|
رینٹل پاور منصوبوں کے ٹھیکے شفاف نہیں تھے، ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہئے:چیف جسٹس

26-10-10, 07:39 PM
2010 : اکتوبر-26
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ رینٹل پاور منصوبوں کے ٹھیکے شفاف نہیں تھے اوراس کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہئے جبکہ 2006ءکے بھی ناکام منصوبوں کے ذمہ داروں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔یہ ریمارکس انہوں نے رینٹل پاور پلانٹ پالیسی کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران دیے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے رینٹل پاور منصوبے کے خلاف مقدمے کی سماعت کی ۔ مقدمے کے نئے درخواست گزار خواجہ آصف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار کی 46 فیصد کا انحصار مہنگے فرنس آئل پر ہے جو دنیا میں کہیں نہیں ہوتااور رینٹل پاور کو 150ملین ڈالر ادا ہوئے جبکہ ایک میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ گیس کی شدید قلت ہے اور ایسے میں سوئی ناردرن واپڈا اور نے رینٹل کو بلا تعطل گیس کی یقین دہانی کیسے کرادی۔چیف جسٹس نے کہاکہ ٹیکس اداکرنے والوں کے پیسے کا تحفظ کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین میں آرٹیکل نو عوام کی جا ن ومال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا،’ہمیں اسی ملک میں رہنا ہے اور ملک میں لوٹ مار دیکھ کر دکھ ہوتاہے‘۔ اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہاکہ یہ کیسی ذمہ داری ہے کہ حکومت کا پیسہ استعمال کرکے دوسرے لوگ امیر تر اورعوام غریب ترہوجائیں۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|