کے وزیر جاوید اشرف قاضی نے یہ خبر شائع کرنے پر اگلے روز پریس کانفرنس کرکے اس نامہ نگار کی مذمت کی تھی۔
اس کمیٹی نے ان آرمی جرنیلوں کی سرپرستی میں معاہدے پر عملدرآمد کرنے والے ریلوے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چار ارکان کیخلاف بھی کارروائی کرنے اور ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کی سفارش کی۔
2 سال سے زائد کے عرصے میں مکمل ہونے والی پارلیمانی انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اربوں روپے کا یہ کنٹریکٹ دھوکا دہی اور فراڈ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔
ندیم افضل چن کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ گزشتہ روز اسمبلی میں پیش کی اور یہ پہلی مرتبہ ہواہے کہ کسی پارلیمانی کمیٹی نے 3 سابق جرنیلوں کیخلاف کارروائی کرنے اور سب سے اہم ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کی سفارش کی ہے۔
دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) سعید ظفر کا فوری ردعمل یہ تھا کہ ”اگر ہمارے خلاف اس قسم کے فیصلے ہوتے ہیں یا کارروائی کی سفارش کی گئی ہے تو یقینا پاکستان ترقی کرے گا۔“
سپیکر قومی اسمبلی نے 22 اپریل 2008ء کو اس اربوں روپے کے سکینڈل کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی تھی جس میں ایم این اے افضل چن (بطور چیئرمین) ، طارق تارڑ ، طارق شبیر ، ناصر علی شاہ ، نعمان اسلام شیخ ، فوزیہ وہاب ، نور عالم خان ، سردار ایاز صادق ، عابد شیر علی ، راجہ محمد اسد خان ، عبدالمجید خانان خیل ، ملک شبیر اعوان ، حاجی روز الدین ، پرویز خان ، شیخ وقاص اکرم ، ماروی میمن ، ارباب ذکاء اللہ ، انجینئر شوکت اللہ ، غلام مرتضیٰ جتوئی ، اقبال محمد خان اور وزیر ریلوے شامل تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ارکان نے برائے نام قیمت پر ریلوے کی اراضی رائل گالف اینڈ کنٹری کلب لاہور کو الاٹ کرنے کے معاملے پر بحث کی اور تحقیقات کیں۔ کمیٹی نے معاملے سے متعلقہ خصوصی ایشوز کاتفصیل سے جائزہ لیا اور ذمہ دار افراد کیخلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی۔
اب 2 سال بعد کمیٹی کے ارکان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس وقت کے وزیر ریلوے لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی، سابق سیکرٹری اور چیئرمین ریلوے لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید ظفر، سابق جنرل منیجر ریلوے میجر جنرل حامد حسن بٹ اور سابق سیکرٹری ریلوے خورشید عالم اس ناقص ڈیل کے ذمہ دار ہیں جو کمیٹی کے مطابق موجودہ مارکیٹ پرائس کے مطابق 40 ارب کے نقصان کا باعث بنا ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اس ڈیل کے ذمہ داران چار افراد کیخلاف کارروائی کی جانی چاہئے اور ان کی جائیدادیں ضبط کرکے نیلام کی جانی چاہئیں۔
دی نیوز کے پاس موجود 25 صفحات پر مشتمل کمیٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیٹی کے سامنے جو کچھ پیش کیا گیا اور خاص طور پر اس حقیقت کی روشنی میں کہ اس ایک ہی معاہدے کی دو منظوریاں دی گئیں جن میں سے ایک پر جولائی 2001ء میں معاہدہ ہوا جو کہ بہت زیادہ مشکوک ہے کیونکہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ”ہم (ارکان) یہ محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ کنٹریکٹر نے اس وقت کے ریلوے کے اعلیٰ عہدیداروں کی اعانت سے دھوکے اور فراڈ کے ذریعے یہ کنٹریکٹ/لیز حاصل کیا جو منظور کردہ اور تشہیر کی گئی شرائط کے مطابق نہیں ہے اور سٹیل ملز کی نجکاری کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں یہ غیرقانونی اور کالعدم ہے“۔
رپورٹ کے مطابق اس پر دستخط انتہائی عجلت میں اسی روز کئے گئے جس روز ایگزیکٹو کمیٹی نے اس کی شرائط کی منظوری دی۔ پاکستان ریلوے کے کار پرداز اور 3 سابق جرنیل جو کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے وہ یہ وضاحت کرنے میں بری طرح سے ناکام رہے کہ کس طرح سے ڈیل کی منظوری ، معاہدے/کنٹریکٹ کے دستاویزات کی تیاری اور دستخط سارے کام ایک ہی روز میں طے پاگئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ”لگتا ہے یہ دراصل ان سابق جرنیلوں اور کنٹریکٹر /پٹے دار کے درمیان نجی معاہدہ تھا“۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیل میں فیز ٹو شامل کرنا بھی غیرقانونی تھا کیونکہ یہ اظہار دلچسپی اور اشتہار کے بغیر ہوا تھا۔ یہ 5 سال میں مکمل ہونا تھا لیکن 8 سال سے اراضی ان کے قبضے میں ہے جس کی ریلوے کو کوئی آمدن نہیں ہے۔ پارٹی کی طرف سے تاخیر کی وجوہات بے بنیاد ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فیزIII بھی غیرقانونی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ گالف کورس کا ریونیو شیئر ایگزیکٹو کمیٹی کی طرف سے منظور کردہ تمام چیزوں پر مشتمل مجموعی ریونیو سے ہونا چاہئے۔ ریلوے کے ریکارڈ کے مطابق پٹے دار بار بار نادہندگی کا شکار ہوا اور اس کا کنٹریکٹر صرف اسی بنا پر بھی قابل تنسیخ ہے کیونکہ کنٹریکٹ کی شرائط کے مطابق اپنی نادہندگی کو ریگولرائز کرانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ معاہدے کی شق کے مطابق تمام نادہندگی یا ٹھیکے کی تکمیل میں کی گئی بڑی خلاف ورزیاں ضمنی معاہدوں کے ذریعے ریگولرائز کرانا ضروری تھا۔ اس میں مزید بتایا گیا کہ پٹے دار ریلوے کو ادائیگیاں کرنے میں ناکام رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ معاہدے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے کیونکہ یہ دھوکے، فراڈ اور تحریف کے ذریعے حاصل کیا گیا اور اسے ختم کردیا جانا چاہئے۔ ریلوے کے سابق ملازمین، سابق چیئرمین اور پٹے دار کی طرف سے دیئے گئے جوابات اطمینان بخش نہیں ہیں۔ پٹے دار/ٹھیکے دار بغیر کرایہ ادا کئے فیزIIاور III کیلئے مختص اراضی پر قابض ہے۔
کمیٹی نے اراضی کی مجموعی قیمت کا تخمینہ بھی لگایا جس سے ثابت ہوا کہ معاہدہ ناقص تھا۔ کمیٹی نے ڈی جی آڈٹ ریلوے کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ اگر جیسا کہ جنرل حامد حسن بٹ کمیٹی کے سامنے بتایا ہم اراضی کی قیمت 3.2 ارب روپے تسلیم بھی کرلیں تو پھر بھی اگر معاہدے کو جاری رکھا جائے تو ریلوے کو 25 ارب روپے کا نقصان ہوگا کیونکہ کرایہ کا تخمینہ ریلوے کے انجینئرنگ کوڈ کے مطابق نہیں لگایا گیا جس کی رو سے سالانہ کرایہ اراضی کی مارکیٹ قیمت سے 15 فیصد کم نہیں ہونا چاہئے۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے اس لئے سفارش کی کہ کنٹریکٹ عوامی مفاد کیخلاف ہے۔
اس نامہ نگار نے جنرل جاوید اشرف قاضی کا موقف جاننے کیلئے انہیں فون کیا۔ ان کی اہلیہ نے فون پر بتایا کہ وہ ڈنر کیلئے باہر گئے ہوئے ہیں۔
اسی دوران دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) سعید ظفر نے کہا کہ وہ کوئی جامع جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ اور اس کی سفارشات کو نہیں پڑھا لیکن انہوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے اہم قانونی معاملات اس میں شامل تھے اور یہ ٹھیکہ/کنٹریکٹ ملکی قوانین پر عمل کرتے ہوئے مناسب ہوم ورک کے بعد دیاگیا تھا۔ اس لئے سعید ظفر نے کہا کہ یہ فرض کرنا غلط ہے کہ 2001ء میں ریلوے کو چلانے والے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے عہدیداروں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی تھی تاکہ کنٹریکٹ دیئے جانے کے عمل کی نگرانی کرسکے اور اس میں شفافیت کو یقینی بنا سکے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ان کا موقف جاننے کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے انہیں طلب کیا تھا۔ جنرل سعید نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں یہ معاہدہ 2006ء میں پی اے سی میں پیش ہوا تھا۔ تاہم اس وقت اس کے ارکان کو اس میں کوئی بات غلط نظر نہیں آئی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ سینٹ کمیٹی نے بھی اس ڈیل کی تحقیقات کی تھیں اور انہیں بھی اس معاہدے میں کوئی نقائص نظر نہیں آئے۔ جنرل سعید نے کہا کہ اگر پارلیمانی کمیٹی قانون پر عمل کر رہی ہے تو یقینا میں قانون کا احترام کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ارکان پارلیمنٹ کا حق ہے کہ وہ ایسے معاملات میں اپنی رائے کا اظہار کریں لیکن جنرل ظفر نے کہا کہ بغیر مناسب تحقیقات کے ان پر ذمہ داریاں کیسے عائد کی جاسکتی ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی