ملک تربیتی اکیڈمی یا ریئلٹی ٹی وی شو کی طرح چلایا جا رہا ہے، پی پی مافیا بن گئی اور ڈون حکمران
مضطرب پیپلز پارٹی سندھ میں انتشار پیدا کرے تو اس کا آہنی ہاتھ سے مقابلہ کیا جانا چاہئے
شاہین صہبائی
واشنگٹن: ہر ایک نے اپنی اپنی تیاری مکمل کرلی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ایف آئی اے اور نیب کے سربراہان کے متعلق فیصلوں اور صدر مملکت کے دو عہدوں پر فیصلہ محفوظ کےے جانے کے بعد صدر زرداری نے عدالتوں کو کنٹرول کرنے، اس کی مداخلت مزید برداشت نہ کرنے اور قانونی لڑائی سیاسی انداز سے، خصوصاً سندھ کی طاقت استعمال کرتے ہوئے، لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں نے سندھ میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ صدر زرداری کے دست راست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کھلے عام سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف انتہائی دھمکی آمیز الفاظ استعمال کےے ہیں، اندرون سندھ کے بیشتر حصوں میں سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف ریلیاں نکالی جائیں گی اور ہوسکتا ہے کہ سندھ کے شہری علاقے، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد، اس ہڑتال کی اپیل میں شریک نہ ہوں؛ جس سے شہری اور دیہی تقسیم میں مزید اضافہ ہوگا۔ رائیونڈ کے شریف برادران نے بھی صدر زرداری کو قابو کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ زرداری صاحب نے تین سال میں انہیں بے وقوف بنایا ہے۔ سیاسی امور میں فوج کو شامل نہ کرنے کی اپنی طے شدہ پالیسی سے پیچھے ہٹتے ہوئے وزیراعظم پنجاب نے پاک فوج اور سپریم کورٹ کو اسٹیک ہولڈرز کی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اور یہ دعوت اس بات کی واضح نشانی ہے کہ رائیونڈ صدر زرداری کی چالیں سمجھنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف حیران کن فیصلے سنا کر سپریم کورٹ اپنے نئے عزم اور بہادری کا مظاہرہ کر رہی ہے؛ چاہے وہ ایف آئی اے اور نیب کے سربراہان کو برطرف کرنے کا حکم ہی کیوں نہ ہو، این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر عملدرآمد کے پیش نظر یہ دونوں عہدے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ کئی حلقے سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا یہ عزم و بہادری این آر او نظر ثانی کیس، سوئس اکاﺅنٹس ایشو،صدر مملکت کے دو عہدوں کے کیس اور ججوں کے تقرر پر نظرثانی کے متعلق مقدمات، اگر دائر ہوئے تو، کےلئے براشگون ثابت ہوسکتی ہے۔ پاک فوج کی زیر قیادت اسٹیبلشمنٹ خاموشی کے ساتھ اس پوری صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور اندر سے وہ شدید پریشان ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے جو چاہئے تھا، اور جسے وہ درست سمجھتی تھی، وہ اس نے حاصل کرلیا ہے؛ مثلاً جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع اور جنرل شجاع پاشا کی تازہ ترین توسیع۔ حکومت کرنے، معیشت سنبھالنے، غربت میں دھنسے عوام کےلئے امید پیدا کرنے اور مہنگائی کنٹرول کرنے میں سیاست دانوں کی ناکامی اور ان کی بے بسی پر اسٹیبلشمنٹ پریشان ہے۔ سب اس بات پر متفق ہیں کہ سیاسی، اقتصادی، سماجی اور سلامتی کے حلقوں میں ناکامی کا سلسلہ پہلے روکنا اور اس کے بعد اسے ریورس کرنا ہوگا۔ لیکن کھل کر سامنے آنے اور انتشار اور بدنظمی .... پیپلز پارٹی کے قیادت کی لالچ، حرص، نا اہلیت اور خود غرضی کے باعث اس پوری صورتحال کی بنیادی وجوہات پر بات کرنے کےلئے ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔ مجھ پر اکثر و بیشتر الزام لگتا رہا ہے کہ میں صدر زرداری کے خلاف لکھتا ہوں، لیکن تمام تر تنقید اور اعتراضات کے باوجود میں اپنے دعوے پر قائم ہوں کہ اصل مسئلہ وہ ہی ہیں۔ ان کے ماضی نے اب ثابت کردیا ہے کہ میں درست تھا حتیٰ کہ میاں نواز شریف نے بھی اعتراف کیا کہ وہ بھی دوستانہ چہل قدمی اور ”32 انچ والی مسکراہٹ“ کے جال میں پھنس گئے تھے۔ مسٹر زرداری تین سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے اور اس دوران وہ قوم کی تقدیر بدل سکتے تھے لیکن اس کی بجائے قوم ان بے وقوف لوگوں کے ہاتھوں یرغمال رہی جنہوں ہر ریاستی ادارے کا بیڑا غرق کیا۔ یہ لوگ جمہوریت کے نام پر ہر لمحے ڈراتے دھمکاتے رہے کہ اگر کسی نے ان کی کھلے عام لوٹ مار، کرپشن اور مہم جوئی کی کارروائیوں کو روکنے کی کوشش کی تو ملک ٹوٹ سکتا ہے۔ انہوں نے بڑی فاش غلطیاں کیں، کئی غلط فیصلے لے کر واپس لیے اور پھر اسے جمہوریت کی خوبصورتی قرار دیا، یہ لوگ ملک اس طرح چلا رہے تھے جیسے یہ ان کی تربیتی اکیڈمی ہو جہاں وہ ہر مرتبہ جان بوجھ کر غلطی کرتے اور انہیں کوئی سزا بھی نہیں ملتی۔ یہ لوگ ملک کو ایسے چلاتے رہے جیسے یہ کسی ٹی وی چینل کا ریئلٹی شو ہو نہ کہ کوئی حقیقی دنیا۔ اب مسٹر زرداری نے اپنے سندھ کارڈ کے ذریعے ایک مرتبہ پھر ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ آئندہ چند روز کے دوران ہونے والی ریلیوں اور مظاہروں کے دوران اس غبارے سے ہوا نکال کر اور ذوالفقار مرزا جیسے منہ پھٹ لوگوں کا منہ بند کرکے ملک کی عظیم خدمت کی جا سکتی ہے۔ صدر زرداری پاکستان کے عوام کو کبھی یہ سچ نہیں بتائیں گے کہ، چاہے کوئی بھی وجہ وہ مالیاتی یا سیاسی، انہوں نے وسائل سے بڑھ کر دولت جمع کی جو غلط تھا، وہ یہ اعلان بھی نہیں کریں گے کہ چونکہ پاکستانی عوام نے انہیں ملک کا صدر منتخب کیا ہے اسلئے وہ تمام لوٹی ہوئی دولت واپس لا رہے ہیں اور آئندہ اپنی تمام تر زندگی ایک ثابت قدم اور ایماندار شخص کی طرح گزاریں گے۔ وہ یہ بھی اعتراف نہیں کریں گے کہ انہیں ملک چلانے کےلئے حقیقی مدد اور اجتماعی دانش کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند روز کے واقعات نے ملک کو ایک ایسی جگہ پہنچا دیا ہے جہاں سیاست دانوں نے نہیں بلکہ ایک مرتبہ پھر فوجی اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کرے گی۔ پنجاب حکومت اور مرکزی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے پہلے ہی فوج سے کہہ دیا ہے کہ وہ صورتحال سے نمٹنے کےلئے سیاست دانوں سے ہاتھ ملا لے۔ یہ اعتراف بنیادی طور پر اس بات کا اعتراف ہے کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی طور پر صدر آصف علی زرداری اور ان کے وفاداروں کا راستہ روکنے میں ناکام ہوگئی ہے جو نواز لیگ سمیت سب کو بے وقوف بنا رہے ہیں، ایم کیو ایم کے ساتھ دوستی دشمنی کا مسلسل کھیل کھیل رہے ہیں، ون مین شو چلانے کےلئے چھوٹی جماعتوں کو دھمکانے اور خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایسے ماحول میں وزیراعظم کی ایک نہیں سنی جاتی اور پیپلز پارٹی ایک ایسی مافیا بن چکی ہے جسے ایک ڈون چلا رہا ہے۔ رائیونڈ کی جانب سے جس فارمولا کا ذکر کیا گیا ہے وہ دیر سے سامنے آیا ہے اور اس کےلئے صرف شریف برادران کو ہی مورود الزام ٹھہرانا چاہئے کیونکہ انہیں اپنی سیاسی طاقت کا اندازہ ہی نہیں تھا اور انہیں فوج کی واپسی کا ڈر تھا، انہوں نے کبھی اس خلاءکو پر کرنے کی کوشش ہی نہیں کی جو جنرل مشرف کی روانگی اور جنرل کیانی کی جانب سے فوج کو واپس بیرکوں میں بلانے کے بعد پیدا ہوا۔ لیکن اس کے باوجود رائیونڈ فارمولا میں ایک حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے کہ سیاست دان اکیلے اس نظام کو نہیں چلا سکتے اور وہ اکیلے ہی ملک کو مستحکم اور قابل احترام مقام پر نہیں لا سکتے۔ اس پوری صورتحال میں مجھے ایک گاﺅں کی لوک داستان یاد آ رہی ہے کہ ایک گاﺅں میں پانی کا واحد ذریعہ خراب ہوگیا، لوگوں نے پانی صاف کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن پانی خراب ہونے کی وجہ پر دھیان نہ دیا۔ ہمارے منظر نامے میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ میں نے ہمیشہ اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ایک مائنس ون فارمولا ہونا چاہئے بصورت دیگر قابل قبول صورت پیدا نہیں ہوپائے گی۔ تین سال کے انتظار نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے اور اگر اب بھی کچھ نہ کیا گیا تو صورتحال مزید خراب ہوگی۔ ایک مرتبہ پھر یہ اب پاک فوج کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں گندگی صاف کرنے کےلئے وہ عدلیہ اور جمہوری سسٹم کی حمایت کرے۔ اس کےلئے کسی براہِ راست مداخلت کی ضرورت نہیں ہے لیکن رائیونڈ کی تجویز کے پیش نظر، فوج کو بذات خود اعلان کرنا چاہئے کہ وہ عدلیہ کے تمام تر فیصلوں کی حمایت کرے گی چاہے وہ سیاسی لحاظ سے کتنے ہی اچھے یا برے کیوں نہ ہوں۔ اس کے بعد جج صاحبان کو کرپٹ اور بے شرم افراد سے نمٹنے دیا جائے۔ اور اگر مضطرب پیپلز پارٹی سندھ میں سندھی پنجابی بنیاد پر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اس کا آہنی ہاتھ سے مقابلہ کرنا چاہئے۔ اگر یہ کام آج نہ ہوا تو بہت دیر ہوجائے گی۔ یہ کام جلد از جلد ہونا چاہئے۔ مافیا کے ساتھ وہی سلوک کیا جانا چاہئے جیسے دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا کوئی سیاسی علاج نہیں ہے جو عوام کو یرغمال بنا کر رکھتے ہیں۔