|
زرعی شعبہ کی اہمیت اور آئندہ انتخابات ؟,,,,معاشی حقائق…سکندر حمید لودھی

29-10-07, 10:23 AM
عالمی بینک کے صدر نے چند روز قبل واشنگٹن ڈی سی میں اپنے سالانہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ زراعت کی بحالی سے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں غربت ختم ہو سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں عالمی بینک کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بھی اس خدشہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر زرعی شعبہ کی ترقی و توسیع پر توجہ نہ دی گئی تو 2015ء کے بعد غربت کی صورتحال بدترین سطح پر جا سکتی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ پاکستان میں یا دنیا کا کوئی اور ترقی پذیر ملک، وہاں قومی سطح پر کئی طرح کے سنگین سیاسی و معاشی اور سماجی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس صورتحال میں حکمران فوجی ہوں یا سویلین! کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے رائے دی گئی ہے کہ دنیا میں زراعت کی بحالی سے دنیا کے 600 ملین افراد کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ اور اس کے صدر کا بیان عملاً ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں اور ملکی نظام چلانے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے، جنہیں اس رپورٹ کی روشنی میں زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے بیان بازی سے ہٹ کر حقیقی انداز میں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ ہمارے ملک کی سیاست اور آئندہ انتخابی نتائج کا انحصار بھی اس پر ہو گا۔ اس لئے کہ عام انتخابات میں زیادہ تر ووٹ بھی اسی علاقوں سے پڑتے ہیں اور ملک کا نظام چلانے والے بھی دیہی بیک گراؤنڈ سے ضرور تعلق رکھتے ہیں چاہے وہ مسز بے نظیر بھٹو ہوں یا چوہدری برادران! اس طرح ہمارے فوجی حکمرانوں کے پاس بھی زرعی زمینوں کی کوئی کمی نہیں اور نہ ہی یہاں نواز شریف اور دیگر قومی سطح کے سیاست دان ان سے محروم ہیں۔ اب تو پاکستان میں ویسے ہی سرکاری زمینوں کے بڑے بڑے رقبے الاٹ کرا کے ان پر فارم ہاؤسز قائم کرنے کا رجحان بڑھ چکا ہے۔ جس سے بہت سا زرعی رقبہ بھی متاثر ہو رہا ہے زیادہ تر فارم ہاؤسز سیاسی، مالی اور اقتصادی مقاصد کے لئے بھی استعمال ہو رہے ہیں جیسا کہ امریکا اور یورپ وغیرہ میں ہوتا ہے امریکا یورپ میں بالخصوص اور جنوبی ایشیا میں بالخصوص معیشت کا حقیقی دارومدار زراعت پر ہی ہے۔ امریکا، جرمنی اور برطانیہ میں زراعت کا حصہ مجموعی قومی ترقی میں ایک فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ سروسز سیکٹر 75 فیصد اور صنعتی شعبہ کا حصہ 24 فیصد سے زائد ہے۔ چین میں زراعت کا حصہ 13 فیصد، صنعت 46 فیصد اور سروسز (خدمات) سیکٹر 41 فیصد ہے۔ پاکستان اور بھارت میں خدمات کے شعبہ کا حصہ 54 فیصد اور صنعتی شعبہ کا حصہ 27 فیصد ہے پہلے سالوں کے دوران پاکستان اور بھارت میں زرعی ترقی کے رجحان میں کمی بڑھ رہی ہے حالیہ سات برسوں میں پاکستان میں زرعی ترقی عملی طور پر اوسطاً 2.5 فیصد اور بھارت میں پہلے تین برسوں میں 2.3 فیصد رہی ہے۔ خود عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 1999-2000 سے 2004/05 کے دوران زرعی ترقی کی شرح صرف اعشاریہ تین فیصد رہی ہے۔ دوسری طرف سرکاری اعدادوشمار کے مطابق غربت کی شرح شہروں میں 15 فیصد کے مقابلہ میں دیہی علاقوں میں 28 فیصد تک ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ زرعی شعبہ سے 45 فیصد تک روزگار کے مواقع حاصل ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود کسان اور غریب کاشتکار کھاد اور دوسری اشیاء کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے دن بدن کئی مسائل سے دوچار ہو رہا ہے۔ اس وقت جیسے ہماری سول سوسائٹی میں اقتصادی ناہمواری کی وجہ سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے۔ اسی طرح زرعی شعبہ میں بھی بڑے بڑے جاگیردار اور وڈیرے خوشحال اور کسان مفلوک الحال ہو رہے ہیں۔ قومی دولت کے 90 فیصد وسائل ایلیٹ کلاس کو منتقل ہو رہے ہیں اور ہمارے 40 فیصد سے زیادہ وسائل کسی نہ کسی مشکل میں باہر بھی جا رہے ہیں ایسے حالات میں پاکستان کو اقتصادی طور پر محفوظ اور مضبوط بنانے اور اس کی اقتصادی خود مختاری کو برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لئے زرعی شعبہ کو عملی طور پر مختلف مراعات اور تحفظات دے کر پاکستان کو آنے والے دنوں میں متوقع کئی خدشات اور مسائل سے نجات دلائی جا سکتی ہے جس کا ایک حل یہ ہے کہ حکمران ایسی زرعی پالیسیاں بنائیں جس سے عملاً عام کسان کو فائدہ پہنچے۔ اس کے ساتھ گندم، شوگر مافیا کی حوصلہ شکنی کی جائے، اگر امریکا جیسے ممالک میں زراعت کی ترقی پر زیادہ توجہ دی جا سکتی ہے تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی پاکستان میں اب ہر چیز میں امریکا کی ایڈوائس چلتی ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی زرعی لابی سے بھی مشاورت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے ہماری کپاس پر امریکی سنڈی کے حملوں میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ پھر ہو سکتا ہے کہ امریکا کے ہمارے شمالی علاقوں کے بارے میں خیالات بھی بدل جائیں۔ ان اقدامات سے ہماری فوڈ سکیورٹی یقینی بنانے میں یقینا بڑی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان حکومت کی کامیاب زرعی پالیسیوں کی مثال یہ ہے کہ پچھلے 17 برسوں میں 14 سال ہم نے زرعی ملک ہونے کے باوجود اربوں روپے مالیت کی گندم درآمد کی۔ جس کی بدترین مثال گندم کی موجودہ فصل کی ہے۔ گندم کی تاریخی اور ریکارڈ پیداوار کے باوجود پہلے دنوں پورے ملک میں گندم اور آٹے کی قلت نے کئی ہفتے تک حکام اور عوام سب کو پریشان کئے رکھا اور اب گندم کی فاضل پیداوار کے باوجود ہماری حکومت 2 سے 3 ملین ٹن گندم درآمد کر رہی ہے۔ یہ ہماری گندم کے حوالے منصوبہ بندی کا حال ہے تو دوسری طرف ہمارا باسمتی چاول بھارتی ٹیگ کے سات عالمی مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے۔ کیا یہ سب کام قابل فخر ہیں یا افسوسناک! پچھلے دنوں امریکا میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی گلوبائیزیشن کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے، جس میں یہ کہا گیا کہ ان اداروں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں غربت بڑھ رہی ہے یہ انہی مظاہروں کے بعد عالمی بینک نے ایک طویل عرصہ کے بعد دنیا بھر میں غربت کے خاتمہ کے لئے زراعت کو ترقی اور توسیع دینے پر زور دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ نے زراعت ہی کے حوالے سے 2008ء کو ”آلو“ کا سال قرار دیا ہے۔ اس وقت چین، روس اور پیرو میں آلو کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔ پاکستان میں بھی اس کی پیداوار خاصی تسلی بخش ہے۔ عملی طور پر چاول، گندم اور دالوں کے بعد آلو چوتھی زرعی جنس ہے، جس کا زرعی ترقی میں بڑا حصہ ہے۔ چین، بھارت اور روس دنیا کی کل پیداوار کا 30 فیصد سے 40 فیصد آلو پیدا کرتے ہیں اس وقت یورپ، نارتھ امریکا، روس اور دیگر ممالک میں سالانہ 325 ملین ٹن سے زائد آلو کھائے جاتے ہیں۔ اسے کئی ممالک میں گندم کی متبادل خوراک کہا جاتا ہے۔ ہماری حکومت کو چاہئے کہ اقوام متحدہ کے اس فیصلے کی روشنی میں اس حوالے سے بھی اقدامات کرے یہ بات قدرے اطمینان بخش ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے موجودہ مالی سال میں 15.8 ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں جو پانچ سال قبل 229 ملین روپے کے قریب تھے۔ لیکن جس لحاظ سے ملک میں آبادی اور ضروریات بڑھ رہی ہیں اس حساب سے زرعی شعبہ کو وسائل مہیا نہیں کئے جا رہے ۔ ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں توازن قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر حکومت بڑے بڑے ڈیم بنانے کی پوزیشن میں نہیں تو پھر ایران اور ترکمانستان سے سستی بجلی لے کر کم از کم عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلائے۔ جو سردی ہو یا گرمی، ہر وقت عوام اور ہماری معیشت دانوں کیلئے مسائل پیدا کئے رکھتی ہے۔ ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ آنیوالی حکومت کو غربت، بیروزگاری اور قومی پیداوار میں کمی کے علاوہ ملکی وسائل میں کمی کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس سے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر سیاسی استحکام کے خواب بھی ادھورے رہ سکتے ہیں۔ اس لئے قومی پالیسیاں، قومی امنگوں کے مطابق بنانے کے لئے بیان بازی کی سیاست سے گریز کر کے قومی اقتصادی ایشوز پر اتفاق کیلئے راہ ہموار کی جائے۔ آئندہ انتخابات بھی یقینا اسی پس منظر میں ہوں گے ورنہ عوام حکمرانوں اور سیاستدانوں کی مرضی کے خلاف کئی حیران کن فیصلے خود بھی کر سکتے ہیں۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|