|
سوبھو ڈیرو:این اے217 اور پی ایس34 پیپلز پارٹی اور فنکشنل ،لیگ میں مقابلہ

05-01-08, 08:58 AM
سوبھو ڈیرو:این اے217 اور پی ایس34 پیپلز پارٹی اور فنکشنل ،لیگ میں مقابلہ
رپورٹ : زاہد علی میرانی/ نامہ نگار این اے 217 اور پی ایس 34 میں پاکستان پیپلز پارٹی اور فنکشنل مسلم لیگ کے امیدواروں میں کانٹے کے مقابلے کا امکان، دونوں پارٹیوں کے امیدواروں نے اپنی ورکنگ تیز کرلی ہے پرانی تعزیتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے روٹھے ہوئے دوستوں کومنانے میں مصروف ہیں دونوں امیدوار اپنی پوزیشن مضبوط ہونے کے دعوے کررہے ہیں لیکن کئی برادریوں نے فنکشنل مسلم لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے تفصیلات کے مطابق جیسے ہی حکومت کی طرف سے الیکشن 2008ء کا اعلان ہوا ہے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد گمبٹ، سوبھو ڈیرو اور آدھا حصہ تحصیل کنگری پر مشتمل حلقہ این اے 217 اور پی ایس 34 حلقہ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور فنکشنل مسلم لیگ کے نامزد امیدواروں فنکشنل مسلم لیگ کے پیر سید کاظم علی شاہ لکیاری اور امتیاز احمد شیخ جن کا تعلق ضلع شکار پور سے ہے اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں پیر سید فضل علی شاہ جیلانی اور نعیم احمد کھرل میدان میں اتر آئے ہیں اور پرانی تعزیتوں کا سلسلہ اور روٹھے ہوئے دوستوں، کارکنوں کو منانے میں مصروف ہوگئے ہیں اور دن رات اپنی ورکنگ تیز کردی ہے اس سلسلہ میں معلوم ہوا ہے کہ فنکشنل مسلم لیگ کے ہزاروں کارکن پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں جس کے بعد پیپلز پارٹی کی پوزیشن مضبوط نظر آرہی ہے اس حلقہ میں 1973ء سے لے کر 2002ء تک ہمیشہ قومی اور صوبائی نشستیں پیپلز پارٹی نے جیتی ہیں لیکن اب صورت حال کچھ اور ہے اس حلقے میں پہلے مسلم لیگ کو ایجنٹ بھی نہیں ملتا تھا اب 19 بیس کا فرق ہے اور 2002ء کے انتخابات میں فنکشنل مسلم لیگ کے امیدوار سید محرم علی شاہ لکیاری نے صرف آٹھ ہزار ووٹ سے شکست کھائی تھی اور پیپلز پارٹی کے سید فضل علی شاہ جیلانی جیت گئے تھے اور صوبائی نشست پر پیپلز پارٹی کے نعیم احمد کھرل نے سید سرکار حسین شاہ کو شکست دی تھی اور اب 2008ء می سید محرم علی شاہ کی جگہ پیر سید کاظم علی شاہ لکیاری کو ٹکٹ دیا گیا ہے اور صوبائی نشست پر سید سرکار حسین شاہ کی جگہ ضلع شکار پور سے تعلق رکھنے والے امتیاز احمد شیخ کو ٹکٹ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ضلع خیر پور سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ف) کے ہزاروں رہنماؤں، کارکنوں، برادریوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جس میں فنکشنل مسلم لیگ کے مرکزی رہنما اور سابق تعلقہ ناظم گمبٹ شیخ خالد حسین نے اپنی برادری اور ایک ہزار سے زائد اپنے دوستوں سمیت پیر آف رانی پور اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما درگاہ غوثیہ شریف رانی پور کے گدی نشین پیر سید عبدالقادر شاہ جیلانی کے ہاؤس پر پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ کے ہاتھ پر فنکشنل مسلم لیگ چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے اس کے علاوہ اجن برادری، ناریجا برادری، کھمٹیہ برادری، میمن برادری، رند برادری، پھل برادری، کھوکھر برادری کے علاوہ ضلع خیر پور سے تعلق رکھنے والے اور فنکشنل مسلم لیگ کے مرکزی رہنما کامریڈ منیر خان سہتو نے اپنے 150 گھروں سمیت، جتوئی برادری کے الله رکھیو، علی شیر جتوئی اور رئیس عبدالکریم ودھن پوتہ نے اپنی برادریوں سمیت نعیم احمد کھرل کے سامنے فنکشنل مسلم لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کا پلہ بھاری نظر آرہا ہے لیکن درگاہ ہنگورجہ شریف کے گدی نشین پیر سید کاظم علی شاہ ایک فقیر صفت بزرگ ہیں جس کی وجہ سے سیکڑوں افراد ذاتی طور پر کاظم علی شاہ کی حمایت کررہے ہیں این اے 217 پر پیر سید فضل علی شاہ جیلانی اور پیر سید کاظم علی شاہ لکیاری میں کانٹے کا مقابلہ ہے باقی صوبائی نشست پر نعیم احمد کھرل کا امتیاز احمد شیخ سے کانٹے کا مقابلہ ہے اب صورت حال یہ ہے کہ 2008ء کے انتخابات میں برادریوں کا اہم کردار ہوگا دونوں پارٹیاں کی اپنے اپنے حق میں حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں این اے 217 اور پی ایس 34 کے پی پی امیدواروں پیر سید فضل علی شاہ جیلانی اور نعیم احمد کھرل، گاؤں غلام حسین سامیٹو، گاؤں سونو سامیٹو، گاؤں کمال فقیر لاشاری گاؤں انب شریف، گاؤں چکر واریاسو اور سوبھو ڈیرو شہر میں لوگوں سے رابطے کئے۔ اس موقع پر سامٹیہ برادری کے چیف سردار سرائی خدا بخش خان سامٹیہ نے پورے سندھ میں رہنے والی سامٹیہ برادری، اپنے دوستوں احبابوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 18 فروری 2008ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کریں۔دوسری طرف پی پی شہید بھٹو ضلع خیر پور کے صدر غلام عباس تالپور نے پیر سید صدر الدین شاہ راشدی کے ہاتھ پر فنکشنل مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جس کے بعد دونوں پارٹیوں کے امیدواروں کی پوزیشن مضبوط ہے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|