| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 257
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 | |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (29-11-10), غلام خان (30-11-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,195
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سعودی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے امریکا سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کےلئے کہا۔۔
شرم آنی چاہیےسعودی حکمرانوں کو ۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام خان (30-11-10) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کتاب : للہ ثم للتاریخ) پڑھ ذرا نظر ڈرائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "" ربنا علیک توکلنا والیک انبنا والیک المصیر،اللھم ارنا الحق حقا ارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ """ |
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,063
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مختلف افراد کے نام، عہدے، ای میل، فون، فضائی سفر کی تفصیلات جمع کی گئیں، ویکی لیکس واشنگٹن (سمیع ابراہیم) ویکی لیکس کی جانب سے افشاءکی جانے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے 2008ءمیں مختلف ممالک میں تعینات امریکی سفارت کاروں کے کردار میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کی ہدایت دی تھی اور امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکاروں سے کہا تھا کہ وہ غیر ملکی شخصیات کے کریڈٹ کارڈ نمبرز، فضائی سفر کی تفصیلی معلومات، کام کرنے کے اوقات کار اور دیگر نجی نوعیت کی معلومات جمع کریں۔ اگرچہ امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ، لاطینی امریکا اور اقوام متحدہ میں امریکی سفارتی مشن کو بھیجی جانے والی خفیہ دستاویزات کو دیکھ کر یہ واضح ثبوت نہیں ملتا کہ امریکی سفارت کار انتہائی سرگرمی کے ساتھ غیر ممالک کے راز چوری کر رہے ہیں لیکن ان دستاویزات سے ایک افسر اور جاسوس میں روایتی فرق دھندلا پڑ جاتا ہے۔ دستاویزات میں دی گئی ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ملازمین ”نیشنل ہیومنٹ کلیکشن ڈائریکٹو“ نامی ادارے کےلئے کس طرح کام سرانجام دیتے ہوئے۔ سراغ رسانی کی دنیا میں ہیومنٹ ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنی انسانی انٹیلی جنس جمع کرنا ہے۔ ایک ہدایت نامے میں ایک افسر سے کہا گیا ہے کہ وہ آفس اور تنظیمی عہدوں کے متعلق معلومات جمع کرے جس میں نام، عہدے، دیگر معلومات بشمول بزنس کارڈز، فون نمبرز، موبائل فون نمبرز، پیجرز اور فیکس کے نمبرز جمع کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ اور انٹرانیٹ کی تفصیلی معلومات، ای میل ایڈریس، ویب سائٹ کے متعلق تفصیلات، کریڈٹ کارڈ نمبرز، ائر لائنز کی جانب سے دیئے جانے والے کارڈ کے فریکوئنٹ فلائرز نمبر، کام کرنے کے اوقات کار اور دیگر بایوگرافیکل معلومات شامل ہیں۔ غیر ملکی شخصیات کی یہ معلومات سی آئی اے جمع کرتی ہے لیکن بظاہر جس نوعیت کی معلومات محکمہ خارجہ کے ملازمین کو حاصل کرنے کےلئے کہا جا رہا ہے ان سے سراغ رسانی کی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر فریکوئنٹ فلائر نمبرز کے ذریعے غیر ملکی شخصیات کے سفری منصوبوں کا علم ہوسکتا ہے۔ امریکا اکثر و بیشتر سفارت کاروں کے روپ میں اپنے جاسوس مقرر کرتا رہا ہے لیکن سفارت کاروں کی اکثریت جاسوس نہیں ہوتی۔ ریٹائرڈ امریکی سفیروں کے حوالے سے ویکی لیکس کی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سفارت کاروں پر جاسوس ہونے کا شبہ عائد کیا جاسکتا ہے اور انہیں ممکنہ بے دخلی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی 29 نومبر 2010ء
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,063
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ عبداللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کےخلاف کارروائی میں زرداری رکاوٹ ہیں، اسرائیلی تنظیم موساد کے سربراہ پریشان تھے کہ آئندہ 5 برس تک جنرل پرویز مشرف زندہ ہونگے بھی یا نہیں ایک افسر نے بتایا امریکی ماہرین کے دورے سے میڈیا کو پتہ چل گیا کہ انہوں نے یورینیم قبضہ میں لیا ہے تو وہ یہ سمجھیں گے کہ امریکا نے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرلیا، این پیٹرسن کی دستاویز لندن (ایجنسیاں، جنگ نیوز) دنیا بھر میں قائم امریکی سفارت خانوں کی خفیہ دستاویزات افشاءکرنے والی ویب سائٹ ویکی لیکس کی جانب سے دستاویزات جاری کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گزشتہ روز جاری کی جانے والی دستاویزات کے سامنے آنے والے مزید حصوں میں پاکستان کے متعلق مزید انکشافات کئے گئے ہیں۔ 23 جولائی 2009ءکی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام سے بات چیت میں متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور ڈی فیکٹو ڈیفنس چیف اور ابو ظبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زیاد نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زرداری گندے ہیں لیکن خطرناک نہیں؛ تاہم ان کے مقابلے میں میاں نواز شریف خطرناک تو ہیں لیکن گندے نہیں۔ پاکستان کے متعلق کئے جانے والے مزید انکشافات میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ مائر ڈیگان کی امریکی انڈر سیکریٹری برنز کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں مائر ڈیگان نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے جنرل پرویز مشرف مزید عرصہ تک اقتدار میں رہیں۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف اور حامد کرزئی کےلئے اپنی تشویش ظاہر کی تھی کیونکہ دونوں کو اپنے اپنے ملکوں میں بڑھتی مخالفت کا سامنا تھا۔ ڈیگان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کو جنگجوﺅں سے زبردست خطرات لاحق ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں پاکستان کے جوہری ہتھیار اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کی طاقت کم ہوتی جا رہی ہے اور ممکن ہے کہ انہیں مستقبل میں اپنے اتحادیوں سے خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس ملاقات میں ڈیگان نے ایران کے بڑھتے اثر رسوخ اور عرب ممالک کے ایران کے ساتھ کشیدگی پر بھی تبصرہ کیا تھا۔ 11 فروری 2010ءکی ایک دستاویز کے مطابق سعودی شاہ عبداللہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کےلئے کارروائی میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔ دستاویز کے مطابق امریکی جنرل جیمز جونز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سعودی فرمانروا نے کہا کہ پاکستان کےلئے امریکی ترقیاتی امداد کے اجراءسے امریکا کو پاک فوج کا اعتماد حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی خواہشات کے برعکس اور جو اسے کرنا چاہئے اس کے برعکس، پاک فوج خود کو سیاست سے دور رکھے ہوئے ہے۔ ایک دستاویز میں پاکستان ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا نے 2007ءسے پاکستان کا افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لینے کا ایک خفیہ منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ تاہم یہ منصوبہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوا۔ مئی 2009ءکی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سابقہ امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے ایک خفیہ دستاویز میں کہا پاکستان طے شدہ شیڈول کے مطابق امریکی ماہرین کو اپنے ایٹمی ٹھکانوں کے دورے کی اجازت نہیں دے رہا تھا، اس سلسلے میں ایک سرکاری افسر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی میڈیا کو پتہ چل گیا کہ امریکا نے یورینیم قبضے میں لے لیا ہے تو وہ (میڈیا) یہ سمجھیں گے کہ امریکا نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار قبضے میں لے لیے ہیں۔ دریں اثناءایک اور دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ترکی نے رواں سال کے شروع میں افغانستان پر ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کو خوش کرنے کیلئے بھارت کو شرکت کی دعوت نہیں دی تھی۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق ترکی کے ایک سفارتخانے نے امریکی حکام کو بتایا کہ بھارت کو افغانستان پر کانفرنس سے باہر اس لئے رکھا گیا کہ پاکستان کی تشویش کو دورکیا جائے۔ استنبول میں ہونے والی اس کانفرنس میں ترکی کے تعاون سے پاک افغان صدور نے ملاقات کی تھی۔ ایک اور دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان کے پاس گیس کی ادائیگی کےلئے رقم ہے اور نہ ہی پائپ لائن تعمیر کرنے کےلئے۔ ویکی لیکس کی جانب سے ایران کے متعلق ایک خفیہ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ایرانی نژاد تاجر کی بات چیت کا ذکر کیا گیا ہے جس کے سابق صدر رفسنجانی کے ساتھ تعلقات تھے۔ اس تاجر نے دعویٰ کیا کہ رفسنجانی نے اسے بتایا ہے کہ خامنہ ای ٹرمینل لیوکیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں اور امکان ہے کہ وہ چند مہینوں میں انتقال کرجائیں۔ رفسنجانی نے بتایا کہ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے خامنہ ای کی مخالفت بند کردی اور خود کو ان کا جانشین بنانے کےلئے کوششیں شروع کردیں تاکہ وہ نیا سپریم کمانڈر بننے کے بعد احمدی نژاد کو برطرف کرکے نئے انتخابات کراسکیں۔ واشنگٹن (شاہین صہبائی) اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے چیف میئر ڈیگان نے اگست 2007ءمیں امریکیوں کو تنبیہ کی تھی کہ صدر پرویز مشرف اپنا کنٹرول کھورہے ہیں اور انہیں یقین نہیں ہے کہ مشرف آئندہ کئی برس برسراقتدار رہ سکیں گے اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے چیف نے حیران کن حد تک ایک انتہائی اہم سیاسی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ان (مشرف) کے چند اتحادیوں میں سے چند مستقبل میں ان کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں“ موساد کے چیف نے اپنا یہ اندازہ امریکا کے انڈر سیکریٹری نکولس برنس کو تل ابیب میں 17 اگست 2007ءکو ایک اجلاس میں دیا تھا جس میں انہوں نے مشرق وسطی کے خطے، پاکستان اور ترکی کے حو الے سے اپنے اندازے پیش کئے تھے جس میں اسرائیل نے صدر مشرف کی بہبود کے بارے میں اپنی تشویش پر زور دیا تھا۔ اس اجلاس میں دو نوں ممالک کے سینئر سفارت کار موجود تھے۔ اس اجلاس کی خفیہ رپورٹ جسے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور متعدد اہم امریکی سفارت خانوں جس میں اسلام آباد بھی شامل تھا بھیجا گیا تھا اسے وکی لیکس نے سیکڑوں ہزاروں دیگر دستاویزات کے ساتھ اتوار کو جاری کیا۔ برنس اور ڈگن نے خصوصی طور پر مشرف کے مستقبل کے حو الے سے تبادلہ خیال کیا جسے اس وقت تقویت حاصل کی ہوئی عدلیہ ایسے مسائل اور جو 3 نومبر کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تیاری کررہا تھا۔ مذکورہ ادا رے نے انکشاف کیا کہ ڈیگن نے مشرف کے حوالے سے کیا کہا تھا۔ ”پاکستان پر سے ڈگن کہتا ہے کہ صدر مشرف کنٹرول کھو رہا ہے اور کہ اس کے اتحادیوںمیں سے چند مستقبل میں اس کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں چوکلیدی سوال ڈیگن کرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا مشرف مستقبل کمانڈر ان چیف کے علاوہ صدر کی حیثیت سے اپنا رول جاری رکھ سکے گا، اگر نہیں تو اسے مسائل کا سامنا کرنا ہوگا“ ڈیگن کا مشاہدہ ہے کہ مشرف کی زندگی لینے کی کوششوںمیں اضافہ ہورہا ہے اور وہ پریشان ہے کہ کیا مشرف آئندہ پانچ سال تک زندہ رہ سکے گا یا نہیں۔ انڈر سیکریٹری برنس نے جواب دیا کہ جنوبی ایشیا نے 11 ستمبر سے امریکی خارجہ پالیسی میں نہایت اہمیت اختیار کرلی ہے۔ امریکا نے خود کو اس کا پابند کرلیا ہے کہ وہ افغانستان کو طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیوں کے لئے ایک محفوظ جنت نہیں رہنے دے گا۔ یو ایس جی پاکستانی صدر مشرف کی حمایت جار ی رکھے گا اور اس کی دفاعی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کی کوشش کرتا رہے گا۔ بھارت کو زیر بحث لاتے ہوئے انڈر سیکریٹری نے نوٹ کیا کہ امریکا اور بھارت کے معاشی تعاون میں اضافہ ہورہاہے اور کہ یو ایس جی بھارت اور پاکستان کے درمیان تلخیوں کو کم کرنے کے لئے موثر انداز میں کام کررہا ہے۔ اسرائیل کے لئے امریکا کے سفیر رچرڈز ایچ جونز نے اجلاس کے حو الے سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے کیبل کو اس لئے خفیہ قرار دیا تھا کیو نکہ اس میں مشرف کے مستقبل کے بارے میں ڈیگن کے تبصرے شامل تھے۔ برنس نے مشرف اورکزئی کی حکومتوں کو تعاون کی امریکی کوششوں کی وضاحت کرتے ہوئے کیونکہ انہیں طالبان اور القاعدہ کی مخالفت کا سامنا ہے اور تشریح کی کہ خلیج سیکورٹی ڈائیلاگ کا مطلب ہے کہ خلیجی ریاستوں کو سہارا دیا جائے جنہیں ایران سے خطرات ہیں۔ خطے کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈیگن نے کہا کہ اسرائیل خود کو تیزی سے بدلتے ماحول کے درمیان میں محسوس کرتا ہے جس میں ایک خلیجی ریاست کا مقصد ایک اور ریاست سےم نسلک ہے۔ ڈیگن نے پھر کہا کہ وہ اس حوالے سے پریشان رہے ہیں کہ پاکستانی صدر مشرف کب تک جمے رہ سکیں گے ”انہیں جنگجوﺅں سے سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے پاکستان کی جوہری صلاحیت ایک اسلامک حکومت کے ہاتھ لگ سکتی ہے“۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی30 نومبر 2010ء |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام خان (03-12-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,063
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پیرس(رضا چوہدری/نمائندہ جنگ) وکی لیکس کی طرف سے خفیہ امریکی رپورٹس جن کی تعداد25لاکھ سے40 لاکھ کے درمیان ہے، مکمل طور پر منظر عام پر آنے سے تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔فرانسیسی میڈیاکے مطابق ان رپورٹس کی روشنی میں بعض ممالک اور حکمرانوں کے متعلق عالمی سوچ بدل سکتی ہے تاہم اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلم ممالک کو ہو گا ان کے درمیان نفرت اور اختلافات کھل کر سامنے آنے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور ان ممالک کے عوام میں پہلے سے موجود دوسرے ممالک کے حکمرانوں کے خلاف جذبات اورخدشات کو ہوا ملے گی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق وکی لیکس کی رپورٹس سے سب زیادہ نقصان پاکستانی حکمرانوں اوربعض سیاسی رہنماﺅں کو ہوگا ان رپورٹس کے افشا ہوجانے سے یہ بات بھی سامنے آجائے گی کہ پاکستان کا بدنام زمانہ این آر او سابق صدر پرویز مشرف اور کس کے درمیان ہوا تھا اور آخری مرحلہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو این آر او معاہدے کی بات چیت میں کیونکر شامل کیا گیا تھا۔ آئندہ دوماہ کے دوران فرانس کا ایک معروف روزنامہ جو ہر ماہ ایک تحقیقاتی میگزین بھی شائع کرتاہے وکی لیکس کی خاص خاص رپورٹس کی تفصیلات شائع کرے گا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی30 نومبر 2010ء |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام خان (03-12-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,063
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیری لوگر بل تنازع بڑھانے اور فاٹا پالیسی تبدیل نہ ہونے کے ذمہ دار ہیں، سویلین حکومت کی مضبوطی کےلئے ڈونرز میں زیادہ رابطوں کی ضرورت ہے، دستاویز پیرس(رضا چوہدری/نمائندہ جنگ) دنیا بھر میں قائم امریکی سفارتخانوں کی اہم دستاویزات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کی جانب سے انکشافات کرنے کا سلسلہ جاری ہے، وکی لیکس نے ایک فرانسیسی عہدیدار کے حوالے سے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پس پردہ رہ کر حکومت پر اثرانداز ہورہے ہیں اور کیری لوگر بل پر تنازع بڑھانے اور فاٹا سے متعلق حکومتی پالیسی تبدیل نہ ہونے کے ذمہ دار ہیں۔ فرانسیسی عہدےدار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سویلین حکومت کو مضبوط بنانے کیلئے صرف دو طرفہ اقدامات موثر ہونے کا امکان نہیں ہے، اس سلسلے میں امریکا سمیت تمام ڈونرز کے درمیان زیادہ رابطوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل کیانی نے مشرف سے سبق سیکھا ہے اور وہ کھل کر سامنے نہیں آرہے ۔ زیری ننی کا کہنا تھا کہ فرینڈ آف پاکستان گروپ اس لئے بنایا گیا تھا کہ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کو فوج کا زیادہ کنٹرول دلایا جائے لیکن اسے پوری طرح استعمال نہیں کیا جارہا۔ وکی لیکس کے مطابق یہ الزامات فرانس کی انٹر ایجنسی پاکستان افغانستان سیل کی سربراہ جیسمین زیری ننی نے پیرس میں امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے نمائندے اسٹیف ڈیل کیسلر کے ساتھ ملاقات کے دوران عائد کئے، جو رواں سال12 سے 14 جنوری تک پیرس کے دورے پر تھے۔ دستاویز کے مطابق فرانسیسی عہدیدار جیسمین زیری ننی کا کہنا تھا کہ جنرل کیانی فاٹا سے متعلق پاکستان کی پالیسی کو تبدیل ہونے سے روکنے سمیت مختلف امور میں حکومت اور پارلیمنٹ پر اثر انداز ہورہے ہیں اور اس کے ساتھ کیری لوگر بل پر تنازع کو بڑھانے میں بھی ان کا کردار ہے کیونکہ کیری لوگر بل کے ذریعے امداد کو فوج پر سویلین کنٹرول بڑھانے سے منسلک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا پاکستان میں پناہ لینے والے افغان طالبان کو تباہ کرنے کیلئے پاک فوج پر دباﺅ کا موقع ضائع کرچکی ہے، اپنے اس موقف کی حمایت میں جلال الدین حقانی کی مثال دیتے ہوئے زیری ننی کا کہنا تھا کہ2004 ءمیں جلال الدین حقانی جہاد کرنیوالوں میں سے ایک لیڈر تھا لیکن اس کے پاس کوئی تنظیم نہیں تھی جو فوجی خطرہ بنتی تاہم 2004 سے بھاری فنڈنگ کے سبب ، جس کا بیشتر حصہ خلیجی ممالک کے لوگوں کی طرف سے آیا ،حقانی کو ایک نیٹ ورک بنانے میں مدد ملی جس کو شکست دینا پاک فوج کیلئے مشکل ہوگا۔ وکی لیکس کے مطابق فرانسیسی عہدے دار جیسمین زیری ننی نے امریکی ایوان نمائندگان کے رکن کو بتایا کہ فرانس پاکستان کے ساتھ سیاسی تعلقات بڑھانے کیلئے کام کررہا ہے تاہم فرانسیسی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا 1980 کا وہ دور واپس آئے جس کی بنیاد فوجی آلات کی فروخت تھی جبکہ فرانسیسی حکومت یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان ڈائیلاگ کی کوشش بھی کررہی ہے لیکن پاکستان صرف اقتصادی معاملات پر توجہ مرکوز کرکے اِسے مشکل بنارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت تجارتی رعایتوں کیلئے بے تاب ہے لیکن اس وقت تک کوئی سیاسی مکالمہ نہیں چاہتی جب تک اس کا بنیادی نکتہ کشمیر نہ ہو۔روزنامہ جنگ راولپنڈی، یکم دسمبر 2010ء |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام خان (03-12-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,063
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لاہور(خالد محمود خالد) ”وکی لیکس“ کے بانی جولیئن الیسنیج“ نے کہا ہے کہ وہ دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیںکہ امریکا کے اہم سفارتکار اپنے دوستوں اوردشمنوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ایک غیرملکی میگزین کو دیئے گئے انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ ایک بڑے امریکی بینک کی اہم دستاویزات سامنے لانے کی تیاری کرلی گئی ہے ان کا کہنا ہے کہ غلط لوگوں کو اپنے کام پرشرمندگی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ پینٹاگون اور سینیٹ ڈیپارٹمنٹ کے خفیہ رازوں کو منظر عام پر لانے کے لئے ابھی انہوں نے آغاز کیا ہے امریکہ کے پرائیویٹ اداروں کی دستاویزات کے حوالے سے انہیں ابھی تک 50فیصد کامیابی حاصل ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ اپنے مقاصد کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ دستاویزات کو شائع کروانے کی اسپیڈ کم رکھیں۔ انہوں نے بینک کا نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ جب اصل حقائق سامنے آئیں گے تو اربوں ڈالر کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ انہیں ” انٹی ایسٹیبلشمنٹ اور اینٹی انسٹی ٹیوشن“ کے نام سے پکار رہے ہیں جبکہ یہ تاثر غلط ہے تاہم جو لوگ غلط کام کرتے ہیںانہیں احساس دلانا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں انہوں نے کہاکہ لوگوں کے غلط قانون کو سامنے لاکر انہیں سکون اور تسلی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ نسلوں کوٹرانسپرنسی کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد دینااپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی، یکم دسمبر 2010ء |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام خان (03-12-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,063
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جنرل کیانی زرداری سے زیادہ نواز شریف کو ناپسند کرتے ہیں، فضل الرحمن نے وزیراعظم بننے کے لئے امریکی سفیر کی حمایت طلب کی پاک فوج کے سربراہ صدر زرداری کو ہٹانا چاہتے تھے، اسفند یار کو صدارت دی جاتی اور گیلانی کو وزیراعظم رکھا جاتا، آرمی چیف نے برطرف یا جلاوطن کرنےکا خیال مارچ2009میں امریکی سفیر سے ملاقاتوں میں ظاہر کیا زرداری نے کسی ناگہانی صورتحال پر بہن فریال تالپور کو اپنا جانشین نامزد کیا ، بلاول کو ہدایت کی گئی، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ بہتر صدر مملکت ثابت ہونگی، سابق امریکی سفیر کے حوالے سے وکی لیکس کی نئی دستاویزات میں انکشاف نیویارک (جنگ نیوز/نیوز ڈیسک) وکی لیکس کی جانب سے مزید خفیہ دستاویزات کے اجراءکا سلسلہ جاری ہے اور مذکورہ امریکی سفارتی کیبل سے پاکستانی سیاست میں بھونچال اور امریکا اور فوج کا عمل دخل بے نقاب ہوگیا ہے۔ وکی لیکس کی تازہ اشاعت میں مزید بتایاگیا ہے کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملک میں سیاسی بحران حل کرنے کےلئے صدر آصف زرداری کو عہدے سے ہٹانے اور جلاوطن کرنے پر غور کیا تھا۔ جبکہ جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی نومبر 2007 ءمیں اسلام آباد میں سابق امریکی سفیراین پیٹرسن سے ایک ملاقات میں ملک کا وزیراعظم بننے کےلئے امریکا سے حمایت کرنے کی درخواست کی تھی۔ وکی لیکس کے مطابق امریکی سفارتخانے کی جانب سے واشنگٹن امریکی وزارت خارجہ کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا کہ جنرل کیانی نے صدر زرداری کو ہٹانے اور جلا وطن کرنے کا خیال مارچ 2009 میں امریکی سفیر این پیٹرسن سے ملاقاتوں میں اس وقت پیش کیا جب نواز شریف معزول ججوں کی بحالی کےلئے تحریک چلارہے تھے۔ سابق امریکی سفیر این پیٹرسن کے مطابق جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ وہ آصف زرداری کو جتنا ناپسند کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ بے اعتمادی انہیں نواز شریف کے بارے میں ہے۔ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں این پیٹر سن کے ساتھ چوتھی ملاقات میں جنرل کیانی کا کہنا تھا آصف زرداری کی جگہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کو لایا جاسکتا ہے، لیکن یوسف رضا گیلانی بدستور وزیر اعظم رہیں گے۔ پیٹر سن نے مراسلے میں کہا کہ اس طرح یہ باضابطہ بغاوت نہیں ہوگی اور آصف زرداری کی جماعت پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومت موجود رہے گی۔ امریکی سفارتخانے سے بھیجے گئے مراسلے میں مزید بتایا گیا کہ جنرل کیانی نے پیٹر سن سے کہا تھا کہ اعلی فوجی حکام آصف زرداری کے متعلق تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ بدعنوان سمجھے جاتے ہیں اور پاکستان کے اقتصادی اور سیکیورٹی چینلجوں کو نظر انداز کرچکے ہیں۔ امریکی سفیر نے اپنی حکومت کو اطلاع دی کہ جنرل کیانی کی طرح آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا بھی آصف زرداری کے بارے میں اسی طرح کی شکایات کرچکے ہیں۔ جبکہ 9 فروری 2009ءکو سابق امریکی سفیر این پیٹرسن کی جانب سے واشنگٹن کو بھیجے گئے کیبلز میں لکھا گیا کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے ساتھ کسی ناگہانی صورتحال پیش آنے کی صورت میں اپنی بہن فریال ٹالپر کو اپنا جانشین نامزد کر دیا تھا اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ بہتر صدر مملکت ثابت ہونگی۔ واضح رہے کہ امریکی سفیرنے ایک روز قبل صدر زرداری سے ملاقات کی جس میں انہوںنے صدر زرداری کی امریکی صدر کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک سے ملاقات کی تیاری کی گئی ۔ وکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ مخصوص کیبلز میں صدر زرداری کی جانب سے فریال ٹالپرکونامزد کرنے کے فیصلے کے حوالے سے این پیٹرسن کو آگاہ کرنے کے حوالے سے بتایا جب امریکی سفیر نے صدر زرداری سے بلاول ہاﺅس کراچی میں ان سے ملاقات کی۔ صدر زرداری کے والد کی طبیعت ناساز تھی لہذا زرداری کراچی سے جانے سے ہچکچا رہے تھے۔ ”بات چیت میں پڑوس کی سیکورٹی کے حوالے سے بات ہوئی اور پھر ذاتی سیکورٹی تک جا پہنچی۔ زرداری نے کہا کہ ان کی جان کو لاحق خطرہ کی بناءپر یہ ضروری ہے کہ ایک قابل شخص کو سینیٹ کے صدر کے طور پر چنا جائے۔ (اگر صدر کاانتقال ہو جائے یا مستعفی ہو جائے، سینٹ کا صدر ، آئندہ صدر کے چناﺅ ہونے تک صدر مملکت کی حیثیت سے آگے آجائےگا)۔”زرداری نے انکشاف کیا کہ انہوںنے اپنے بیٹے بلاول کو ہدایت کر دی تھی کہ اگر میں مارا جاﺅں تو میری بہن فریال ٹالپر کو صدر کی حیثیت سے نامزد کر دینا ۔“این پیٹرسن نے ایک منسلکی نوٹ میں لکھا کہ’ سفارتخانے کے افسران ٹالپر سے بہت زیادہ متاثر ہیں جو کہ بہت زیادہ فعال اور قابل احترام ہیں۔ جنرل کیانی نے ایک بار امریکی سفیر کو کہاکہ وہ (فریال ٹالپر)اپنے بھائی سے زیادہ بہتر صدر ثابت ہونگی۔ زرداری نے اپنی بہن کو ’مخلص او ر پر عزم ‘قرار دیا۔ زرداری نے مزید بتایا کہ ان (فریال )کے 19سالہ بیٹے نے خودکشی اور ان کے شوہر بیٹے کی موت کے دکھ سے نہیں نکل پائے۔ ان کی ایک بیٹی بھی ہے جوکہ بھائی کی جواں سال موت کا غم نہیں بھلا پائی۔بعد ازاں اس گھرانے نے افغان مہاجر کیمپ سے ایک بچہ گود لیا تھا۔ کیبلز میں کہا گیا ہے کہ ”خلاصہ۔ صدر زرداری نے این پیٹرسن سے 8فروری کو ہونے والی ملاقات میں پاکستان کو اضافی امداد کی تجویز دی، جوکہ انکی ہالبروک سے ہونے والی ملاقات میں انتہائی اہم ہوگی۔ زرداری کا خیال ہے کہ عالمی برادری پاکستان میں آئی ڈی پیز،فاٹا اور این ڈبلیو ایف پی میں پولیس پروگرامز کے سلسلے میں مناسب مدد فراہم نہیں کر رہی۔زرداری نے زور دیا کہ وہ اور آرمی چیف بہتر طور پر ساتھ چل سکتے ہیںاگر چہ وہ فوج کو’ہماری تایخ کی جانب سے دیئے گئے‘ اختیارات کے حوالے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ایک بار پھر زرداری نے کہاکہ وہ بھارت سے مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ان کو اپنی سیکورٹی کے حوالے سے مسلسل خدشات لاحق رہے۔2۔ (C)سفیر نے 8فروری کو صدر کو نمائندہ خصوصی ہالبروک کے آنے والے دورے کے حوالے سے گفتگو کرنے کےلئے فون کیا۔زرداری نے کہاکہ وہ ہالبروک کے سامنے انتہا پسندی سے نمٹنے کےلئے پاکستان کے عزم کا معاملہ اٹھائینگے جوکہ آنےوالے دنوں میںبدتر صورت اختیار کر جائینگے۔ وہ پاکستان کےلئے (Reconstruction Opportunity Zone legislation)تک رسائی اور معاشی مدد کا معاملہ بھی اٹھائینگے۔زرداری نے کہاکہ وہ امداد کے معاملے سے موقف میں تبدیلی نہیں لائینگے جبکہ انہوںنے کچھ منصوبہ بندی کا ذکر کیا جس میں وہ اپنے ذاتی فنڈز فاٹا اور این ڈبلیو ایف پی کے ترقیاتی منصوبوں میں لگائیں گے۔ان کو احساس تھا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں امریکا آسانی سے امداد فراہم نہیں کرےگا۔ جیسے جیسے بات چیت آگے بڑھتی گئی۔آئی ڈی پیز اور فاٹا و این ڈبلیو ایف پی میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے کم عالمی امداد کے حوالے سے زرداری کی پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا۔ 3۔ (C) زرداری نے سفیر کو بتایا کہ وہ انکے اور وزیر اعظم کے تعلقات کے حوالے سے پریشان نہ ہوں۔ سفیر نے کہا کہ وہ پریشان نہیں ہیں لیکن ان کا خیال تھا کہ ایمبسی وزیر اعظم کو بھرپور توجہ نہیں دے رہی اور ہم اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 4۔ (C) صدر زرداری نے کہاکہ ان کے افغان صدر کے ساتھ نہایت شاندار تعلقات ہیں، ان کا خیال تھا کہ وہ کرزئی کے ساتھ کام کرینگے کیونکہ افغانستان ان سے بہتر کوئی متبادل موجود نہیں۔5۔(C)زرداری نے دعویٰ کیاکہ نواز شریف ڈاکٹر عبدالقدیر کو پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے لڑانا چاہتے تھے تو بہتر تھا نواز شریف کا جلد مقابلہ کیا جائے نہ کہ دیر سے۔6۔(C)زرداری نے کہاکہ وہ سوچ رہے تھے کہ سینٹ کے انتخابات کے بعد چیئرمین سینٹ کون ہوگاتو ان کو خیال آیا کہ اس سلسلے میں بہترین امیدواروزیر قانون فاروق نائیک ہونگے۔ اس پر سفیر نے پوچھا کہ پھر وزیر قانون کون ہوگا،زرداری کا جواب تھا ،یہ یقیناً مسئلہ ہوگا کیونکہ ہمارے پاس زیادہ لوگ نہیں۔ 7۔(C) زرداری نے کہاکہ وہ جلد صوبہ سرحد کے گورنراویس غنی کوایف سی انسپکٹر میجر جنرل طارق خان سے تبدیل کردیں گے،لیکن امریکی سفیر نے اس خیال کی حوصلہ شکنی کی۔8۔(C)امریکی سفیر نے بلاول ہاﺅس کراچی میں زرداری سے ملاقات کی اور اس دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی، 2 دسمبر 2010ء |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام خان (03-12-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,063
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) سابق امریکی سفیر اینی پیٹرسن نے فروری 2009 میں رچرڈ ہال بروک کی آمد سے قبل ایک تفصیلی بریف تیار کیا تھا جس میں انہوں نے تنبیہہ کی تھی کہ ہالبروک کے دورے کے دوران فوج کی جانب سے زرداری کی فراغت کی افواہیں سنائی دی جا سکتیں ہیں جسے سفارتی اصطلاحات میں سین سیٹر ”Scenesetter“ کہا جاتا ہے ۔ پیٹرسن نے 4فروری 2009 کو ایک خفیہ کیبل بھیجا جس میں انہوں نے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی مسائل کے حوالے سے اپنے تخمینے تحریر کئے تھے ۔ پیٹرسن کے وکی لیکس کی جانب سے جاری کئے جانے والے اس کیبل میں کہا گیا ہے۔ سمری ۔ پاکستانی مشن آپ کی آمد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرے گا۔ آپ کے اپائنٹمنٹس کو پاکستان داخلی تبدیلیوں کے کوششوں کے طورپر لے گا اور توقع کرے گا کہ اوباما انتظامیہ خطے کے ترقیاتی مسائل کے حل اور دہشت گردی کے خلاف چیلنجز میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ زرداری پروامریکین اور ہمارے اتحادی ہیں، آٹھ سالہ فوجی اقتدار کے بعد اب عوامی حکومت برسراقتدار ہے اور اب تک کامیابی سے سول ۔ ملٹری تعلقات کو نئی شکل دے رہی ہے ۔ اس کے باوجود کہ پاکستان ایک ناکام ریاست نہیں ہے تاہم اسے بین الاقوامی تعاون درکار ہے تاکہ وہ جمہوری اداروں کو تعمیر کر کے عوامی حکومت کو استحکام دے سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کرسکے جسے اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی، الیکٹرک بلیک آﺅٹ، بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور امن وامان کی مخدوش صورتحال کا سامنا ہے ۔ کیری لوگر بل کی فراہمی اور ڈونرز کانفرنس میں امریکی تعاون کی فراہمی سے قبائلی علاقوں میں داخلی اور بیرونی سطح پر انتہا پسندی سے نمٹنے کے نئے راستے کھلیں گے اور پاکستان میں امریکی ازم کی مخالفت میں کمی آئےگی ۔ اب ایک خطرناک فوجی دشمن سے لڑائی کے نقصانات کو قبول کر کے پاکستان کی فوج نے آخرکار مزید یو ایس جی ٹریننگ اور تعاون کو قبول کرنا شروع کردیا ہے تاکہ سرکشوں کا خاتمہ کیا جاسکے ۔ پاکستان، نیٹو اور افغانستان میں اپنی سرحدوں کے باہر تعاون اور اشتراک میں حالیہ مہینوں کے دوران ڈرامائی بہتری سامنے آئی ہے اور یہاں تک کہ یہ افغانستان میں اگر امریکی افواج کی سطح پر اضافہ ہوتا ہے تو یہ نہایت اہم ثابت ہوگی ۔ امریکی افواج کی سرحد پار پیش قدمی سے پاکستان میں جنگجوﺅں کی تعداد میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے ۔ جس سے نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں خاص طورسے اگر پاکستان کو بلوچستان میں کسی نئے فرنٹ کا مقابلہ کرنا پڑے ۔ جیساکہ حالیہ میڈیا رپورٹس اشارہ کر رہی ہیں ۔ امریکا نے گزشتہ برس کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں قائم القاعدہ نیٹ ورک کو ٹکڑے ٹکڑنے کرنے میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ ہم اس موضوع پر آپ سے انتہائی تفصیل سے گفتگو کرسکتے ہیں ۔ زرداری اور کرزئی کا دوستانہ تعلق سرحد پار تجارت کےلئے نئے مواقع پیدا کررہا ہے اور ایک انرجی کیڈر کی تعمیر مرکزی اور جنوبی ایشیا کو آپس میں منسلک کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ پاک افغان معاہدے طالبان کےلئے سرحدوں کے دونوں اطراف نئے مسائل پیدا کرسکتے ہیں ۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں اب بھی سنسی پائی جاتی ہے ۔ ممبئی حملے کے نتیجے کے طورپر اور پاکستانی حدود میں جنگجوﺅں کا بڑھتا ہوا کنٹرول، فوجی / آئی ایس آئی کو اس ضرورت کا سامنا ہے کہ وہ قبائلی/ جنگجوﺅں کے گروپوں کو اپنی خارجہ پالیسی میں ایک ذریعے کے طورپر استعمال کرنے کی تاریخی کارروائی پر نظرثانی کرے ، اس کے باوجود کہ روایتی بصیرت کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں نے کشمیر مذاکرات کے دروازے بند کردیئے ہیں ۔ا س میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے سے نمٹنا خطے کے سیکورٹی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہم ذیل میں تفصیلی اپ ڈیٹ پیش کرتے ہیں ۔ سمری ختم ۔
داخلی سیاست ۔ صدر آصف زرداری کی سربراہی میں قائم عوامی حکومت جس کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہیں ۔ ایک سال قبل منتخب ہوئی ۔ وہ اب مستحکم ہے زرداری کی پوزیشن فی الوقت محفوظ ہے اور گیلانی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور ن کے اتحادی ملک کے چار میں 3صوبوں پر حکمران ہیں اور وفاقی حکومت ملک کی ان تین برانچوں کو موثر انداز میں کنٹرول کر رہی ہے ۔ نوازشریف پاکستان کے مقبول ترین سیاست دان ہیں جنہیں (آئی آر آئی پول میں 83 فی صد جبکہ زرداری کو 20فی صد ) مقبولیت حاصل ہے لیکن ان کے پاس ووٹ نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو گرا سکیں ۔ اس کے بجائے نواز شریف اپنی جماعت کے اسٹرکچر کی تعمیر نو میں مشغول ہیں تاکہ نئے انتخابات کےلئے تیار ہوسکیں اور براہ راست سڑکوں کو اپیل کرسکیں۔ زرداری اپنے اتحادیوں کی لیڈر شپ کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایک اورا نتخابات سے بچا جاسکے ۔ جب تک کہ انہیں غذائی اور فیول کی مہنگائی الیکٹرک بلیک آﺅٹ اور بیروزگاری کی بلند سطح کو کم کرنے کےلئے بین الاقوامی تعاون حاصل نہیں ہوجاتا جبکہ پرفیکٹ نہ ہونے کے باوجود آپ زرداری کو امریکا دوست اور انتہا پسندی کا مخالف پائیں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ حکومت میں ہمارا بہترین خیر خواہ ہیں ۔ واضح طورپر زرداری کرتا دھرتا ہیں اور گیلانی کبھی کبھار عوام کو اس حقیقت کا اعتراف کرا کے ان میں غیض و غضب پیدا کرتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بحرکیف زرداری اور گیلانی میں ٹینشن کو رپورٹس میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ گیلانی اپنے مقام سے آگاہ ہیں اور زرداری کے ساتھ نتھی رہیں گے ۔ پی پی پی پنجاب حکومت پر قابض ہونے کےلئے ایک پاور پلے کرسکتی ہے جس پر فی الفوقت شہباز شریف حکمران ہیں۔پاکستان ایک مضبوط بنیاد ، کمزور ادارے، طاقتور میڈیا مگر اکثر غیر ذمہ دار ، اس کے باوجود کے کم آلات کی پولیس فورس قائم کر رکھی ہے ۔ ایک بڑھتی ہوئی مضبوط سول سوسائٹی اور ایک آبادی جو زلزلہ ہو یا کوئی اور موقع وہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے ۔ زرداری حکومت کرنے سے زیادہ جوڑ توڑ پر وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ نوازشریف سے دشمنی میں زیادہ وقت ضائع کر رہے ہیں بجائے اس کے کہ وہ کمزور معیشت کو بہتر بنانے اور دیگر معاملات پر توجہ دینے میں وقت صرف کریں ۔ اس کے باوجود کہ ہم پاکستان کو ناکام ریاست نہیں سمجھتے لیکن اس سے بھی کم و بیش آگاہ ہیں کہ اس ملک کوبڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ حکومت ہر روز اپنی زمین کا کچھ حصہ غیر ملکی یا داخلی جنگجوﺅں کے ہاتھوں کھو رہی ہے ۔ امن وامان کی خراب صورتحال معاشی بحالی میں حائل ہے ۔ اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت انتہا پسندی کے خاتمے کا عزم رکھتی ہے اور اس کے لئے اس کی فوج یو ایس جی ٹریننگ کے لئے آمادہ ہے جس سے فوج میں باغیوں کی موثر سرکوبی میں مدد مل سکے گی ۔ اب ہم تعاون میں اضافے کے جواز رکھتے ہیں ۔ اب ہم پاکستان کو کوبرا ہیلی کاپٹر کے پرزہ جات بھی فراہم کریں گے اور ان کے ایم آئی 17- اور 412ہیلی کاپٹروں کو بھی اپ گریڈ کریں گے ۔ پاکستانی فوج کو بہت سے علاقوں میں جنگ جاری رکھنے کےلئے بہت کم تعداد میں فوج حاصل ہے انہں بھارتی سرحدوں پر زیادہ فوج تعینات رکھنی پڑتی ہے ۔ اس کے باوجود کے وہ اپنی فوج کا بڑا حصہ مشرقی سرحدوں پر تعینات کرنے کے خواہاں ہیں شمالی مشرقی صوبہ سرحد میں مقامی طالبان سرگرم ہیں جو اسکول بند کروا رہے ہیں مخالفین کے سرقلم کر رہے ہیں اور ایک متوازی نظام انصاف قائم کئے ہوئے ہیں ۔ پولیس اس صورتحال سے نہیں نمٹ سکتی ۔ وہاں کے عوام کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا گیا ےہ۔ 2008 میں بیت اللہ محسود سے ایک معاہدے کے بعد پاکستان میں خودکش حملوں میں کمی آئی ہے تاہم اس سے آرمی چیف جنرل کیانی کی اس حکمت عملی کو نقصان پہنچا ہے کہ فاٹا میں ایک کے بعد دوسری ایجنسی پر قابو پایا جائے۔ حالیہ میڈیا رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کو ختم کرنے میں قابل قدر کامیابی حاصل کی ہے ۔ پاکستان کی حکومت مکالمے پر یقین رکھتی ہے لیکن فاٹا کے حالات پر قابو پانے کےلئے اس کے پاس وسائل اور فوج کی کمی ایسے مسائل کا سامنا ہے ۔ بہت سے پاکستانی سمجھتے ہیں کہ جس طرح سعودیہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کا آغاز کرچکا ہے اس طرح پاکستان میں بھی ایسی ہی حکمت عملی ضروری ہے ۔ حکومت سمجھتی ہے کہ انتہا پسندی کے خاتمے کےلئے صرف فوجی حل کافی نہیں ہے تاہم فاٹا میں یو ایس ایڈ، او ڈی اور یو ایس جی مختلف فلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہے ۔ اب طالبان میں پنجابی نوجوان بھی شامل ہورہے ہیں جس کی وجہ پنجاب میں غربت اور جہالت ہے جو انتہا پسندی کے لئے میدان ہموار کر رہی ہے ۔ یہی صورتحال سندھ میں بھی پیدا ہورہی ہے ۔ گزشتہ برس یو ایس اور نیٹو کے قافلوں پر خطرناک حملوں کے بعد اب پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ خیبر ایجنسی/ طورخم گیٹ کو نیٹو اور امریکی ٹرکوں کے لئے محفوظ بناسکے ۔ اسٹرٹیجک پلان ڈویژن ڈائریکٹر لیفٹننٹ جنرل (ر) قدوائی آپ کو پاکستان کے جوہری اثاثے کے تحفظ کے حوالے سے مفصل بریف دے سکتے ہیں ۔ ہمیں اس کا بڑا خدشہ نہیں ہے کہ کوئی اسلامی انتہا پسند کوئی اندر کا آدمی اتنا میٹریل اسمگل کر کے انتہا پسندوں تک نہ پہنچا دے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرلیں ۔ قدیر خان جو اب کینسر کے مریض ہیں انہیں اب بھی قومی ہیرو کی حیثیت حاصل ہے تاہم وہ نظر بند ہیں ۔ اطلاعات ہیں کہ چین نے پاکستان میں دو مزید سویلین نیوکلر ری ایکٹر تیار کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے ۔ ڈی او ڈی کانفرنس سے درخواست کر رہی ہے کہ وہ پاکستان کے افغانستان اور عراق کےلئے تعاون کا معاشی منصوبہ تیار کرے تاکہ اسے مستقل بنیادوں پر امداد ملتی رہے ۔ پاکستان کی معیشت کو بجٹ کے خسارے، بڑے پیمانے پر افراط زر اور کم فارن ایکسچینج ریزروز جیسے مسائل کا سامنا ہے اسی لئے پاکستان کی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر قرض قبول کرنے پر مجبور ہے جبکہ معلوم یہی ہوتا ہے کہ جی او پی ، آئی ایس ایف کے پہلے کوارٹر کے اہداف حاصل کرسکے گا ۔ تاہم اس کےلئے ٹیکس کی وصولی کے لئے زیادہ بڑے اہداف طے کئے جائیں گے جس سے معیشت کی مکمل بحالی اور مشکل ہوجائے گی ۔ آئی ایم ایف کی جانب سے سوشل سیکورٹی پروگراموں میں حکومت کی جانب سے اخراجات میں کٹوتی اس کی عدم مقبولیت کا باعث بنی۔ آئی ایم ایف کا تخمینہ ہے کہ جی او پی کو ڈونرز سے اضافی 4 بلین ڈالرز درکار ہونگے تاکہ وہ ملک کے سوشل سیفٹی پروگراموں اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بناسکے۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی، 2 دسمبر 2010ء Last edited by گلاب خان; 03-12-10 at 04:57 AM. |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,063
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صدر، وزیراعظم اورسیاسی رہنماﺅں ،سب نے قوم کو ایسی ذلت دی جس کی نظیر نہیں ملتی تجزیہ: انصار عباسیاسلام آباد .... پاکستان اس وقت غیر محفوظ ہوچکا ہے کیونکہ ملک پر حکمرانی کرنے والی ہماری سیاسی قیادت کو کسی اور نے نہیں بلکہ واشنگٹن نے بے نقاب کردیا ہے اور جیسا کہ ویکی لیکس کی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے ان لوگوں نے قومی وقار، ساکھ اور عزّت کی قیمت پر اپنا ضمیر بیچ دیا ہے۔ ”کیا ہماری قسمت محفوظ ہاتھوں میں ہے“ ایک ایسا سوال ہے جو تقریباً ہر پاکستانی ذہن میں گردش کر رہا ہے کیونکہ ویکی لیکس ( جس کے متعلق خیال کیا جارہا ہے کہ یہ دستاویزات خود امریکا نے اپنے مقاصد، جن میں پاکستان میں افراتفری بھی شامل ہے، حاصل کرنے کےلئے جاری کی ہےں) کی رپورٹ میں شاید ہی کسی ایسے لیڈر کا ذکر نہیں کیا گیا جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ اگر پاکستانی حکام اور رہنماﺅں نے کو ئی وضاحت پیش نہ کی تو ویکی لیکس کے ہر لفظ کو درست تسلیم کیا جائے گا۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا، بالخصوص اپنے اقدامات سے ظاہر کرنا ہوگا کہ پاکستان امریکا کے حلقہ اثر میں نہیں ہے۔ بصورت دیگر، ویکی لیکس نے مختصراً ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کو عملاً ایک خود مختار ریاست سے محدود کرکے ایک امریکی کالونی (نوآبادیات) بنا دیا گیا ہے کیونکہ اس کا صدر، وزیراعظم، اعلیٰ سیاسی رہنما حتیٰ کہ آرمی چیف بھی ہر معاملے میں یا تو امریکی سفیر کو خوش کرتے پھرتے ہیں یا پھر ہر معاملے میں انہیں اعتماد میں لیتے ہیں (کیونکہ امریکی سفیر پاکستان کا ڈی فیکٹو وائسرائے تصور کیا جاتا ہے) تاکہ واشنگٹن کی آشیرباد سے ان کی حکمرانی کا سلسلہ چلتا رہے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی نے بھی نظم و ضبط کی دھجیاں اڑا دیں کیونکہ ویکی لیکس کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے امریکی حکام کو بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کرپٹ ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انہوں نے انتہائی داخلی نوعیت کا معاملہ امریکیوں کو کیوں بتایا۔ سب سے ہٹ کر عمران خان ہیں جو امریکیوں کے سامنے امریکی پالیسیوں، ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ پر تنقید کرتے ہیں اور انتہا پسندی کے خاتمے کےلئے طالبان کے ساتھ معاہدے کی بات کرتے ہیں اور اِس بدقسمت ملک کے ”حقیقی آقاﺅں“ کی انگلیوں پر ناچنے سے ا نکار کرتے ہیں۔ ویکی لیکس کے ذریعے جن باتوں کا انکشاف ہوا ہے، ان کے کردار کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ پاکستان پر حکمرانی کر رہے ہیں، ان کےلئے لفظ شرم بھی چھوٹا پڑ جاتا ہے۔ اس سے زیادہ شرم کی بات کیا ہوگی کہ صدر زرداری امریکیوں سے کہیں کہ ”ہم یہاں آپ کی وجہ سے ہیں“، اور اس کے بعد امریکا کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ”ہم کوئی بھی کام آپ کے مشورے کے بغیر نہیں کریں گے“۔ اپنے آقا کی خوشنودی کےلئے زرداری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاکستان کی اپنی جنگ قرار دے کر اس کےلئے عزم کا اظہار کیا۔ اس جرم میں اسفند یار ولی بھی برابر کے شریک ہیں جنہوں نے واشنگٹن سے کہا کہ وہ جدہ اور دبئی کے ذریعے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان اختلافات کا خاتمہ کرائے۔ ملک کی داخلی سیاست میں انہوں نے تین غیر ممالک کو مداخلت کےلئے کیوں مدعو کیا؟ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سنگدلی تو دیکھیں جنہوں نے ڈرون حملوں کے معاملے پر امریکا سے کہا، ”جب تک انہیں ان کا درست آدمی مل رہا ہے، اس وقت تک اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اس معاملے پر قومی اسمبلی میں شور شرابا کریں گے اور اس کے بعد اسے نظر انداز کردیں گے“۔ وزیراعظم گیلانی نے وزیر داخلہ رحمن ملک کی سرزنش کی تھی کیونکہ انہوں نے امریکیوں کو تجویز کیا تھاکہ باجوڑ آپریشن کے بعد وہ ڈرون حملے بند کردیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی منافقت تو دیکھیں جس کی اعلیٰ قیادت، یعنی میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان متعدد مرتبہ امریکیوں کو یقین دہانی کراتے رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) امریکا کی حامی ہے۔ شک کا کوئی عنصر باقی نہ رہے، اسلئے میاں نواز شریف نے یہ رام کہانی بھی سنائی کہ خلیج جنگ کے دوران کس طرح انہوں نے آرمی چیف کو نظر انداز کرکے پاکستانی فوجیوں کو امریکی فوج کی مدد کےلئے سعودی عرب بھجوایا۔ اس موقع پر چوہدری نثار علی خاں صاحب یہ بات یاد دلاتے ہیں کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت تھی جو پاکستان کے امریکا کے ساتھ اتحاد کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کر رہی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کی ریا کاری بے نقاب کرتے ہوئے ویکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ وہ انتہائی خطرناک حد تک طالبان کی حامی جماعت کے رہنما ہیں؛ انہوں نے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے اعزاز میں ایک زبردست عشائےے کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے موصوفہ سے وزیراعظم بننے اور امریکا کے دورے کی فرمائش کی۔ مولانا کی طرح ہی مولانا کے دست راست عبدالغفور حیدری نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کو اقتدار میں آنے کےلئے امریکی منظوری درکار ہوتی ہے۔ دیکھئے ان مولویوں کی کارگزاریاں؛ اپنی تقریروں میں کہتے کیا ہیں اور کرتے کیا ہیں؛ شرم کی بات ہے۔ دستاویزات میں وزیر داخلہ رحمن ملک کو اکثر و بیشتر معاون کے روپ میں دیکھا گیا ہے جو امریکا کے ساتھ تعاون کا پرچار کرتے ہیں۔ یہ بات کسی دھچکے سے کم نہیں ہے کہ آرمی چیف نے امریکیوں کے سامنے زرداری صاحب اور نواز شریف کی شکایت کی اور زرداری سے استعفیٰ لےنے اور اپنی پسند کے مطابق جمہوریت کو ڈھالنے کی بھی بات کی۔ انہوں نے نئے صدر کی حیثیت سے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفند یار ولی کی حمایت کا بھی عندیہ دیا۔ کیانی نے (سابق سفیر) این ڈبلیو پیٹرسن کو یہ بھی واضح کردیا کہ وہ جتنا آصف زرداری کو نا پسند کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ نواز شریف پر اعتماد نہیں کرتے۔ آرمی چیف کی غیر ملکی عہدیدار سفیر کے ساتھ اس قدر بے تکلفانہ بات چیت بلا شبہ نظم و ضبط اور اس حلف کی خلاف ورزی ہے جو انہوں نے اٹھایا تھا۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارا صدر داغ دار ہے، وزیراعظم اور سیاسی رہنما بھی داغ دار ہیں؛ مزید یہ کہ یہ معاملہ آرمی چیف سے بھی وضاحت طلب کرنے کےلئے ایک بہترین ایشو ہے۔ ایسی سیاسی اور عسکری قیادت کے تحت پاکستان کا مستقبل واقعی تاریک ہے۔ ہم کس پر یقین کریں؟ کون امریکی اثر رسوخ سے آزاد ہے؟ کیا ہم کبھی آزاد و خودمختار ملک بن سکیں گے؟ کیا ہم کبھی اپنے فیصلے خود لے سکیں گے؟ ہمیں خدا سے زیادہ امریکا پر کیوں بھروسا ہے؟ جو کچھ بھی ہمارے صدر، وزیراعظم سیاسی رہنماﺅں اور آرمی چیف نے این ڈبلیو پیٹرسن سے کہا؛ وہ سب پڑھ کر ہم پاکستان کو عدم استحکام سے کیسے بچا سکتے ہیں؟ ایسی قیادت کے ساتھ ہم دہشت گردی کے مسئلے سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟ ایسی صورتحال میں ہمیں ایک بے شرم اور بے عزّت قوم کی حیثیت سے پہچانے جانے سے کون بچائے گا؟ شاید ہی کسی کے پاس ان سوالوں کے جوابات ہوں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے رہنما ہمیں ذلّت کی ایسی کھائی میں لے جا رہے ہیں جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان لوگوں نے ملک اور عوام کے ساتھ جو کچھ بھی کیا ہے اسے ختم (Undo) کرنے کےلئے ان کے پاس کیا آپشن ہے؟ ایک راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔ ایک اور آپشن یہ ہے کہ وہ امریکی ڈرون حملوں کےلئے سختی سے ”منع“ کردیں، نیٹو کی سپلائی لائن بند کردیں، امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنی پالیسی پر غور کریں، پاکستان میں تمام فوجی آپریشن بند کردیں، مقامی طالبان رہنماﺅں کے ساتھ مذاکرات شروع کریں تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکے اور امریکیوں کے اشارے پر ناچنے کا سلسلہ بند ہوسکے۔ بصورت دیگر، منکشف ہونے والی باتیں ملک میں مزید بد اعتماد اور افراتفری کا ماحول پیدا کردیں گی اور یہی وہ اصل مقصد ہے جو واشنگٹن سے لیک ہونے والی ان دستاویزات کے ذریعے پورا ہوگا۔ پاکستنان نے 2009ء میں امریکی فوج کو قبائلی علاقوں میں کارروائی کی اجازت دی جنوبی و شمالی وزیرستان میں تعینات اور پاک فوج کی 11ویں کور کے ساتھ انٹیلی جنس سمیت دیگر امور پر مشورے کی پرمیشن دی گئی نیویارک(جنگ نیوز) وکی لیکس کی جانب سے افشا کی جانے والی امریکی سفارتی دستاویزات کے مطابق پاکستان نے 2009ئ میں امریکی فوج کو قبائلی علاقوں میں کارروائی کی اجازت دی تھی۔ بدھ کو شائع ہونےوالے ایک مراسلے میں جو 9 اکتوبر 2009 ءکو امریکی وزارت خارجہ کو بھیجا گیا تھا، میں اس وقت پاکستان میں تعینات امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا تھا کہ پاک فوج نے اجازت دی ہے کہ فاٹا میں جاری فوجی کارروائی میں امریکی اسپیشل فورس پاک فوج کا ساتھ دے۔ مراسلے کے مطابق جی ایچ کیو نے امریکی فورسز کو گیارہویں کور کے ساتھ کام کرنے اور پاک فوج کو انٹیلی جنس، نگرانی اور دیگر امور پر مشورے دینے کی اجازت دی اور یہ فورسز پاک فوج کے ساتھ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں تعینات کی گئیں۔ امریکی سفیر کے مطابق جی ایچ کیو کی جانب سے امریکی اسپیشل فورسز کو اجازت ملنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج میں امریکی فوج کے حوالے سے سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ امریکی سفیر نے مراسلے کے آخر میں لکھا ہے کہ امریکی فوج کا پاک فوج کے ساتھ ہونا سیاسی طور پر نہایت حسّاس ہے اور اگر یہ خبر پاکستانی میڈیا تک پہنچ گئی تو پاکستانی فوج یہ اجازت نامہ منسوخ کر دےگی۔ مراسلے میں مزید کہا گیا کہ یہ دوسری بار ہے کہ پاک فوج نے امریکی فورسز کو اپنے ساتھ کارروائی میں مدد کرنےکی اجازت دی اور اس سے قبل ستمبر 2009 میں امریکی اسپیشل سروسز کے 4 اہلکاروں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایف سی کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا اور یہ تعاون نہایت کامیاب رہا تھا۔ مراسلے میں کہا گیا کہ امریکی اسپیشل فورسز پاکستان میں 4 سال سے موجود ہیں لیکن 2009 سے قبل ان کا کردار تربیتی شعبے میں تھا۔ صدر زرداری نے امریکا کو یقین دلایا ڈاکٹر قدیر کو نظر بند رکھا جائیگا، وکی لیکس نیویارک(جنگ نیوز) وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ صدر آصف زرداری نے امریکی سفیر کو یقین دلایا تھا کہ ڈاکٹر قدیر کوگھر پر نظر بند رکھا جائیگا اور میڈیا پر آنے اور سیاست دانوں سے ملاقاتوں سے روکاجائےگا۔ وکی لیکس کے تازہ ترین انکشاف کے مطابق ڈاکٹر عبد القدیر خان کے معاملے پر امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے صدر زرداری اور وزیر رحمن ملک سے ملاقات کی جس میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر قدیر خان کی رہائی کے بعد ان کی اپنے گھر کے لان میں میڈیا سے گفتگو سے سخت مایوسی ہوئی اور اس سے عالمی برادری کو اچھا پیغام نہیں گیا۔ دستاویز کے مطابق حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈاکٹر قدیر کو نظر بند رکھنے کےلئے قانونی جواز تلاش کررہی ہے تاہم ڈاکٹر قدیر خان کی عدالت سے رہائی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت پاکستان میں رابطوں اور پیغام رسانی کا فقدان ہے۔ کرزئی کا بلوچ قوم پرستوں کو پناہ دینے کا اعتراف، بگٹی کے پوتے کی حوالگی سے انکار قوم پرست اپنے بیٹوںاور رقم کے ساتھ آئے ہیں‘ وہ دہشتگرد نہیں، بگٹی کو فون سے انکار پر خود کو معاف نہیں کر سکتا: افغان صدر کی باﺅچر سے گفتگو، وکی لیکس واشنگٹن (جنگ نیوز) وکی لیکس سے جاری ہونے والی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے بلوچ قوم پرستوں کو تحفظ دینے کا اعتراف کیا تھا اور بگٹی کے پوتے کی حوالگی سے انکار کر دیا تھا۔ اسسٹنٹ سیکرٹری باﺅچر نے کرزئی سے پوچھا کہ آپ کو معلوم ہے بگٹی کہاں ہے تو کرزئی نے کہا کہ 700 سے زائد بگٹی اپنے بیٹوں اور رقم کے ساتھ افغانستان پہنچ چکے ہیں میں نے اُنہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ سیاسی پناہ کےلئے امریکا جائیں مگر وہ سہمے اور چھپے ہوئے ہیں۔ باﺅچر نے پوچھا کہ کیا آپ پاکستان کو یقین دہانی کرا سکتے ہےں کہ بگٹی مسلح جدوجہد کی حمایت نہیں کریں گے اور بھارت اس میں ملوث نہیں ہو گا تو کرزئی نے کہا ”ہاں“ مگر انہیں شک ہے کہ پاکستان ان کی یقین دہانی قبول نہیں کرےگا۔ کرزئی نے بتایا کہ بگٹی نے ایک بار انہیں فون کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان سے تعلقات کی خاطر میں نے اِنکار کر دیا تھا اب میں اس انکار پر اپنے آپ کو معاف نہیں کرسکتا۔بھارتی حملے کے فوری جواب کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا، صدر زرداری کی 2009ء میں امریکی سفیر سے گفتگو ایم کیو ایم نے سفیر پیٹرسن سے کہا زرداری پر بھارت کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی کےلئے زور دیں، وکی لیکس واشنگٹن (ٹی وی رپورٹ) وکی لیکس کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے 5جنوری 2009ءکو امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے دستخط سے ایک مراسلہ واشنگٹن بھیجاجس میں کہا گیا کہ 2جنوری 2009ءکو صدر آصف علی زرداری اور امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کی ملاقات ہوئی صدر زرداری نے انہیں بتایا کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسلام آبادکے پاس اس کا فوری جواب دینے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہو گا، تاہم انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ ان کی حکومت غیر ریاستی عناصر کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ ریاست کی پالیسی ڈکٹیٹ کروائیں۔وکی لیکس کے مطابق پاکستانی جنرلز عموماً بھارت کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھتے ہیں لیکن ممبئی حملے کے بعد ان کا رویہ غیر معمولی طور پر مفاہمانہ تھا۔ حملے کے 6ہفتے بعد جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ معاملات میں ضبط و تحمل پر کاربند رہنے کا تہیہ کر رکھا ہے، انہوں نے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے ساتھ راولپنڈی میں ملاقات کے دوران کہا کہ اگر دوسرے حملے کے متعلق کوئی اطلاع ہو تو اس سے پاکستان کو بھی آگاہ کیا جائے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کا رویہ بھی حیران کن تھا، انہیں بھارت پردہشت گردوں کے دوسرے ممکنہ حملے سے متعلق واشنگٹن میں اطلاع ملی جس کے بعد انہوں نے 2009ءکے آخر میں عمان اور ایران کا بھی دورہ کیا انہوں نے اسرائیل کو بھارت میں اسرائیلی اہداف پر حملوں کی اطلاعات سے آگاہ کیا جنرل پاشا نے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کو بھی یاد دہانی کرائی کہ بھارت میں ممکنہ حملے کی اطلاع سے سی آئی اے کے ذریعے بھارت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم نے سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے کہا تھا کہ وہ صدر زرداری پر زور ڈالیں کہ وہ بھارت کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی شروع کرائیں،وکی لیکس نے6اکتوبر 2009ءکو امریکی سفیر سے جنرل کیانی اور جنرل شجاع پاشا کی ملاقات کی مزید تفصیلات جاری کیں، امریکی شخصیات نے دونوںشخصیات سے بھارت کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی شروع کرنے کے امکانات پر بات کی،اس کے لئے انہوں نے سابق وزیر داخلہ خورشیدمحمود قصوری کی کوششوں کا بھی حوالہ دیا کہ وہ سابق سیکرٹری خارجہ ریاض احمد کو اس مقصد کے لئے مذاکرات کار بنانا چاہتے تھے، اس پر جنرل کیانی نے امریکی سفیر سے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی دوبارہ شروع کرانے کے لئے بات کریں اگلی بات چیت وہیں سے شروع ہونی چاہئے جہاں سے ٹوٹی تھی، جنرل کیانی نے کہا کہ انہیں یقین نہیںکہ صدر آصف علی زرداری ایسے وقت اس پر رضا مند ہو جائیں گے جنرل کیانی اور جنرل پاشا دونوں نے کہا کہ وہ دونوں بیک ڈور چینل ڈپلومیسی کے کامیاب ہونے کے خواہش مند ہیں، جنرل کیانی نے بیک ڈور چینل ڈپلومیسی کے لئے سفارت کار ریاض خان کی ساکھ پر بھر پور اعتماد کا بھی اظہار کیا۔ وکی لیکس بانی کی گرفتاری کیلئے انٹرپول نے وارنٹ جاری کردیئے اسٹاک ہوم (ایجنسیاں)امریکا کے رازوں سے پردہ اٹھانے والے ادارے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے گئے ہیں۔ ان پر دو خواتین سے زیادتی کا الزام ہے۔جولین اسانج کی گرفتاری کے وارنٹ بین الاقوامی پولیس انٹرپول نے جاری کیے ہیں۔ انٹرپول نے رکن ممالک سے ان کی گرفتاری میں تعاون کی درخواست کی ہے۔انتالیس سالہ جولین اسانج کے لیے سویڈن کی حکومت نے ریڈ نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس سویڈن کے شہر ییٹے بورے میں اٹھارہ نومبر کو جاری کیا گیا تھا۔ اسانج آسٹریلوی شہری ہیں مگر اس حکم کے تحت انھیں گرفتاری کے بعد سویڈن لے جایا جائے گا۔ امریکی رازوں سے پردہ اٹھانے کے بعد سے جولین اسانج روپوش ہیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اسانج کو خواتین کیس میں پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ بڑی طاقتوں کے رازوں سے پردہ اٹھانے سے باز آجائیں۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی، 2 دسمبر 2010ء |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام خان (03-12-10) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سب غدار ھیں انکی تو م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ان سب کو تباہ وبرباد کریں (اللھم شل ایدھم ،یا قوی یاعزیز، یا جبار السموات والارض ، اللھم ارنا فیھم عجائب قدرتک یاقھار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب نمک حرام ہیں مولوی ہو یا فوجی یا سیاسی چمچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,277
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب سے زرداری منظر عام پر آئیں ہیں، بھوک، افلاس، مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن جیسی صنعتوں میں روز بروز اور بے لگام ترقی ہوئی ہے۔ مجھے حیرت ہے اس "ترقی" کو کیوں رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے؟
|
|
|
|
| arifkarim کا شکریہ ادا کیا گیا | پاکستانی (03-12-10) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ صدر صاحب کو لمبی زندگی دیے تاکہ بعد میں پھانسی پر بھی چڑھ سکے اور جو کچھ نیک طریقوں سے جمع کیا ہے وہ کھاسکے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| 9/11, پاکستان, پاکستانی, ویب, وزیراعظم, نیوز, ممکن, محبت, آصف زرداری, ایران, الزام, انٹرنیٹ, انتباہ, انتظامیہ, امریکہ, اعلیٰ, اغوا, تلاش, جلتا, حزب اللہ, رات, زرداری, عیسیٰ, علی, صدر زرداری |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اڈیالہ جیل کے 11لاپتہ قیدی ہماری تحویل میں ہیں، خفیہ ایجنسیوں کا سپریم کورٹ میں اعتراف | گلاب خان | خبریں | 0 | 10-12-10 05:36 AM |
| دنیا کی اہم اور بڑی اسٹاک مارکیٹس مالیاتی بحران کا شکار ،بحران پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، امر | ابن جلال | خبریں | 0 | 18-09-08 11:01 PM |
| ::: سوگ کے موقع پر لوٹ مار کے واقعات باعث تشویش ہیں، سوات قومی اتحاد ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 03-01-08 12:24 PM |
| سعودی سفیر کی جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کا علم نہیں، ترجمان دفتر خارجہ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 08:14 AM |
| سعودی سفیر کی جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کا علم نہیں، ترجمان دفتر خارجہ | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 08-12-07 07:49 AM |