|
سانحہ سیالکوٹ پیچیدہ ہوگیا، ہلاک ہونیوالے بھائیوں پر قتل کا الزام

25-08-10, 03:20 AM
اسلام آباد (رپورٹ/ عثمان منظور) سیالکوٹ میں قتل کئے جانے والے بھائیوں کا معاملہ روز بروز اس قدر پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے کہ اب یہ مشکل ہوگیا ہے کہ کس بات کایقین کیا جائے اور کس بات کا نہیں !!!! تاہم اس واقعے کے حوالے سے بعض شواہد ان دونوں بھائیوں کے خلاف بھی جاتے ہیں، جن میں سے حافظ معیز بٹ، نویں جماعت کا طالب علم جبکہ منیب بٹ ، فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا جنہیں ہجوم نے مل کر وحشیانہ انداز میں ہلاک کر دیا تھا۔ ان دونوں نوجوانوں کے ماموں کا کہنا ہے کہ ان کے دونوں بھانجے ، کرکٹ میچ کے دوران کسی جھگڑے کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے تھے جبکہ ایک لڑکے بلال کو جسے ان بھائیوں کے قتل سے چند لمحے قبل ، ڈاکوؤں نے ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے افراد خاندان کا کہنا ہے کہ ان ڈاکو بھائیوں نے دو دودھ فروش بھائیوں سے لوٹ مار کرنے کی کوشش کی تھی۔ محمد عمران نے جو اس گاؤں کا رہائشی ہے جہاں یہ واقعہ رونما ہوا ، دی نیوز کو بتایا کہ یہ دونوں بھائی بلال، نامی دودھ فروش لڑکے کو گن پوائنٹ پر 8 / اگست کو علی الصبح لوٹنے میں ملوث تھے جب وہ اپنے گھر سے دودھ فروخت کرنے کی غرض سے نکلا ہوا تھا۔ 15/ اگست کو بھی ان دونوں بھائیوں نے بلال کے راستے میں آنے کی کوشش کی لیکن اس مرتبہ بلال نے انہیں پہچان لیا۔ بلال کا بھائی بھی جائے وقوعہ پر آ گیا اور اس کا ان دونوں بھائیوں سے جھگڑا ہو گیا جس کے بعد ان دونوں بھائیوں نے ان دودھ فروش بھائیوں پر فائرنگ کر دی۔ عمران نے بتاتے ہوئے مزید کہا کہ بہت سے گاؤں والے بھی جائے وقوعہ کے پاس آگئے تھے کیونکہ وہ نماز فجرکا خطبے سے ابھی ابھی فارغ ہوئے تھے عمران کا بیان ہے کہ ان لڑکوں کو گاؤں والوں نے پکڑا تھا کیونکہ وہاں سے بھاگنے کا ان کے پاس کوئی اور راستہ تھا ہی نہیں اسی دوران دو مزید افراد کو بھی گولیاں لگیں، جن میں سے ایک میئواسپتال لاہورمیں کوما کی حالت میں تھا ہجوم نے ان دونوں بھائیوں کو پکڑ کر ریسکیو 1122کے حوالے کر دیا جہاں ان دونوں کو باندھ دیا گیا تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں۔ اسی دوران ، اسپتال سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ ”بلال زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا“ یہ خبر سننے کے بعدگاؤں والوں نے ان دونوں نوجوان بھائیوں کو بری طرح مارنا شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ ہجوم بڑھتا گیا۔ اس کے غیض و غضب اور غصے اور اشتعال کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی اس ہجوم کو باز رکھنے کی کوشش کرتا تو وہ اسے بھی قتل کر دیتے۔ عمران نے دی نیوز کو مزید بتایا کہ ان دونوں بھائیوں کے پاس سے سو سے زائد گولیاں برآمد ہوئی تھیں، جبکہ ان دونوں کی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ ان کے تھیلے میں رکھی تھی جس میں بہت سے بٹوے بھی رکھے ہوئے ملے، جنہیں ان دونوں بھائیوں نے مختلف لوگوں سے چھینا تھا یہ تمام اشیاء پولیس اسٹیشن صدر ، سیالکوٹ میں جمع کرا دی گئی ہیں۔ عمران نے بتایا کہ کوئی بھی ان دونوں بھائیوں کی وحشیانہ ہلاکت کو، منصفانہ قرار نہیں دے گا۔ یہ ایک بہیمانہ واردات تھی لیکن اس ضمن میں دوسرے فریق کا موٴقف سننا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔“ ان لوگوں کا موٴقف جو اپنے نوجوان بیٹے سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔ جس کی حاملہ بیوی گھر پر موجود ہے اور جس کی چند ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔ پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گولیاں ، موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ اور دیگر اشیاء ان لڑکوں ہی کے پاس سے برآمد ہوئی تھیں۔ تحقیقاتی افسر شہنشاہ بخاری نے بتایا کہ بظاہر تو کرکٹ کھیلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کیونکہ نہ تو بیٹ بال یا کٹ وغیرہ موجود تھی نہ ہی ٹیم کا کوئی اور کھلاڑی ہمیں نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان دونوں لڑکوں سے برآمد شدہ اشیاء کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے،کہ یہ سب ڈکیتی کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔ گوجرانوالہ ڈویژن کے ریجنل پولیس افسر جن کا پیر کے دن ہی تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ یعنی ذوالفقار چیمہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ یہ ایک وحشیانہ واقعہ تھا اور وہ تمام افراد جو اس کے ذمہ دار ہیں انہیں عدالت اور انصاف کے کٹہرے میں ضرور لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں نوجوان بھائی جنہیں ڈاکو کہا جا رہا ہے ان کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا تاہم انہوں نے کہاکہ پولیس نے کسی بھی ڈاکو کی لاش کی بے حرمتی نہیں کی بلکہ لوگوں نے پولیس کی اس کارروائی کوسراہا کہ دونوں بھائیوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کی غرض سے اسپتال روانہ کر دیاگیا جو ایک معمول کا طریقہ کار ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ جب ہجوم ان دونوں لڑکوں کو مارپیٹ رہاتھا تو موقع پر موجود پولیس والوں کوچاہئے تھا کہ وہ اپنی پیٹھ ہجوم کے سامنے رکھ دیتے اور یہ مار کھا لیتے تاکہ ان لڑکوں کی جانیں بچائی جا سکتیں۔سیالکوٹ پولیس کے باخبر ذرائع کا کہناہے کہ پولیس کو سب سے پہلے یہ اطلاع ملی کہ ان دونوں نوجوان بھائیوں یعنی معیز اور منیب نے بلال نامی ایک شخص کو لوٹنے کی کوشش کی تھی جسے بالآخر ان دونوں کوگولی مار کر ہلاک کردیا۔ ذرائع کے مطابق بلال کے بھائی کابیان جو خود بھی زخمی ہوا ہے گاؤں والوں کے بیان کے عین مطابق ہے ۔ انہی ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ وہ پلاٹ جہاں لڑکے کرکٹ کھیلا کرتے تھے وہاں پانی کھڑا ہے لہٰذا وہاں کرکٹ نہیں کھیلی جاسکتی۔ بدقسمت بھانجوں کے ماموں، ضرار بٹ نے اس نمائندے کوبتایاکہ ان کے دونوں بھانجے بالکل بے قصور تھے اور لڑائی جھگڑے کا صرف ایک ہی واقعہ ان کے علم میں ہے جو گاؤں کے لڑکوں سے ہوا اور جس کے نتیجے میں ان دونوں کو مارمار کر قتل کردیاگیا۔ یہ جھگڑا کرکٹ میچ کھیلنے کے دوران ہوا تھا ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھانجے کرکٹ کھیلنے کے لئے گھر سے گئے تھے جنہیں بالآخر قتل کردیا گیا۔ جب ان سے پولیس کی برآمد کردہ اشیاء کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواباً کہا کہ “ پولیس کا کیاہے وہ تو کوئی بھی شے کسی سے بھی برآمد کرواسکتی ہے انہوں نے مزید کہاکہ اسی نوعیت کاایک اورواقعہ بھی اسی گاؤں میں ہو چکا ہے جہاں ایک شخص کو ڈاکو قرار دے کر بری طرح تشدد کانشانہ بنایاگیا تھا۔ ہلاک شدگان بھائیوں کے ماموں کا کہنا تھا کہ ان کا غم زدہ خاندان ملک کے دوسرے نوجوانوں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ ان کے مرحوم بچے تو اب واپس آنے سے رہے۔ ضرار بٹ کے مطابق افراد خاندان وقوعہ والے روز سہ پہرتین بجے ان بچوں کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوسکے کیونکہ ان دونوں کے چہرے مسخ ہو چکے تھے۔ بہرحال ایک چشم دیدہ گواہ کاجس کا تعلق حکومت سے ہے یہ کہنا ہے کہ یہ دونوں بھائی بے قصور تھے۔ محمد شوکت نے جو ریسکیو 1122 اسٹیشن کے انچارج ہیں انہوں نے یہ پورا واقعہ بچشم خود دیکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں بھائی بالکل معصوم اور بے قصور تھے اورایسا لگتا ہے کہ ان کے دشمن جو بعد میں ایک پاگل ہجوم کی شکل اختیار کر گئے کافی طویل عرصے سے ان دونوں بھائیوں کے منتظر تھے تاکہ ان سے کوئی پرانا قضہ بیباق کیا جاسکے۔ محمد شوکت نے مزید بتایا کہ 5/اگست 2010ء کو سحری کے بعد وہ اپنے کمرے میں آرام کررہا تھا کیونکہ اس دن اتوار تھا۔ اچانک اس نے فائرنگ کی آوازیں سنیں اور دیکھا کہ ایمبولینس جائے وقوعہ کی طرف آرہی ہیں چند لمحوں کے بعد غالباً صبح ساڑھے چھ بجے کا وقت ہوگیا کہ ہم سے کہا گیا کہ ایک اور ایمبولینس بھیجی جائے اس وقت میرے علم میں یہ بات آئی کہ فائرنگ کے واقعہ میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک مرچکا ہے جبکہ دوسرے کو گردن میں گولی لگی ہے۔ تیسرے شخص کی ٹانگ میں معمولی زخم آیاتھا۔ چند ہی لمحوں کے بعد کوئی دو درجن کے قریب افراد میرے دفتر کے سامنے جمع ہوگئے۔ انہوں نے دو نوجوان لڑکوں کی رسی سے باندھ رکھا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ان دونوں لڑکوں نے ان کے کسی عزیز رشتے دار کو قتل کردیا ہے۔“ریسکیو یونٹ انچارج محمد شوکت کاکہنا ہے کہ یونٹ میں ریسکیو اسکواڈ کے ا س وقت پانچ آدمی موجودتھے جن میں سے ایک نے پولیس کوبلانا شروع کردیا جبکہ بقیہ چار آدمی ہجوم سے ان دونوں نوجوانوں کو چھڑانے کی غرض سے باہر کی طرف بھاگے کیونکہ ہمارا کام ہی زندگیوں کو بچانا ہے۔ جب پولیس آئی تو اس وقت ہمارے دفتر کے سامنے جمع ہوچکے تھے۔ لڑکوں کو پولیس کی موجودگی میں چاقو گھونپنے اورسنگ باری کرنے کے بعد ہلاک کر دیاگیا۔ جب محمد شوکت سے یہ پوچھاگیا کہ ان تین آدمیوں پر جنمیں سے ایک ہلاک ہو گیا ، گولی کس نے چلائی تھی تو انہوں نے کہا ابھی اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم ان کاخیال یہ ہے کہ ان دونوں بھائیوں کی عمریں اتنی کم تھیں کہ وہ یقیناً گولی تو نہیں چلا سکتے ہوں گے انہوں نے ان پریہ الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے چھ یا سات آدمی جن کا تعلق دشمن گروہ سے تھا۔ ان دونوں بدقسمت بھائیوں کا انتظار کر رہے تھے۔ گولی چلنے کا واقعہ تو اس کے بعد ہوا تھا یا پھر یہ بھی ہوسکتاہے کہ دشمنوں نے کسی حیلے بہانے سے ان بھائیوں کو وہاں بلوایا ہو۔ بہرحال محمد شوکت کایہ کہنا تھا کہ یا تو ان تینوں آدمیوں، پردوسرے ڈاکوؤں نے گولی چلائی تھی جن میں یہ دونوں بھائی شامل نہیں تھے یا پھر انہوں نے آپس میں ہی ایک دوسرے پرگو لیاں چلا دیں ہوں۔کیونکہ علاقے کے سبھی لوگوں کایہ کہناہے کہ یہ دونوں بھائی بالکل بے قصور تھے۔ چھوٹا بھائی تو حافظ قرآن بھی تھا۔ بہرحال، یہ سوال اپنی جگہ بدستور موجود ہے کہ ان دونوں لڑکوں کو ہجوم اتنی جلد پکڑ کر فوری طور سے ریسکیو1122 کے سامنے کیونکر لے آیا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|