|
سندھ پولیس کی شر پسندوں اور بھتہ خوروں کیخلاف محدود آپریشن کی تیاری

19-04-08, 03:58 AM
سندھ پولیس کی شر پسندوں اور بھتہ خوروں کیخلاف محدود آپریشن کی تیاری
اسلام آباد (طارق بٹ) سندھ پولیس اپنے نئے چیف ڈاکٹر شعیب سڈل کی سربراہی میں دہشت گردوں‘ اغوا کاروں‘ بھتہ خوروں اور شرپسند عناصر کیخلاف ”محدود پیمانے پر آپریشن“ شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ تمام ایجنسیوں کی مکمل شمولیت اور دل و جان سے حمایت تک اس کی رفتار بالکل سست ہوگی اور یہ متواتر ہوگا۔ 12برس بعد حال ہی کراچی میں تعینات ہونے والے ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ مکمل انٹیلی جنس سپورٹ کے بغیر کراچی میں کوئی آپریشن کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوگا۔ اس پیچیدہ کام میں کوئی کمی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس سے دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آئی ایس آئی مشکل کام میں مکمل طور پر شامل نہیں ہوتی‘ ہمیں مکمل کامیابی مل سکتی ہے نہ ہم شرپسندوں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یہ ادارہ ایسے کام کیلئے مطلوبہ اعلیٰ تکنیک اور تمام وسائل رکھتا ہے۔ اسلام آباد کے حالیہ دورے کے دوران مذکورہ افسر نے اس نامہ نگار کو شاپنگ بیگ میں لپٹی دستاویزات کے بھاری پلندے دکھائے جن میں کراچی میں قتل و غارت‘ انارکی اور بدامنی پھیلانے والوں کی تھیلی کرافکس دی گئی تھیں۔ یہ کاغذات ماضی میں لندن بھیجی جانے والی پاؤنڈسٹرلنگ کی بھاری ترسیلات زر کی بہت سی تفصیلی معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔ مذکورہ افسر سابقہ آپریشن میں شامل ہونے کے باعث دہشتگردوں کی ”ہٹ لسٹ“ پر بھی رہ چکا ہے۔ مذکورہ آپریشن میں مبینہ طور پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کئی افراد پولیس مقابلوں میں مارے گئے تھے۔ ایم کیو ایم سڈل کی بطور آئی جی پولیس تعیناتی کے معاملے کی طرح اس پولیس افسر کے تبادلے کو بھی سرعام مسترد کرچکی ہے۔ افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزات میں موجود معلومات شرپسند وں کی غیرقانونی سرگرمیوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ یہ واقعی عام آدمی کیلئے دل ہلا دینے والا انکشاف تھا۔ افسر نے بتایا کہ آپریشن کی کامیابی کیلئے لینڈ لائن اور مشکوک افراد کے سیل فون بڑے پیمانے پر ریکارڈ کرنے ہوں گے جوکہ پولیس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا آپریشن میں نہ صرف آئی ایس آئی بلکہ ملٹری انٹیلی جنس اور کور ہیڈ کوارٹر کراچی کی سپورٹ بھی پہلے کی طرح انتہائی ضروری اور بنیادی ہونی چاہئے۔ افسر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشتگردوں کے پاس بہت زیادہ اسلحہ ہے اور وہ گزشتہ ایک دہائی میں بہت سے ہتھیار جمع کرچکے ہیں۔ واضح مطلوبہ مقاصد اور مکمل تیاریوں کے بغیر کریک ڈاؤن سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سڈل کی تعیناتی اور صوبے خصوصاً کراچی پولیس میں اعلیٰ سطح پر دیگر تبدیلیوں سے ہر سطح پر ایک مبہم پیغام بھیجا گیا ہے کہ غیرقانونی سرگرمیاں بند کردی جائیں ورنہ انہیں طاقت سے روکا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تبدیلیوں سے فوری طور پر موبائل فون چھیننے سمیت سٹریٹ کرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دیگر وجوہات کے علاوہ سڈل کی تقرری نے بھی ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی سے مرکز اور سندھ میں تعاون کیلئے مذاکرات ختم کرنے پر مجبور کیا اور اس نے پیپلز پارٹی سے مذاکرات کا عمل ترک کر کے دونوں جگہ اپوزیشن میں بیٹھنے کا انتخاب کیا۔ ایک اور افسر کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس اس وقت تک بھی خاموش نہیں بیٹھی رہے گی جب تک کہ خفیہ ایجنسیوں سمیت اہم حکومتی کھلاڑی اس رائے پر متفق نہیں ہوجاتے کہ کراچی میں شرپسند عناصر سے سختی سے نمٹا جائے ، ورنہ بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ پہلا اقدام جو سڈل نے اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ پولیس فورس کا اعتماد بحال کیا جائے۔ تنخواہوں میں حالیہ اضافہ‘ ترقیاں اور دوسری مراعات اس پالیسی کا حصہ ہیں جبکہ سڈل جرائم پیشہ افراد سے فیصلہ کن انداز سے نمٹنے کا ٹریک ریکارڈ رکھتے ہیں۔ وہ غفلت اور سستی برتنے پر پولیس والوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|