سی آئی اے سے وابستہ یہ افراد جاسوسی آلات کے ماہر اور پشتو، فارسی روانی سے بول سکتے ہیں: رپورٹ
لاہور (مقصود بٹ سے) معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک حساس ادارے نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے کئی امریکی باشندے داڑھیاں رکھ کر طالبان کی صفوں میںبھی داخل ہو چکے ہیں۔ یہ تمام امریکی سی آئی اے کے نیٹ ورک سے وابستہ ہیں اور جدید ترین مواصلاتی اور جاسوسی آلات کو استعمال کرنے کے ماہر تصور کئے جاتے ہیں۔ ان میں بیشتر پشتو، اردو اور فارسی روانی سے بول سکتے ہیں۔ حساس ادارے کی خفیہ رپورٹ میں سی آئی اے کے جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے خلاف آرمی ایکٹ 1952ءکے تحت پاکستان میں جاسوسی، قتل کی وارداتوں کی منصوبہ بندی اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے قبضہ سے ملنے والے ”موبائل فون“ سے کی جانے والی کالز کا جو ریکارڈ ملا ہے اس میں یہ پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں 30 سے زائد افراد سے اس کے براہ راست رابطے تھے۔ بعض ایسے افراد سے بھی رابطوں کا انکشاف ہوا ہے جو دہشت گرد تنظیموں کے عسکریت پسند سمجھے جاتے ہیں۔ بعض انٹیلی جنس ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد ایک دینی تنظیم کے سربراہ کے قتل کی منصوبہ بندی اور ان کے مرکز پر حملہ کے پروگرام کی بھی کڑیاں ملنے کے ٹھوس ثبوت فراہم ہوئے ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی