واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


سانحہ کار ساز،بینظیر کے گر د متعین رضاکاروں کو چیک نہیں کر نے دیا گیا تھا،تحقیقاتی ٹر یبونل میں ایس ایس پی اسپشل بر انچ کا بیان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-08, 11:16 AM   #1
سانحہ کار ساز،بینظیر کے گر د متعین رضاکاروں کو چیک نہیں کر نے دیا گیا تھا،تحقیقاتی ٹر یبونل میں ایس ایس پی اسپشل بر انچ کا بیان
ابن ضیاء ابن ضیاء آف لائن ہے 09-01-08, 11:16 AM

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سانحہ کار ساز ٹریبونل کے سربراہ جسٹس ڈاکٹر غوث محمد کے روبرو ایس ایس پی اسپیشل برانچ شہاب مظہر بھلی نے تسلیم کیا کہ بے نظیر بھٹو کے فلوٹ کے اردگرد جو رضاکار مامور کئے گئے تھے، ان کی سیکورٹی آغا سراج درانی اور ذوالفقار مرزا کے حوالے تھی اور ہمیں ان رضاکاروں کو چیک کرنے سے منع کیا گیا چنانچہ انہیں چیک نہیں کیا گیا۔ گواہ نے کہا کہ حادثے کے وقت وہ گھر پر موجود تھا اور اپنے تمام افراد سے رابطہ میں تھا حادثے کے بعد موقع واردات پر پہنچنے کے لئے گھر سے چلا ابھی جائے واردات سے فاصلے پر تھا کہ مجھے ڈی آئی جی سیکورٹی کا فون آیا کہ آپ حادثہ کی جگہ جانے کی بجائے بلاول ہاؤس پہنچیں اور وہاں سیکیورٹی کے انتظامات چیک کریں، گواہ نے تسلیم کیا کہ سیکورٹی والوں کے پاس چیکنگ کے لئے ایسے کوئی آلات نہیں جو کسی مجمع میں شامل خودکش حملہ آور یا جیکٹ پہنے شخص کی نشاندہی کرسکے یہ صرف گیٹ سے نکلنے پر ہی پتہ چلتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ میں صبح چار بجے تک بلاول ہاؤس رہا اس کے بعد گھر چلاگیا، ڈی ایس پی جام ظفر اللہ دھاریجو نے اپنے بیان میں کہا میں فلوٹ سے آگے بائیں جانب اپنے دیگر تین انسپکٹرز اور چھ جوانوں کے ساتھ دو جیپوں میں موجود تھا۔ ہماری ذمہ داری فلوٹ کو سیکورٹی فراہم کرنا تھی۔ گواہ کا بیان اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ارشد لودھی قلمبند کرارہے تھے۔ گواہ نے اپنے بیان میں کہا کہ رات 12 بجکر 50 منٹ پر فلوٹ نے کارساز برج عبور کرلیا اور بائیں جانب سے اچانک زور دار دھماکہ ہوا میری گاڑی زمین سے اچھلی اور میں نے محسوس کیا کہ میرے سر سے تیزی کے ساتھ خون بہہ رہا ہے۔ دھماکہ کی وجہ سے میری گاڑی کے دونوں دروازے بند ہوچکے تھے۔ میں شیشے سے باہر نکلا میں فلوٹ کے پیچھے جانا چاہتا تھا کہ دوسرا زور دار دھماکہ ہوا اور میرے بائیں بازو سے بھی خون نکلنے لگا۔ مجھے ایمبولنس میں آغا خان اسپتال لے جایا گیا۔ پہلے دھماکے کے وقت میرے ساتھ انسپکٹر زرداری ، اسد اللہ منگی ، سب انسپکٹر محبت خان اور تین چار پولیس والے بھی زخمی ہوئے تھے جو بعد میں علاج کے لئے لیاقت نیشنل اسپتال پہنچے۔ گواہ نے کہا کہ وہ صبح چار بجے تک اسپتال میں رہا۔

 
ابن ضیاء's Avatar
ابن ضیاء
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: Karachi - Pakistan
مراسلات: 328
شکریہ: 50
83 مراسلہ میں 185 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 333
Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پولیس, موقع, محبت, اللہ, بے نظیر, جام, خون, خودکش, خودکش حملہ, خان, دھماکہ, ذوالفقار, رات, زرداری, شخص, علاج, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ورڈپریس ڈاٹ کوم / ورڈپریس ڈاٹ آرجی / ورڈپریس ڈاٹ پی کے ؟ ان تینوں میں کیافرق ہے عبیداللہ عبید اردو پریس (http://wordpress.pk) 10 14-06-09 07:44 PM
ایس پی ایس سی بل پر اپوزیشن ارکان کا رویہ مثبت تھا، نثار کھوڑو عبدالقدوس خبریں 0 17-04-08 09:14 AM
جمیل اطہر کی صاحبزادی سپرد خاک، اے پی این ایس کے عہدیداروں کی تعزیت ابن ضیاء خبریں 0 11-01-08 02:15 PM
بینظیر قتل کیس:ضر ورت پڑی تو بعض افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کر یں گے،تر جمان وزارت داخلہ ابن ضیاء خبریں 0 09-01-08 11:39 AM
تھر ایکسپریس 400 مسافروں کولے کر بھارت روانہ،سخت سیکورٹی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 08:32 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:29 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger