لاہور کے واقعہ کا عراق میں بلیک واٹر کی سرگرمیوں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے
لاہور (صابر شاہ )امریکی میڈیا سے وابستہ اے بی سی نیوز نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس فلوریڈا میں ایک سکیورٹی کمپنی ”میسرز پائپرین پروٹیکٹوکنسلٹنٹ“ (ایم ایچ بی سی ) چلاتا ہے ۔ دی نیوز کی تحقیق کے مطابق گیرلڈ رچرڈسن نامی شخص نے 1999ءمیں اس کی بنیاد رکھی تھی ۔ رچرڈسن نے اس کمپنی کی بنیاد کاروباری افراد کی جانب سے اپنے کاروبار کےلئے بہتر تکنیکی رسک مینجمنٹ کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے بعد رکھی تھی ۔اے بی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ سکیورٹی کمپنی سی آئی اے کے لئے بھی کام کرتی ہے ۔امریکی اخباری ویب سائٹ پر 10لاکھ سے زیادہ تبصروں میں مذکورہ سکیورٹی کمپنی کو سی آئی اے کے روایتی حصہ کے طور پر لکھا گیا ہے گو کہ امریکی میڈیا میں ریمنڈ ڈیوس کو بہت سے چینلز نے سکیورٹی کنٹریکٹر کے طور پر بیان کیا ہے اور اسے کمپنی کا مالک تسلیم نہیں کیا ، تاہم ڈیوس کے کام کرنے کی جگہ کے متعلق کوئی ابہام نہیں۔بلیک واٹر سمیت امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے جن سکیورٹی کمپنیوں کی خدمات لی ہیں انہیں امریکی قانون سازوں نے آڑھے ہاتھوں لیا تھااور ستمبر 2010ءمیں 409ووٹوں سے امریکی کانگریس نے بل پاس کیا تھا جس میں حکومتی کنٹیکرٹرز کی غیر قانونی سرگرمیوں پر کریک ڈاﺅن کرنے کا کہا گیا تھا۔یہ بل حکومتی کنٹیکٹرز پر رشوت کے الزام کے بعد لایا گیا تھا اور بل میں تجویز کیاگیا تھا کہ رشوت ستانی پر کریک ڈاﺅن کیا جائے ۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے 2007ءمیں عراق جنگ کے دوران بلیک واٹر کے ایک سینئر منیجر کی یومیہ تنخواہ 1075 ڈالر بنتی تھی جب کہ ایک لاکھ 60ہزار فوجیوں کی سربراہی کرنے والے کمانڈر ڈیوڈ پیٹریاس کی یومیہ تنخواہ 493 تھی ۔عراق میں بلیک واٹر کی غیر قانونی سرگرمیوں سے لاہور کے واقعہ کا موازنہ کرنے کے لئے کچھ واقعات پر نظر ڈالی جا سکتی ہے ۔فروری 2005 ءمیں کمپنی کے گارڈز نے ایک عراقی گاڑی پر 70گولیاں برسائی تھیںاور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایسا انہوں نے اپنے دفاع میں کیا ہے۔امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تحقیق کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ بلیک واٹر کے ملازمین نے جھوٹا بیان دیا تھا۔دسمبر2006ءمیں عراقی نائب صدر کے گارڈ کو قتل کر دیا گیا تھا اور عراقی حکومت نے بلیک واٹر کے ایک اہلکار پر اس کا الزام لگایا تھا اس وقت بھی اہلکار کی شناخت خفیہ رکھنے کی کوششیں کی گئی تھیں ۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی