واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


سانحہ کوئٹہ، ریلی اپنے روٹ تک محدود رہتی تو واقعہ نہ ہوتا، آئی جی بلوچستان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-09-10, 03:39 AM   #1
سانحہ کوئٹہ، ریلی اپنے روٹ تک محدود رہتی تو واقعہ نہ ہوتا، آئی جی بلوچستان
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 04-09-10, 03:39 AM

قرضوں کی ضرورت نہیں،حکومت اللّے تللّے کم کرے،ڈاکٹر مبشر،”آج کامران خان کے ساتھ“ میں گفتگو

کراچی (ٹی وی رپورٹ) آئی جی پولیس بلوچستان ملک محمد اقبال نے سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس واقعہ کے محرکات میں جانے کی ضرورت ہے، القدس ریلی ہر سال جمعتہ الوداع کو نکالی جاتی ہے لیکن اس سال صورتحال کشیدہ تھی، اس لئے گذشتہ دو روز سے سی سی پی او امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور شیعہ علماء کونسل کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے اور ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ لاہور کے بعد کوئٹہ میں بھی دہشت گردی کا خدشہ ہے، اس لئے ان مذاکرات میں ریلی کا ایک روٹ منظور ہوا جس کی ایک تحریر موجود ہے کہ ریلی امام بارگاہ میکانگی روڈ سے شروع ہوکر سابق میکانگی روڈ پر ختم ہوگی، جہاں پولیس کے آفیسرز ذاتی طور پر موجود تھے، اس کے علاوہ ایف سی اور دوسرے تمام ریسورسز وہاں پر موجود تھے لیکن ایسا نہیں ہوا اورریلی کے کچھ نوجوانوں نے ڈی آئی جی سے جھگڑا کیا اور گلیوں میں بکھر گئے اور میزان چوک، جہاں یہ دھماکا ہوا ، وہاں آگئے، اگر ریلی اپنے روٹ تک محدود رہتی تو یہ واقعہ نہ ہوتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ “میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں میزبان کامران خان نے اپنے تجزیے میں کہا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو 2ارب ڈالر دینے کو تیار ہوا ہے، عالمی بینک1 ارب ڈالر اور آئی ایم ایف 45کروڑ ڈالرز دیگا، اسکا مطلب یہ ہے کی اس سیلاب کی وجہ سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں فوری طور پر 3ارب45کروڑ ڈالرز یا 300ارب روپوں کے نئے قرضوں کا پاکستانی قوم کو تحفہ ملے گا۔کامران خان کے اس سوال پرکہ کیا ایسی صورت میں جب پاکستان کے اندر سے عوام اور باہر سے دوست ممالک امداد دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تو کیا نئے قرضے لینا مناسب راستہ ہوگا؟ اس پربھٹو کابینہ کے سابق وزیر خزانہ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ یہ بالکل بھی مناسب نہیں، یہ صرف ہماری حکومت کی نالائقی اور نا اہلی ہے اتنے قرضوں کی ضرورت نہیں تھی اسے اپنے اخراجات اور اللے تللے کم کرنا چاہئیں ۔کامران خان کے اس سوال پر کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو آج ہوتے تو اس صورتحال سے کیسے نمٹتے؟ انکا کہنا تھا کہ ہم نے اس وقت آنے والے سیلاب کے لئے ایک پیسہ نہیں مانگا جو کسی نے دیا وہ ہم نے لیا، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بیراج یہ سیلاب برداشت کرنے کے لئے ڈیزائن کئے گئے تھے اسکی دیکھ بھال نہیں کی گئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ بند ٹوٹ گئے یا توڑ دیئے گئے، یہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی قرضہ نہیں لینا چاہئے، اگر یہاں کے امیروں پر ٹیکس لگایا جائے وہ ٹیکس جو ذوالفقار بھٹو اور ایوب خان کے زمانے میں تھے، اور اس کے بعد زرعی ٹیکس لگایا جائے تو 4000ارب روپے سالانہ کی آمدنی ہو گی اور ہمیں کسی قرض کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت حیران ہوں کہ پی سی بی کو یہ نہیں پتہ تھا کہ آئی سی سی کے پاس اس قسم کی پاور ہیں جو پاکستان بورڈ نے خود انہیں دیئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر تو یہی ہوتا کہ پہلے دن ہی پاکستان بورڈ کو یہ قدم اٹھانا چاہیئے تھا کہ ان لڑکوں کو معطل کردیتے اور اس کے بعد جو انویسٹی گیشن ہوتی وہ پوری ہوتی اور اگر یہ لڑکے قصوروار نہ ہوتے تو پھر یہ واپس آجاتے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی کے آئین کے مطابق ان کے پاس یہ پاور ہیں جو انہوں نے لئے ہیں۔اس سوال پرکہ کیااس سلسلے میں آئی سی سی نے لندن پولیس سے بھی پوچھا ہوگا کہ ان کے پاس کیا ثبوت ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی بالکل آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ ہے، صرف اسکاٹ لینڈ یارڈ سے نہیں بلکہ دنیا کی ساری ایجنسیزکے ساتھ یہ بڑے قریب ہوکر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کا جو اینٹی کرپشن اور سیکیورٹی یونٹ ہے جس کو اے سی ایس یو کہتے ہیں، وہ بالکل آزاد ہے ثبوت انہوں نے خود دیکھے ہوں گے، اس کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا ہو گا کہ واقعی اس میں کچھ ایسی باتیں ہیں جس کی وجہ سے ان کھلاڑیوں کو معطل کیا گیا ہے۔جیوکے پروگرام ایک سے دو کے میزبان شجاع قریشی نے کامران خان سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹاک مارکیٹس زمین بوس ہونے کا ذمہ دار سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کو ٹھہرایا اور کہا کہ SECP پر ذمہ داری ہے کہ وہ مارکیٹس کی ڈویلپمنٹ کیلئے کام کرے۔اس وقت SECP کی انسٹیٹیوشنل Capacity نظر نہیں آرہی ہے ، اس وقت دو کمشنر ہیں اور ان میں بھی آپس میں تنازعات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹیز ایکسچینج ایکشن کمیشن ایکٹ 1997ء کے تحت کم سے کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ سات کمشنر ہونے چاہئیں لیکن بہت عرصے سے تین سے زیادہ کمشنرز نہیں ہوتے۔ اس وقت بھی سیکیورٹیز ایکسچینج ڈویژن کا کمشنر ہی نہیں ہے جو اسٹاک مارکیٹ کے امو رکو دیکھے۔ شجاع قریشی کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں وزارت خزانہ کو دخل دینا چاہئے کیونکہ ایس ای سی پی بہت اہم ادارہ ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 64
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (08-09-10)
جواب

Tags
کوئٹہ, کراچی, پولیس, پاکستان, پاکستانی, وزیر, قدم, لندن, نظر, محمد اقبال, آئی سی سی, امامیہ اسٹوڈنٹس, تحریر, جواب, حسن, خان, دوست, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, راستہ, سال, علی, صورتحال, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ذاتی ایجنڈا ہوتا تو لانگ مارچ اسلام آباد لے جاتے، نوازشریف گلاب خان خبریں 0 28-02-11 04:48 AM
پاکستان کے پانچ بڑے سیاحتی روٹ حنا پاکستان کی سیاحت 4 16-02-11 10:59 AM
اُدھر سے وار ہوتا تو اِدھر سے پیار ہوتا میاں شاہد امیر مینائی 1 17-10-10 10:05 AM
تیری یاد اب تو ستاتی ہے ہر دم The Great شعر و شاعری 0 15-09-09 09:48 PM
نہ تھا کچھ تو خدا ہوتا، کچھ نا ہوتا تو خدا ہوتا The Great شعر و شاعری 1 14-09-09 02:43 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:30 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger