واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


سندھ میں بارشیں جاری، مزید 29 ہلاک، متاثرین کے لئے 5 ارب مختص، فی خاندان 20 ہزار روپے دینے کا فیصلہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-09-11, 03:01 AM   #1
سندھ میں بارشیں جاری، مزید 29 ہلاک، متاثرین کے لئے 5 ارب مختص، فی خاندان 20 ہزار روپے دینے کا فیصلہ
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 04-09-11, 03:01 AM

منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ، دادو میں بھان سعید آباد سمیت کئی دیہات خالی کرنےکا حکم،سیلابی ریلے سے سیکڑوں دیہات زیر آب آگئے
دادو، نوابشاہ، کھپرو، پڈعیدن (بیورو رپورٹ، نامہ نگاران) اندرون سندھ بارش کی تباہ کاریاں جاری ہیں جس میں مزید 29 افراد ہلاک ہوگئے۔ شدید بارشوں کے باعث دریائے سندھ اور ایشیاءکی سب سے بڑی جھیل منچھر میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ہوگیا ہے۔ جس کے بعد بھان سعید آباد سمیت کئی دیہات خالی کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے جبکہ بارشوں کے باعث 6 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور ہزاروں مکانات منہدم ہوگئے۔ سیلابی ریلے سے سیکڑوں دیہات زیر آب آگئے ہیں جن کا دیگر شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ انتظامیہ نے ریسکیو آپریشن کیلئے کشتیاں طلب کرلی ہیں۔ سیم نالوں اور نہروں میں شگاف پڑنے سے بھی بڑی تباہی ہوئی ہے۔ بدین میں طوفانی بارشوں کے بعد بے گھر ہونے والے افراد خوراک کی سنگین کمی سے دوچار ہیں ۔ بارش کی پانی کی عدم نکاسی نے بھی صورتحال بدتر کر دی ہے۔ بدین میںمتاثرین نے شدید احتجاج کیا اور کراچی ہائی وے پر دھرنا دیکر سڑک بلاک کر دی۔ تھر میں بارش کا 45 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔حکومت سندھ نے بارش سے متاثرہ افراد کیلئے 5 ارب روپے مختص کر تے ہوئے فی خاندان 20 ہزار روپے دینے کافیصلہ کیا ہے۔خیرپور ناتھن شاہ میں بارشوںاور دیگر واقعات میں 2 افراد، رتوڈیرو میں گھر کی چھت گرنے سے 3 بچے جبکہ مٹھی میں آسمانی بجلی گرنے سے نوجوان ہلاک ہوگیا۔ دادو میں بارشوں کے باعث تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے مزید دو سو مکانات کو نقصان اور چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں مزید 5 افراد ہلاک اور30 ہزار ایکڑ پر کھڑی کپاس گنے اور پیاز اور سبزیوں کی فصل تباہ ہوگئی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے دباﺅ کے بعد سندہ کے سینئر وزیراور ضلع انتظامیہ بالآخرعوام کی خدمت کےلئے باہر آگئے۔ ضلع میں دس ہزار سے زائد بارش متاثرین کےلئے 115 امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔ متاثرین میں مفت راشن اور دوائیں تقسیم کیں۔ شدید بارشوں کے باعث ایشیا کی سب سے بڑی جھیل منچھر جھیل اور دریائے سندہ میں پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔جبکہ نہریں اور شاخوں میں شگاف پڑنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دادو، جوہی، کاچھاچھرو،پورناتھن شاہ اور دیگر دیہی علاقوں میں مکانوں کی چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں 3 بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن مین دلدار علی احمد سومرو مجتبی ملاح دودو سولنگی اور جمن ماچھی شامل ہیں۔ ہفتہ کے روز بھی دو شاخوں کاوررو اور پیر گنیو شاخ میں بیس بیس فٹ چوڑے شگاف کے باعث مزید پانچ دیہات اور سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی کاشت سمیت زیر آب آگئے ہیں۔ دوسری جانب کیھر تھر پہاڑی سلسلوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے ندی نالوں میں شدید طغیانی کے باعث ایک طرف تو کاچھو کے ایک سو زائد دیہات زیر آب ہونے سے انکا تحصیل ہیڈ کوارٹر شہر جوہی سے زمینی رابط منقطع ہوگیا ہے۔ مذکورہ ندی نالوں کا پانی ایشیاءکی سب سے بڑی منچھر جھیل میں داخل ھو گیا ہے جسکی وجہ سے منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ انہار کے کنٹرول روم کے مطابق صرف چار دنوں میں جھیل کی سطح میں پانچ فٹ پانی کے اضافہ کے ساتھ جھیل کی سطح ایک سو بارہ فٹ اشاریہ آٹھ انچ تک ہوگئی ہے جبکہ دادو مورو پل کے مقام پر دریائے سندہ میں پانی کی سطح میں تیزی کے ساتھ اضافہ کے ساتھ یہ سطح 118.5 فٹ ہو گئی ہے ۔نواب شاہ ضلع شدید بارشوں، سم نالوں اور نہروں میں شگاف پڑنے کے باعث ڈوب رہا ہے ۔ شہر کے تقریباً تمام علاقے اور سیکڑوں دیہات پانی کے گھرے میں ہیں، درجنوں گوٹھوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ حادثات میں 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو آپریشن کیلئے کشتیاں طلب کر لی گئیں۔ 6لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی کپاس اور گنے سمیت دیگر فصلیں تباہ ہو گئیں۔ چار روز سے جاری شدید بارشوں اور ضلعی انتظامیہ و محکمہ آبپاشی کی نااہلی کے باعث سیم نالوں اور نہروں میں شگاف پڑنے سے ضلع شہید بینظیر آباد ( نواب شاہ ) کے شہری علاقے اور دیہات ڈوب گئے ہیں۔ نواب شاہ میں اب تک 365 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے اور بارش کا سلسلہ ہفتے کو بھی وقفے وقفے سے جاری رہا، شدید بارشوں کے باعث نواب شاہ، دوڑ، سکرنڈ اور قاضی احمد کے شہری علاقے زیر آب آنے سے ہزاروں گھروں میں پانی داخل ہوگیا جبکہ چاروں تحصیلوں کے سیکڑوں دیہات بھی زیر آب آگئے ہیں اور متعدد کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے ۔ ضلع بھر میں اب تک 2 ہزار سے زائد کچے پکے مکانات منہدم ہو چکے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی ہے اور اتنی ہی تعداد میں اب بھی لوگ پانی میں گھرے ہوئے ہیں جہاں خوراک اور ادویات نہیں پہنچ سکی ہے ۔جام صاحب ، سکرنڈ ، نواب شاہ روڈ پر واقع سم نالوں میں شگاف پڑنے سے سیلابی پانی دیہاتوں اور شہروں میں داخل ہوگیا، شہروں میں گٹر ابل پڑے ہیں اور گندہ پانی نے گھروں میں داخل ہو کر تباہی مچا دی ہے ، ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث شہریوں نے سکرنڈ نواب شاہ روڈ، باندھی دوڑ روڈ، سوئی گیس اسٹاپ اور دیگر مقامات پر دھرنا دیا اور سڑک بلاک کر دی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ انہیں خوراک و ادویات مہیا کی جائیں اور ان کے گھروں اور فصلوں سے پانی نکالا جائے۔ دوسری طرف مختلف واقعات میں 9افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جن میں 60میل کے گاﺅں غلام حسین مری میں 23 سالہ نظیراں مری، گہرام مری میں علی حسین ملاح، سمیرا کالونی میں 9سالہ معشوق ، گاﺅں وسایو جمالی میں ابیو ولد مچو اوڈھ چھت گرنے سے ، گاﺅں میر خان جمالی میں کرنٹ سے 35سالہ مراد عرف کامو خاصخیلی، گنھتڑ میں 23 سالہ علی حسن جمالی، میام صاحب کے گاﺅں امام بخش رند میں چھت گرنے سے 8سالہ لورن، غلام حیدر شاہ کالونی میں کرنٹ لگنے سے نامعلوم شخص، گاﺅں دیوان کوڈومل میں چھت گرنے سے 45 سالہ بشیراں سیال جاں بحق ہوگئے۔ شدید بارشوں اور زیر آب آنے کے باعث قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی ایک ہفتے کیلئے بند کر دی گئی۔ ادھر جام صاحب میں گیسٹرو کے باعث ایک سال کا بچہ جاں بحق ہو گیا۔ کھپرو تعلقہ کھپرو میں تین روز سے جاری بارش کے سبب کھپرو شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں جبکہ کھپرو کے گرد و نواح میں کئی دیہات اور گاﺅں موسلا دھار بارش کی وجہ سے زیر آب آگئے ہیں اور بارش کے متاثرین افراد کھلے آسمان تلے بے یار و مدد گار پڑے ہوئے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر سرفراز راجڑ اور ڈی سی او سانگھڑ نے تعلقہ کھپرو کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سرفراز راجڑ اور ڈی سی او احمد بخش کھوکھر نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے سبب ضلع سانگھڑ اور تعلقہ کھپرو میں 80 فیصد کپاس اور مرچ کی کھڑی فصل تباہ ہو چکی ہے اور سیکڑوں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر سرفراز راجڑ نے وزیراعلیٰ سندھ کو تعلقہ کھپرو کو آفت زدہ علاقہ قرا ر دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ گولارچی بدین اور گرد و نواح میں ہفتہ کی شام تیز طوفانی ہواﺅں کے ساتھ پڑنے والی موسلادھار بارش نے تباہی مچا کر رکھ دی۔ دن بھر کی شدید گرمی کے بعد تیز آندھی کے ساتھ طوفانی بارشوں نے شہر کے تمام محلوں، بازاروں اور گلی کوچوں کو پانی سے بھر دیا، بارش کا پانی متعدد دکانوں اور گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ طوفانی بارش سے متعدد سرکاری عمارتیں بھی زیر آب آگئیں۔دریں اثناءمختیار کار آفس بدین میں امدادی اشیاءکی تقسیم کے موقع پر متاثرین میں زبردست ہنگامہ آرائی ہوگئی، مشتعل مظاہرین نے امدادی اشیاءسے بھرے ٹرک پر ہلہ بول دیا اور سامان لوٹنا شروع کر دیا، اس موقع پر متاثرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی نفری نے لاٹھی چارج کر دیا جس کے نتیجے میں 2متاثرین معمولی زخمی ہوگئے بعدازاں متاثرین نے ڈی سی او چوک پر احتجاجی دھرنا دیا۔ محراب پور اور گرد نواح کے شہروں میں طوفانی بارش نے تباہی مچا دی دکانوں کے چھپرے اور سائن بورڈ گر گئے ، نشیبی علاقے زیر آب آگئے، مکانات کی چھتیں اور دیوار گرنے سے 2 افراد جاں بحق عورتوں بچوں سمیت درجنوں زخمی ہوگئے۔ نیو ٹاﺅن محراب پور کے وارڈ نمبر 16 میں گھر کی دیوار گرنے سے 3 سالہ معصوم بچہ محمد ماجد ولد محمد راشد چوہان جاں بحق ہوگیا جبکہ گاﺅں راجا خاصخیلی میں مکان کی چھت گرنے سے معشوق خاصخیلی جاں بحق ہوگیا جبکہ سمات گلشیر ا بی بی کنول بی بی شدید زخمی ہوگئی جبکہ پیر قائم علی شاہ میں گھر کی چھت گرنے سے علی مراد نانگور کی کار اور گھر کا قیمتی سامان تباہ ہوگیا وارڈ نمبر 3 میں غلام نبی ملک کے مکان کی چھت گر گئی ، لودھی قبرستان کے پاس نشیبی علاقے میں درجنوں گھروں میں پانی کھڑا ہونے سے درجنوں مکانات گر گئے جن کے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات معلوم نہ ہو سکیں۔ گولارچی ضلع بدین میں طوفانی بارشوں کے ہزاروں متاثرین خوراک کی بدترین قلت کا شکار ہوگئے جبکہ برساتی پانی کے عدم نکاس نے بھی علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن کر دی صورتحال کے خلاف ضلع بھر میں متاثرین سڑکوں پر نکل آئے ، ضلع بھر میں تیز طوفانی بارشوں سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال کے بعد اپنے گھروں سے بے گھر ہونےوالے ہزاروں افراد خوراک کی سنگین کمی سے دو چار ہیں جبکہ سیکڑوں دیہات اور شہروں میں رہائشی علاقوں میں کھڑے بارش کے پانی کے عدم اخراج نے بھی صورتحال بدتر کر دی ہے ، صورتحال کے خلاف ضلع بھر کے متعدد علاقوں کے مکین سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔بدین میں متاثرین نے ڈی سی او ہاﺅس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور کراچی ہائی وے بند کر دی متاثرین کا کہنا تھا کہ انکے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں اور انہیں راشن کی فراہمی بند ہے ، کراچی بدین ہائی وے پر 3میل سیم نالے کے پل پر متاثرین نے راشن کی عدم فراہمی اور برساتی پانی کے عدم نکاس کے خلاف دھرنا دیکر ہائی وے بند کر دی۔ونائی شری فکے قریب متاثرین نے دھرنا دیا اور بدین ٹنڈو باگو روڈ بلاک کر دیا۔ پڈعیدن سمیت ضلع بھر میں بارش نے تباہی مچا دی، درجنوں مکانات گر گئے، 2ہلاک، متعدد مویشی ہلاک ، کئی دیہات زیر آب، بارش کا پانی نکاسی پر دو گروپوں میں تصادم فائرنگ 2 افراد زخمی ، جنکے مکانات چھتیں گرنے سے 10 افراد زخمی ، بجلی کا نظام درہم برہم ، تفصیلات کے مطابق پڈعیدن سمیت ضلع نوشہرو فیروز ، بھریا روڈ، دریا خان مری، بھریا سٹی، کنڈیارو، مٹھیانی، پیر صادق ، نور محمد آرائیں و دیگر علاقوں میں 15 گھنٹے سے وقفے وقفے سے طوفانی موسلا دھار بارش نے تباہی مچا دی، پڈعیدن ، گوٹھ غازی واسوانو، گوٹھ سموں راجپر، گوٹھ ہارون شر، پیر صادق، گوٹھ خمیسو لاشاری، گوٹھ یوسف راجپر، گوٹھ ملہار شر، گوٹھ ارباب شر، گوٹھ یوسف شر، امام بخش شر، نجم دین شر، گوٹھ غلام مصطفے شر، گوٹھ اللہ دتہ سولنگی، گوٹھ سلیمان بڑوی، گل خان مری، جمع خان شر دیگر علاقوں میں درجنوں مکانات زمیں بوس ہوگئے جس کے نتیجے میں نوجوان راجہ شیخ ہلاک ہوگیا اور متعدد مویشی چھتیں دیواریں گرنے سے ہلاک ہوگئے جبکہ 10 افراد کے مختلف مقامات