|
سرکاری اسکولوں میں دو شفٹیں شروع کرنے کا منصوبہ

15-12-07, 09:05 AM
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نگراں صوبائی وزیر تعلیم شجاعت علی بیگ نے کہا ہے کہ اندرون سندھ بچوں کی انرولمنٹ کی شرح انتہائی کم ہوگئی ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق اسکول جانے والی عمر کے صرف 9 فیصد بچے اسکولوں میں داخلہ لیتے ہیں، کوچنگ اور لینگویج سینٹرز سے متعلق بے پناہ شکایات موصول ہوئی ہیں لہٰذا ان کو ایک دائرے میں لانے کیلئے کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ نجی اسکولوں کو اپنے اسکول کی کل انرولمنٹ کا 20 فیصد مفت پڑھانے کے سلسلے میں ایک پالیسی بنائی جارہی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں انرولمنٹ میں اضافے کیلئے اندرون سندھ ڈبل شفٹ شروع کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں صبح کے اساتذہ کی معقول معاوضے پر خدمات حاصل کی جائیں گی۔ پرائمری اسکول ٹیچرز کی بھرتیوں کو میرٹ پر پُر کرنے کیلئے ٹیسٹ کے نمبر جاری کئے جائیں گے اور پیشہ وارانہ اسناد کے حامل افراد کو بھرتیوں میں ترجیح دی جائے گی۔ وہ جمعہ کو سیکرٹری تعلیم چوہدری محمد علی کے ہمراہ تغلق ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری تعلیم مولا بخش کھٹیان اور ڈپٹی سیکرٹری تعلیم محمد علی منگریو بھی موجود تھے۔ نگراں صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں کرپشن سے خاتمے کیلئے سندھ کے تمام ای ڈی اوز سے حلف لیا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ تمام کام میرٹ پر ہوں۔ ای ڈی اوز کی اسامیوں پر اسکول کیڈر کے افسران کا تقرر ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹریز تعلیم کی بار بار تبدیلی کی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی ہے کوئی جامع پالیسی نہیں بن سکی۔ ٹیوشن سینٹرز کی حوصلہ شکنی کیلئے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت کالج کے اوقات میں کوئی استاد ٹیوشن نہیں پڑھا سکے گا۔ اساتذہ، والدین اور بچوں کے مطالبے پر تعلیمی سال کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ اندرون سندھ 810 سیکنڈری اسکولوں میں لیبارٹریز قائم کردی گئی ہیں۔ ہر اسکول کو 20 کمپیوٹر دیئے گئے ہیں اور تمام طلبہ کے استفادہ کیلئے کمپیوٹرز لیب کو صبح اور شام دونوں وقت کھولنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ نجی اسکولوں کے خلاف بڑھتی ہوئی شکایات کا نوٹس لیا گیا ہے۔ آئندہ کسی بھی نئے اسکول کو پلے گراؤنڈ کے بغیر رجسٹریشن نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اسکولوں میں تجارتی سرگرمیاں برداشت کی جائیں گی۔ پرائیویٹ اسکولز بیدردی سے فیس چارج کررہے ہیں۔ رولز کے مطابق وہ اپنی ٹیوشن فیس سے دگنی داخلہ فیس نہیں لے سکتے مگر وہ اس کے برعکس کام کررہے ہیں اور نہ ہی ان کے فیسوں کا اسٹرکچر منظور ہوتا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم چوہدری محمد علی نے بتایا کہ درسی کتب کی عدم دستیابی کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ میں نئے چیئرمین کا تقرر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاڑکانہ اور جیکب آباد میں انجینئرنگ کالج قائم کرنے کیلئے سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے جبکہ عید سے قبل بدین میں تیسرے انجینئرنگ کالج کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی او اسکول کی جانب سے 7 کروڑ روپے کے ٹینڈر جاری کرنا کا نوٹس لیتے ہوئے اسے روک دیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|