سالانہ آمدن ایک کروڑ 72 لاکھ روپے ہے جو سینیٹ کے قانون سازوں کی بنیادی تنخواہ سے بھی زیادہ ہے
لاہور (صابر شاہ) ریمنڈ ڈیوس کی سالانہ آمدن 1 کروڑ 72 لاکھ روپے ہے جو حلف اٹھائے ہوئے امریکی خفیہ سروسز کے ایجنٹ کی تنخواہ سے 3 گنا زیادہ ہے۔ امریکی خفیہ سروسز کی ویب سائٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنٹ یا خصوصی ایجنٹ کی سالانہ تنخواہ 37 لاکھ سے 64 لاکھ کے درمیان ہے جو ریمنڈ ڈیوس کی سالانہ آمدن سے خاصی کم ہے۔ ڈیوس کی سالانہ تنخواہ امریکن ہاﺅس اور سینیٹ کے قانون سازوں کی بنیادی تنخواہ سے بھی زیادہ جو مراعات کے علاوہ تقریباً 1 کروڑ 49 لاکھ روپے سے زائد کماتے ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین میں چھپنے والے ایک آرٹیکل کے مطابق ڈیوس نے پاکستانی حکام کو شناختی کارڈ کی کاپی اور تنخواہ سے متعلق کاغذ دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اوورسیز پروٹیکٹو سکیورٹی سروسز کے لئے تنخواہ ادا کی جانی تھی جبکہ شناختی کارڈ سے اس کی شناخت بطور کنڈیکٹر برائے محکمہ دفاع کے ہوتی ہے۔ دی نیوز کی ایک تحقیق کے مطابق امریکہ کی جانب سے میسرز، بلیک واٹر اور ڈائن کارپ وغیرہ کے سویلین کنٹریکٹرز کو عراق کی جنگ کے دوران امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لئے خدمات کے بدلے میں ادا کی گئی سالانہ تنخواہ 3 کروڑ 82 لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ تاہم پرائیویٹ کنٹریکٹرز چونکہ وفاقی ملازمین نہیں ہوتے اس لئے انہیں کوئی میڈیکل مراعات یا دیگر بونسز نہیں دیئے جاتے اور ان تمام کو نجی انشورنس خریدنی ہوتی ہیں۔ یہ پرائیویٹ کنٹریکٹرز سال میں 275 دن کام کرتے ہیں اور 90 دن فارغ رہتے ہیں۔ یہ سفارتکاروں، اہم شخصیات، ملٹری بیسز اور دیگر سہولیات کی حفاظت کرتے ہیں جس پر سالانہ اربوں ڈالر لاگت آتی ہے۔ امریکی کانگریس کی رپورٹ کے مطابق عراق جنگ کے دوران امریکی حکومت نے میسرز اور بلیک واٹر کو فی گارڈ سالانہ 4 لاکھ ہزار ڈالر ادا کئے جو امریکی فوجی کی سالانہ تنخواہ سے 6 گنا زیادہ ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی