واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


سوات معاہدہ قومی اسمبلی سے منظور

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-04-09, 12:03 AM   #1
سوات معاہدہ قومی اسمبلی سے منظور
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 14-04-09, 12:03 AM

پاکستان کی قومی اسمبلی نے پیر کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کو سفارش کی ہے کہ سوات میں شرعی نظام عدلِ ریگولیشن پر دستخط کردیں۔
بابر اعوان نے ایوان میں گورنر سرحد کی طرف سے صدرِ مملکت کو بھیجا گیا ’شرعی نظام عدل ریگولیشن 2009‘ پیش کیا اور بعد میں اس بارے میں قرارداد پیش کی جو منظور کر لی گئی۔
مسلم لیگ (ن) کے چوہدری نثار علی خان، عوامی نیشنل پارٹی کے پرویز خان، مسلم لیگ (ق) کے ریاض پیرزادہ، پیپلز پارٹی کے اپنے دھڑے کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ، فاٹا کے اورنگزیب خان اور دیگر نے کہا کہ نظام عدل کو جلد سے جلد لاگو کرنا عوامی مفاد میں ہے اور اس میں تاخیر نہ کی جائے۔
ان راہنماؤں نے کہا کہ وہ نظام عدل ریگولیشن کے حامی ہیں اور اس پر حکومت تاخیر نہ برتے اور فوری طور پر صدرِ پاکستان اس پر دستخط کریں کیونکہ یہ سوات کی سولہ لاکھ عوام کی جان و مال کے تحفظ اور علاقے میں قیام امن کو برقرار رکھنے کا سوال ہے۔

حکومت کی ایک اتحادی جماعت متحدہ قومی موومینٹ نے شرعی ریگولیشن کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے متوازی عدالتی نظام قائم ہوگا

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ نظام عدل ریگولیشن صدر، وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کی رضا مندی سے نافذ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اور عوامی نیشنل پارٹی اور مولانا صوفی محمد کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وہ حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمان میں لانے کا مقصد یہ ہے کہ قومی سطح پر اس کی حمایت حاصل کرنا ہے۔

بعد میں سوات میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کی حمایت کے بارے میں جب قرارداد منظور کی گئی تو متحدہ قومی موومینٹ کے اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور ایوان سے باہر چلے گئے۔


Name:  013_4,00.jpg
Views: 41
Size:  29.6 KB


Last edited by فیصل ناصر; 14-04-09 at 12:14 AM..

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 353
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (14-04-09), رضی (14-04-09)
پرانا 14-04-09, 01:17 AM   #2
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,538
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اب اسے فوری نافذ کر دینا چاہیئے ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
ام طلحہ (14-04-09)
پرانا 14-04-09, 01:45 AM   #3
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,538
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مبارک ھو بیماری صاحب میرا مطلب ہے ذرداری نے بھی دل پر ہاتھ رکھ کردستخط کر دئیے ہیں
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
ام طلحہ (14-04-09)
پرانا 14-04-09, 08:25 PM   #4
Senior Member
 
ابن آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,099
کمائي: 22,931
شکریہ: 3,391
829 مراسلہ میں 2,403 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

’ہر فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا‘

عبدالحئی کاکڑ

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

ریگولیشن کے بل کی توثیق یا رد ہونے پر اس کی ذمہ داری صدر اور پیپلز پارٹی پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ پر عائد ہوگی

آپ ضرور سوچ رہے ہونگے کہ صدر آصف علی زرداری اب کیوں اتنے جمہوریت پسند ہوگئے ہیں کہ انہوں نے نظام عدل ریگولیشن کے ترمیمی مسودے پر دستخط ثبت کرنے کی بجائے اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا قدم اٹھایا۔

آپ یہ بھی ضرور سوچ رہے ہونگے کہ خود کو سیکولر جماعت کہنے والی صوبہ سرحد کی حکمران قوم پرست جماعت عوامی نینشل پارٹی کب سے اتنی غیر جمہوری ہوگئی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں ریگولیشن کو پیش کرنے کے معاملے پر قدرے ناراض نظر آرہی ہے؟

جب آپ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی سعی کریں گے تو آخری نتیجے کے طور پر آپ کو صدرِ پاکستان کا فیصلہ اصولاً درست لگے گا لیکن جب آپ اصول کے فریم سے نکل کر زمینی حقائق پر نظردوڑائیں گے تو شاید آپ کہہ اٹھیں کہ نہیں اے این پی کی ناراضگی بھی تو ایک حد تک بجا ہے۔ اے این پی جس کی سیاست کا مرکزصوبہ سرحد ہے اس کو معاہدے کے بعد اپنا سیاسی مستقبل بھی خطرے میں معلوم ہورہا ہے۔ اب تک پارٹی کے سو سے زائد عہدیدار اور کارکن شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور پاکستان میں تمام قانونی اور آئینی طاقت کا سرچشمہ آصف علی زرداری ایسا کیوں کررہے ہیں اور جمہوریت کی بیساکھیوں پر چل کر ایوانِ اقتدار پہنچنے والی اے این پی آخر کیوں اس جمہوری عمل پر ناراض بھی ہے اور دبے الفاظ میں بظاہر آنکھیں دکھانے کی کوشش بھی کررہی ہے۔

ماضی میں جب بھی معزول ججوں کی بحالی، سترھویں ترمیم کے خاتمے اور دیگر قومی معاملات پر پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور دیگر وزراء سے سوال کیا جاتا تھا تو وہ یہ جانتے بوجھتے کہ پارلیمنٹ میں ان کی ہی اکثریت ہے جواب دے دیتے کہ ’ہم جمہوری لوگ ہیں اس کا فیصلہ ہم جلد ہی پارلیمنٹ میں بل یا قرارداد پیش کرکے کریں گے‘۔

پیپلز پارٹی کے قائدین نے کچھ عرصے تک جان چھڑانے کے لیے اس مختصر جملے کا نسخہ کامیابی سے آزمایا لیکن جب تک لاہور سے نواز شریف کی لانگ مارچ نہیں نکلی تب تک وہ اپنی مرضی سے متازعہ معاملات پر پارلیمنٹ جانے سے عملاً کتراتے رہے۔

اب اچانک آصف علی زرداری نے اپنی ہی ’مرضی‘ سے نظام عدل ریگولیشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا لہٰذا اس کے پسِ پردہ سیاسی مقاصد کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

سوات میں تشدد کے خاتمے کے لیے صوبہ سرحد کی حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں صوبائی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں قاضی عدالتوں کے قیام کے لیے نظام عدل ریگولیشن کے ترمیمی مسودے کی منظوری دے کر گورنر کے ذریعے دستخط کے لیے صدرِ مملکت کے پاس بھجوائی تو امن معاہدے کی کامیابی اور ناکامی کی ذمہ داری فردِ واحد صدر آصف علی زرداری اور اکلوتی جماعت پیپلز پارٹی پر ڈال دی۔

پارلیمنٹ کے فیصلے کے بعد حکمران جماعت کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری کو بین الاقوامی برادری بالخصوص امریکہ اورمغربی ممالک کو رام کرنے میں اس لیے آسانی ہوگی کہ یہ سب کچھ نہ صرف جمہوری عمل کے ذریعے ہوا ہے بلکہ پارلیمنٹ کے سامنے تو وہ خود بھی بے بس ہیں۔

سوات امن معاہدے کی صورت میں قاضی عدالتوں کے قیام پر پاکستان کے اندر سول سوسائٹی اور لبرل حلقوں نے شور مچایا۔ امریکہ نے کبھی کھل کر تو کبھی زیر لب جن تحفظات کا اظہار کیا اس نے آصف علی زرادری کو آگے کھائی اور پیچھے سمندر والی کیفیت سے دوچار کردیا۔

