کام میں اچھے ہیں لیکن خدا نہیں، ملک میں ہر امریکی کو ٹریک کرنا ممکن نہیں، آئی ایس آئی افسر
اسلام آباد (ماریانا بابر) جنگجوﺅں اور غیر قانونی ہتھیار بنانے والے افراد کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کا ریکارڈ اور قتل عام کا لائسنس رکھنے والے ریمنڈ ڈیوس اور اس کے سی آئی اے میں کام کرنے والے ساتھیوں کی جدید ترین ساز و سامان کے ساتھ پاکستان کی سڑکوں پر کھلے عام موجودگی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آئی ایس آئی کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ”ہم کام میں اچھے ہیں لیکن خدا نہیں ہیں“۔ تو اب جبکہ آئی ایس آئی کی ناکامی ثابت ہوگئی ہے تو یہ ایجنسی زبردست پیمانے پر ہونے والے نقصان کا، اگرچہ تاخیر کے ساتھ لیکن، ازالہ کرنے کی کوشش کررہی ہے اور یہ طے کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ اصل میں کس کی کیا حقیقت ہے، اور ملک میں موجود ہزاروں امریکیوں میں سے کون دوست اور کون دشمن ہے۔ آئی ایس آئی کے مذکورہ سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ”اس معاملے میں ہمارا نہیں بلکہ سی آئی اے کی ناکامی ظاہر ہوگئی ہے۔ انسانی وسائل کے ذریعے یہ ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ پورے ملک میں ویزے کے حامل ہر امریکی کو ٹریک کریں۔ ہزاروں ویزے جاری ہوتے ہیں۔ لیکن میں یہاں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ کئی ویزے درست ہیں ان میں سفارت کاروں، تاجروں اور این جی اوز کےلئے ہوتے ہیں۔ ہم ان میں سے چند ایک کا پیچھا کررہے تھے لیکن ممکن ہے کہ ان میں سے ایک یا دو یہاں سے جاچکے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا۔ ہمارے پاس لامحدود طاقت نہیں ہے“۔ ایک سوال، کہ سی آئی اے ایجنٹس نے ایک شخص کو ٹکر ماری اور فرار ہوگئے اور اب اپنے ملک پہنچ چکے ہیں، اس معاملے میں کیا آئی ایس آئی سوئی ہوئی نہیں ہے؟ آئی ایس آئی نے اس بات کو یقینی کیوں نہیں بنایا کہ وہ حکومت کی مدد کرے کہ ملزمان پاکستان سے فرار نہ ہوسکیں، کے جواب میں آئی ایس آئی عہدیدار نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ یہ لوگ ہمارے ہاتھوں سے نکل گئے لیکن مجھے تمام معلومات حاصل نہیں ہیں اسلئے میں زیادہ نہیں بتا سکوں گا۔ ہوسکتا ہے کہ مذکورہ افسر نے جو کچھ بتایا وہ درست ہو لیکن پاکستان قوم کی آئی ایس آئی کے ساتھ بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ عوام کو امید تھی کہ جب آئی ایس آئی کو اس بات کا علم تھا کہ امریکیوں کو دھڑا دھڑ ویزے جاری کئے جارہے ہیں تو ایجنسی کو چاہئے تھا کہ وہ کسی طرح سے اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کرتی۔ عوام کو امید تھی کہ ریمنڈ ڈیوس کی جانب سے اپنے کیریئر کی بڑی غلطی کرنے کے بعد آئی ایس آئی اپنا ہوم ورک مکمل کرنے کے سلسلے میں تاخیر سے کام نہیں لے گی۔ عوام کو امید تھی کہ جب آئی ایس آئی کو سی آئی اے اور جنگجوﺅں کے درمیان ہونےوالی بات چیت کے ریکارڈ تک رسائی حاصل تھی تو کچھ بڑے دہشت گرد حملے روکے جاسکتے تھے۔ عوام کو امید تھی کہ آئی ایس آئی سیاست دانوں، صحافیوں اور دیگر لوگوں کا پیچھا کرکے انہیں سبق سکھانے پر اپنے وسائل کا استعمال کم کرے گی۔ آئی ایس آئی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ فرض کریں کہ اگر ریمنڈ ڈیوس سے یہ غلطی نہ ہوتی تو پاکستان اور اس کے سیکیورٹی ٹھکانوں کی حالت کیا ہوتی؟
روزنامہ جنگ راولپنڈی