|
سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی

26-10-07, 10:57 AM
اسلام آباد :…حکومت نے سول بیورو کریسی کیلئے 1982ء کی پروموشن پالیسی کو یکسر تبدیل کرتے ہوئے موجودہ فوجی حکومت کی تقریباً تمام اصلاحات کو ختم کر کے ایک نیا نظام فراہم کیا ہے۔ جس کے تحت کم از کم اہلیت کے حامل تمام افسران ترقی پا جائیں۔ وزیراعظم شوکت عزیز کے آخری دور میں بدھ 24 اکتوبر کو جاری پالیسی نے پروموشن بورڈز کاکردار شدت کے ساتھ گھٹاتے ہوئے انہیں بورڈ ارکان کی اجتماعی دانش پر انحصار کی بجائے مجوزہ فارمولے کی بنیاد پرافسروں کی ترقی کی سفارش کا پابند کر دیا۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے افسروں کو تیز رفتار ترقی کی پیش کش پر مبنی جنرل مشرف کی جانب سے ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اپنے ابتدائی برسوں میں متعارف کرائی گئی بلند بانگ ”بہترین میں سے بہترین“ پروموشن پالیسی مستقبل کے لئے متروک ہوگئی۔ اسی طرح سول بیورو کریسی سے ناکارہ بوجھ ہلکا کرنے کی غرض سے ایک مرتبہ ترقی میں پچھڑنے والے افسر کی کم از کم دو برس کے لئے حوصلہ شکنی اور دو مرتبہ اس عمل سے گزرنے والے کیلئے یکسر انکارکی پالیسی کو بھی موقوف کر دی گئی۔ نئی پالیسی میں پیش کردہ نسخہ کلیتاً 4=2+2 پر منحصر اور پروموشن بورڈز کے لئے ذہن استعمال کرنے کی بمشکل گنجائش چھوڑتا ہے۔ یہ اب یقینی امر ہے کہ بیورو کریسی میں بلند ترین سطحوں پر ترقیوں کی سفارشات کرنے والے اعلیٰ اختیاراتی سنٹرل سلیکشن بورڈ سمیت تمام پروموشن بورڈز اب بڑی حد تک غیرمتعلق ہو گئے ہیں۔ پالیسی میں بنیادی سکیل 19 کو ”سلیکشن پوسٹس“ کے زمرے سے خارج کر دیا گیا چنانچہ اب اس کے لئے بنیادی سکیل 18 کی طرح نان سلیکشن پوسٹوں کاطریقہ کاراختیار کیا جائے گا۔ اس تبدیلی کے نتیجہ میں بی ایس ۔17 کے افسروں کی طرح بی ایس ۔ 18 کے افسر کلی طور پراپنی پرفارمنس ایویلیویشن رپورٹ (اے سی آر بھی کہاجاتا ہے) کے پوائنٹس اور محکمانہ امتحانات پاس کرنے یا تربیتی کورسوں کی کامیاب تکمیل پر ترقی پائیں گے۔ تا ہم سینئر سطح کی ترقیاں بی ایس 20 اور 21اس فارمولا کی بنیاد پر کی جائیں گی جس میں 70 فیصد نمبر پی ای آر پوائنٹس، 15 فیصد تفویض کردہ تربیت میں کارکردگی کے ہوں گے جبکہ بقیہ 15 فیصد سی ایس بی/ پروموشن کی جانچ کے لئے رکھے گئے ہیں۔ مختلف سکیلوں میں ترقی کے لئے پی ای آر پوائنٹس کی کم از کم حد یعنی بی ایس 18 کے لئے 50، بی ایس 19، 60، بی ایس 20، 70 اور بی ایس 21 کیلئے 75 برقرار رہے گی۔ تا ہم بی ایس 22 میں ترقی بدستور وزیراعظم کی صوابدید ہو گی۔ پالیسی کے مطابق سلیکشن بورڈ پینل میں موجود افسر کے نمبروں کے مطلوبہ شرح تناسب یا زائد کے حصول پر (ماسوائے آسامیوں کی تعداد کی مناسبت سے سنیارٹی کی تربیت میں موخر کئے جانے کے ) کارکردگی اشاریہ برائے ترقی کے لئے سفارش کر دے گا۔ مجموعی کم از کم حد کو پورا کرنے والے کسی افسر پر کسی دوسرے کو سبقت نہیں ملے گی۔ پالیسی کے مطابق ابتدائی حد میں کمتری پر ترقی کے لئے سفارش حاصل نہ کرنے والے سینئر افسر پچھڑ جائے گا جبکہ آسامیوں کی ضرورت پر جونیئر افسر سفارش نہ ملنے پر بھی ”پرکھا“ گیا تصور کیا جائے گا۔ بی ایس 18 اور 19 میں ترقی کے لئے کیڈر میں دستیاب اہل افسروں کی نسبت سے ایک آسامی کیلئے کم از کم دو افسروں کا پینل بنا کر غور کیا جائے گا۔ بی ایس 20 اور 21 میں ترقی کے لئے ایک آسامی کے لئے اس نوعیت کے پینل میں کم از کم تین افسر شامل ہوں گے۔ سی ایس پی کی جانب سے غور کے لئے پالیسی پروموشن بورڈ کو مختلف شرح تناسب کے حامل تین مختلف عوامل پر محیط مجوزہ فارمولا کی مطابقت میں عمل کرنے کا پابند کرتی ہے۔ افسروں کی موجودہ گریڈ اور سابقہ گریڈ (گریڈوں) سے متعلق پی ای آرز کی کمیت کو 70 فیصد اہمیت اور 15 فیصد تربیتی جانچ کی رپورٹوں کو دی گئی جبکہ بقیہ 15 فیصد سی ایس بی کی صوابدید یا پرکھ پر چھوڑی گئی ہے۔ پالیسی یہ فراہم کرتی ہے کہ پروموشن بورڈ پچھڑ جانے والے افسروں کو ان کے پیچھے رہنے یا موخر کئے جانے کی وجوہات سے آگاہ کرے گا تا کہ ایسے افسر کارکردگی میں بہتری اور اپنے ریکارڈ کی تکمیل یا دیگر خامیوں کو دور کرسکیں۔ پالیسی کے مطابق ترقی کیلئے غور سے متعلق اہلیت کے معیار میں شامل ہے کہ (1) مختلف سکیلوں میں ترقی کے لئے بی ایس 17 میں ملازمت کے لئے متعین کم از کم مدت اور اس سے زائد مکمل طور پر (2) تربیت کی تسلی بخش تکمیل، (3) متعلقہ بھرتی قواعد میں درجے تعلیمی قابلیت/ تجربہ کی موجودگی، (4)ماضی میں پچھڑ جانے والے افسر کو ایک مکمل برس کی پی ای آر حاصل کرنے کے بعد زیر غور لایا جائیگا۔ سول سرونٹ کو تفویض تربیت سے نہ گزرنے یا محکمانہ امتحان پاس نہ کرنے، موجودہ اور گزشتہ گریڈوں میں ملازمت سے متعلق پی ای آر داخل نہ کرنے، ریکارڈ نامکمل ہونے، انضباطی کارروائیاں جاری ہونے، کسی غیر ملکی حکومت کی ڈیپوٹیشن پر بیرون ملک ہونے وغیرہ کی صورت میں موخر کر دیا جائے گا یا اس کی انٹری سنیارٹی فیصلہ طلب ہوگی۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|