لہٰذا امن معاہدے کی کامیابی اور ناکامی کی ذمہ داری سے اپنی ذات اور اپنی پارٹی کو بچانے کے لیے انہیں اپنا ماضی کا فارمولا یاد آیا کہ ’ہم جمہوری لوگ ہیں، ہر فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا‘۔

آصف علی زرداری نے بڑی ہوشیاری سے ایک تیر سے تین شکار کیے۔ پہلا یہ کہ اگر پارلیمنٹ نظام عدل ریگولیشن کے بل کی توثیق یا پھر اسے رد کرتی ہے تو دونوں صورتوں میں اس کی ذمہ داری آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ پر عائد ہوگی۔

دوسرا یہ کہ پارلیمنٹ میں بل پیش ہونے کے بعد ان تمام پارٹیوں کا کردار بھی واضح ہوجائے گا کہ کون کہاں کھڑا ہے لہٰذا سیاسی طور پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

تیسرا یہ کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے بعد حکمران جماعت کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری کو بین الاقوامی برادری بالخصوص امریکہ اورمغربی ممالک کو رام کرنے میں اس لیے آسانی ہوگی کہ یہ سب کچھ نہ صرف جمہوری عمل کے ذریعے ہوا ہے بلکہ پارلیمنٹ کے سامنے تو وہ خود بھی بے بس ہیں۔

اب اگر پارلیمنٹ نظام عدل ریگولیشن کے بل کو پاس کرتی ہے تو پھر اے این پی اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کا امکان کم ہوجائےگا لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے تو مستقبل میں سیاسی اور عسکری نقشہ بدل سکتا ہے۔

اگر پارلیمنٹ بالآخر کثرت رائے سے اس قضیے کا حل نکالتے ہوئے نظام عدل ریگولیشن، جس کو باہر کی دنیا شدت پسندوں کی شریعت سمجھتی ہے، منظوری دیتی ہے تو پھر شاید بین لاقوامی سطح پر یہ بحث بھی چھڑ جائے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں طالبان حامیوں کی اکثریت بیٹھی ہوئی ہے۔
‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮’ہر فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا‘‬
ابن آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (14-04-09)
پرانا 14-04-09, 10:00 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,536
کمائي: 88,171
شکریہ: 5,206
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن ایک ملک میں دو دو نظام دو عدالتیں دو مذہب سیکولر اور اسلامی واہ واہ پورے ملک میں اسلامی نظام ناٖفذ ہونا چاہے پورے پاکستان میں سوات جیسا ہونا چاہے
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (14-04-09)
پرانا 14-04-09, 11:14 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,188
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : waqas ali مراسلہ دیکھیں
لیکن ایک ملک میں دو دو نظام دو عدالتیں دو مذہب سیکولر اور اسلامی واہ واہ پورے ملک میں اسلامی نظام ناٖفذ ہونا چاہے پورے پاکستان میں سوات جیسا ہونا چاہے
صحیح کہتے ہو
پورے ملک میں اسلامی نظام عدل ہونا چاہئے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-04-09, 11:23 PM   #7
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,566
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : waqas ali مراسلہ دیکھیں
لیکن ایک ملک میں دو دو نظام دو عدالتیں دو مذہب سیکولر اور اسلامی واہ واہ پورے ملک میں اسلامی نظام ناٖفذ ہونا چاہے پورے پاکستان میں سوات جیسا ہونا چاہے
جی ہاں !

بالکل بجا فرمایا آپ نے - تمام ملک میں یہی اسلامی نظام نافذ ہونا چاہیئے۔

رہی بات ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی، تو مولانا الطاف حسین صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ بل شرعی نہیں ہے

والسلام

طاہر
Attached Images
 
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (14-04-09)
پرانا 14-04-09, 11:24 PM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,188
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھرخلیل مراسلہ دیکھیں
جی ہاں !

بالکل بجا فرمایا آپ نے - تمام ملک میں یہی اسلامی نظام نافذ ہونا چاہیئے۔

رہی بات ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی، تو مولانا الطاف حسین صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ بل شرعی نہیں ہے

والسلام

طاہر
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-04-09, 02:45 PM   #9
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,188
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق پر لانے کا شکریہ
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-04-09, 03:41 PM   #10
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,195
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک ملک۔ کئی عدالتی نظام

پارلیمینٹ میںنظام عدل ریگولیشن ایسے اہم مسئلے پر بحث کا دورانیہ نہ صرف بڑا مختصر رہا۔ بہت سے ارکان نے تو اس معاہدے کا مسودہ ہی نہیں دیکھا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا تھا اور نافذ العمل بھی ہو چکا تھا۔ اس لحاظ سے یہ مسئلہ غورطلب ہے کہ کیا یہ صحیح طریق کار تھا اور کیا اس سے پارلیمینٹ کی بالادستی ثابت ہوگی یا زیردستی ۔ کیا یہ اقدام بانیٴ پاکستان حضرت قائداعظم اور تحریک پاکستان کے اکابرین کی جدوجہداور امنگوں سے مطابقت رکھتا ہے یا تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کی مخالف جماعتوں کے موقف سے ہم آہنگ ہے

1973ء کا متفقہ آئین منظور کرنے والوں نے تو پورے ملک میں ایک آئین کے نفاذ کی تمنا کی تھی ایک عدالتی نظام کو لوگوں کے لئے انصاف کا سرچشمہ بنایا تھا ۔اب سوال پیداہوتاہے کہ اس نظام عدل کے تحت ہونے والے فیصلوں کو کسی دوسری عدالت میں چیلنج کیا جا سکے گا یا نہیں؟ اگر یہ نظام کامیابی سے ہمکنار ہوا تو کیا اسی نوع کا نظام ملک کے دوسرے حصوں میں بھی رائج کیا جائے گا اگر یہ نظام عوام بشمول خواتین کو ان کے حقوق نہ دے سکا تو کیااسے شریعت کی ناکامی کا نام دینا ممکن ہوگا؟

اور ہمارے لئے انتہائی بے چینی سے اُس گھڑی کا انتظار جب صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری صاحب بمعہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، اسفند یار ولی خان اور وفاقی وزراء خصوصاً رحمان ملک اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر صاحبان کے ہمراہ مالا کنڈ… مکمل شرعی حلیہ اور ادب آداب اختیار کرنے کے بعد تشریف لے جاکر … تحریک نفاذ شریعت محمدی کے اجتماع سے خطاب کریں۔ فوزیہ وہاب اور شیری رحمان ہمراہ جانے سے گریز کریں کہ مزید لرزہ دینے والی ویڈیو دیکھنے کی قوم میں تاب نہیں!!۔
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-04-09, 03:57 PM   #11
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,195
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Exclamation

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طاھرخلیل مراسلہ دیکھیں
جی ہاں !

بالکل بجا فرمایا آپ نے - تمام ملک میں یہی اسلامی نظام نافذ ہونا چاہیئے۔

رہی بات ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی، تو مولانا الطاف حسین صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ بل شرعی نہیں ہے
تمام ملک میں شریعت محمدی نافذ ہونی چاہیے اور بندوق کے زور پرطالبانی شرعی نظام کو نافذ نہیں ہونا چاہیئے۔



اب صوفی محمد صاحب امیر المومینن بنے کی کوشش کر رہا ہے
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-04-09, 06:57 PM   #12
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,188
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
تمام ملک میں شریعت محمدی نافذ ہونی چاہیے
قدم بڑھائیں
ھم آپکے ساتھ ہیں

Last edited by فیصل ناصر; 15-04-09 at 07:00 PM.
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, com, pakistan, پاکستان, وزیراعظم, قائداعظم, نواز شریف, نثار, مکمل, ممکن, امیر, امریکہ, اسلامی, جلد, خواتین, خان, زرداری, طالبان, علی, صوفی, صحیح, صدر, صدرِ, صدر،, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ حیدر خبریں 6 13-08-09 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:12 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger