|
سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین کیخلاف چارج شیٹ تیار کر لی گئی

08-11-07, 04:14 PM
اسلام آباد (عمر چیمہ) سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے ایک چارج شیٹ تیار کر لی گئی ہے کہ انہوں نے میڈیا کو معزول ججز کے بارے میں معلومات فراہم کیں کہ انہیں گھروں میں محصور کر دیا گیا اور بنیادی ضروریات زندگی بھی مہیا نہیں کی جا رہیں۔ بدھ کے روزپولیس نے انہیں سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے پر یہ کہہ کر روک دیا کہ انہیں انتظامیہ کی طرف سے ہدایات ہیں۔ ڈاکٹر فقیر کو معزول چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کا رجسٹرار مقرر کیا تھا اور وہ 3 نومبر تک اس عہدے پر فائز رہے۔قابل اعتماد ذرائع کے مطابق چارج شیٹ وزارت قانون کے ایک اعلیٰ افسر نے عدلیہ کی ایک سینئر شخصیت سے ملاقات کے بعد تیار کی۔ سپریم کورٹ کی نگران رجسٹرار سارہ سعید اس معاملے پر تبصرہ نہ کر سکیں کیونکہ وہ موجود نہیں تھیں۔ تا ہم جب نیوز نے اس سلسلے میں ڈاکٹر فقیر سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بھی عدالتی اہلکاروں سے اس سلسلے میں کچھ سنا تو ہے تا ہم وہ اس وقت تک تصدیق نہیں کر سکتے جب تک چارج شیٹ ان کے حوالے نہ کی جائے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی پولیس نے انہیں سپریم کورٹ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ ڈاکٹر فقیر نے بتایا کہ انہیں پولیس نے بتایا کہ ان کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان کی کار کو سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل نہ ہونے دیاجائے۔ تب میں نے اپنی کار کو عمارت کے باہر پارک کیا اور پیدل چل کر عمارت میں پرائیویٹ کار پارکنگ کے قریب ایک گیٹ سے داخل ہو گیا۔ ڈاکٹر فقیر جو کہ سیکرٹری لاء کمیشن آف پاکستان کے عہدے پر کام کر رہے ہیں، نے کہا کہ جب ان سے میڈیا نے رابطہ کیا تو انہوں نے ان کو صرف حقائق بتا دئیے۔ ڈاکٹر فقیر کے مطابق ان سے جسٹس رانا بھگوان داس نے پیر کی صبح رابطہ کر کے ان کی مدد مانگی کہ انہیں فوری طور پر ڈاکٹر اور کچھ دوائیوں کی ضرورت ہے۔ یہی وہ وقت تھا جب میں نے دوسرے ججز معزول ججز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس شاکر اللہ جان اور جسٹس سردار محمد رضا خان سے رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ جسٹس جاوید اقبال اور چند دوسرے ججز کی طرف سے مختلف قسم کی شکایات ملیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے اپنے ڈاکٹر کا نام بھی بتایا اور کہا کہ انہیں علاج کے لئے گھر پر ان کی ضرورت ہے۔ میں نے فوری طور پر ڈاکٹر اور دوائیوں کا بندوبست کر دیا تھا۔ ڈاکٹر فقیر کے بقول انہوں نے یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ انہوں نے ان کے ساتھ کام کیا تھا اور وہ نیک خواہشات رکھتے تھے۔ ڈاکٹر فقیر سے جب میڈیا نے رابطہ کیا تو انہوں نے بتا دیا کہ یہ حکومت کی قانونی ذمہ داری تھی کہ وہ احسن طریقے سے علاج معالجہ کی سہولیات مہیا کرتی اور حکومت نے قابل احترام ججوں کے ساتھ جو رویہ اپنایا وہ یقینا حکومت کی طرف سے ایک احسن قدم نہ تھا۔ ڈاکٹر فقیر نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ ججز کے گھروں کو باہر سے تالا لگا دیا گیا تھا جو کہ حکومت کی طرف سے ایک مجرمانہ اقدام ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|