| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 235
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی سانحہ سیالکوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کا متن (دوسرا حصہ)
(گزشتہ سے پیوستہ) ایک ریسکیو ورکر پیرن دتہ کا بیان کچھ اور ہے جس کے مطابق ایک باریش شخص نے اس کی موجودگی میں مغیث کی لاش کے پاس پڑی پستول کو ہٹایا تھا اور اسے ماجد علی کے حوالے کردیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک اور باریش شخص ایک پستول اور تھیلا لیکر آیا اور ساجد کے حوالے کرتے ہوئے بولا کہ اس نے یہ ڈاکوؤں سے چھینا تھا۔ ریسکیو ورکرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ پستول پولیس کے روبرو پیش کردئیے تھے۔ (14) ان وجوہات کی بناء پر مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی دقت نیں ہوتی کہ شوکت علی بھٹی نے پولیس کے ساتھ مل کر واقعے کو ایک نیا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ اگر مغیث اور منیب پستولوں سے مسلح تھے جس کے ذریعے انہوں نے گولی چلا کر بلال کو قتل کیا ہی تھا تو یہ نئی کہانی گھڑنے کی کیا ضرورت تھی جس کا تعلق ان سے پستول برآمد کرنے کے واقع سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ بچوں کا چچا ضرار بٹ اپنے بھتیجوں کی جائے وقوعہ پر موجودگی کے جواز کو ثابت کر پایا ہے۔ (15) اب ضرار بٹ، ایف آئی آر نمبر 449/2010 کے مدعی کے مخالف نقطہ نظر کے مطابق انہوں نے کہا کہ میں باآسانی کہتا ہوں کہ صبح 6بجے بئر روڈ پر ریسکیو اسٹیشن کے قریب دونوں بھائی تفریح کیلئے گئے تھے، کے حوالے سے شک کے علاوہ یہ ثابت کرنے کیلئے کوئی معقول اور دلیل پر بھی ثبوت ریکارڈ پر اب تک نہیں لایا جاسکا۔ اسی طرح واقعہ کی ترغیب پر بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ کیا پولیس اور مخالف پارٹی مغیث اور منیب کے پاس سے پستول برآمد کروانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ تاہم، علی الصبح بغیر کسی وجہ کے دونوں بھائیوں کی بئر روڈ پر موجودگی کے حوالے سے میں ان بھائیوں کے خلاف ایسے متضاد نتیجہ اخذ کروں گا۔ صبح موقع پر پہنچنے والے اب یہ دو بھائی اس دنیا میں نہیں ہیں ان کے والدین، دوست اور قریبی رشتہ دار ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ حتمی ثبوت مہیا کرسکیں جو ان بھائیوں کی وہاں موجودگی کا جواز مہیا کریں۔ بہرحال دوسری جانب سے کوئی معقول ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ اس وقت دونوں بھائیوں کے پاس پستول تھا۔ اور اگر حملہ آوروں نے دونوں بھائیوں کے پاس پستول تھا اور اگر حملہ آوروں نے دونوں بھائیوں سے پستول چھینا تھا تو ان سے اسلحہ برآمد کرنے کی کو ئی کہانی نہیں گھڑی گئی تھی۔ پچھلے پیراگراف میں پہلے ہی میں دلائل کیساتھ یہ اخذ کر چکا ہوں کہ پستول کو ان کے پاس رکھا گیا تھا۔ تاہم، ان دو بھائیوں کو علی الصبح اس جگہ پہچننے کیلئے کس چیز نے اکسایا، اب تک ایک پوشیدہ راز ہے۔ یہ معاملہ دونوں جانب سے لئے گئے بتوتوں کی جانچ پڑتال کے بعد ہی حل ہوسکتا ہے۔ (C کیا دو متوفی بھائی، مغیث سجاد اور منیب سجاد چور اور مجرم تھے۔ 16۔ فراہم کردہ مواد کے متفقہ معائنے کے بعد مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اٹھارہ سالہ مغیث سجاد اور پندرہ سالہ منیب سجاد ڈاکو اور عادی مجرم نہیں تھے۔ i۔ بلاشک و شبہ اور تسلیم شدہ امر ہے کہ کسی پولیس اسٹیشن میں ان دونوں بھائیوں کے خلاف کسی بھی الزام میں کوئی کیس درج نہیں تھا اور نہ ہی ان کا سابقہ ریکارڈ مجرمانہ ہے۔ (11 حافظ محمد مغیث سجاد اور اس کا چھوٹا بھائی منیب سجاد بالترتیب گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ اور پاک گرامر ہائی اسکول فتح گڑھ کے باقاعدہ طالب علم تھے۔ او پی اور کیو کے سرٹیفکیٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت مغیث سجاد اور منیب سجاد بالترتیب گیارہویں اور نویں جماعتوں میں زیر تعلیم تھے۔ چھوٹے بھائی نے نویں کلاس سالانہ امتحان میں 525 میں سے 342 نمبر کے ساتھ پاس کی جبکہ بڑا بھائی مغیث سجاد حافظ قرآن اور کالج کے ریکارڈ کے مطابق اچھی کارکردگی کا حامل رہا۔ iii) ڈی پی او نے میرے سامنے بیان دیا کہ متوفی بھائی معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ جناب صفدر بٹر ایڈووکیٹ (گواہ نمبر12) فرنٹیئر گاؤں کے رہائشی شوکت علی بھٹی کی نمائندگی کی اور بیان دیا کہ ان کی رائے میں متوفی بھائی معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد سے گفتگو کی۔ سب کی اعتماد کے ساتھ ایک زبان تھی کہ بدقسمت متوفی بھائیوں کے والد، دادا اور دیگر بزرگوں کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ 17) نام افضاء رکھنے کی شرط پر ایک شخص نے متوفی لڑکوں کے سیل نمبروں کی کال ہسٹری فراہم کی اور ان کے والد کے مطابق متوفی بھائیوں نے اپنے موبائل فون سیٹ تبدیل کئے تھے۔ ذرائع نے الزام لگانے کی کوشش کی کہ متوفی بھائی اپنی زندگی میں چوری شدہ اور چھینے گئے موبائل فون استعمال کرتے تھے۔ دو وجوہات کی بناء پر میں نے کال ہسٹری کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اول، متوفی بھائیوں کا چچا زاد بھائی ابوبکر کی طویل عرصے سے سیالکوٹ میں موبائل فون کی دکان ہے اور جب متوفی بھائیوں کے والد کو اپنے بیٹوں کے خلاف موبائل فون چھیننے کے الزام کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اس استدعا کے ساتھ اس الزام کو مسترد کیا کہ چچا زاد بھائی ابوبکر کی مہربانی کی وجہ سے ان کے بیٹے موبائل فون سیٹ تبدیل کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ ایک لمحے کیلئے یہ تصور کر بھی لیا جائے کہ متوفی لڑکے اپنی زندگی میں چھینا ہوا یا چوری کا موبائل فون استعمال کرتے تھے تو پھر بھی کوئی یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ سیل فون چھیننے والے ڈاکو تھے۔ چوری کے سوال کے حوالے سے یہ بات ہر ایک کے علم میں ہے اور یہ ایک کھلا راز ہے کہ آج کل کھلے عام دکانوں اور انفرادی سطح پر چوری شدہ موبائل فون کی خرید و فروخت ہورہی ہے۔ جب تک معقول ثبوت نہ ہو کہ کسی مخصوص شخص نے کوئی خاص سیل فون چھینا یا چوری کیا ہے، محض اس بناء پر کہ کوئی وقفے وقفے سے اپنا فون سیٹ تبدیل کرتا رہتا ہے۔ کوئی ٹھوس جواز فراہم نہیں کرتا کہ وہ فون چھیننے کے جرم میں ملوث ہے، دوئم یہ کہ اس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوگا کہ موجودہ نسل کو سیل فون سیٹ تبدیل کرنے کا خبط ہے۔ شکایت کنندہ شوکت علی بھٹی نے اس دعوے کے ساتھ چند گواہ پیش ہے کہ ماضی میں چند نامعلوم ڈاکوؤں نے انہیں ان کی اشیاء اور سیل فون سیٹ سے محروم کردیا تھا اور یہ کہ 15-8-206 کو اٹھارہ سالہ مغیث سجاد اور اس کے پندرہ سالہ بھائی کو ان ڈاکوؤں کی حیثیت سے پہچان لیا گیا تھا۔ تاہم میرے خیال میں یہ بعد میں تیار کردہ من گھڑت کہانی ہے کیونکہ ایسا کوئی ایک واقعہ بھی پولیس اسٹیشن میں درج نہیں کروایا گیا۔ متوفی بھائیوں کی مخالف پارٹی کی پچیسویں گواہ 65سالہ غلام فاطمہ نے سوالات کئے تو یہ معلوم ہوا کہ اس واقعے سے 17,16 روز قبل اسے دو نامعلوم ڈاکوؤں نے سونے کی بالیوں سے محروم کردیا تھا اور 15-8-2010 کو وہ وقوع پر پہنچی اور ڈاکوؤں کو اس وقت پہچان لیا جب ان کی لاشیں الٹی لٹکی ہوئی تھیں۔ میں یہ کیسے یقین کرلوں کہ 65سالہ بوڑھی عورت دونوں بھائیوں کو پہچان سکتی ہے، جب مسخ شدہ چہروں کے ساتھ ان کی لاشیں الٹی لٹکی ہوئی تھیں؟ ٰ65 سالہ بوڑھی عورت کو اس بیان کے بعد شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ انہیں ڈاکو ثابت کرنے کیلئے مخالف پارٹی نے کچھ قانون مشوروں کے تحت ثبوت و شواہد تیار کرنے اور گھڑنے کی کوشش کی۔ 18۔ میں یہ تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کو اٹھارہ سالہ مغیث سجاد اور اس کا پندرہ سالہ بھائی منیب سجاد فرشتہ صفت کردار کے حامل تھے۔ ممکن ہے انہوں نے اپنی زندگی میں جانے انجانے، بچپنے یا بیوقوفی سے نتائج کا اندازہ کئے بغیر کچھ غلطیاں کی ہوں تاہم صورتحال کے مطابق یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ نہ ڈاکو اور نہ عادی مجرم تھے، خصوصاً جب ان کی زندگی میں ان کے خلاف موبائل فون چھیننے یا کسی اور جرم کا ایک بھی کیس درج نہیں ہوا۔ i۔ آیا سیالکوٹ پولیس اپنے قانونی فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی اور ایک دوسرے فریق کی حیثیت سے شریک رہی اس واقعے میں جس میں مغیث سجاد اور منیب سجاد کو شاہراہ پر کھلے عام قتل کیا گیا؟ 19۔ پہلا واقعہ صبح 6سے 6-30 کے درمیان واقع ہوا۔ ریسکیو کے عملے نے فائرنگ کی آواز سنی! دو زخمیوں کو موقع واردات سے اسپتال لیکر گئے اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی کہ بلال اور اس کے ساتھی پر مبینہ ڈاکوؤں نے فائرنگ اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ سیالکوٹ کے صدر پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں اس کیس کا علاقہ آتا ہے اور حاجی پورہ سیالکوٹ پولیس اسٹیشن موقع واردات سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔ ریسکیو 1122 سے مذکورہ پیغام موصول کرنے کے بعد جو پولیس اہلکاروں نے اوپر منسلک کیا، دو پولیس اسٹیشن اس پوزیشن میں تھے کہ 10منٹ میں موقع واردات پر پہنچ جاتے۔ بدقسمتی سے ریسکیو 1122 کی جانب سے دی جانے والی اطلاع پر کسی نے کان نہیں دھرا۔ یہ پولیس، سیالکوٹ کے وائرلیس اسٹیشن کنٹرول، پولیس وائرلیس اسٹیشن، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ، ریسکیو سینٹر 1122 ڈسکہ روڈ سیالکوٹ کی جانب سے لاگ بک سے ثابت ہوتا ہے اور ریسکیو 1122 کے ضلعی ایمرجنسی افسر کی جانب سے واقعے کی اطلاع بالترتیب نشان زدہ ایس 1-3 نشان زدہ ٹی/ 1-3 ، نشان زدہ V، نشان زدہ ڈبلیو سے ظاہر ہے کہ 15-8-2010 کو 6.30 سے پانچ منٹ کے اندر تمام متعلقین واقع سے آگاہ ہوچکے تھے۔ نہ دستیاب ریکارڈ اور نہ ہی پولیس اہلکار وضاحت کرسکے کہ کس نے سیالکوٹ پولیس خصوصاً سیالکوٹ صدر پولیس اسیٹشن اور سیالکوٹ حاجی پورہ پولیس اسٹیشن کو فوری طور پر اس جگہ جانے سے روکا جہاں سر عام دو نوجوان بھائیوں پر سر عام تشدد اور حملہ کیا گیا۔ تاہم پولیس ریکارڈ / بیانات، آر، آر/ 1، اور آر/2 کے مطابق مندرجہ ذیل پولیس اہلکار اس مقام پر موجود تھے جہاں دونوں بھائیوں کو قتل کیا گیا۔ 1۔ انسپکٹر/ ایس ایچ او جی ایل 447 محمد الیاس، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 2۔ اے ایس آئی نمبر 1128/ جی ایل ریاض طارق، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 3۔ جی تھری رائفل سے مسلح کانسٹیبل محمد نواز پیٹی نمبر84، پولیس اسٹیشن صدر، سیالکوٹ۔ 4۔ کانسٹیبل / ڈرائیور محمد عثمان نمبر 1796، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 5۔ کانسٹیبل/ ڈرائیور عبدالرزاق پیٹی نمبر 1506 پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 6۔ اے ایس آئی محمد سرفراز پیٹی نمبر 184/skt ریوالور سے مسلح، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 7۔ کانسٹیبل محمد سلیم پیشی نمبر 833، جی تھری سے مسلح، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 8۔ کانسٹیبل ڈرائیور یاسر پیٹی نمبر 1801، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 9۔ سی انسپکٹر کمانڈو گلزار خان پیٹی نمبر 684/GL ریوالور سے مسلح، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 10۔ ایس ایم جی سے مسلح ہیڈکانسٹیبل ناتھے خان پیٹی نمبر 1456، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 11۔ جی تھری سے مسلح کانسٹیبل محمد خالد، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 12۔ کانسٹیبل رضوان علی پیٹی نمبر 1839 پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 13۔ ریوالور سے مسلح اے ایس آئی وارث علی پیٹی نمبر 510/nwl پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 14۔ جی تھری سے مسلح کانسٹیبل مبارک علی، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔ 15۔ اے ایس آئی غلام قمر پولیس اسٹیشن حاجی پورہ۔ 16 ۔ رائفل سے مسلح ہیڈ کانسٹیبل عبدالحفیظ پیٹی نمبر 1320 پولیس اسٹیشن حاجی پورہ سیالکوٹ۔ 17۔ رائفل سے مسلح کانسٹیبل شہباز احمد، پولیس اسٹیشن حاجی پورہ۔ 20) دونوں جانب کے گواہوں اور ریسکیو عملے کا بیان ہے کہ مندرجہ بالا پولیس افسران کی موجودگی میں حملہ آوروں نے مغیث سجاد اور منیب سجاد کو بے رحمانہ طریقے سے مارا۔ مسلح اور غیر مسلح پولیس افسران عدم دلچسپی رکھنے والے شائقین کی طرح اس واقعے کو گواہ ہیں، جس کا ثبوت نشر ہونے والی ویڈیو سے ملتا ہے۔ کتنی افسوسناک بات ہے کہ تماشائیوں اور پولیس افسران میں س کسی نے بھی ان دو بھائیوں کیلئے اس وقت رحم کے جذبات محسوس نہیں کئے۔ جب ان پر لاٹھیوں کے ذریعے تشدد کیا جارہا تھا۔ میں نے گواہوں خصوصاً ریسکیو اہلکاروں کے بیانات کا جائزہ لیا۔ مختلف ویڈیوز بھی دیکھیں جو اب ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ وہاں پر موجود ایس ایچ او صدر سیالکوٹ کی سربراہی میں موجود پولیس اہلکاروں نے شکاری کتوں کی طرح حملہ آوروں کو دونوں بھائیوں پر حملہ کرنے میں مدد دی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت شہریوں کی زندگی کا تحفظ ان کا بنیادی اور قابل احترام فرض ہے جسے کسی بھی حکومتی ایجنسی کے ذریعے معطل نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کی قابل احترام اعلیٰ عدالتوں نے آئینی اختیار کار کا اطلاق کرتے ہوئے ہمیشہ لوگوں کے بنیادی حقو کا تحفظ کیا ہے۔ موجودہ کیس میں حملہ آوروں کو پولیس کی حمایت حاصل ہے جو عوام کی زندگی اور وقار کی حفاظت کے لئے قومی خزانے سے معاوضہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف قتل اور دہشت گردی کے جرم کا ارتکاب کیا ہے بلکہ انہوں نے لاشوں کی بے حرمتی بھی کی ہے۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی 18 ستمبر 2010ء |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میںنے رپورٹ کے دوسرے حصے کو جو کہ الگ تھریڈ میںتھا اس کو اسی تھریڈ میںلگا دیا ہے ،تاکہ رپورٹپڑھنے میںآسانی ہو اور اگر کوئی تبصرہ کرے تو دو الگ حصوںمیں تبصرہ تقسیم نہ ہوجائے ۔
اور انتظامیہ اگر چاہے تو دوسرے تھریڈ کو ڈیلیٹ کر دے امید ہے گلاب خان(صاحب تھریڈ ) میری اس جسارت کو نظر انداز کر دیںگے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ماشاءاللہ.جج صاحب نے واقعی جان ماری ہے اس رپورٹ کی تیاری میں.....................اب وہ دن پتہ نہیں کب ائے گا جب ہم ان درندوں کو لٹکتا دیکھیں گے...................
ویسے طالبان اس لحاظ سے ٹھیک تھے....................جرم ثابت.................پھندا حاضر!! |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE][ماشاءاللہ.جج صاحب نے واقعی جان ماری ہے اس رپورٹ کی تیاری میں.....................اب وہ دن پتہ نہیں کب ائے گا جب ہم ان درندوں کو لٹکتا دیکھیں گے...................
ویسے طالبان اس لحاظ سے ٹھیک تھے....................جرم ثابت.................پھندا حاضر!! /QUOTE] اگر طالبان ہوتے تو شاید ایسا جرم ہی نہ ہوتا۔۔۔۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,560
شکریہ: 8,802
5,785 مراسلہ میں 21,394 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=مرزا عامر;315624]
اقتباس:
آجکل کافی بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں
|
|
|
|
|
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,064
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(گزشتہ سے پیوستہ)
(21) ویڈیو کلپس دیکھنے کے بعد میں نے اندازہ لگایا ہے کہ موقع پر موجود حملہ اذٓوروں میں سے تقریباً 20حملہ آوروں نے اس واقع میں اپنا فعال کردار ادا کیا۔ علاقے کے چند رہائشیوں کی مدد سے جو عداوت سے بچنے کیلئے گواہی دینے سے گریز کررہے ہیں۔ میں تیرہ حملہ آوروں کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں جن کے کوائف مندرجہ ذیل ہیں۔ (1) علی پیٹر ولد الطاف (2) امین ولد محمد اشرف (3) جمیل الیاس جیلا ولد اللہ رکھا (4) جاوید الیاس جیدا ولد شوکت علی (5) اصغر ولد احمد (6) قیصر ولد احمدعلی (7) حسن ولد مختار (ذات کھوکھر) ( محسن ولد قیصر (ذات آرائیں)(9) اصغر ولد منیر (ذات آرائیں) (10) اکرام ولد رشید (ذات موچی) (11) نوشا ولد ارشد (ذات موچی) (12) شفیق فوجی (ولدیت معلوم نہیں ہوسکی (گاؤں بٹر) (13) شمس ولد شوکت ( ذات کھوکھر، پکی کوٹلی کا رہائشی) حملہ آوروں کی مندرجہ بالا فہرست مکمل نہیں ہے کیونکہ باقی رہ جانے والے ملزم جنہوں نے دونوں بھائیوں پر حملہ کیا تھا کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن ابھی زیر تفتیش ہے اور تفتیشی ٹیم حملہ آوروں کی شناخت کیلئے یقیناً موثر قانونی اقدام کرے گی۔ تاہم ان حملہ آوروں کی اس انکوائری میں شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ (22) اس میں کوئی شک نہیں کہ حملہ آوروں کے پاس مہلک ہتھیار موجود نہیں تھے۔ تاہم صدر پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او بھاری نفری کی موجودگی میں موقع پر موجود رہے لیکن انہوں نے اس سے متعلق کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ وہ اس پوزیشن میں تھے کہ ان دو بھائیوں کو باسانی حملہ آوروں کے چنگل سے نکال سکتے تھے۔ ایس ایچ او اور دیگر پولیس افسران کی جانب سے سستی نہ صرف ایک غیرقانونی عمل ہے بلکہ رحم اور شفقت پر جرم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اتھارٹی کی منفی احساس نے ایس ایچ او کہ ان کی سرکاری پوزیشن کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کی جانب مائل کیا۔ فائر ریسکیوں کا کارکن ماجد علی گواہ نمبر9 نے کہا کہ ایس ایچ او نے کہا تھا کہ ”چونکہ یہ چور ہیں اس لئے انہیں مرنے دیا جائے۔ میں یہ کہتے ہوئے تکلیف محسوس کررہا ہوں کہ مجموعی طور پر یہ کرمنل جسٹس سسٹم کا بے محل اور نقصان دہ قدم ہے جو اصلاحات کی دعوت دیتا ہے۔ بصورت دیگر قانون سے بالاتر ہو کر اپنے انداز سے سرکاری اتھارٹی کو استعمال کرنے کا شدید میلان سسٹم کو رفتہ رفتہ ختم کردیتا ہے۔ (23) جب تک دونوں بھائیوں کے قتل کی تصدیق نہیں ہوگئی ڈی پی او وقار احمد چوہان نے وقوع کی جگہ پر پہنچنے کی زحمت نہیں کی۔ میں ڈی پی او پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ اسے بروقت واقعے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ ڈی پی او نے اپنے دفتر کے وائرلیس آپریٹر کو بھی معطل کردیا اس بنیاد پر کہ اس نے اس سے معلومات چھپائی۔ میں کیسے یقین کرلوں کہ صدر پولیس اسٹیشن کا ایس ایچ او جو قتل ہوتے دیکھ رہا تھا اس نے ڈسٹرکٹ پولیس کمانڈر کو اس دوران اطلاع نہیں دی ہوگی؟ واقعے کے ایک گھنٹے بعد ڈی پی او وقوع پر پہنچا اور الٹی لٹکی ہوئی لاشیں دریافت کیں۔ اس کے ساتھ مندرجہ ذیل پولیس اہلکار بھی ہمراہ تھے۔ 1۔ کانسٹیبل ڈرائیور صابر حسین 2۔ ریوالور سے مسلح اے ایس آئی عابد علی 3۔ ایس ایم جی سے مسلح کانسٹیبل عبدالقیوم ،پیٹی نمبر900 4۔ 38 بور کے ریوالور کے ساتھ مسلح کانسٹیبل محمد شبیر، پیٹی نمبر469۔ 5۔ ایس ایم جی سے مسلح کانسٹیبل محمد طاہر، پیٹی نمبر34۔ 6۔ ایس ایم جی سے مسلح محمد سکندر کانسٹیبل پیٹی نمبر 1929 7۔ ایس ایم جی سے مسلح کانسٹیبل محمد اصغر، پیٹی نمبر 772 8۔ کانسٹیبل/ ڈرائیور محمد فیاض پیٹی نمبر 1374۔ ڈی پی او نے ایس ایچ او جیسا طرز عمل اختیار کیا اور اس نے جرم کی نوعیت کا ادراک نہیں کیا۔ اس نے حملہ آوروں کو سرزش کرنے کے بجائے ان کے جرم پر ان کو سراہا۔ ریسکیو کے ملازمین اور ڈی پی او نے میرے سامنے بیان دیا کہ حملہ آوروں نے ڈی پی او کو تالیوں کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ اس طرز عمل کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ 24۔ پولیس نے ان کو پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے کے لئے ان کی لاشیں وہاں سے نہیں لے کر گئی بلکہ ڈی پی او اور دیگر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں حملہ آوروں نے ان کی لاشیں ٹریکٹر ٹرالی میں رکھیں اور سڑکوں پر پھیرائیں۔ ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکار بھی اس دوران ان کے ہمراہ تھے اس واقعے کا سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ ڈی پی او وقار احمد چوہان کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے ایس ایچ او نے لاشوں کے جلوس کی سربراہی کی، جو لاگ بگ میں ریکارڈ ہے۔ گواہ نمبر41 سٹی کنٹرول کے وائرلیس آپریٹر محمد اسلم نے حلفیہ تصدیق کی کہ ڈی پی او کی ہدایات کے تحت ایس ایچ او نے جلوس کی قیادت کی۔ پولیس کے پاس کوئی قانونی اور درست جواز موجود تھا کہ دونوں بھائیوں کو ڈاکو فرض کرلے۔ محض بحث کی خاطر یہ یقین بھی کرلیا جائے کہ نیک نیتی سے پولیس ان کے ساتھ ڈاکوؤں کا سا سلوک کیا پھر بھی ان کے قتل میں معاونت کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ واقعے کے طریقہ کار اور پولیس کے شرمناک کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضرور کہوں گا کہ حملہ آوروں نے دونوں متوفی بھائیوں کو بے رحمی سے زدوکوب کرکے قتل کیا جبکہ ڈی پی او اور ایس ایچ او نے اپنے اختیارات کی تلوار سے مغیث اور منیب کو ذبح کردیا۔ ڈی پی او اور ایس ایچ او نے اپنے دل و دماغ کا استعمال نہیں کیا۔ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے تھا کہ اگرچہ انہیں عوام پر اختیارات کی ملکیت حاصل ہے لیکن حاکم اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ اور قانون کے تابع ہیں۔ ڈی پی او، ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں نے واقعے کا گواہ بن کر نہ صرف اپنے آپ کو عدالتی اور انتظامی کارروائی کے لئے ذمہ دار بنایا بلکہ اللہ کے عذاب کو بھی دعوت دی۔ اس دنیا میں کوئی بھی کسی بھی طرح بلند نہیں اور اقتدار و اختیارات کے حامل ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے رحم اور نرمی کی ضرورت سے کبھی مبرا نہیں ہوسکتا۔ ڈی پی او اور ایس ایچ او نے اپنے عہدے اور اختیارات کے غرور اور ہوسکتا ہے اتھارٹی کے گمراہ کن احساس کے تحت عجلت میں حملہ آوروں کو دونوں بھائیوں کو سرعام ان کے مبینہ جرم کی سزا دینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہو۔ کسی شخص کی جانب سے اختیارات کا اس طرح استعمال انصاف کے انتظام میں زیادہ مددگار نہیں ہوتا۔ ملکی قوانین کے تحت جوکہ یقیناً اسلام کی ہدایات کے تابک ہیں، اختیارات کے حامل شخص کو عوام پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور جس طرح والدین اپنے بچوں کی نگرانی کرتے ہیں، اس طرح نگرانی کرے۔ اختیارات کے حامل فرد اور عوام خصوصاً معاشرے کے کمزور طبقے کے درمیان باہمی اعتماد ریاست کا اہم ستون ہے۔ عام آدمی کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لئے حکومتی اداروں خصوصاً یونیفارم میں ہیں ان کے ساتھ دوستانہ اور اچھا برتاؤ ہو۔ یہاں پر اس بات کی نشان دہی کرنا غلط ہوگا کہ پولیس افسران نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر پنجاب پولیس کے وقار کو کم کیا اور یہ سمجھے بغیر کہ افترا پردازی کو ہمارے معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ معزز خاندان سے تعلق رکھنے والے دونوں بھائیوں پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی۔ -25 ڈی پی او اور ایس ایچ او نے اس امید پر دونوں بھائیوں کے قتل میں معاونت کی کہ ہو سکتا ہے یہ کیس ان کیلئے طرہٴ امتیاز ثابت ہو اور اس واقعے کو جرم سے کامیابی کے ساتھ نمٹنا سمجھا جائے اور ان کی پرفارمنس شیٹ میں اسے پولیس کے اچھے کاموں میں امتیازی مقام حاصل ہو۔ ڈی پی او اور ایس ایچ او اس وقت اس خام خیالی سے نکل آئے جب لائق تعظیم سپریم کورٹ آف پاکستان، معزز لاہور ہائیکورٹ اور حکومت پنجاب نے اس ظالمانہ قتل پر اعتراض کیا۔ پولیس نے حکومت پنجاب کو اصل حقائق سے آگاہ نہ کر کے کریمنل جسٹس سسٹم کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کو دونوں بھائیوں کو سرعام قتل کرنے کی اجازت دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ یہ سرکاری حیثیت کے غلط استعمال کی بدترین مثال ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ برائی کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ اب عوام الناس میں پائے جانے والے اس تاثر کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ پولیس ملکی قوانین کو نہیں مانتی یا عام آدمی کو بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم کی انتظامیہ سے پولیس کے بے لگام اور بے قابو غیر مستقل مزاج عناصر کو نکالے بغیر قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہو سکتی۔ پولیس آرڈر 2002ء میں پولیس کے لیگل فریم ورک میں موجود خامیوں پر توجہ نہیں دی گئی۔ قانون کی حکمرانی کیلئے غیر مشروط اطاعت کے بغیر جرائم کے کیسوں کی عجیب، ناقص، خام، مصنوعی، ترغیب دینے والے اور بے ایمانی سے تفتیشی نظام میں بہتری لانے میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوئی کیونکہ اس طرح کی تفتیش ایک ناسور کی طرح ہے جو نظام کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ پولیس کے اختیارات کے اندھادھند استعمال پر قانونی روک ٹوک کے بغیر کسی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ خوش قسمتی سے ابھی بہتری لانے کے مواقع موجود ہیں۔ یہ ایک عام فہم سوال ہے کہ مجسٹریٹ اور تفتیش کاروں کے مابین فاصلہ بہت حد تک کم ہو گیا ہے اس لئے مجسٹریٹ کی حیثیت سے اس کے پولیس کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کیلئے دائرہٴ کار اور اس کے قانونی افعال کے احاطہٴ کار کو سیالکوٹ میں جیسا کہ پولیس نے مطلق العنانیت کا مظاہرہ کیا، سے بچنے کیلئے اس کو دوبارہ سے وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ -26 پولیس کی نظر میں یہ ایک عام سا واقعہ تھا۔ ایس ایچ او فوراً موقع واردات پر نہیں پہنچا جب تک دونوں بھائیوں کی جان نہیں نکل گئی۔ ڈی پی او اپنی رہائش گاہ پر موجود رہا۔ گوجرانوالہ کا آر پی او واقعے کے 5 سے 6/دن بعد پہنچا۔ تمام حالات و واقعات واضح طور پر نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کے مطابق یہ غیر معمولی یا خطرناک واقعہ نہیں تھا۔ پولیس کی یہ ذہنیت سنجیدہ سوچ کی متقاضی ہے۔ -27 اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ موقع واردات پر موجود تمام پولیس افسران اور اہلکاروں نے جو دونوں بھائیوں کے قتل میں شریک تھے جائے وقوعہ پر موجود پولیس اہلکار تمام واقعے کو خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہے، اب عدالت عالیہ اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ جرم کے ذیل میں آتا ہے یا نہیں۔ -G آیا واقعے کے پہلے تفتیش کار ایس آئی شاہین شاہ بخاری اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر فاروق نے دونوں بھائیوں کے قتل کے حوالے سے طبی شواہد تباہ اور ختم کر دیئے۔ -28 تفتیش کار ایس آئی شاہین شاہ بخاری پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ نے زخموں کا اسٹیٹمنٹ تیار کیا۔ (مارک X) نامعلوم لاش کے حوالے سے جو بعد میں مغیث سجاد کی حیثیت سے شناخت ہوئی اس کے ماتھے اور سرکی بائیں جانب چیر پھاڑ اور ناک، ہونٹوں، جبڑے اور بائیں کلائی پرضرب کی نوعیت کے صرف سات زخم مشاہدے میں آئے۔ ایس آئی نے متوفی منیب سجاد کے زخموں کی بھی رپورٹ بنائی اور محض چار چیر پھاڑ والے زخم اور ضربوں سے آنے والے دو زخموں پر مشتمل اسٹیٹمنٹ تیار کیا۔ (مارک Y) سینئر میڈیکل آفیسر نے 4:30 بجے شام کو دونوں لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا۔ انہوں نے متوفی مغیث کے جسم پر محض اٹھارہ اور متوفی منیب کے مردہ جسم پر بارہ زخموں کی نشاندہی کی۔ ویڈیو کلپ (مارک ایف، جی۔1، ایچ، 3، کے) اور تصاویر دیکھنے کے بعد یہ کہنا مشکل نہیں کہ بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں متوفی افراد کے پورے بدن پر لا تعداد زخم آئے اور ان کے چہرے مسخ ہو چکے تھے، لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، حملہ آوروں نے لاشوں پر لاٹھیوں اور اینٹوں سے ضربیں لگائیں، دوسرے الفاظ میں دونوں لاشوں پر مرنے سے پہلے اور بعد میں متعدد زخم آئے تھے۔ ایس آئی شاہین شاہ بخاری اور پوسٹ مارٹم ایگزامنر نے ظالمانہ تشدد کو چھپایا اور بالترتیب اپنی رپورٹوں میں کہا کہ دونوں متوفی افراد کو چند زخم آئے۔ ڈاکٹر اور تفتیش کار قتل کے طبی ثبوت کو دبانے اور ختم کرنے کے الزام میں قانونی چارہ جوئی کے ذمہ دار ہیں۔ میں نے تجویز دی ہے کہ اچھی شہرت کے حامل سینئر ڈاکٹروں جنہیں بہ خوبی طبی علم سے آگاہی ہو ان سے مغیث اور منیب کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے کیونکہ چند عینی شاہدین کے بیانات کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ -29 ابتدائی طور پر ریسکیو کے عملے نے ذمہ دارانہ طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے فوری طور پر اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی۔ بعدازاں انہوں نے اپنی قانونی ذمہ داری اور عمل کو پولیس اور ہجوم کے حوالے کر دیا۔ پستول برآمد ہونے کے حوالے سے ریسکیو کے افسران کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ واقعے کے آغاز کے فوراً بعد ہی ریسکیو اہلکار اس پوزیشن میں تھے کہ وہ فوری طور پر دونوں بھائیوں کو اسپتال منتقل کر سکیں لیکن انہوں نے پہلے مقامی پولیس کو اطلاع دینا مناسب سمجھا بعد میں صورتحال خطرناک رخ اختیار کر گئی اور ریسکیو کے اہلکار لاچار ہو گئے اور انہوں نے ویسا ہی کیا جیسا کہ حملہ آور چاہتے تھے۔ ریسکیو ورکر ماجد علی اپنا بیان قلمبند کروانے کے بعد میرے سامنے حاضر ہوا اور روتے ہوئے کہا کہ اس پر زبردستی کی گئی تھی کہ وہ متوفی سے پستول چھیننے کے بارے میں بیان دے تاہم ماجد اس شخص کی شناخت کرنے کیلئے تیار نہیں جس نے اسے غلط بیان دینے پر مجبور کیا۔ درحقیقت پولیس کی اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کے سبب ریسکیو اہلکاروں نے انہیں حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ -30 ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سیالکوٹ کے ایڈمنسٹریٹر اور ڈی سی او مجاہد شیر دل نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کو ایک خط لکھا (مارک 2) جس میں انہوں نے واقعے سے متعلق پولیس کے بیان کو مسترد کر دیا اور انہیں قتل میں مجرموں کا شریک کار قرار دیا۔ اگرچہ کہ ڈی سی او نے واقعے کی کوئی انکوائری نہیں کروائی لیکن ان کے خیال میں (مارک 2) کو بہ آسانی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے ان کے پاس علاقے کے رہائشیوں سے دل کی باتیں کرنے کا موقع ہے۔ -31 اس کا اختتام ہونے سے قبل میں یہ ضرور کہوں گا کہ انکوائری کے دوران میں نے خود کو علاقے کے لوگوں سے الگ نہیں کیا تاکہ سچائی غلط بیانی کے ساتھ الجھ نہ سکے۔ بہرحال میں ایک انسان ہوں اور جو باتیں لوگوں نے مجھ سے خفیہ رکھیں میں ان سے لاعلم ہوں۔ سچائی کے چہرے پر کچھ نہیں لکھا ہوتا جس سے جھوٹ کی پہچان ہو سکے، اس کے باوجود میں نے سچائی پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ (ختم شد) روزنامہ جنگ راولپنڈی 20 ستمبر 2010ء |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,648
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ان تینوں کو ملا کر سرورق کے لیے پیش کریں
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کورٹ, پولیس, پوسٹ, واقعات, نیند, نماز, نظر, موٹر سائیکل, موبائل, موت, ممکن, مسجد, معلوم, آدمی, اللہ, الزام, احتجاج, اسلامی, خواتین, خلاف, دریافت, راستہ, عقد, علی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سپریم کورٹ میں پیش کی گئی سانحہ سیالکوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کا مکمل متن | گلاب خان | خبریں | 1 | 26-09-10 02:52 AM |
| سانحہ سیا لکوٹ کا مفرور ایس ایچ او رانا الیا س ساتھی سپاہی سمیت گرفتار | جاویداسد | خبریں | 0 | 03-09-10 10:53 PM |
| سیالکوٹ میں قتل ہونے والے بھائی ڈاکو نہیں تھے، انکوائری کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش | گلاب خان | خبریں | 4 | 02-09-10 01:37 PM |
| سانحہ سیالکوٹ: جسٹس کاظم رپورٹ میں اہم سوالات کے جوابات نہیں دیئے گئے | گلاب خان | خبریں | 0 | 02-09-10 03:15 AM |