|
سانحہ کارساز:کراچی سمیت ملک بھر میں غائبانہ نماز جنازہ ،مظاہرے،نعرے

22-10-07, 06:39 PM
سانحہ کارساز:کراچی سمیت ملک بھر میں غائبانہ نماز جنازہ ،مظاہرے،نعرے
شارعِ فیصل پر کارساز کے مقام پر پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو پر ہونے والے خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والے پی پی کارکنوں کی ملک کے مختلف شہروں میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی، اندرون سندھ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں واقعہ کے تیسرے روز بھی سوگ رہا جبکہ کئی علاقوں میں مظاہرے ہوئے اور وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام اتوار کو سیکریٹریٹ کے سامنے واقع پارک میں 18 اکتوبر کو جاں بحق ہونے والے کارکنوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ مفتی فیروز الدین ہزاروی نے پڑھائی۔ اس موقع پر اگلی صفوں میں تصویریں کھنچوانے اور کیمرے کے سامنے آنے کی کوششوں میں مسلسل بھگدڑ اور دھکم پیل کے سبب نماز جنازہ میں شامل اکثریت نماز جنازہ نہیں پڑھ سکی۔ شدید دھکم پیل کے باعث پی پی کا ایک کارکن بیہوش ہوگیا جسے فوراً طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی‘ خورشید شاہ‘ نوید ضمیر دھکم پیل کے سبب غصے میں پچھلی صفوں میں چلے گئے۔ اس دوران کارکنوں کے درمیان اور کیمرہ مینوں سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ پچھلی صفوں میں کھڑے شرکاء کو تکبیر اور سلام کی آواز نہیں پہنچ پائی نماز جنازہ کے بعد قائم علی شاہ نے دوبارہ نماز جنازہ پڑھانے کے لئے مفتی فیروز الدین کو بلایا تاہم ایک بارپھر دھکم پیل کے سبب نماز جنازہ نہیں پڑھائی جا سکی اور شہداء کیلئے دعا پر اکتفا کیا گیا۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ نے بھی اس موقع پر فاتحہ خوانی کی نماز جنازہ میں میاں رضا ربانی‘ سید قائم علی شاہ‘ نثار کھوڑو‘ خورشید شاہ‘ نوید قمر‘ اختر جدون‘ راشد ربانی‘ رفیق انجینئر‘ وقار مہدی‘ منیر انور بیگ، جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی‘ معراج الہدیٰ صدیقی‘ این ڈی خان‘ مرزا اختیار بیگ اور دیگر شامل تھے۔ نماز جنازہ میں دھکم پیل کے سبب کئی کارکن اشتعال میں آگئے۔ بعد ازاں کارکنوں نے شدید نعرے بازی کی کارکنوں نے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب رحیم کے خلاف نعرے لگائے۔ دریں اثناء لیاری میں اتوار کو بھی مشتعل افراد نے سڑکوں پر ٹائر نذر آتش کئے اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ علاقے میں اتوار کو بھی کشیدگی تھی، علاقے میں ٹرانسپورٹ اور دکانیں بند تھیں۔ ادھر حیدرآباد میں صائمہ پلازہ، نیشنل ہائی وے، قاسم آباد اور حیدرآباد پریس کلب کے سامنے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی، قبل ازیں بھرگڑی ہاؤس میں قرآن خوانی کا اجتماع ہوا جس کے بعد وہاں سے رکن قومی اسمبلی سید امیر علی شاہ جاموٹ ایم پی اے زاہد بھرگڑی، آفتاب خانزادہ اور دیگر مقامی قائدین کی قیادت میں جلوس نکالا گیا جو حید رآباد پریس کلب پہنچ کر اختتام ہوا علاوہ ازیں سندھ ترقی پسند پارٹی کے تحت ترقی پسند ہاؤس پر شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ علاوہ ازیں سکھر، لاڑکانہ، نوابشاہ، خیر پور، ٹھٹھہ، شہداد پور، شہید فاضل راہو، پڈعیدن، شکار پور، سوبھو ڈیرو، گمبٹ، ٹنڈو باگو، بھٹ شاہ، خیر پور ناتھن شاہ، گڑھی یٰسین، ہنگورجہ، نوشہرو فیروز، شہداد کوٹ، ہالا، ٹنڈو جام، کھپرو، شاہ پور چاکر، نصر پور، عمر کوٹ، میر پور خاص اور جیکب آباد میں بھی سوگ منایا گیا اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی، اندرون سندھ مختلف علاقوں میں ٹائر جلائے گئے، احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں، پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔ ادھر بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں بھی شہدائے کراچی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں پیپلز پارٹی کے سیکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔ شہر میں نکالی گئی ایک ریلی میں شریک افراد نے بلوچستان یونیورسٹی سریاب روڈ سے ساراوان ہاؤس پہنچ کر حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے اور بعد ازاں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ادھر لاہور میں داتا دربار میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جبکہ جہانگیر بدر کی قیادت میں کارکنوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر بھاٹی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بعد ازاں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|