پر زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مٹھی صحرائے تھر میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشیں ، نشیبی علاقے زیر آب آگئے، ملنے والی اطلاعات کے مطابق 4 روز سے جاری بارشیں، ڈیپلو میں 20, 45, 70, 33 ملی میٹر بارش مٹھی میں 43, 45, 43.5 اور 17 ملی میٹر، چھاچھرو میں پہلے روز 45 ملی میٹر نگرپارکر میں 47 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے ، عمر رسیدہ لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے صحرائے تھر کا 45 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ، دوسری جانب شدید حالیہ بارشوں کی بنا پر بیراج ایریا کے پانی میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی صحرائے تھر کے ٹیلوں پر اپنے بال بچوں کے ساتھ قیام پزیر ہیں۔ کوٹ غلام محمد میں بارش کے باعث درجنوں دیہات کے زیر آب آجانے اور سیکڑوں کچے مکانات اور جھونپڑیاں منہدم ہو جانے کے باعث بڑی تعداد میں مویشی ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ہزار ہا افراد سیم نالوں اور نہروں کے پشتوں کے علاوہ سڑک کے کناروں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں جہاں انہیں خوراک اور صاف پانی کی قلت کا سامنا ہے ۔کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق ہفتہ کو وزیرا علیٰ ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بارش کے متاثرین کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے ریلیف اور ریسکیو کے کام کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جن میں سے دس دس ہزار روپے فی خاندان کو تقسیم کئے جائینگے جسکی شفافیت کو یقینی بنایا جائےگا۔ وطن کارڈ کی طرز پر کارڈ جاری کئے جائینگے۔وفاقی حکومت سے بھی معاونت کیلئے درخواست کی ہے امید ہے کہ وہاں سے بھی دس دس ہزار روپے متاثرین برسات کو ملیں۔ اسطرح متاثرین برسات کو فی خاندان20 ہزار روپے فراہم کئے جائیں گے۔ سروے ہورہا ہے۔ نقصان اربوں کھربوں روپے کا ہے۔ قدرتی آفات کے موقع پر پوری قوم متحد ہو کر متاثرین بھائیوں کی امداد کیلئے آگے بڑھے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 87
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (04-09-11)
پرانا 04-09-11, 03:17 AM   #2
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,119
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,591 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ پاک اس بارش کو سب کے لئے رحمت رکھے آمین ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 04-09-11, 03:32 AM   #3
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,063
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
جب تک پانی ضائع ہونے سے بچانے کے لئے ڈیم نہیں بنائے جاتے ایسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے اور عوام اور ان کے اثاثے ڈوبتے رہیں گے۔
گلاب خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, ہنگامہ, کراچی, پولیس, واقعات, مفت, موقع, آپریشن, اللہ, انتظامیہ, انعام, احتجاج, اعلیٰ, بچوں, حسن, خلاف, درخواست, زندگی, علی, صوبائی, صورتحال, صاف, صادق, صحافیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایل پی جی مزید مہنگی، گھریلو سلنڈر میں 60 اور کمرشل سلنڈر کی قیمت 240 روپے بڑھ گئی گلاب خان خبریں 0 07-01-11 05:07 AM
روپے کی قدر میں مسلسل کمی، یورو کی قیمت 100 روپے سے بڑھ گئی عبدالقدوس خبریں 1 01-11-08 12:36 PM
قدر میں مزید کمی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی ریکارڈ قیمت،62روپے کا ہوگیا خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 09:36 AM
کراچی میں تقریبات کی منسوخی، مرغی کے گوشت کی قیمت میں 14روپے کمی خرم شہزاد خرم خبریں 0 04-01-08 10:32 AM
روپے کی قدر میں مزید کمی‘ ڈالر 61.75 تک پہنچ گیا خرم شہزاد خرم خبریں 0 01-01-08 10:49 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:00 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger