اس قسم کا حملہ امریکااپنے ملک میںچاہتا تھا تاکہ ردعمل کا اظہار کرسکے، جیو پر کامران خان کا تبصرہ
کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ“ میں میزبان کامران خان نے ریمنڈ ڈیوس کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں روسی انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں جس کی اطلاع اخبار یورپین ٹائمز نے دی ہے۔ یورپین ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ روسی خفیہ ایجنسی SVR جو کہ روسی حکومت کیلئے غیرملکی انٹیلی جنس کا کام کرتی ہے اس نے معلومات جمع کی ہے اور اس کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کا پاکستان میں کام انتہائی خطرناک تھا،اس کا مقصد کسی صورت سے القاعدہ کو جوہری مواد پہنچانا تھا۔ روسی انٹیلی جنس ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے قبضے میں سی آئی اے کی انتہائی خفیہ دستاویزات پائی گئیں جن کے مطابق خوف کی علامت سمجھی جانے والی امریکی ٹاسک فورس 373 یا TF373 خطے میں سرگرم ہے۔ یہ ٹاسک فورس القاعدہ دہشت گردوں کو جوہری مواد اور زہریلے حیاتیاتی ایجنٹس پہنچارہی تھی۔ کامران خان نے بتایا کہ روسی انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق دستاویزات سے ثابت ہوا ہے کہ ڈیوس TF373 کے بلیک آپریشنز یونٹ کا ممبر ہے جو افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مختلف اہداف پر کام کررہا ہے۔ روسی انٹیلی جنس یہ بھی کہتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں صورتحال سنگین ہوچکی ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان کھلی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے۔ ڈیوس کے موبائل فون ریکارڈ کی مدد سے اس کے القاعدہ رابطوں کا انکشاف ہوا تھا اور لاہور میں قتل ہونے والے دونوں افراد کو ڈیوس کی نگرانی پر تعینات کیا گیا تھا۔ روسی انٹیلی جنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس انتہاپسند گروہ جس میں القاعدہ بھی شامل ہے اور سی آئی اے کے تعلقات کے لئے پل کا کام کررہا تھا اورآئی ایس آئی کے دعوﺅں کے مطابق ڈیوس القاعدہ کو جوہری مواد پہنچا رہا تھا جو پلان کے تحت امریکا ہی کے خلاف استعمال کرکے ایک کھلی جنگ کا جواز پیدا کرنا تھا۔ کامران خان نے کہا کہ امریکا چاہتا تھا کہ اس قسم کا حملہ امریکا کے اندر ہو اور اس کے بعد امریکا ردعمل کا اظہار کرسکے، یہ ایک خفیہ منصوبہ تھا۔ اس سے پہلے پاکستان میں انٹیلی جنس مبصرین یہ کہتے رہے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے کوئی بڑی بین الاقوامی سازش ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سی آئی اے کے اس پلان کے بارے میں روسی انٹیلی جنس ایجنسی نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکا ایک اور جنگ چاہتا ہے تاکہ ڈوبتی ہوئی عالمی معیشت پر مغرب کی بالادستی پھر سے قائم ہوسکے۔ کامران خان نے مزید بتایا کہ پاکستان کے میڈیا میں پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع سے ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے جو خبریں شائع ہوئی ہیں اس کے مطابق تفتیش کے دوران ریمنڈ ڈیوس کے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کا انکشاف ہوا ہے۔ طالبان کے لئے پنجاب سے نوجوانوں کی بھرتیوں میں ڈیوس کا انتہائی اہم کردار تھا اوروہ پاکستان میں انتہاپسندی کی آگ بھڑکا رہا تھا۔ کامران خان نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ سی آئی اے کا ہاتھ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں ہوسکتا ہے۔ یہ وہ گمان اور خیال ہے جو اس سے پہلے پاکستانیوں کے ذہنوں میں گردش کرتا رہا ہے۔ مسجدوں، امام بارگاہوں، مزارات پر حملے، آخر کیا ہورہا تھا پاکستان میں۔ اب یہ لگتا ہے کہ جو لوگوں کا خدشہ تھا کہ یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے اس کے کچھ کچھ اثرات نظر آتے ہیں۔ آج پورا مغربی میڈیا امریکی حکومت سے یہ سوال کررہا ہے کہ پاکستان میں ریمنڈ ڈیوس جیسے کتنے ایجنٹ گھوم رہے ہیں۔ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے مابین تعلقات کے حوالے سے آنے والی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کامران خان نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق آئی ایس آئی کی جانب سے سی آئی اے کو باقاعدہ مطلع کیا گیا ہے کہ اس کے ایجنٹس کی پاکستان میں سرگرمیاں کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں اور ان کو فوری طور پر بند کرنا ہوگا، اور سی آئی اے کے ایسے تمام ایجنٹس جو پاکستان کی خفیہ ایجنسی کی باقاعدہ معلومات کے بغیر پاکستان میں کام کررہے ہیں انہیں فوری طور پر پاکستان سے نکلنا ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔ اس سلسلے میں سی آئی اے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے درمیان اطلاعات کا ابتدائی طور پر تبادلہ بھی ہوا ہے۔ آئی ایس آئی کی جانب سے سی آئی اے کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے وہ تمام ایجنٹس جو پاکستان میں اس وقت مختلف جگہوں پر کام کررہے ہیں اگر ان کا کھوج پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے لگایا تو ان کے حوالے سے پاکستان کے قانون کے مطابق وہی کارروائی ہوگی جو ریمنڈ ڈیوس کے ساتھ ہورہی ہے۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے پاس معلومات ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے سیکڑوں لوگ پاکستان میں اس وقت کام کررہے ہیں جو پاکستان میں مختلف ویزوں پر داخل ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے ان تمام امریکیوں کا کھوج لگانے کا ایک بھرپور عمل شروع کیا ہے جس کا مطلب پاکستان میں سی آئی اے اور اس سے منسلکہ کنٹریکٹ آفیسرز اور ایجنسیوں کی مکمل طور پر صفائی کرنی ہے اور اس عمل کا آغاز بھرپور طریقے سے کردیا گیا ہے۔ کامران خان نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق یہ امریکی جاسوس مختلف بھیدوں میں پاکستان میں اس وقت داخل ہوئے جب گزشتہ سال کے وسط میں پاکستان کی حکومت نے امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کو اجازت دی کہ وہ بغیر کسی چھان بین کے امریکیوں کو ویزا جاری کرسکتی ہے اور اس کے بعد ویزے جاری ہونے کا ایک طوفان سا آگیا۔ کامران خان نے بتایا کہ اب تک کی شائع شدہ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے پچھلے سال جولائی میں صرف تین دنوں کے دوران بغیر کسی سیکیورٹی کلیئرنس کے 500 امریکیوں کو ویزے جاری کئے تھے۔ جولائی 2010ء میں 436 امریکیوں کو ”سرکاری بزنس“، ”این جی او ڈیوٹی“، ”یو ایس ایڈ“، امریکی آرمی اسائنمنٹ“ اور ”ڈن کورپس“ کے تحت ویزے جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے حکا م کی تعداد بغیر کسی معاہدے کے 280 سے تجاوز کر کے 1000 تک پہنچ چکی ہے۔ 14 جولائی 2010ء کو ویزا پالیسی میں خصوصی نرمی کے بعد صرف 6 ہفتوں تک 862 امریکی سرکاری حکام اور سفارتکاروں سمیت 1445 امریکیوں کو ویزے جاری ہوئے۔ کامران خان نے بتایا کہ یہ بھی ہوا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارتخانے نے غیرقانونی طور پر یکم مارچ سے 30 جون 2010ء کے دوران 150 بھارتی اور 86 امریکی باشندوں کو بغیر کسی سیکیورٹی کلیئرنس ویزوں کا اجرا کیا تھا۔ کسی تیسرے ملک سے پاکستان کے لئے ویزا جاری کرنا انتہائی غیرقانونی اور غیرمعمولی عمل ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ غیرقانونی طورپر جاری کیے گئے تمام ویزوں کے درخواست فارمز کو فوراً ہی منظور کرلیا گیا اور کچھ کیسوں میں تو چھٹی کے دن آفس خصوصی طورپر کھول کر ویزے جاری کئے گئے لیکن یہ عمل اب رک جائے گا، اس سلسلے میں پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو تنبیہ جاری کی ہے اور اس عمل کو فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ممتاز صحافی زاہد حسین نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان تعلقات انتہائی نچلی سطح پر آگئے ہیں اور خاص طور پر ریمنڈ کے واقعے کے بعد تو تعلقات دس سال پہلے جیسے تھے اس سے بھی خراب نظر آتے ہیں۔ آئی ایس آئی نے کہا ہے کہ ایسے تمام نیٹ ورکس جو پاکستان میں قائم کئے گئے تھے ان کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان تعاون چلا آرہا تھا جو 9/11 کے بعد خاصا بڑھا تھا اور دونوں خفیہ ایجنسیاں مل کر القاعدہ کے خلاف کارروائی کررہی تھیں لیکن سی آئی اے کے ساتھ باضابطہ منسلک لوگوں کے علاوہ خاصی بڑی تعداد لوگوں کی ایسی آگئی تھی جنہوں نے سی آئی اے کے تحت اپنا نیٹ ورک علیحدہ بنانا شروع کیا تھا۔ اس کا انکشاف ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے بعد ہوا کہ اس قسم کے نیٹ ورکس لاہور، پشاور، اسلام آباد اور کراچی میں بھی قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات یقینی طور پر باعث تشویش ہے اور اس کی وجہ سے دونوں تنظیموں کے مابین تعلقات کو دھچکا لگا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اگر فوراً اس کا تدارک نہیں کیا جاتا ہے تو دونوں ایجنسیوں کا آپس میں تعاون ختم ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں اچانک بڑی تعداد میں امریکیوں کے آنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب سے اوباما انتظامیہ آئی ہے اس وقت سے جنگ کے دائرہ کار میں سی آئی اے کا بڑا عمل دخل ہوگیا ہے اور ڈرون حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس سے لگتا یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کے سرکردہ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید آئی ایس آئی اور دوسری پاکستانی ایجنسیاں القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کررہی ہیں اور اسی کے نتیجے میں انہوں نے اس قسم کا نیٹ ورک بنانا شروع کیا لیکن کوئی آزاد ملک اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ ایسی کوئی کارروائی ہو جس سے اس کی ملکی سالمیت کو خطرہ پیدا ہوجائے۔ پنجاب میں سیاست کا نقشہ تبدیل ہونے کو ہے، کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کامران خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے 10 نکاتی ایجنڈے کی تمام سیاسی جماعتیں حمایت کرتی ہیں لیکن پیپلزپارٹی نے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے جس کے بعد متوقع طور پر مسلم لیگ ن پنجاب حکومت سے پیپلزپارٹی کو فارغ کرسکتی ہے۔ اس حوالے سے جمعرات کو شہبازشریف اور وزیراعظم گیلانی کی ملاقات بھی کوئی اثر نہیںڈال سکی اور ملاقات بغیر نتیجے کے ختم ہوگئی اور پنجاب میںمخلوط حکومت کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں یونی فکیشن گروپ کا قیام عمل میں آچکا ہے جس کے ارکان کی تعداد47 ہوگئی ہے پی پی اور مسلم لیگ ن کے بعد یہ پنجاب اسمبلی میں تیسرا بڑا گروپ بن چکا ہے لیکن ایک آئینی مسئلہ درپیش ہے مسلم لیگ ق اور پی پی کا کہنا ہے کہ اس گروپ پر اپنی پارٹی سے بغاوت کا الزام ہے اور اس لئے آئین کی شق 63-A کا اطلاق اس گروپ پر ہوتا ہے جب کہ اس گروپ کا کہناہے کہ وہ اکثریتی گروپ ہے اور پارلیمانی لیڈر اب اس گروپ کا ہے اور مسلم لیگ یونی فکیشن کے ڈاکٹر طاہر علی جاوید اس کی قیادت کررہے ہیں جب کہ مسلم لیگ ق کے 33 ارکان کی قیادت چوہدری ظہیرالدین کررہے ہیں۔ پنجاب میں بدلتے ہوئے نقشے پر گفتگو کرتے ہوئے یونی فکیشن گروپ کے رہنما میاں عطاء محمد مانیکا نے کہا کہ پنجاب میں پی پی کو اقتدار کا چسکا پڑگیا ہے جو اب اس کے ہاتھ سے جارہا ہے دوسرا مسلم لیگ ق کی قیادت ہے جسے ہم جعلی قیادت کہتے ہیں کیوں کہ اس نے آئین سے انحراف کرتے ہوئے جعلی الیکشن کے ذریعے تیسری بار صدارت حاصل کی ہے۔ ہمارے ساتھ مسلم لیگ کے اکابرین گوہرایوب خان، حامدناصر چھٹہ ، خورشید قصوری ، سلیم سیف اﷲ اور ہمایوں اختر جیسے مقتدر قائدین بھی ان کو چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے جعلسازی اور فراڈ سے الیکشن کروایا جمہوریت کا اصول ہے کہ 51 فیصد کی رائے کا احترام 49 فیصد پر لازم ہے۔ چوہدری ظہیرالدین کو بھی ہماری رائے کا احترام کرنا چاہئے بلوچستان میں پی پی نے ق لیگ کے اراکین کو وزارتیں د ے کر اپنے ساتھ ملایا اس وقت یہ لوگ کہاں تھے اس وقت انہیں غصہ نہ آیا پنجاب میں گورنر راج کے دورمیں ہمارے گروپ کے 2 ارکان حکومت سے مل گئے اس وقت ان کونوٹس لینے کا خیال نہ آیا۔ زرداری صاحب نے ان کو قاتل لیگ کہا تھا انہوں نے چوہدری ظہور الہیٰ کا خون بھلاکر یہ پیپلزپارٹی کے ساتھ مل گئے ہمیں نہ وزارت کا لالچ ہے نہ کوئی مالی فائدہ چاہتے ہیں۔ ہم نے آج تک اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے ہم عوام میں رہتے ہیں۔ پنجاب کے سیاسی ماحول پر گفتگو کرتے ہوئے عطاء محمد مانیکا نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پی پی کے درمیان پانی پت کی جنگ تو ہونی ہے پیپلزپارٹی نے 3 سال میں مسلم لیگ ن کی ساکھ پر بھی اثر ڈالا ہے اور پی پی کے جانے کے بعد یقیناً وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائے گی۔ کامران خان نے مشرق وسطیٰ کے حالات پر اپنے تبصرے میں کہا کہ عوامی بے چینی اور عوامی غضب کا سڑکوں پر اظہار اب مشرق وسطیٰ سے نکل کر یورپ تک جا پہنچا ہے اور یونان میں اس حوالے سے مظاہرے ہوچکے ہیں لیکن لیبیا میں حالیہ بدترین تشدد کے مظاہرے ہوئے ہیں۔ کرنل معمر قذافی جو گزشتہ 42 برسوں سے اقتدار پرقابض ہیں اور انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ آخر دم تک اپنے عوام سے مقابلہ کرے گا اور اب تک 1000 افراد حالیہ تشدد سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ کرنل قذافی کے حکم پر فوج مظاہرین پرگولیاں برسارہی ہے لیکن مظاہرین کا عزم ہے کہ ان کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کرنل قذافی اپنے ہم عصر حسنی مبارک کے انجام تک نہیں پہنچ جاتا لیبیا کے حالات سنگین ہیں اردن، مراکش اور یمن میں بھی عوام میں بے چینی ہے۔ یونان میں جب منتخب حکومت کے خلاف ٹیکسز میں اضافے کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن چکے ہیں یونان بھی پاکستان کی طرح آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل کررہا ہے۔ بحرین میں مقیم پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ بحرین میں بسنے والے ایک لاکھ 20 ہزار پاکستانی بادشاہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بحرینی حکومت پاکستانیوں کی معاون ومددگار ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی