|
سٹاک ہوم خودکش بمبار نے اپنی بیوی کو انتہا پسند بنایا: بیوہ کی دادی کا الزام

17-12-10, 10:53 PM
سویڈن کے صدر مقام سٹاک ہوم میں گذشتہ اتوار (12 دسمبر) کو خود کش حملہ کرنے والے تیمور عبدالوہاب العبدلی کی بیوہ منی ثوینی کی دادی نے برطانوی اخبار "ڈیلی میل"میں اپنے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ ان کی پوتی نے عبدالوہاب کو تشدد کی راہ سجھائی جس سے ایک لبرل نوجوان انتہا پسند بنا اور اس نے اپنی جان پر کھیل کر دسیوں افراد کو ہلاک کرنے کی ناکام کوشش کی۔ یاد رہے العربیہ ٹی وی نے بھی اپنی رپورٹ میں منی ثوینی کی دادی کے تردیدی بیان کا حوالہ دیا تھا۔
رومانیہ کے اخبار "لبرل رومانیا" سے وابستہ صحافیہ انڈریا بیکوٹیلا نے جمعرات کے روز نشر ہونے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ خود کش بمبار کی بیوہ کی دادی الینا نڈلکوویسی کے بیان کو برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے مکمل طور پر غلط رپورٹ کیا ہے۔ الینا نڈلکوویسی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے شہر لیوٹن میں ملاقات کے بعد سے ان کی پوتی تیمور سے متاثر تھی۔ اس نے تیمور کے کہنے پر حجاب پہننا شروع کیا بعد میں دونوں نے سنہ 2004ء میں شادی کر لی۔ وہ آج بھی حجاب کرتی تھی۔ بہ قول الینا نڈلکوویسی، منی کا شوہر تیمور اسے انتہاء پسند ی اور اسلامی رنگ میں رنگنے کا ذمہ دار ہے
صحافی انڈریا بیکوٹیلا نے منی کے دادا فاسیل نڈلکوویسی سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے اس بات کی تائید کی کہ ان پوتی زندگی سے بھر پور لطف اٹھانے والی لڑکی تھی۔ تیمور سے ملاقات نے اسے یکسر تبدیل کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ منی سنہ 1982ء کو بخارسٹ میں پیدا ہوئی۔ اس نے زندگی کے ابتدائی تین سال رومانیا میں گذارے۔ منی کو چار زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان کی والدہ مہاییلا نڈلکوویسی رومانیا کی عیسائی شہری تھیں، ان کے قبول اسلام کے بارے میں حتمی طور پر کچھ معلوم نہیں، تاہم منی کے والد ڈاکٹر علی ثوینی عراقی ماہر تعلیم اور دانشور تھے
العربیہ.نیٹ کی جمع کردہ معلومات کے مطابق منی کے 54 سالہ والد ڈاکٹر علی ثوینی بغداد کی کرادہ مریم کالونی میں پیدا ہوئے۔ وہ عالم عرب کی جانی مانی سیکولر شخصیت تھے جنہوں نے "میسوپوٹامیا" نامی مجلے کی بنیاد رکھی۔ ان کی نگارشات سیکولر افکار کے پرچارک ویب پورٹل "مہذب مذاکرہ" پر شائع ہوتی رہی ہیں۔
جمعرات کے روز العربیہ نے ڈاکٹر علی ثوینی کے گھر پر ان سے رابطے کی کوشش کی۔ انہیں موبائل پر بھی تلاش کیا گیا لیکن وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ گذشتہ روز ڈاکٹر ثوینی سے ایک ای میل کے ذریعے رابطے کی کوشش بھی کی گئی تاکہ ان کے داماد کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ منی ثوینی لیوٹن، برطانیہ میں ایک سال تک میڈیا کی تعلیم حاصل کرتی رہی ہیں۔ وہیں سے انہوں نے سنہ 2005ء میں نفسیات میں ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر علی ثوینی سول ارکیٹکچر کے ماہر تھے۔ انہوں نے بخارسٹ یونیورسٹی میں 1975ء سے 1983ء تک تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے بخارسٹ یونیورسٹی سے ارکیٹکچرل انجنیئرنگ اور ٹاون پلاننگ میں ایم اے کیا۔ سنہ 1999ء انہیں اسلامی ارکیٹکچر کے موضوع پر مقالہ تحریر کرنے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری عطاء کی گئی۔ سنہ 1983ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد ڈاکٹر ثوینی الجزائر منتقل ہو گئے جہاں پر انہوں نے نو سال تک پیشہ وارانہ خدمات سر انجام دیں۔ اس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ 1992ء میں سویڈن ہجرت کر گئے۔
ڈاکٹر ثوینی کی رومانوی اہلیہ کے بطن سے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ تینوں کی ولادت 3 مختلف ملکوں میں ہوئی۔ منی رومانیا، نور الھدی الجزائر جبکہ سلمی کی پیدائش سویڈن میں ہوئی۔ علی ثوینی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ ان کی تینیوں صاحبزادیاں ان ہی کی طرح صاحبات علم ہیں۔
سٹاک ہوم بمبار کے عراقی شہری ہونے پر بھی شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ جن لوگوں نے اس کے بارے میں پڑھا ہے وہ یہی خیال ظاہر کرتے ہیں کہ عراق میں لوگ اپنے بچوں کا نام تیمور نہیں رکھتے۔ اس نام کی بعض مثالیں ترکمانستان میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ سویڈن میں عراقی سفیر ڈاکٹر حسین مھدی عبدالعامری بھی تیمور عبدالوہاب کے عراقی ہونے سے متعلق 80 فیصد شک کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے العربیہ کی درخواست پر بغداد میں عراقی پاسپورٹ ڈائرکٹوریٹ سے رابطہ کر سکے تیمور نامی شخص کو پاسپورٹ کے اجراء کی بابت معلوم کیا تو انہیں بتایا گیا کہ تیمور عبدالوہاب کے نام سے کسی عراقی شہری کو پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا۔
عراقی تیمور کے نام سے اسی طرح نفرت کرتے ہیں جیسی انہیں شیرون کے نام سے ہے۔ تیمور لنک نامی منگول کمانڈر نے 1392ء میں عراق پر حملہ کیا جس میں بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتیں اور لوٹ مار ہوئی۔ اسی تناظر میں خود کو عراقی کہنے والے کے لئے تیمور نام سے اپنی شناخت عجیب معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ سے کی سویڈن میں عراقی سفیر سمیت ایک بڑی اکثریت تیمور عبدالوہاب کے عراقی ہونے پر شک کر رہی ہے۔
سٹاک ہوم خودکش بمبار نے اپنی بیوی کو انتہا پسند بنایا: بیوہ کی دادی کا الزام
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|